1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

فقاہت راوی، رد خبر بالقیاس اور احناف۔ بعض اشکالات کا جائزہ

'اصول فقہ' میں موضوعات آغاز کردہ از اشماریہ, ‏جون 18، 2016۔

  1. ‏جون 18، 2016 #1
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,683
    موصول شکریہ جات:
    733
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
    علماء احناف پر ایک اعتراض کیا جاتا ہے کہ انہوں نے قیاس کے مقابلے میں خبر واحد کو قبول کرنے کے لیے راوی کے فقیہ ہونے کی شرط لگائی ہے۔ یعنی جب خبر واحد اور قیاس میں تعارض ہو جائے تو خبر واحد کا راوی اگر فقیہ ہو تو خبر کو قبول کیا جائے گا اور اگر غیر فقیہ ہو تو قیاس کو ترجیح دی جائے گی۔ اس پر فورم کے ایک رکن جمشید بھائی نے ایک مضمون لکھا ہے جو مختلف فورمز وغیرہ پر مل جاتا ہے۔ انہوں نے جتنی تحقیق فرمائی ہے شاید بندہ عاجز کے اختیار میں اس سے زیادہ تحقیق اور اس میں اضافہ کرنا نہ ہو۔
    اس مضمون پر محترم @ابن داؤد بھائی کو کچھ اشکالات ہیں۔ زیر نظر مضمون میں میں ان شاء اللہ کچھ مبادیات کے بعد جمشید بھائی کا مضمون اور اس پر ابن داؤد بھائی کے اشکالات پیش کر کے ان کا دفعیہ عرض کروں گا۔
    بحث طویل ہے اور وقت کی قلت ہے، خصوصا عید کے بعد ایم بی اے کے دوسرے سمیسٹر کے امتحانات نے کافی مصروف کر رکھا ہے۔ تو اس مضمون کے مکمل ہونے میں ممکن ہے کچھ وقت لگے۔ واللہ الموفق

    بسم الله الرحمان الرحیم

    کچھ بنیادی باتیں:
    کلام کی ابتداء کرنے سے پہلے ہم کچھ مبادیات پر نظر ڈالتے ہیں جن کی ہمیں درمیان کلام میں ضرورت ہوگی۔

    1: قیاس کی دو قسمیں:
    لفظ قیاس کا اطلاق فقہاء و اصولیین میں دو چیزوں پر ہوتا ہے:
    1: معروف قیاس پر۔ یعنی ایک چیز میں ایک علت پائی جائے اور اس کا حکم منصوص ہو، وہ علت دوسری چیز میں پائے جانے کی صورت میں اس پر بھی وہی حکم لگانا۔
    2: ان اصول پر جو مختلف نصوص شرعیہ سے ثابت ہوں۔ اس صورت میں مقیس علیہ کا وجود ضروری نہیں ہوتا بلکہ نصوص سے ایک اصول کا استنباط کیا جاتا ہے اور ان کا اطلاق پھر ان سے متعلق تمام چیزوں پر ہوتا ہے۔
    اس (مؤخر الذکر) کی طرف ابن تیمیہؒ نے ان الفاظ میں اشارہ کیا ہے:
    وكمعارضة قوم من البلدين بعض الأحاديث بالقياس الجلي بناء على أن القواعد الكلية لا تنقض بمثل هذا الخبر.
    (مجموع الفتاوی 20۔250 ، ط: مجمع الملك فهد لطباعة المصحف الشريف)
    یہاں قیاس جلی کو قواعد کلیہ کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔

    ابن رشد فرماتے ہیں:
    وسبب اختلافهم معارضة القياس للأثر، واختلافهم في مفهوم الأثر. وذلك أن أبا داود خرج من حديث أنس بن مالك «أن أبا طلحة سأل النبي - عليه الصلاة والسلام - عن أيتام ورثوا خمرا، فقال: " أهرقها! قال: أفلا أجعلها خلا؟ قال: لا» .
    فمن فهم من المنع سد ذريعة حمل ذلك على الكراهية، ومن فهم النهي لغير علة قال بالتحريم. ويخرج على هذا أن لا تحريم أيضا على مذهب من يرى أن النهي لا يعود بفساد المنهي.

    والقياس المعارض لحمل الخل على التحريم أنه قد علم من ضرورة الشرع أن الأحكام المختلفة إنما هي للذوات المختلفة، وأن الخمر غير ذات الخل، والخل بإجماع حلال، فإذا انتقلت ذات الخمر إلى ذات الخل وجب أن يكون حلالا كيفما انتقل.
    (بدایۃ المجتہد، 3۔28)

    ترجمہ: "اور ان کے اختلاف کا سبب قیاس کا حدیث کے معارض ہونا ہے اور حدیث کے مفہوم میں اختلاف ہونا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور سرکہ کو تحریم پر محمول کرنے سے معارض قیاس یہ ہے کہ شرع کی مبادیات میں سے معلوم امر ہے کہ احکام جو مختلف ہوتے ہیں وہ ذات کے مختلف ہونے کی وجہ سے ہوتے ہیں، اور شراب سرکہ سے ذاتا الگ چیز ہے اور سرکہ بالاجماع حلال ہے۔ سو جب ذات خمر سرکہ کی ذات میں تبدیل ہو گئی تو ثابت ہوا کہ وہ حلال ہے چاہے جیسے بھی منتقل ہوئی ہو۔"
    (نوٹ: ترجمہ صرف مطلوب کا کیا گیا ہے کیوں کہ اس مسئلہ کی تفصیل خارج از بحث ہے۔)
    یہاں جو قیاس ذکر کیا ہے کہ "احکام مختلفہ ذوات مختلفہ کی وجہ سے ہوتے ہیں" یہ ایک اصول ہے اور اس پر قیاس کا اطلاق کیا گیا ہے۔ قیاس معروف کا ہونا یہاں اس لیے ممکن نہیں ہے کہ یہاں نہ کوئی مقیس ہے اور نہ کوئی مقیس علیہ۔

    ان كے علاوه ابو العباس قرطبیؒ نے المفہم میں اور دیگر نے بھی لفظ قیاس کو اصول کے لیے ذکر کیا ہے۔

    2: خبر واحد کو قیاس کی بناء پر رد کرنا:
    سب سے پہلے تو یہ سمجھ لیجیے کہ بلاوجہ کسی روایت کو کوئی فقیہ رد نہیں کر سکتا چاہے اس کا تعلق عہد صحابہ سے ہو یا ابن حزمؒ کے زمانے کا ہو۔ یا تو روایت اس کے نزدیک ثابت نہیں ہوگی یا اس کا معنی کسی اور وجہ پر محمول ہوگا۔ البتہ اس وجہ کو وہ بعض اوقات بیان کر دیتا ہے اور بعض اوقات بیان نہیں کرتا۔
    خبر واحد یا حدیث مبارکہ کو مختلف اوقات میں رد کیا جاتا رہا ہے لیکن کسی مضبوط بنیاد پر۔قیاس کا مرتبہ عموما چوتھا کہا جاتا ہے اور اصل الاصول کتاب اللہ، سنت رسول ﷺ اور اجماع کو قرار دیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود بہت کثرت سے یہ ہوا ہے کہ کسی خبر کو قیاس کی مضبوطی کی بناء پر رد کر دیا جائے۔ ایک بار پھر وضاحت کرتا چلوں کہ رد کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یا تو خبر ثابت نہیں ہے یاکسی اور معنی اور وجہ پر محمول ہے۔

    رد خبر عہد نبویﷺ میں:
    عن نافع، عن ابن عمر رضي الله عنهما، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم يوم الأحزاب: «لا يصلين أحد العصر إلا في بني قريظة» فأدرك بعضهم العصر في الطريق، فقال بعضهم: لا نصلي حتى نأتيها، وقال بعضهم: بل نصلي، لم يرد منا ذلك، فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فلم يعنف واحدا منهم
    (صحیح البخاری، 5۔112، ط: دار طوق النجاۃ)

    ترجمہ: "حضرت ابن عمر رض سے روایت ہے، فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے احزاب کے دن فرمایا: تم میں سے کوئی شخص بھی عصر کی نماز نہ پڑھے مگر یہ کہ وہ بنو قریظہ میں ہو۔ تو بعض لوگوں کو راستے میں وقت عصر نے آ لیا۔ تو بعض نے کہا: ہم جب تک بنو قریظہ میں نہیں پہنچ جاتے عصر نہیں پڑھیں گے۔ اور بعض نے کہا: ہم پڑھیں گے، نبی ﷺ کی یہ مراد نہیں تھی۔ یہ نبی ﷺ سے ذکر کیا گیا تو آپ نے ان میں سے کسی پر بھی ناگواری کا اظہار نہیں فرمایا۔"
    اس قصے میں دو جماعتیں تھیں۔ پہلی جماعت نے تو الفاظ کے ظاہر پر عمل کر لیا۔ لیکن دوسری جماعت نے ظاہر الفاظ کو بھلا کیوں چھوڑ دیا؟ انہوں نے نبی ﷺ کی یہ مراد کیسے سمجھی کہ آپ ﷺ جلدی پہنچنے کا فرمانا چاہتے تھے اور آپ کی مراد یہ نہیں تھی کہ ہم راستے میں نماز نہ پڑھیں؟ ان کے سامنے دو چیزیں تھیں۔ ایک آیت قرآنی "ان الصلاۃ کانت علی المؤمنین کتابا موقوتا " اور وہ آیات جن سے نماز کی تاکید ظاہر ہوتی ہے۔ اور دوسرا نبی ﷺ کا عام معمول کہ آپ نماز کو وقت سے موخر نہیں فرمایا کرتے تھے۔ اس پر انہوں نے اس موجودہ حکم کےظاہر کو بصورت تاویل و توجیہ رد کر دیا کہ نبی ﷺ کی مراد جلدی پہنچنا تھی ۔
    اب آپ ایک بار پھر اوپر قیاس کی دوسری قسم پڑھیے جس میں قیاس کا اطلاق اصول ثابتہ فی الشرع پر کیا گیا ہے اور یہاں دیکھیے کہ ان حضرات نے اسی معنی میں قیاس کر کے حدیث کی توجیہ کی ہے۔
    اسی لیے علامہ نوویؒ فرماتے ہیں:
    ففيه دلالة لمن يقول بالمفهوم والقياس ومراعاة المعنى
    (المنہاج 12۔98، ط: دار احیاء التراث)

    ترجمہ: "اس میں دلیل ہے ان کے لیے جو مفہوم، قیاس اور معنی کی رعایت کے قائل ہیں۔"

    عن علي رضي الله عنه، قال: بعث النبي صلى الله عليه وسلم سرية فاستعمل رجلا من الأنصار وأمرهم أن يطيعوه، فغضب، فقال: أليس أمركم النبي صلى الله عليه وسلم أن تطيعوني؟ قالوا: بلى، قال: فاجمعوا لي حطبا، فجمعوا، فقال: أوقدوا نارا، فأوقدوها، فقال: ادخلوها، فهموا وجعل بعضهم يمسك بعضا، ويقولون: فررنا إلى النبي صلى الله عليه وسلم من النار، فما زالوا حتى خمدت النار، فسكن غضبه، فبلغ النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: «لو دخلوها ما خرجوا منها إلى يوم القيامة، الطاعة في المعروف»
    (صحیح البخاری، 5۔161، ط: دار طوق النجاۃ)

    ترجمہ: "حضرت علی رض سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے ایک سریہ بھیجا اور اس پر انصار کے ایک شخص کو امیر بنایا اور انہیں حکم دیا کہ اس کی اطاعت کریں۔ وہ (کسی بات پر۔۔۔۔ ناقل) غصہ ہو گئے تو انہوں نے کہا: کیا تمہیں نبی ﷺ نے میری اطاعت کرنے کا حکم نہیں دیا تھا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ ان (امیر) نے کہا: میرے لیے لکڑیاں جمع کرو۔ انہوں نے جمع کیں۔ کہا: ان میں آگ لگاؤ۔ انہوں نے لگائی۔ کہا: اس میں داخل ہو جاؤ۔ تو انہوں نے ارادہ کیا اور بعض بعض کو روکنے لگے اور کہنے لگے: ہم آگ سے بھاگ کر ہی نبی ﷺ کے پاس آئے ہیں۔ اسی حال میں آگ بجھ گئی اور ان (امیر) کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا۔ نبی ﷺ کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا: اگر یہ اس میں داخل ہو جاتے تو قیامت تک نہ نکل پاتے۔ فرمانبرداری نیکی میں ہے۔"
    اس روایت میں نبی کریم ﷺ کے فرمان کو صحابہ کرام رض نے فقط قیاس کی بنیاد پر چھوڑ دیا۔ توجیہ اگرچہ مذکور نہیں ہے لیکن ظاہر ہے کہ یہی ہوگی کہ آپ ﷺ کا حکم معروف میں ہے منکر میں نہیں۔
    یہاں یہ یاد رہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے تقریبا تمام روایات خبر واحد ہی تھیں لیکن چونکہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے خود سماعت فرمائی تھیں اس لیے بعد کی متواتر سے بھی کئی گنا زیادہ بلکہ سو فیصد یقینی تھیں۔

    جاری ہے۔۔۔۔۔۔
     
    Last edited: ‏جون 19، 2016
  2. ‏جون 19، 2016 #2
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,683
    موصول شکریہ جات:
    733
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    رد خبر عہد صحابہ میں:

    عن مجاهد، قال: جاء بشير العدوي إلى ابن عباس، فجعل يحدث، ويقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم، فجعل ابن عباس لا يأذن لحديثه، ولا ينظر إليه، فقال: يا ابن عباس، مالي لا أراك تسمع لحديثي، أحدثك عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولا تسمع، فقال ابن عباس: " إنا كنا مرة إذا سمعنا رجلا يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم، ابتدرته أبصارنا، وأصغينا إليه بآذاننا، فلما ركب الناس الصعب، والذلول، لم نأخذ من الناس إلا ما نعرف "
    صحیح مسلم،1۔13، دار احیاء التراث

    ترجمہ: "مجاہدؒ سے روایت ہے: بشیر العدوی ابن عباس رض کے پاس آئے اور احادیث سنانی شروع کیں اور کہہ رہے تھے: قال رسول اللہ ﷺ، قال رسول اللہ ﷺ۔ ابن عباس رض ان کی احادیث پر توجہ نہیں دے رہے تھے اور نہ ان کی طرف دیکھ رہے تھے تو انہوں نے کہا: اے ابن عباس! کیا بات ہے کہ میں آپ کو احادیث سنتا نہیں دیکھ رہا۔ میں آپ کو رسول اللہ ﷺ سے احادیث بیان کر رہا ہوں اور آپ سن نہیں رہے۔ تو ابن عباس رض نے فرمایا: کبھی جب ہم کسی شخص کو قال رسول اللہ ﷺ کہتا سنتے تھے تو ہماری آنکھیں اس کی طرف جلدی سے پھر جاتی تھیں اور ہم اپنے کانوں کو اس کی جانب لگا دیتے تھے۔ پھر جب لوگ اچھے برے سب پر لگ گئے تو ہم نے لوگوں سے وہی لینا شروع کر دیا جسے ہم پہچانتے ہیں۔"
    ہم بخوبی جانتے ہیں کہ ہر صحابی رض کو ہر روایت کا علم نہیں تھا اور ابن عباس رض تو کم عمر صحابہ میں تھے۔ ابن عباس رض نے بشیر بن کعب سے یہ بھی نہیں کہا کہ تم یہ نہیں بتا رہے کہ کس سے حدیث سنی ہے اس لیے میں نہیں سن رہا۔ بلکہ ابن عباس رض نے یہ فرمایا کہ "ہم نے لوگوں سے وہی لینا شروع کر دیا جسے ہم پہچانتے ہیں"۔ جب ہر صحابی کے پاس ہر روایت نہیں تھی تو بھلا وہ ہر روایت کو پہچان کیسے سکتے تھے؟ اس لیے اس جملے کا مطلب یہ سمجھ میں آتا ہے کہ ہم وہی حدیث قبول کرتے ہیں جسے ہم قرآن و سنت اور نبی کریم ﷺ کی حیات مبارکہ کی روشنی میں صحیح سمجھتے ہیں اور جو ہمیں ان اصول کے مقابلے میں نا آشنا معلوم ہوتی ہیں انہیں چھوڑ دیتے ہیں۔
    یاد رہے کہ بشیر بن کعب العدوی ثقہ فقیہ راوی ہیں اور ان کے شیوخ جو علامہ مزی نے ذکر کیے ہیں تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں۔ حضرت ابو ہریرہ رض کی احادیث سے انہیں اتنا تعلق اور مناسبت تھی کہ علامہ مزی نے نقل کیا ہے:
    وَقَال الحميدي، عَنْ سفيان، عَنْ عَمْرو بْن دينار: قال لي طاووس: اذهب بنا نجالس الناس، فجلسنا إِلَى رجل من أهل البصرة يُقَال لَهُ: بشير بْن كعب العدوي، فقال طاووس: رأيت هذا أتى ابن عباس فجعل يحدثه فقَالَ ابن عباس: كأني أسمع حديث أبي هُرَيْرة.
    (تہذیب الکمال،4۔185، ط: الرسالۃ)

    ترجمہ: "عمرو بن دینار سے روایت ہے کہ مجھے طاووسؒ نے فرمایا: آئیں لوگوں کے ساتھ بیٹھتے ہیں۔ تو ہم اہل بصرہ کے ایک شخص کے پاس بیٹھنے گئے جنہیں بشیر بن کعب العدوی کہا جاتا تھا۔ تو طاووس نے فرمایا:میں نے انہیں دیکھا کہ یہ ابن عباس رض کے پاس آئے اور احادیث سنانے لگے تو ابن عباس رض نے فرمایا: گویا کہ میں ابو ہریرہ کی احادیث سن رہا ہوں۔"
    یہ تشبیہ دو چیزوں میں ہو سکتی ہے۔ ایک تو کثرت حدیث میں جسے ابن عباس رض نے نا پسند فرمایا یا تعجب کا اظہار فرمایا۔ اور دوسرے ابو ہریرہ رض کی احادیث میں کیوں کہ یہ ابو ہریرہ رض کے شاگرد ہیں۔

    حدثنا ابن أبي عمر، قال: حدثنا سفيان بن عيينة، عن محمد بن عمرو، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الوضوء مما مست النار، ولو من ثور أقط»، قال: فقال له [ص:115] ابن عباس: يا أبا هريرة، أنتوضأ من الدهن؟ أنتوضأ من الحميم؟ قال: فقال أبو هريرة: «يا ابن أخي، إذا سمعت حديثا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم فلا تضرب له مثلا»
    (سنن الترمذی، 1۔114، ط: مصطفی البابی۔۔۔ رجالہ رجال البخاری و حسنہ الالبانی)

    ترجمہ: "حضرت ابو ہریرہ رض سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جس چیز کو آگ چھوئے اس سے وضو ہے اگرچہ وہ پنیر کا ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو۔ (حضرت ابو سلمہؒ فرماتے ہیں) انہیں ابن عباس رض نے فرمایا: اے ابو ہریرہ کیا ہم تیل سے بھی وضو کریں گے؟ کیا ہم گرم پانی سے بھی وضو کریں گے؟ فرماتے ہیں: ابو ہریرہ رض نے فرمایا: اے بھتیجے! جب تم نبی ﷺ کی کوئی حدیث سنو تو اس کے لیے مثالیں بیان نہ کیا کرو۔"
    یہ حدیث جہاں نبی کریم ﷺ کے قول مبارک کے مقابلے میں مثالیں دینے کی ممانعت پر ہے وہیں یہ ابن عباس رض کے اوپر مذکور اصول کی ایک مثال بھی ہے کہ "ہم لوگوں سے وہی لینے لگے جو ہم پہچانتے ہیں"۔ یہاں یہ بات یاد رہے کہ ابن عباس رض کا یہ رد صرف قیاس کی بنیاد پر نہیں تھا۔ بلکہ ترک وضو مما مست النار کی روایات کے ایک راوی حضرت ابن عباس رض بھی ہیں لیکن یہاں آپ نے وہ روایت پیش نہیں فرمائی بلکہ اس کے مقابلے میں قیاس پیش فرمایا۔
    ابن عباس رض کی روایت یہ ہے:
    حدثنا عبد الله بن مسلمة بن قعنب، حدثنا مالك، عن زيد بن أسلم، عن عطاء بن يسار، عن ابن عباس: «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل كتف شاة ثم صلى ولم يتوضأ»
    (صحیح مسلم،1۔273، دار احیاء التراث)

    ترجمہ" ابن عباس رض سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے بکری کی ران تناول فرمائی اور پھر نماز ادا کی اور وضو نہیں کیا۔"
    ابن عباس رض سے اسی سے ملتے جلتے مضمون کی اور بھی روایات مروی ہیں۔ لیکن اگر آپ یہ روایت حضرت ابو ہریرہ رض کے سامنے پیش فرماتے تو ابو ہریرہ رض کی روایت قولی تھی اور ابن عباس رض کی روایت فعلی۔ اور قولی روایت اور امر کو ترجیح حاصل ہوتی ہے۔ اس لیے انہوں نے فعلی روایت سے حاصل ہونے والے اصول کو بنیاد بنا کر ابو ہریرہ رض کی روایت کا معارضہ فرمایا۔ یہ اصول ان سے باقاعدہ مروی بھی ہے:
    حدثنا إبراهيم بن المنذر قال: حدثنا أبو علقمة عبد الله بن محمد بن عبد الله بن أبي فروة، حدثني المسور بن رفاعة القرظي قال: سمعت ابن عباس، ورجل يسأله، فقال: إني أكلت خبزا ولحما، فهل أتوضأ؟ فقال: ويحك، أتتوضأ من الطيبات؟
    (الادب المفرد،1۔270، ط: دار البشائر۔۔۔۔۔ صححہ الالبانی)

    ترجمہ: "مسور بن رفاعۃ قرظی روایت فرماتے ہیں کہ میں نے جب ایک شخص ابن عباس رض سے سوال کر رہا تھا تو میں نے سنا: اس نے کہا: میں نے روٹی اور گوشت کھایا، کیا میں وضو کروں؟ انہوں نے فرمایا: تیرا ناس ہو! کیا تو پاک چیزوں سے وضو کرے گا؟"
    نبی کریم ﷺ کے فعل مبارک سے ابن عباس رض نے یہ اصول مستنبط کیا تھا کہ پاک چیزوں سے وضو نہیں جاتا۔
    عبد الرزاق، عن ابن جريج قال: أخبرني عطاء، أنه سمع ابن عباس يقول: " إنما النار بركة الله، وما تحل من شيء ولا تحرمه ولا وضوء مما مست النار، ولا وضوء مما دخل، إنما الوضوء مما خرج من الإنسان
    (مصنف عبد الرزاق، 1۔168، ط: المجلس العلمی)

    ترجمہ:" حضرت عطا کہتے ہیں کہ انہوں نے ابن عباس رض کو یہ فرماتے سنا: آگ اللہ کی برکت ہے، وہ کسی چیز کو حلال یا حرام نہیں کرتی۔ اور جس چیز کو آگ چھوئے اس سے وضو نہیں ہے۔ اور داخل ہونے والی چیزوں سے وضو نہیں ہے بلکہ انسان سے خارج ہونے والی چیزوں سے ہے۔"
    یہ (حسب علمی) صرف اجتہاد ہے اور وہ اصول ہیں جو عمومات قرآن و سنت سے حاصل کیے گئے ہیں۔ چنانچہ اس اصول اور قیاس کے ذریعے ابن عباس رض نے حضرت ابو ہریرہ رض کی حدیث کو رد کیا اور اسے کلی کرنے اور ہاتھ دھونے پر محمول کیا۔

    حدثنا عبدان، حدثنا عبد الله، أخبرنا ابن جريج، قال: أخبرني عبد الله بن عبيد الله بن أبي مليكة، قال: توفيت ابنة لعثمان رضي الله عنه بمكة، وجئنا لنشهدها وحضرها ابن عمر، وابن عباس رضي الله عنهم، وإني لجالس بينهما - أو قال: جلست إلى أحدهما، ثم جاء الآخر فجلس إلى جنبي - فقال عبد الله بن عمر رضي الله عنهما لعمرو بن عثمان: ألا تنهى عن البكاء فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إن الميت ليعذب ببكاء أهله عليه»،
    فقال ابن عباس رضي الله عنهما: قد كان عمر رضي الله عنه يقول بعض ذلك، ثم حدث، قال: صدرت مع عمر رضي الله عنه من مكة، حتى إذا كنا بالبيداء إذا هو بركب تحت ظل سمرة، فقال: اذهب، فانظر من هؤلاء الركب، قال: فنظرت فإذا صهيب، فأخبرته فقال: ادعه لي، فرجعت إلى صهيب فقلت: ارتحل فالحق أمير المؤمنين، فلما أصيب عمر دخل صهيب يبكي يقول: وا أخاه وا صاحباه، فقال عمر رضي الله عنه: يا صهيب، أتبكي علي، وقد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن الميت يعذب ببعض بكاء أهله عليه»،
    قال ابن عباس رضي الله عنهما: فلما مات عمر رضي الله عنه، ذكرت ذلك لعائشة رضي الله عنها، فقالت: رحم الله عمر، والله ما حدث رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن الله ليعذب المؤمن ببكاء أهله عليه»، ولكن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إن الله ليزيد الكافر عذابا ببكاء أهله عليه»، وقالت: حسبكم القرآن: {ولا تزر وازرة وزر أخرى}قال ابن عباس رضي الله عنهما: «عند ذلك والله هو أضحك وأبكى» قال ابن أبي مليكة: «والله ما قال ابن عمر رضي الله عنهما شيئا»
    (صحیح البخاری، 2۔79، ط: دار طوق النجاۃ)

    یہ ایک طویل روایت ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت عمر رض نے نبی کریم ﷺ کی یہ حدیث روایت فرمائی: میت کو اس کے گھر والوں کے بعض رونے پر عذاب دیا جاتا ہے۔ اس پر حضرت عائشہ رض نے ارشاد فرمایا: "اللہ عمر پر رحم کرے، قسم بخدا رسول اللہ ﷺ نے یہ نہیں بیان کیا کہ مومن کو اس کے گھر والوں کے رونے پر عذاب دیا جاتا ہے۔ بلکہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ کافر کو اس کے گھر والوں کے رونے پر عذاب میں اضافہ کر کے دیتا ہے۔ اور فرمایا: تمہارے لیے قرآن کافی ہے: اور کوئی بوجھ اٹھانے والادوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
    حضرت عمر رض نے میت کو عذاب کا ذکر کیا تھا جو کافر اور مسلمان دونوں کو عام ہے۔ ام المومنین حضرت عائشہ رض نے اس میں سے مومن کو نکال دیا کہ یہاں حدیث کی مراد صرف کافر ہے۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ نبی ﷺ نے جس مجلس میں یہ ارشاد فرمایا اس میں حضرت عمر رض اور عائشہ رض دونوں موجود تھے اس لیے حضرت عائشہ رض نے یہ نکیر فرمائی کہ عمر رض سے نسیان ہو گیا ہے کیونکہ عین ممکن ہے کہ نبی ﷺ نے یہ ارشاد بعد میں کبھی فرمایا ہواور حضرت عائشہ رض کو اس کا علم نہ ہو۔ اس لیے حضرت عمر رض کا نسیان اس سے ثابت نہیں ہوتا۔
    حضرت عائشہ رض نے آیت قرآنی سے ایک اصول اخذ کیا کہ ایک شخص کے فعل کا عذاب دوسرے کو نہیں دیا جا سکتا اگر وہ شخص خود نیکوکار ہو۔ اور اس اصول کی بنیاد پر آپ نے حضرت عمر رض کی روایت کو رد فرما کر اس میں تاویل فرمائی اور اسے کافر کے ساتھ خاص سمجھا۔
    یہاں جو ہم نے کہا ہے کہ حضرت عائشہ رض نے یہ اصول اخذ کیا یہ اس وجہ سے کہا ہے کہ اگرچہ آیت اپنے معنی میں صریح ہے لیکن اس میں مسئلہ مذکورہ (یعنی عذاب المیت ببکاء اہلہ) کی صراحت نہیں ہے۔ فلیتدبر!

    جاری ہے۔۔۔۔۔۔
     
    Last edited: ‏جون 19، 2016
    • شکریہ شکریہ x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  3. ‏جون 20، 2016 #3
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,683
    موصول شکریہ جات:
    733
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    أخبرنا أبو يعلى، قال: حدثنا أبو خيثمة، قال: حدثنا جرير، عن عبد الملك بن عمير، عن قزعة، عن أبي سعيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا تسافر المرأة يومين من الدهر إلا ومعها زوجها، أو ذو محرم منها»
    (صحیح ابن حبان، 6۔436، ط: الرسالۃ)

    ترجمہ: "حضرت ابو سعید خدری رض نبی ﷺ سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: کوئی عورت زمانہ میں سے دو دن بھی سفر نہ کرے الا یہ کہ اس کے ساتھ اس کا شوہر یا کوئی محرم ہو۔"
    یہ ایک مشہور روایت ہے جو کئی صحابہ کرام رض سے مروی ہے۔ لیکن حضرت عائشہ رض اس کو رد فرماتی ہیں:

    أخبرنا محمد بن الحسن بن قتيبة، قال: حدثنا حرملة بن يحيى، قال: حدثنا ابن وهب، قال: أخبرنا يونس، عن ابن شهاب، قال: حدثتني عمرة بنت عبد الرحمن، أن عائشة أخبرت، أن أبا سعيد الخدري، قال: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم المرأة أن تسافر إلا ومعها ذو محرم» قالت عمرة: فالتفتت عائشة إلى بعض النساء فقالت: «ما لكلكم ذو محرم»
    (صحیح ابن حبان 6۔442، ط: الرسالۃ)

    حضرت عائشہ رض نے ابو سعید خدری رض کی روایت نقل فرما کر عورتوں کی جانب دیکھا اور فرمایا: تم سب کے محرم نہیں ہیں۔
    اس جملے کا مطلب ابو حاتمؒ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ تم سب کے محرم نہیں ہیں اس لیے اللہ سے ڈرو اور سفر نہ کرو۔

    قال أبو حاتم: «لم تكن عائشة بالمتهمة أبا سعيد الخدري في الرواية، لأن أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم كلهم عدول ثقات، وإنما أرادت عائشة بقول: ما لكلكم ذو محرم، تريد أن ليس لكلكم ذو محرم تسافر معه، فاتقوا الله ولا تسافر واحدة منكن إلا بذي محرم يكون معها»
    (ایضاً)

    لیکن یہ معنی مقبول نہیں ہے اور علماء نے اس کے خلاف صراحت فرمائی ہے۔ اس لیے کہ دوسری روایت میں الفاظ یہ ہیں:
    ما كلهن لها ذو محرم
    (صحیح ابن حبان،6۔443)

    ان میں عورتوں کو خطاب ہے ہی نہیں بلکہ واضح ہو رہا ہے کہ عورتوں کا عذر بیان کیا جا رہا ہے۔ اسی لیے امام شافعیؒ نے حضرت عائشہ رض کو ان میں شمار کیا ہے جو عورتوں کے بغیر محرم کے حج کے قائل ہیں اگر راستہ پر امن ہو۔
    قال في موضع آخر: وقد بلغنا عن عائشة وابن عمر، وعروة مثل قولنا في أن تسافر المرأة للحج وإن لم يكن معها محرم
    (معرفۃ السنن والآثار 7۔506، ط: جامعۃ الدراسات)

    اور امام بیہقیؒ نے اس حدیث پر یہ باب قائم فرمایا ہے:
    باب المرأة يلزمها الحج بوجود السبيل إليه وكانت مع ثقة من النساء في طريق مأهولة آمنة.
    (السنن الکبری 5۔368، ط: العلمیۃ)

    اور امام طحاویؒ اس روایت کو ان کی دلیل قرار دیا ہے جو عورت کے اکیلے یا امینات (وہ عورتیں جن کی وجہ سے عورت کو راستہ کا خطرہ نہ ہو) کی موجودگی میں سفر حج کرنے کے قائل ہیں۔ چنانچہ فرماتے ہیں:
    وقد قال قوم لا بأس بأن تسافر المرأة بغير محرم واحتجوا في ذلك بما حدثنا يونس قال: ثنا ابن وهب قال: أخبرني يونس عن ابن شهاب عن عمرة عن عائشة رضي الله عنها أنها سمعتها تقول في المرأة تحج وليس معها ذو محرم فقالت: «ما لكلهن ذو محرم»
    (شرح معانی الآثار 2۔115، عالم الکتب)

    حضرت عائشہ رض نے حج کے وجوب کی آیت قرآنی اور احادیث سے ایک اصول مستنبط کیا کہ جس کے پاس راستہ کے لیے زاد راہ موجود ہو اس کے لیے حج لازم ہے چاہے وہ عورت ہو یا مرد کیوں کہ اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے:
    ولله على الناس حج البيت من استطاع إليه سبيلا (آل عمران: 97)
    ترجمہ: "اور اللہ کے لیے لوگوں پر حج لازم ہے جو راستے کی استطاعت رکھتے ہوں۔"
    اس اصول کی روشنی میں حضرت عائشہ رض نے اس حدیث کو رد فرما کر سفر حج کے علاوہ سفر پر محمول فرمایا۔
    ان كے علاوه بهی مجموعہ احادیث میں ایسی روایات کو بآسانی تلاش کیا جا سکتا ہے جنہیں صحابہ میں سے کسی نے خلاف قیاس اور خلاف اصول ہونے کی وجہ سے رد کر دیا ہو۔


    رد خبر عہد تابعین و فقہاء میں:
    حدثنا أحمد بن داود، قال: ثنا مسدد، قال: ثنا خالد بن عبد الله، قال: ثنا حصين، عن عمرو بن مرة، قال: دخلت مسجد حضرموت , فإذا علقمة بن وائل يحدث , عن أبيه: «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يرفع يديه قبل الركوع , وبعده» فذكرت ذلك لإبراهيم فغضب وقال: رآه هو ولم يره ابن مسعود رضي الله عنه ولا أصحابه
    (شرح معانی الآثار،1۔224،ط: عالم الکتب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اقول: اسنادہ صحیح الا حصین السلمی فھو من رجال البخاری و مسلم و تغیر حفظہ فی آخرہ قالہ النسائی و ابو حاتم و انکرہ ابن المدینی)

    ترجمہ: "حضرت عمرو بن مرۃ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا:میں حضر موت کی مسجد میں داخل ہوا تو وہاں علقمہ بن وائل اپنے والد سے روایت کر رہے تھے کہ نبی ﷺ رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد ہاتھ اٹھاتے تھے۔ تو میں نے یہ بات ابراہیم (نخعی) سے ذکر کی تو وہ غصہ ہو گئے اور فرمایا: انہوں نے دیکھ لیا اور ابن مسعود رض اور ان کے اصحاب نے نہیں دیکھا؟"
    قال محمد , أخبرنا يعقوب بن إبراهيم، أخبرنا حصين بن عبد الرحمن، قال: دخلت أنا وعمرو بن مرة على إبراهيم النخعي، قال عمرو , حدثني علقمة بن وائل الحضرمي، عن أبيه، «أنه صلى مع رسول الله، فرآه يرفع يديه إذا كبر، وإذا ركع، وإذا رفع» ، قال إبراهيم: ما أدري لعله لم ير النبي صلى الله عليه وسلم يصلي إلا ذلك اليوم فحفظ هذا منه، ولم يحفظه ابن مسعود وأصحابه ما سمعته من أحد منهم، إنما كانوا يرفعون أيديهم في بدء الصلاة حين يكبرون
    (موطا امام محمد، 1۔58، ط: العلمیۃ)

    اس میں ابراہیم نخعیؒ کے الفاظ یہ ہیں: "جو میں جانتا ہوں وہ یہ ہے کہ شاید انہوں نے نبی ﷺ کواسی دن نماز پڑھتے دیکھا ہوگااور ان سے یہ محفوظ کر لیا اور ابن مسعود رض اور ان کے اصحاب نے محفوظ نہیں کیا۔ میں نے ان میں سے کسی ایک سے بھی یہ نہیں سنا۔ وہ نماز کی ابتداء میں جب تکبیر کہتے تب ہی ہاتھ اٹھاتے تھے۔"
    (ظاہر کلام سے ایسا معلو م ہوتا ہے کہ یہ دونوں الگ الگ روایات ہی ہیں کیوں کہ الفاظ میں بھی فرق ہے اور روات کی تفصیل میں بھی۔ پہلی روایت حصین بن عبد الرحمان عمرو بن مرۃ سے نقل فرما رہے ہیں اور دوسری روایت میں یہ ان کے ساتھ ابراہیم نخعیؒ کی مجلس میں گئے ہیں۔)
    قطع نظر اس کے کہ حضرت ابراہیم نخعیؒ کا یہ رد صحیح تھا یا نہیں اور اس کا فائدہ یا نقصان کیا ہے، ان روایات سے یہ واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ نخعیؒ نے حضرت وائل بن حجر رض کی روایت کو رد فرما دیا۔ اور رد کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے ابن مسعود رض اور ان کے اصحاب کو دیکھا کہ وہ نہ ایسی کوئی بات فرماتے تھے اور نہ اس طرح رفع یدین فرماتے تھے۔ یہاں دونوں روایات میں ابراہیم نخعیؒ نے دیکھنے اور محفوظ كرنے کی نسبت ابن مسعود رض کی اور ان کے اصحاب دونوں کی جانب کی ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اصحاب سے مراد بھی صحابہ کرام ہیں ورنہ تابعی جیسے اسود و علقمہ وغیرہ کا تو نبی ﷺ کو نہ دیکھنا ظاہر ہے تو بھلا وہ یہ فعل کیسے دیکھ سکتے تھے۔
    یہ امکان بھی ہے کہ اصحاب سے مراد تابعین ہی ہوں اور مراد یہ ہو کہ عبد اللہ بن مسعود رض نے نبی ﷺ کو یہ فعل کرتے نہیں دیکھا اور اصحاب عبد اللہ نے کسی صحابی سے اس فعل کو روایت نہیں فرمایا حالانکہ اصحاب عبد اللہ صحابہ سے کثرت سے روایت کرتے ہیں اور کئی صحابہ سے روایت کرتے ہیں تو انہوں نے بھی کسی صحابی کو یہ کرتے نہیں دیکھا۔ اس صورت میں اصحاب کی طرف رؤیۃ کی نسبت مجازاً ہوگی۔ یہ تفصیل اس لیے ہے کہ ابراہیم نخعیؒ کی خود عبد اللہ بن مسعود رض سے رؤیت ثابت نہیں ہے۔ البتہ انہوں نے صحابہ کرام کا طویل زمانہ پایا ہے اور اسی زمانہ میں ان کی وفات ہوئی ہے۔ ان کی فقاہت و روایت دونوں اسی زمانے کی ہیں۔
    حضرت ابراہیم نخعیؒ نے قرآن و حدیث کی عمومات سے یہ اصول اخذ کیا کہ صحابہ کرام رض ہی دین کے اصل راوی ہیں ، وہ کسی چیز کے نقل کرنے میں کتمان یا بخل سےکام نہیں لیتے اور وہ نبی کریم ﷺ کی کسی فعل میں مخالفت نہیں کرتے۔ پھر اس روایت کو اصول کے مقابلے میں پایا جس سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ نبی کریم ﷺ کا یہ عمل تھا اور یہ سب صحابہ جو آخری عمر تک نبی ﷺ کے ساتھ رہے اس فعل پر مطلع نہ ہو سکے۔ چنانچہ انہوں نے اس روایت کو رد فرما دیا اور اسے نسیان یا غلط فہمی پر محمول کیا ۔


    امام ابو حنیفہؒ کا عام اصول تو یہ ہے کہ قیاس پر خبر واحد بہر حال مقدم ہے ۔ امام محمد بن الحسن الشیبانیؒ تحریر فرماتے ہیں:

    وقال محمد بن الحسن لولا ما جاء من الآثار كان القياس على ما قال اهل المدينة ولكن لا قياس مع اثر وليس ينبغي الا ان ينقاد للآثار
    (الحجۃ علی اہل المدینۃ 1۔204، ط: عالم الکتب)

    ترجمہ: "محمد بن الحسن فرماتے ہیں: اگر آثار نہ ہوتے جو آئے ہیں تو قیاس وہی ہے جو اہل مدینہ نے کہا ہے۔ لیکن اثر کی موجودگی میں کوئی قیاس نہیں ہے اور اس کے سوا کچھ مناسب نہیں کہ آثار کی اتباع کی جائے۔"
    امام محمدؒ نے یہ قہقہہ سے وضو ٹوٹنے کی بحث میں ارشاد فرمایا ہے اور اس کے بعد جو روایات ذکر فرمائی ہیں وہ یا تو ضعیف ہیں اور یا مراسیل۔ الا یہ کہ اس زمانے میں مراسیل قبول کی جاتی تھیں۔ بہر حال انہیں قیاس پر ترجیح دی گئی ہے۔ اسی لیے ابن تیمیہؒ نے فرمایا ہے:
    ومن ظن بأبي حنيفة أو غيره من أئمة المسلمين أنهم يتعمدون مخالفة الحديث الصحيح لقياس أو غيره فقد أخطأ عليهم وتكلم إما بظن وإما بهوى فهذا أبو حنيفة يعمل بحديث التوضي بالنبيذ في السفر مخالفة للقياس وبحديث القهقهة في الصلاة مع مخالفته للقياس؛ لاعتقاده صحتهما وإن كان أئمة الحديث لم يصححوهما.
    (مجموع الفتاوی)
    ترجمہ: "اور جو شخص ابو حنیفہؒ یا ان کے علاوہ ائمہ مسلمین کے بارے میں یہ گمان کرے کہ وہ جان بوجھ کر حدیث صحیح کی مخالفت کرتے تھے قیاس یا کسی اور چیز کی وجہ سے تو اس نے ان کے بارے میں غلطی کی ہے اور یا تو گمان سے بات کی ہے اور یا خواہش نفسانی سے۔ یہ ابو حنیفہ ہیں، سفر میں نبیذ سے وضو والی حدیث پر عمل کرتے ہیں قیاس کی مخالفت کرتے ہوئے اور نماز میں قہقہہ والی حدیث پر عمل کرتے ہیں قیاس کی مخالفت کرتے ہوئے۔ اس لیے کہ وہ انہیں صحیح سمجھتے تھے اگرچہ ائمہ حدیث نے ان دونوں روایات کی تصحیح نہیں کی۔"
    امام محمدؒ نے دوسری جگہ پر فرمایا ہے:

    وقال محمد بن الحسن السنة والأثار في هذا معروفة مشهورة لا يحتاج معها إلى نظر وقياس
    (الحجۃ، 1۔316، ط: عالم الکتب)

    ترجمہ: "اور محمد بن الحسن نے فرمایا: سنت اور آثار اس مسئلہ میں معروف و مشہور ہیں اور ان کی موجودگی میں نظر اور قیاس کی ضرورت نہیں ہے۔"
    لیکن یہ اصول قیاس کی قسم اول کے بارے میں ہے جو اصولیین کے ہاں معروف ہے اور نظر محض کے بارے میں ہے۔ قیاس کی قسم ثانی کی صورت میں امام ابو حنیفہؒ بھی خبر واحد کو رد کرکے اس میں تاویل و توجیہ فرماتے ہیں۔ امام قدوریؒ فرماتے ہیں:

    ومن أصلنا: أن خبر الواحد إذا كان مخالفاً للأصول لم يجب العمل به ووجب حمله على وجه يوافقها؛ لأن الأصول مقطوع بها، فلا تترك أحكاماً معلومة بالظن؟!
    فإن قيل: فلم قبلتم خبر نبيذ التمر والقهقهة؟ قلنا: لأنهما لم يخالفا قياس الأصول
    (التجرید، 5۔2444، ط: دار السلام)

    ترجمہ: "اور ہمارے اصولوں میں سے یہ ہے کہ خبر واحد اگر اصول کے خلاف ہو تو اس پر عمل واجب نہیں ہوتا اور اسے ایسی وجہ پر محمول کرنا واجب ہے جو اسے اصول کے موافق کر دے۔ اس لیے کہ اصول قطعی ہیں لہذا انہیں ایسے احکام کی وجہ سے نہیں چھوڑا جائے گا جو ظن سے معلوم ہوں۔
    اگر کہا جائے: تو تم نے نبیذ تمر اور قہقہہ کی خبر کیوں قبول کر لی؟ تو ہم کہیں گے: اس لیے کہ یہ دونوں قیاس الاصول کے خلاف نہیں ہیں۔"
    حالانکہ ہم ابھی تھوڑی دیر پہلے بخوبی جان چکے ہیں کہ یہ دونوں روایات قیاس معروف کے خلاف ہیں۔ تو معلوم یہ ہوا کہ قیاس الاصول سے مراد قیاس کی قسم ثانی ہے اور یہی اوپر اصول سے بھی مراد ہے۔
    حافظ مغلطائیؒ امام ابو حنیفہؒ کے ترجمے میں فرماتے ہیں:

    وقال أبو عمر: كان مذهبه في أخبار الآحاد العدول أن لا يقبل منهم ما خالف الأصول المجمع عليها، فأنكر ذلك أهل [المدينة]، وذموه، فأفرطوا
    (اکمال تہذیب الکمال، 12۔57، ط: الفاروق)

    ترجمہ: "ابو عمر (ابن عبد البر۔۔۔۔۔ مترجم) فرماتے ہیں: ان کا مذہب عادل روات کی خبر واحد میں یہ تھا کہ ان سے جو ان اصول کے خلاف ہوں جن پر اجماع ہے وہ قبول نہیں کرتے تھے۔ اس کو اہل مدینہ نے ناپسند کیا اور ان کی مذمت کی اور حد سے تجاوز کر گئے۔"
    حافظ ابن عبد البر کے اصل الفاظ یہ ہیں:

    قال أبو عمر كثير من أهل الحديث استجازوا الطعن على أبي حنيفة لرده كثيرا من أخبار الآحاد العدول لأنه كان يذهب في ذلك إلى عرضها على ما اجتمع عليه من الأحاديث ومعاني القرآن فما شذ عن ذلك رده وسماه شاذا
    (الانتقاء ،1۔149،ط: دار الکتب العلمیۃ)

    ترجمہ: "بہت سے محدثین نے ابو حنیفہ پر بہت زیادہ طعن کر دیا ہے ان کے بہت ساری عادل روات کی خبر واحد کو ترک کرنے کی وجہ سے کیوں کہ اس میں ان کا مذہب یہ تھا کہ انہیں احادیث اور معانی قرآن میں سے جو جمع ہو اس پر پیش کیا جائے۔ جو اس سے شاذ ہوتی اسے وہ رد کر دیتے اور اسے شاذ قرار دیتے تھے۔"
    ابن عبد البر کے یہ الفاظ "کہ اسے وہ شاذ قرار دیتے تھے" کامل نہیں ہیں کیوں کہ ہم اوپر سے دیکھتے چلے آ رہے ہیں کہ جب مجتہد کسی حدیث کو رد کرتا ہے تو اس کی تاویل و توجیہ کرتا ہے اور یہی طرز امام ابو حنیفہؒ کا بھی تھا۔ روایت کو شاذ کہنا توجیہات میں سے صرف ایک توجیہ ہے۔
    ان حضرات کے علاوہ بھی کئی علماء نے امام ابو حنیفہؒ کے اس طرز اور اصول کی تصریح کی ہے۔

    جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  4. ‏جون 21، 2016 #4
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,683
    موصول شکریہ جات:
    733
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    خبر واحد اور قیاس میں تعارض کی صورت میں امام مدینہ مالک بن انسؒ کا اصول مندرجہ ذیل ہے:
    و مذهب مالك رحمه الله أن خبر الواحد إذا اجتمع مع القیاس، و لم یمكن استعمالهما جمیعا، قدم القیاس، والحجۃ له أن خبر الواحد لما جاز علیه النسخ و الغلط و السهو والكذب و التخصیص و لم یجز علی القیاس من الفساد إلا وجه واحد، وهو أن الأصل معلول بهذه العلۃ أو لا؟ صار أقوی من خبر الواحد، فوجب أن یقدم علیه
    (مقدمۃ ابن القصار،1۔266،ط: دار المعلمۃ)

    ترجمہ: "اور امام مالکؒ کا مذہب یہ ہے کہ خبر واحد اگر قیاس کے ساتھ جمع ہو جائے اور دونوں کا ایک ساتھ استعمال ممکن نہ ہو تو قیاس کو مقدم کیا جائے گا۔ اور ان کی دلیل یہ ہے کہ خبر واحد میں جب نسخ، غلطی، بھول، جھوٹ اور تخصیص کا امکان ہے اور قیاس میں فساد کی صرف ایک صورت ممکن ہے اور وہ یہ کہ اصل (مقیس علیہ۔۔۔۔۔۔ مترجم) اس علت سے معلول ہے یا نہیں، تو وہ قیاس خبر واحد سے مضبوط ہو گیا۔ لہذا لازم ہے کہ اسے مقدم کیا جائے خبر پر۔"
    اسی بات كو ابن رشد (جد) نے بلا نکیر نقل فرمایا ہے:

    وكذلك القياس عنده مقدم على خبر الآحاد إذا لم يمكن الجمع بينهما، والحجة في ذلك أن خبر الواحد يجوز عليه النسخ والغلط والسهو والكذب والتخصيص، ولا يجوز على القياس من الفساد إلا وجه، وهو أن هذا الأصل هل هو معلول بهذه العلة أم لا؟ فصار أقوى من خبر الواحد، فوجب أن يقدم عليه، وبالله التوفيق.
    (البیان و التحصیل، 17۔604، ط: دار الغرب)

    ابن رشد نے نکیر بھی نہیں کی اور اس کی نسبت ابن القصار کی جانب بھی نہیں کی بلکہ اپنی جانب سے اصول کے طور پر ذکر کیا ہے۔
    علامہ قرافیؒ ذکر فرماتے ہیں:

    وهو مقدم على خبر الواحد عند مالك رحمه الله، لأن الخبر إنّما ورد لتحصيل الحكم، والقياس متضمن للحكمة فيقدم على الخبر
    (شرح تنقیح الفصول،1۔387، ط: شرکۃ الطباعۃ الفنیۃ المتحدۃ)

    ترجمہ: "اور وہ مالکؒ کے نزدیک خبر واحد پر مقدم ہے، اس لیے کہ خبر حکم کے حاصل ہونے کے لیے وارد ہوتی ہے اور قیاس حکمت کو بھی متصمن ہوتا ہے اس لیے یہ خبر پر مقدم ہے۔"
    آگے قرافیؒ نے قاضی عیاض وغیرہ کے حوالے سے امام مالکؒ کے مسلک میں دو قولوں کا ذکر کیا ہے لیکن خود جس بات پر جزم کیا ہے وہ اس عبارت سے ظاہر ہے۔
    یہ روایات صراحتاً قیاس معروف یعنی قسم اول کے بارے میں ہیں۔ ابن رشدؒ اور ابن قصارؒ کے کلام میں تو علت ومعلول کا ذکر ہے اور قرافیؒ نے اسے قیاس اصطلاحی کے باب میں ذکر کیا ہے۔ ان روایات سے یہ پتا چلتا ہے کہ امام مالکؒ قیاس کو مطلقاً خبر واحد پر ترجیح دیتے ہیں۔
    لیکن شافعی فقیہ ابن السمعانیؒ نے اس کا سختی سے انکار کیا ہے اور وہ فرماتے ہیں کہ میں امام مالکؒ کو اس قول سے بہت بلند سمجھتا ہوں:

    وقد حكى عن مالك أن خبر الواحد إذا خالف القياس لا يقبل وهذا القول بإطلاقه سمح مستقبح عظيم وإنما أجل منزلة تلك عن مثل هذا القول وليس يدرى ثبوت هذا منه
    (قواطع الادلۃ ،1۔358،ط: العلمیۃ)

    لیكن ظاہر ہے کہ فقہ مالکی کے متعلق کسی قول میں مالکیہ کی اختیار کردہ بات زیادہ معتبر ہوگی۔ بعض متاخرین محققین نے یہ دعوی کیا ہے کہ امام مالکؒ خبر کو قیاس پر مقدم کرتے ہیں اور یہ کہا ہے کہ یہ علامہ باجی مالکی کا مختار قول ہے لیکن وہ اس کے ساتھ ہی اس کی وضاحت بھی کرتے ہیں کہ باجی مالکیؒ نے اکثر مالکیہ کو پہلے قول پر ہی قرار دیا ہے۔ مجھے اس سلسلے میں علامہ باجی کی عبارت احکام الفصول اور المنتقی میں نہیں ملی۔ علامہ محمد امین الشنقیطیؒ مذکرۃ فی الاصول میں فرماتے ہیں:
    لكن فروع مذهبه تقتضي خلاف هذا وأنه يقدم خبر الواحد على القياس كتقديمه خبر صاع التمر في المصراة على القياس الذي هو رد مثل اللبن المحلوب من المصراة لأن القياس ضمان المثلى بمثله وهذا هو الذي يدل عليه استقراء مذهبه
    (مذکرۃ فی الاصول،1۔176، ط: مکتبۃ العلوم و الحکم)

    ترجمہ: "لیکن ان کے مذہب کی فروع اس کے خلاف کا تقاضا کرتی ہیں اور وہ یہ ہے کہ وہ خبر واحد کو قیاس پر مقدم کرتے ہیں جیسا کہ مصراۃ میں صاع التمر کی خبر کو قیاس پر مقدم کیا ہے جو کہ مصراۃ سے دوہے ہوئے دودھ کا مثل واپس کرنا ہے اس لیے کہ قیاس مثلی کا ضمان مثلی کے ذریعے ادا کرنا ہے اور اسی اصول پر ان کے مذہب کا احاطہ کرنے سے دلالت ہوتی ہے۔"
    قاضی عیاضؒ نے بھی التنبیہات میں امام مالک کا مشہور مذہب اسی کو قرار دیا ہے۔ اور بعض علماء کا کہنا ہے کہ امام مالکؒ سے دو روایات ہیں۔ مدنیین نے جو روایت کی ہے اس کے مطابق امام مالک خبر واحد کو ترجیح دیتے ہیں اور عراقیین نے جو روایت کی ہے اس کے مطابق امام دار الہجرۃ قیاس کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن عموما مالکیہ نے اس قول کو قبول نہیں کیا۔ جس طرح مسئلہ مصراۃ میں امام مالک نے خبر واحد کو قیاس پر ترجیح دی ہے اسی طرح کتے کے جھوٹے کے مسئلے میں قیاس کو ترجیح دی ہے اور ایسے کئی مسائل ہیں۔ چنانچہ اگر ہم امام مالک کا قول تقدیم خبر علی القیاس کا تسلیم کر لیتے ہیں تو مالکی علماء کی کثیر تعداد کی مخالفت کے ساتھ ساتھ کئی مسائل میں تاویل بھی کرنی پڑے گی جیسا کہ قاضی عیاض تاویل پر مجبور ہوئے ہیں۔ پھر مزید یہ کہ مسئلہ مصراۃ میں ہی امام مالکؒ سے حدیث مصراۃ کی تضعیف اور اس کو اختیار نہ کرنے کی روایت بھی موجود ہے ۔ مالکیہ نے تو دیگر وجوہ کی بناء پر مصراۃ کے مسئلہ میں روایت المدونۃ الکبری(موافق حدیث) کو اختیار کیا ہے۔
    مالکیہ کی دونوں روایات میں اگر تطبیق دی جائے تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ امام مالک بعض مقامات پر قیاس کو اور بعض مقامات پر خبر کو مقدم فرماتے ہیں اور اس سلسلے میں اپنی مجتہدانہ بصیرت سے فیصلہ فرماتے ہیں۔ اس رائے سے بہت سے مسائل میں علمی طور پر راہ نجات ملتی ہے۔ بہر حال امام مالکؒ کے مسلک میں قیاس کی ترجیح کسی نہ کسی صورت میں ملتی ہے۔
    مذکورہ بالا بحث قیاس کی قسم اول کے بارے میں تھی۔ قیاس کی قسم ثانی کے بارے میں امام مالکؒ کا مسلک شاطبیؒ نے یہ نقل فرمایا ہے:

    ولقد اعتمده مالك بن أنس في مواضع كثيرة لصحته في الاعتبار، ألا ترى إلى قوله في حديث غسل الإناء من ولوغ الكلب سبع: "جاء الحديث ولا أدري ما حقيقته؟ "، وكان يضعفه ويقول: "يؤكل صيده؛ فكيف نكره لعابه؟ "
    (الموافقات 3۔196،ط: دار ابن عفان)

    ترجمہ: "اور اسی پر مالک بن انس نے اعتبار (حجت پکڑنا۔۔۔۔۔ مترجم) میں حدیث کی صحت کے لیے کئی جگہوں پر اعتماد کیا ہے۔ کیا آپ ان کا کتے کے جھوٹے برتن کو سات بار دھونے والی حدیث کے بارے میں قول نہیں دیکھتے؟ (وہ کہتے ہیں:) 'حدیث وارد ہوئی ہے اور میں نہیں جانتا کہ اس کی حقیقت کیا ہے' ۔ اور وہ اسے ضعیف سمجھتے تھے اور فرماتے تھے: کتے کا شکار کھایا جائے گاتو ہم اس کے لعاب کو کیسے ناپسند کریں؟"
    (کتے کے جھوٹے کی حدیث بہت معروف ہے اور بہت سے ائمہ نے بشمول امام بخاری کے اس کو نقل کیا ہے۔ امام مالکؒ نے خود بھی اسے نقل کیا ہے۔)
    ان الفاظ سے پہلے امام شاطبیؒ نے حضرت عمر رض کا واقعہ نقل فرمایا ہے :

    وقد اختلفوا على عمر بن الخطاب حين خرج إلى الشام، فأخبر أن الوباء قد وقع بها، فاستشار المهاجرين والأنصار؛ فاختلفوا عليه إلا مهاجرة الفتح، فإنهم اتفقوا على رجوعه؛ فقال أبو عبيدة: أفرارا من قدر الله؟ "؛ فهذا استناد في رأي اجتهادي إلى أصل قطعي، قال عمر: "لو غيرك قالها يا أبا عبيدة! نعم، نفر من قدر الله إلى قدر الله"؛ فهذا استناد إلى أصل قطعي أيضا، وهو أن الأسباب من قدر الله، ثم مثل ذلك برعي العدوة المجدبة والعدوة المخصبة، وأن الجميع بقدر الله، ثم أخبر بحدی الوباء الحاوي لاعتبار الأصلين.
    (الموافقات، 3۔195)

    اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت عمر رض شام کی طرف جانے لگے تو وہاں طاعون کی وباء پھیلنے کا علم ہوا۔ تو آپ نے مہاجرین اور انصار سے مشورہ کیا تو ان کا اختلاف ہو گیا۔ پھر فیصلہ آپ کے شہر سے جانے کا ہوا تو ابو عبیدہ رض نے فرمایا کہ کیا آپ اللہ کی تقدیر سے فرار ہو کر جا رہے ہیں۔ مراد خبر واحد کی طرف اشارہ تھا جس میں ایسے وقت میں شہر سے بھاگنے سے منع کیا گیا ہے۔ تو عمر رض نے فرمایا: اللہ کی تقدیر سے بھاگ کر تقدیر کی طرف ہی جا رہے ہیں۔ مراد اس اصول ثابتہ کی طرف اشارہ تھا کہ اسباب اللہ تعالی کی تقدیر سے ہی ہوتے ہیں۔
    اس روایت کو نقل کرنے کے بعد شاطبیؒ نے اسی کو امام مالکؒ کا اصول قرار دیا ہے اور حدیث ولوغ الکلب کو رد کرنے کی وجہ اسی اصول سے سمجھی ہے کہ حدیث ولوغ الکلب اصول ثابتہ کے خلاف ہے۔
    امام مالکؒ کے اس اصول سے متعلق شاطبیؒ نے مزید مثالیں بھی ذکر فرمائی ہیں۔ ان سے یہ اصول امام مالکؒ کی جانب ثابت ہو جاتا ہے۔ البتہ حدیث ولوغ الکلب میں اس اصول کا انطباق مشکل معلوم ہوتا ہے کیوں کہ امام مالکؒ نے جو خود وجہ بیان فرمائی ہے جو یہاں مذکور ہے کہ" اس کا شکار کھایا جاتا ہے تو اس کا لعاب کیسے ناپاک ہے؟ (ایضاً فی المدونۃ الکبری) یہ وجہ اور علت قیاس کی قسم اول پر صادق آتی ہے۔ شکار مقیس علیہ ہے، جھوٹا پانی مقیس ہے، لعاب علت ہے اور پاک ہونے کا حکم حکم اصل ہے۔ قیاس قسم اول کے چاروں ارکان پائے جاتے ہیں۔
    قاضی ابو بکر بن العربی مالکیؒ ذرا سے فرق کے ساتھ بیان فرماتے ہیں:

    إذا جاء خبر الواحد معارضًا لقاعدة من قواعد الشرع هل يجوز العمل به أم لا؟ فقال أبو حنيفة لا يجوز العمل به وقال الشافعي يجوز العمل به وتردد مالك في المسألة ومشهور قوله والذي عليه المعول أن الحديث إذا عضدته قاعدة أخرى قال به وإن كان وحده تركه.
    (القبس،1۔812، دار الغرب الاسلامی)

    ترجمہ: "جب خبر واحدقواعد شرع میں سے کسی قاعدہ کے معارض ہو تو اس پر عمل کرنا جائز ہے یا نہیں؟ امام ابو حنیفہؒ کہتے ہیں: اس پر عمل جائز نہیں۔ امام شافعیؒ کہتے ہیں: اس پر عمل جائز ہے۔ اور امام مالکؒ اس مسئلہ میں متردد ہیں۔ اور ان کا مشہور قول جس پر اعتماد کیا جاتا ہے یہ ہے کہ اگر حدیث کو کوئی دوسرا قاعدہ مضبوط کر رہا ہوں تو وہ حدیث کے قائل ہوتے ہیں اور اگر حدیث تنہا ہو تو وہ اسے ترک کر دیتے ہیں۔"
    بندہ عاجز کا یہ خیال ہے کہ اگر حدیث کو مضبوط کرنے والا قاعدہ کوئی موجود ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ دو قاعدوں میں تعارض ہو گیا ہے اور شریعت کے ثابت شدہ قواعد میں تعارض ممکن نہیں ہے۔ کیوں کہ ان میں تعارض کا مطلب اصل شریعت میں تعارض ہونا ہے جس کا امکان نہیں الا یہ کہ صورتاً تعارض معلوم ہو۔ اس لیے یہ قول تھوڑا عجیب محسوس ہوتا ہے۔ (واللہ اعلم)


    امام شافعی اور امام احمد رحمہما اللہ کا عمومی طرز یہ ہے کہ جب کوئی خبر واحد قیاس کے مخالف آ جائے چاہے وہ قیاس کی قسم اول ہو یا قسم ثانی وہ خبر واحد پر عمل فرماتے ہیں۔ اس صورت میں وہ عموما تخصیص وغیرہ سے کام لیتے ہیں۔ لیکن بیع العینہ کی بحث میں امام شافعیؒ نے قیاس کو ترجیح دی ہے:

    ولو اختلف بعض أصحاب النبي - صلى الله عليه وسلم - في شيء فقال بعضهم فيه شيئا وقال بعضهم بخلافه كان أصل ما نذهب إليه أنا نأخذ بقول الذي معه القياس، والذي معه القياس زيد بن أرقم، وجملة هذا أنا لا نثبت مثله على عائشة مع أن زيد بن أرقم لا يبيع إلا ما يراه حلالا
    (الام، 3۔79،ط: دار المعرفۃ)

    ترجمہ: "اور اگر کسی چیز میں نبی کریم ﷺ کے بعض اصحاب میں اختلاف ہو جائے۔ اور بعض اس چیز کا کہیں اور بعض اس کے خلاف کا تو ہمارے مذہب کا اصول یہ ہے کہ ہم ان کا قول لیں گے جن کے ساتھ قیاس ہو۔ اور جن کے ساتھ قیاس ہے وہ زید بن ارقم ہیں۔ اور اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم اس جیسی چیز عائشہ رض پر ثابت نہیں کرتے جب کہ زید بن ارقم صرف وہی بیع کرتے تھے جسے وہ حلال سمجھتے تھے۔"
    اس مسئلہ کی تفصیل یہ ہے کہ حضرت عائشہ رض سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک عورت آئی اور کہا کہ میں نے زید بن ارقم رض کو فلاں چیز اتنے اتنے میں ادھار بیچی اور اس سے کم میں نقد خریدلی۔ تو عائشہ رض نے فرمایا: تم نے بہت بری خرید و فروخت کی ہے۔ زید بن ارقم کو میری طرف سے یہ پیغام پہنچا دو کہ اگر وہ توبہ نہیں کریں گے تو اللہ پاک رسول ﷺ کے ساتھ ان کے جہاد کو باطل کر دیں گے۔
    اس روایت کی صحت کے بارے میں اختلاف ہے۔ امام شافعیؒ اس روایت کی صحت کے قائل بھی نہیں ہیں اور یہ بات انہوں نے صحت کو فرض کر کے فرمائی ہے کہ اگر یہ روایت صحیح بھی ہو تو بھی یہاں دو صحابہ کا اختلاف ہے اور ہم ان کا قول لیں گے جن کے ساتھ قیاس ہوگا۔ لیکن یہاں مسئلہ یہ ہے کہ اس بات كی بنیاد امام شافعیؒ نے اس حسن ظن پر ركهی ہے کہ زید بن ارقم رض وہی بیع کرتے تھے جو حلال ہوتی تھی۔ حالانکہ عین ممکن ہے کہ زید رض تک اس سلسلے میں کوئی روایت نہ پہنچی ہو اس لیے وہ یہ کرتے ہوں۔ دوسرا حضرت عائشہ رض نے جو بات فرمائی ہے اس کے ظاہر سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ اجتہادی نہیں بلکہ توقیفی ہے۔ یعنی انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اس بارے میں کچھ سنا ہے تبھی اس طرح کی بات فرمائی ہے کیوں کہ اس میں قیاس کا دخل نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ اس بیع عینہ کے بارے میں صحیح روایت میں وعید بھی آئی ہے جسے ابو داؤدؒ نے روایت فرمایا ہے۔
    خلاصہ کلام یہ کہ امام شافعیؒ نے اپنے مسئلے کی بنیاد حسن ظن اور قیاس پر رکھی ہے۔ قیاس یہ ہے کہ دونوں بیع الگ الگ کر لی جائیں یعنی زید نے اگر عمرو سے کوئی چیز ادھار خریدی ہے تو وہ اس کا مالک ہے اور جسے چاہے بیچ سکتا ہے۔ اور اگر زید اپنی کوئی ذاتی چیز عمرو کو نقد بیچنا چاہے تو وہ بھی بیچ سکتا ہے۔ پھر اگر ایک ہی چیز کے بارے میں یہ معاملہ ہو جائے کہ زید اسے عمرو سے زیادہ قیمت میں ادھار خریدے اور کم قیمت میں واپس عمرو کو نقد بیچ دے تو یہ کیوں ناجائز ہے؟ یہ بھی جائز ہونا چاہیے۔ اس کی تصریح امام شافعیؒ نے الام میں فرمائی ہے:

    فإن قال قائل فمن أين القياس مع قول زيد؟ قلت أرأيت البيعة الأولى أليس قد ثبت بها عليه الثمن تاما؟ فإن قال بلى، قيل: أفرأيت البيعة الثانية أهي الأولى؟ فإن قال: لا قيل: أفحرام عليه أن يبيع ماله بنقد، وإن كان اشتراه إلى أجل؟ فإن قال: لا، إذا باعه من غيره، قيل: فمن حرمه منه؟ فإن قال: كأنها رجعت إليه السلعة أو اشترى شيئا دينا بأقل منه نقدا، قيل إذا قلت: كان لما ليس هو بكائن، لم ينبغ لأحد أن يقبله منك، أرأيت لو كانت المسألة بحالها فكان باعها بمائة دينار دينا واشتراها بمائة أو بمائتين نقدا؟ فإن قال: جائز، قيل: فلا بد أن تكون أخطأت كان ثم أو ههنا؛ لأنه لا يجوز له أن يشتري منه مائة دينار دينا بمائتي دينار نقدا.
    فإن قلت: إنما اشتريت منه السلعة، قيل فهكذا كان ينبغي أن تقول أولا ولا تقول كان لما ليس هو بكائن، أرأيت البيعة الآخرة بالنقد لو انتقضت أليس ترد السلعة ويكون الدين ثابتا كما هو فتعلم أن هذه بيعة غير تلك البيعة؟ فإن قلت: إنما اتهمته، قلنا هو أقل تهمة على ماله منك، فلا تركن عليه إن كان خطأ ثم تحرم عليه ما أحل الله له؛ لأن الله عز وجل أحل البيع وحرم الربا وهذا بيع وليس بربا
    (ایضاً)

    اس قیاس اور حسن ظن کی بنیاد پر امامؒ نے روایت عائشہ رض کو رد فرمایا ہے اور یہ قیاس کی قسم ثانی ہے کیوں کہ بیع کا حلال ہونا یہ نصوص قرآن ، سنت اور اجماع سے ثابت ہے اور یہاں حلال بیع پر علت کے ذریعے کسی چیز کو قیاس نہیں کیا گیا بلکہ دو بیع الگ الگ ثابت کی گئی ہیں۔

    ان تمام روایات و نصوص سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قیاس کے ذریعے خبر واحد کو رد کرنا عہد نبوی ﷺ سے لے کر امام شافعیؒ کے زمانے تک مختلف معاملات اور مختلف اوقات میں جاری رہا ہے۔ لیکن یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ قیاس سے مراد سوائے مالکیہ کے باقی سب کے یہاں قیاس کی قسم ثانی ہے۔

    جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  5. ‏جون 21، 2016 #5
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,683
    موصول شکریہ جات:
    733
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    3: خبر واحد کو کتاب و سنت کی وجہ سے رد کرنا:
    اس عنوان میں اور اوپر مذکور قیاس کی قسم ثانی میں ذرا سا فرق ہے۔ قیاس قسم ثانی (جسے قیاس الاصول بھی کہا جاتا ہے) مختلف نصوص سے حاصل کردہ ایک اصول اور قاعدہ ہوتا ہے جس کے خلاف خبر واحد آتی ہے۔ جب کہ یہاں ہم ان مواقع پر بات کریں گے جہاں خبر واحد صراحتاً قرآن و سنت کے خلاف آئی ہو۔
    حدثناه محمد بن عمرو بن جبلة، حدثنا أبو أحمد، حدثنا عمار بن رزيق، عن أبي إسحاق، قال: كنت مع الأسود بن يزيد جالسا في المسجد الأعظم، ومعنا الشعبي، فحدث الشعبي بحديث فاطمة بنت قيس، «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، لم يجعل لها سكنى ولا نفقة»، ثم أخذ الأسود كفا من حصى، فحصبه به، فقال: ويلك تحدث بمثل هذا، قال عمر: لا نترك كتاب الله وسنة نبينا صلى الله عليه وسلم لقول امرأة، لا ندري لعلها حفظت، أو نسيت، لها السكنى والنفقة، قال الله عز وجل: {لا تخرجوهن من بيوتهن ولا يخرجن إلا أن يأتين بفاحشة مبينة}
    (صحیح مسلم، 2۔1118، ط: دار احیاء التراث)

    ترجمہ: "ابو اسحاقؒ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: میں اسود بن یزیدکے ساتھ مسجد اعظم میں بیٹھا ہوا تھا اور ہمارے ساتھ شعبی تھے۔ شعبی نے حدیث فاطمۃ بنت قیس روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے نہ رہائش رکھی تھی اور اور نہ نفقہ۔ تو اسود نے کنکریوں کی مٹھی بھری اور شعبی کو ماری اور کہا: تیرا ناس ہو! تو اس طرح کی حدیثیں سناتا ہے؟ عمر رض نے فرمایا تھا: ہم اللہ کی کتاب اور اپنے نبی کی سنت ایک عورت کے قول کی وجہ سے نہیں چھوڑ سکتے۔ ہم نہیں جانتے کہ اسے یاد بھی ہے یا وہ بھول گئی ہے۔ اس (مطلقہ ثلاثہ) کے لیے رہائش بھی ہے اور نفقہ بھی۔ اللہ پاک کا ارشاد ہے: انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں الا یہ کہ کوئی صریح برائی کر بیٹھیں۔"
    حالانکہ فاطمۃ بنت قیس رض مہاجرہ صحابیہ ہیں اور جمال، کمال اور عقل کے لحاظ سے مشہور تھیں۔ لیکن ان کی یہ روایت حضرت عمر رض نے رد فرما دی کیوں کہ یہ صریح کتاب اللہ کے خلاف تھی۔ اسی طرح حضرت عائشہ رض بھی اس روایت کو رد فرماتی تھیں:
    وحدثنا أبو كريب، حدثنا أبو أسامة، عن هشام، حدثني أبي، قال: تزوج يحيى بن سعيد بن العاص، بنت عبد الرحمن بن الحكم، فطلقها، فأخرجها من عنده، فعاب ذلك عليهم عروة، فقالوا: إن فاطمة قد خرجت، قال عروة: فأتيت عائشة، فأخبرتها بذلك، فقالت: «ما لفاطمة بنت قيس خير في أن تذكر هذا الحديث»
    (صحیح مسلم، 2۔1120)

    حضرت عائشہ رض کا ارشاد یہ ہے: "فاطمہ بنت قیس کے لیے اس حدیث کو ذکر کرنے میں کوئی خیر نہیں ہے۔"

    عقلاً اس بات کو ایسے سمجھا جاسکتا ہے کہ جب ایک آیت یا حدیث قطعی ہے اور اسے بہت سے لوگ روایت کر رہے ہیں اور ایک شخص ان لوگوں کے خلاف روایت کرتا ہے تو اگر چہ وہ شخص ثقہ ہو لیکن عقل یہی کہے گی کہ اس شخص سے کہیں غلطی ہو رہی ہے۔ اسی بنیاد پر اصول حدیث میں شاذ روایت کو رد کیا جاتا ہے حالانکہ اس کا راوی ثقہ ہوتا ہے۔

    4: فقیہ راوی کی روایت کو غیر فقیہ کی روایت پر ترجیح دینا:
    بہت سے فقہاء اور محدثین کے نزدیک دو روایات میں سے جس روایت کا راوی فقیہ ہو اسے ترجیح حاصل ہوتی ہے۔ یہ اصول بھی تابعین سے مروی ہے:
    أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، وعلي بن حمشاذ العدل، قالا: أنبأ بشر بن موسى، ثنا الحميدي، ثنا سفيان، عن عمرو بن دينار، أخبرني أبو الشعثاء، عن ابن عباس، رضي الله عنهما: «أن النبي صلى الله عليه وسلم نكح وهو محرم» قال عمرو: قد ذكرته للزهري، ثم قال: يا عمرو، من تراها؟ قلت: يقولون: ميمونة فقال ابن شهاب: أخبرني يزيد بن الأصم، «أن النبي صلى الله عليه وسلم تزوجها وهو حلال» فقال عمرو لابن شهاب: «تجعل أعرابيا يبول على عقبيه مثل ابن عباس» فقال ابن شهاب: هي خالته، فقال عمرو: «هي خالة ابن عباس أيضا» هذا حديث صحيح على شرط الشيخين "
    (المستدرك للحاكم، 4۔34، ط: العلمیۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قال الذهبی فی التلخیص: صحيح على شرط البخاري ومسلم)

    ترجمہ: "سفیان روایت کرتے ہیں عمرو بن دینار سے ، وہ کہتے ہیں کہ مجھے ابو الشعثاء نے خبر دی ابن عباس رض سے کہ نبی ﷺ نے نکاح فرمایا اور وہ محرم تھے۔ عمرو کہتے ہیں: میں نے یہ زہری سے ذکر کی۔ انہوں نے کہا: اے عمرو! تم کس کے بارے میں سمجھتے ہو؟ میں نے کہا: وہ (محدثین) کہتے ہیں میمونہ رض کے بارے میں۔ ابن شہاب زہری نے کہا: مجھے یزید بن الاصم رض نے خبر دی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے نکاح فرمایا اور آپ حلال (غیر محرم) تھے۔ تو عمرو نے ابن شہاب کو کہا: آپ ایک ایسے اعرابی کی روایت کو ابن عباس کے برابر کر رہے ہیں جو اپنی ایڑھیوں پر پیشاب کرتا ہے؟ ابن شہاب نے کہا: وہ ان کی خالہ ہیں۔ عمرو نے کہا: وہ ابن عباس رض کی بھی خالہ ہیں۔"
    ایڑھیوں پر پیشاب کرنا قلت فقہ سے کنایہ ہے۔ اونچائی کی طرف رخ کر کے پیشاب کرنے سے پیشاب ایڑھیوں کی طرف آتا ہے اور یہ کوئی ناسمجھ شخص ہی کر سکتا ہے۔ اس روایت سے واضح طور پر یہ پتا چلتا ہے کہ عمرو بن دینارؒ نے ابن عباس رض کے مقابلے میں غیر فقیہ صحابی کی روایت کو رد فرما دیا اور ان کے اس فعل پر ابن شہاب زہریؒ نے بھی نکیر نہیں فرمائی کہ یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ حدیث تو حدیث ہے چاہے فقیہ روایت کرے یا غیر فقیہ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فقہ راوی کی بنیاد پر ترجیح ان میں معروف تھی۔

    اسی لیے حازمیؒ نے الاعتبار میں اسے بھی وجوہ ترجیح میں ذکر فرمایا ہے اور اس کی ایک مثال بھی ذکر فرمائی ہے:
    الْوَجْهُ الثَّالِثُ وَالْعِشْرُونَ: أَنْ يَكُونَ رُوَاةُ أَحَدِ الْحَدِيثَيْنِ مَعَ تَسَاوِيهِمْ فِي الْحِفْظِ وَالْإِتْقَانِ فُقَهَاءَ عَارِفِينَ بِاجْتِنَاءِ الْأَحْكَامِ مِنْ مُثَمِّرَاتِ الْأَلْفَاظِ، فَالِاسْتِرْوَاحُ إِلَى حَدِيثِ الْفُقَهَاءِ أَوْلَى.
    وَحَكَى عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَ: قَالَ لَنَا وَكِيعٌ: أَيُّ الْإِسْنَادَيْنِ أَحَبُّ إِلَيْكُمْ؛ الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَوْ سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ؟ فَقُلْنَا: الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ: يَا سُبْحَانَ اللَّهِ، الْأَعْمَشُ شَيْخٌ وَأَبُو وَائِلٍ شَيْخٌ، وَسُفْيَانُ فَقِيهٌ، وَمَنْصُورٌ فَقِيهٌ، وَإِبْرَاهِيمُ فَقِيهٌ، وَعَلْقَمَةُ فَقِيهٌ، وَحَدِيثٌ يَتَدَاوَلُهُ الْفُقَهَاءُ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَتَدَاوَلَهُ الشُّيُوخُ.
    (الاعتبار في الناسخ والمنسوخ من الآثار،1۔15، ط: دائرۃ المعارف)


    جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔
     
  6. ‏جون 21، 2016 #6
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,683
    موصول شکریہ جات:
    733
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    5: خبر واحد کو رد کرنے کا حکم:
    مذکورہ بالا روایات کو دیکھتے ہوئے درست یہ معلوم ہوتا ہے کہ قیاس کی قسم اول کے ذریعے خبر واحد کو رد نہیں کیا جا سکتا لیکن قیاس کی قسم ثانی سے اگر خبر واحد کا تعارض ہو جائے تو اسے رد کر دیا جائے گا۔
    رد کرنے کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے کہ اس روایت کو بالکلیہ ترک کر دیا جائے گا بلکہ اس کی ایسی توجیہ کی جائے گی جس کے ذریعے اس میں اور قاعدہ ثابتہ بالنصوص میں تطبیق ہو جائے۔ اور اگر کسی صورت تطبیق ممکن نہ ہو تو پھر خبر واحد کو منسوخ سمجھا جائے گا یا کسی اور محمل پر محمول کرتے ہوئے رد کر دیا جائے گا۔
    اسی طرح اگر خبر واحد صریح کتاب اللہ یا سنت رسول کے مخالف ہو تو اس کے ساتھ بھی مذکورہ بالا معاملے کیے جائیں گے۔
    اگر فقیہ راوی اور غیر فقیہ راوی کی روایت میں تعارض ہو تو فقیہ راوی کی روایت کو ترجیح دی جا سکتی ہے۔
    اگر کوئی مجتہد مندرجہ بالا احکام میں سے کسی حکم میں جداگانہ مسلک رکھتا ہے تو چونکہ یہ بھی ثابت ہے اس لیے اس پر نکیر نہیں کی جائے گی۔

    یہاں تک تو بنیادی باتیں تھیں۔ اب آگے ہم تحاریر کا جائزہ لیتے ہیں جن کے لیے یہ تھریڈ شروع کیا گیا ہے۔

    جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  7. ‏جون 22، 2016 #7
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,683
    موصول شکریہ جات:
    733
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    بعض علمائے احناف جیسے امام عیسی بن ابانؒ اور امام جصاص رازیؒ نے یہ اصول اخذ کیا ہے کہ احناف کے نزدیک اگر راوی حفظ و عدالت میں تو معروف ہو لیکن فقہ میں غیر معروف ہو تو اس کی روایت پر قیاس کو ترجیح دی جائے گی۔ اس سلسلے میں امام ابو حنیفہؒ کا طرز اوپر گزر چکا ہے کہ آپ قیاس معروف کو حدیث پر ترجیح نہیں دیتے تھے اور قیاس الاصول کو آپ کے یہاں حدیث پر ترجیح حاصل تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں اس اصول کو اخذ کرنے والے علماء کرام موجود ہیں وہیں اس اصول کو رد کرنے والے علماء بھی موجود ہیں۔ اس اصول کے قائلین نے اس کی مثال میں حضرت ابو ہریرہ رض کا ذکر فرمایا ہے اور مخالفین نے صراحت سے فرمایا ہے کہ" ابو ہریرہ رض فقیہ ہیں"۔ لہذا ان کا ذکر یہاں ممکن ہی نہیں ہے۔
    اس سلسلے میں ابحاث ہوتی رہتی ہیں۔ میں ایسی ہی ایک بحث کا ذکر کروں گا جو ہمارے دو دوستوں محترم جمشید صاحب اور محترم ابن داؤد صاحب کے درمیان ہوئی۔ جمشید صاحب حنفی ہیں اور ابن داؤد صاحب اہل حدیث حضرات سے تعلق رکھتے ہیں۔ چونکہ یہ بحث مختلف اوقات میں ہوئی ہے اس لیے اس میں بعض چیزیں آگے پیچھے بھی ہیں۔ میں کوشش کروں گا کہ انہیں ترتیب دیتا جاؤں۔
    محترم ابن داؤد صاحب فرماتے ہیں:
    میں کہتا ہوں:
    ہم یہ بخوبی جانتے ہیں کہ علماء احناف کے اس اصول کے متعلق دو نظریے ہیں۔ ابن داؤد صاحب نے جو اقوال نقل کیے ہیں یہ ان اصولیین کے ہیں جو اس مسئلہ میں امام عیسی بن ابانؒ کے نظریہ کے قائل ہیں۔ ان کے مخالف نظریہ کے قائلین کے اقوال آگے نقل کر دیے جائیں گے۔ جہاں تک نقل کا تعلق ہے تو یہ درست ہے کہ کوئی بھی قول نقل کر دیا جائے چاہے وہ مختار ہو یا نہ ہو۔ لیکن جہاں تعلق ہے ترجیح کا تو فقہ حنفی کے طور پر اسی قول کو ترجیح ہوگی جسے احناف ترجیح دیں گے۔ اس میں کثرت نقل کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ محققین احناف جس قول کو ترجیح دیں گے وہی مختار ہوگا۔ اور اس میں کسی اہل حدیث، شافعی، مالکی، حنبلی وغیرہ کی ترجیح کا کوئی اعتبار نہیں کیوں کہ جن کا مسلک ہے وہی اسے بہتر جانتے ہیں۔ اور احناف کے نزدیک جو قول راجح ہے وہ یہ ہے:
    إذا تعارض خبر الواحد و القیاس بحیث لا جمع بینهما ممكن: قدم الخبر مطلقاً عند الأكثر، منهم: أبو حنیفۃ، و الشافعي، و أحمد رحمهم الله، و قیل: یقدم القیاس، و قیل: إذا كان راوي الخبر فقیهاً یقدم الخبر، و إلا فالقیاس، و الحق الذي ندین الله به هو الأول.
    (فتح الملہم،1۔31، ط: دار الضیاء)

    یہاں حق اور درست قول قولِ اول کو فرمایا ہے جو یہ ہے کہ اگر خبر واحد اور قیاس میں ایسا تعارض ہو جائے کہ جمع ممکن نہ ہو تو اکثر کے نزدیک خبر مطلقاً مقدم ہے۔

    اس بات کو سمجھنے کے بعد کچھ باتیں عرض ہیں:
    1: قیاس الاصول میں احناف کا طرز ہم اوپر واضح کر چکے ہیں۔ اور معروف قیاس کے بارے میں عیسی بن ابانؒ وغیرہ نے یہ شرط لگائی ہے کہ اس کے مقابلے میں آنے والا راوی اگر فقیہ ہو تو اس کی خبر کو ترجیح ہوگی اور اگر غیر فقیہ ہو تو قیاس کو ترجیح ہوگی۔ ذرا غور فرمائیے کہ قیاس کے مقابلے میں خبر واحد آنے پر خبر کی دو قسمیں کی گئی ہیں اور ان میں سے ایک کو قبول کیا گیا ہے اور دوسری کو ترک کیا گیا ہے۔ جبکہ اوپر ہم مالکی فقہاء قرافی، ابن رشد (جد) اور ابن القصار کے حوالے سے امام مالکؒ کا یہ مذہب نقل کر چکے ہیں کہ خبر واحد کے مقابلے میں قیاس کو ترجیح ہوگی۔ اس میں دونوں اقسام کو رد کر دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود ہمارے محسنین احناف کو اہل الرائے میں اور مالکیہ کو اہل الحدیث میں شمار کرتے ہیں اور خوب جی بھر کر احناف کے اس اصول کو اچھالنے اور اس کے ذریعے احناف پر طعن کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ مالکیہ کے بارے میں ان کی زبان سے ایک لفظ نہیں نکلتا۔
    2: بعض حضرات یہ طعن کرتے ہیں کہ احناف نے اس طرح ابو ہریرہ رض کی کثیر روایات پر عمل نہ کرنے کا بہانہ ڈھونڈا ہے اور اپنے مسلک کے خلاف روایات کو رد کرنے کی کوشش کی ہے۔ حالانکہ حضرت ابو ہریرہ رض کی روایات کو قبول نہ کرنا تابعین کے دور میں بھی تھا۔
    حدثني أبي قال حدثنا أبو أسامة عن الأعمش قال كان إبراهيم صيرفيا في الحديث أجيئه بالحديث قال فكتب مما أخذته عن أبي صالح عن أبي هريرة قال كانوا يتركون أشياء من أحاديث أبي هريرة
    (العلل و معرفۃ الرجال لاحمد، 1۔428، ط: دار خانی)

    ترجمہ: "اعمش فرماتے ہیں: ابراہیم حدیث کے سنار تھے۔ میں ان کے پاس حدیث لے کر آتا تھا۔ فرمایا: جو میں نے ابو صالح کے واسطے سے ابو ہریرہ رض سےلی تھیں ان میں سے انہوں نے لکھیں۔ فرماتے تھے: وہ لوگ ابو ہریرہ رض کی احادیث میں سے چیزیں ترک کر دیا کرتے تھے۔"
    ابراہیم نخعیؒ کی مراد ان لوگوں سے ظاہر ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین کرام تھے۔ اس قول کی سند تو صحیح ہے ہی، سوائے ابو اسامہ کی تدلیس کے (لیکن امام احمدؒ نے انہیں کوفہ والوں کی خبروں کا اعلم فرمایا ہے۔ کما فی تہذیب الکمال)، ابن عساکر نے اس قول کو اتنی اسناد سے نقل کیا ہے کہ اس کا انکار ممکن نہیں ہے۔ اور یہ عمل بعض صحابہ سے ثابت بھی ہے جیسے ابن عباس رض کا انکار اوپر موجود بھی ہے۔
    صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ابو ہریرہ رض کی احادیث کو کس وجہ سے رد فرماتے تھے اس کا کچھ اندازہ اس روایت سے ہوتا ہے:
    حدثنا روح، حدثنا سعيد، عن قتادة، عن أبي حسان الأعرج، أن رجلين، دخلا على عائشة فقالا: إن أبا هريرة يحدث أن نبي الله صلى الله عليه وسلم، كان يقول: «إنما الطيرة في المرأة، والدابة، والدار» قال: فطارت شقة منها في السماء، وشقة في الأرض، فقالت: والذي أنزل القرآن على أبي القاسم ما هكذا كان يقول، ولكن نبي الله صلى الله عليه وسلم كان يقول: " كان أهل الجاهلية يقولون: الطيرة في المرأة والدار والدابة " ثم قرأت عائشة: {ما أصاب من مصيبة في الأرض ولا في أنفسكم إلا في كتاب} إلى آخر الآية
    (مسند احمد، 43۔197، ط: الرسالۃ۔۔۔۔۔۔ اسنادہ صحیح الا ان سعید بن ابی عروبۃ کثیر التدلیس من الطبقۃ الثانیۃ واختلط فی خمس و اربعین و مئۃ، قال الروح: سمعت عن سعید قبل الاختلاط، ذکرہ الحافظ )

    ترجمہ: "ابو حسان اعرج سے روایت ہے کہ دو شخص حضرت عائشہ رض کے پاس آئے اور کہا: ابو ہریرہ رض بیان فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ فرماتے تھے کہ نحوست عورت ، جانور اور گھر میں ہے۔ کہتے ہیں: ان کا ایک حصہ آسمان میں اور ایک زمین میں اڑ گیا (کنایہ ہے غصے سے۔۔۔۔۔۔۔ مترجم) اور فرمایا:اس ذات کی قسم جس نے ابو القاسم ﷺ پر قرآن نازل کیا ہے آپ ایسا نہیں فرماتے تھے۔ بلکہ نبی ﷺ فرماتے تھے: اہل جاہلیت کہتے تھے کہ نحوست عورت، جانور اور گھر میں ہے۔ پھر عائشہ رض نے یہ آیت آخر تک پڑھی: زمین میں اور تمہاری جانوں میں کوئی مصیبت نہیں آتی مگر یہ کہ وہ ایک کتاب میں لکھی ہوتی ہے۔"
    یہ روایت جو مکحولؒ کے واسطے سے مرسلاً مروی ہے:
    حدثنا أبو داود قال: حدثنا محمد بن راشد، عن مكحول، قيل لعائشة إن أبا هريرة، يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " الشؤم في ثلاثة: في الدار والمرأة والفرس " فقالت عائشة: لم يحفظ أبو هريرة لأنه دخل ورسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " قاتل الله اليهود، يقولون إن الشؤم في ثلاثة: في الدار والمرأة والفرس " فسمع آخر الحديث ولم يسمع أوله
    (مسند ابی داؤد ،3۔124،ط: دار ہجر)

    اس میں صراحت بھی ہے کہ ابو ہریرہ رض جب نبی کریم ﷺ کے پاس تشریف لائے تو آپ یہ روایت فرما رہے تھے تو ابو ہریرہ رض نے آدھی روایت سنی اور آدھی نہیں سن پائے۔
    اس روایت سے یہ پتا چلتا ہے کہ ابو ہریرہ رض کی عادت مبارکہ تھی کہ آپ جو حدیث جتنی اور جیسے سن لیتے تھے اس میں کسی صورت تبدیلی و تخصیص نہیں فرماتے تھے اور نہ ہی اس میں تفقہ کی صلاحیت کو استعمال فرماتے تھے۔ ورنہ آپ رض کے سامنے بھی قرآن کی یہ آیت موجود تھی اور نحوست کی ممانعت بہت عام فہم شے تھی۔ حدیث لا عدوی ولا طیرۃ (جس میں نحوست کا انکار ہے۔۔۔۔۔ رواہ البخاری) آپ رض خود بھی روایت فرماتے ہیں۔ تو کم از کم آپ رض کو اس روایت کے بارے میں کسی سے معلوم کر لینا چاہیے تھا کہ آخر نبی کریم ﷺ نے یہ بات کس تناظر میں ارشاد فرمائی۔ لیکن آپ رض کی نبی ﷺ سے محبت اس قدر تھی کہ آپ کسی حدیث میں کسی تبدیلی کو پسند نہیں فرماتے تھے۔ مذکورہ بالا حضرت ابن عباس رض کی روایت میں بھی ابن عباس رض نے جس قاعدہ کلیہ اور نبی کریم ﷺ کے فعل مبارک کو دیکھ کر ابو ہریرہ رض کی روایت پر اشکال کیا وہ ظاہر یہی ہے کہ ابو ہریرہ رض کے علم میں بھی ہوگا کیوں کہ ایسی چیزوں کا استعمال کثرت سے ہوتا ہے جنہیں آگ چھوئے خصوصاً طعام کے تو کئی ایسے مراحل آتے ہیں اور حضرت ابو ہریرہ ر ض اکثر نبی کریم ﷺ کے ساتھ ہی رہتے تھے۔ لیکن وہاں بھی آپ رض نے حدیث مبارکہ کو من و عن بیان فرمایا اور اس میں کسی قسم کی تخصیص پسند نہیں فرمائی۔ اس طرح کی اور بھی مثالیں ہیں۔

    اس چیز کو جن علماء احناف نے دیکھا انہوں نے یہ استدلال کیا کہ ابو ہریرہ رض فقہاء صحابہ میں نہیں تھے۔
    یہاں یہ یاد رہے کہ یہ قول ان روایات کی روشنی میں مضبوط لگتا ہے لیکن اس کے باوجود یہ قول متروک قول ہے۔ ابو ہریرہ رض فقیہ صحابہ کرام میں سے تھے اور آپ صحابہ کرام میں فتاوی بھی دیا کرتے تھے۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ ظاہر حدیث کو لینا آپ رض کا طرز ہو اور یہ کوئی طعن والی بات نہیں ہے۔

    جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  8. ‏جون 23، 2016 #8
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,683
    موصول شکریہ جات:
    733
    تمغے کے پوائنٹ:
    276



    محدث علامہ احمد علی سہارنپوریؒ علمائے دیوبند کے اساتذہ میں سے ہیں۔ بارہویں صدی ہجری کے محقق محدثین میں ان کا شمار ہوتا ہے اور شاہ اسحاقؒ کے شاگرد ہیں۔ آپ سے صحاح ستہ کا درس حاصل کیا۔ ہندوستان میں انہوں نے "مطبع احمدی" کے نام سے پریس لگایا اور کتب حدیث کی دقیق تحقیق و تصحیح کے بعد ان کو شائع کیا۔ اس کے علاوہ کتب حدیث پر تعلیقات و حواشی بھی لگائے۔
    مذکورہ بالا جو حوالہ نقل کیا گیا ہے اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ احمد علی سہارنپوریؒ اس اصول کے بیان میں عیسی بن ابانؒ کے متبع تھے۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ عیسی بن ابانؒ، جصاصؒ اور سرخسیؒ کی جلالت قدر کی وجہ سے بعد میں آنے والے بہت سے اصولیین نے ان کا قول بلا تحقیق لیا ہے۔ یا تو ان بعد والے حضرات تک کرخیؒ کا قول اور نسفیؒ کی کشف الاسرار نہیں پہنچی تھی اور یا پھر انہوں نے عیسی بن ابانؒ کی جلالت قدر کی وجہ سے انہی کے قول کو راجح سمجھا۔ لیکن محققین حنفیہ کا قول ان کےخلاف ہے۔ چنانچہ مشہور حنفی دیوبندی عالم مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ نے بذل المجہود میں حدیث مصراۃ پر جب بحث کی ہے تو اس قول کا ذکر بھی نہیں فرمایا اور اس کے بر خلاف علامہ عینیؒ کا قول ذکر فرمایا ہے۔ علامہ عینی حافظ ابن حجرؒ کی جرح کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
    ثم إن بعضهم قد تصدى للجواب عما قالت الحنفية في هذا الموضع، فما قالوا: إن هذا يعني: حديث المصراة خبر واحد لا يفيد إلا الظن، وهو مخالف لقياس الأصول المقطوع به، فلا يلزم العمل به.
    ثم قال هذا القائل وتعقب: بأن التوقف في خبر الواحد إنما هو في مخالفة الأصول لا في مخالفة قياس الأصول، وهذا الخبر إنما خالف قياس الأصول بدليل أن الأصول الكتاب والسنة والإجماع والقياس، والكتاب والسنة في الحقيقة هما الأصل والآخران مردودان اليهما، فالسنة أصل والقياس فرع، فكيف يرد الأصل بالفرع؟ بل الحديث الصحيح أصل بنفسه فكيف يقال: إن الأصل يخالف نفسه؟ انتهى. قلت: قوله: وهو مخالف لقياس الأصول، لم يقل به الحنفية، كذا، وكيف ينقل عنهم ما لم يقولوا أو قالوا؟ فينقل عنهم بخلاف ما أرادوا منه لعدم التروي وعدم إدراك التحقيق فيه؟ فكيف يقال: وهو مخالف لقياس الأصول، والحال أن القياس أصل من الأصول، لأن الحنفية عدوا القياس أصلا رابعا، على ما في كتبهم المشهورة، فيكون معنى ما نقلوا من هذا، وهو مخالف لأصل الأصول، وهو كلام فاسد
    (عمدۃ القاری، 11۔273، ط: دار احیاء التراث)
    ترجمہ: "پھر ان میں سے بعض جو حنفیہ نے اس جگہ کہا ہے اس کا جواب دینے نکلے: تو جو حنفیہ نے کہا ہےکہ یہ یعنی حدیث مصراۃ خبر واحد ہے صرف ظن کا فائدہ دیتی ہے اور یہ قطعی اصول کے قیاس کے خلاف ہے اس لیے اس پر عمل لازم نہیں ہے۔ پھر اس قائل نے کہا اور اس کا پیچھا کیا گیا کہ: خبر واحد میں توقف تب ہوتا ہے جب وہ اصول کے خلاف ہو نہ کہ قیاس الاصول کے اس دلیل کی بناء پر کہ اصول کتاب، سنت، اجماع اور قیاس ہیں۔ اور کتاب اور سنت حقیقت میں اصل ہیں اور باقی دو انہی کی طرف لوٹتے ہیں۔ تو سنت اصل ہے اور قیاس فرع۔ اور اصل کو فرع سے کیسے رد کیا جاسکتا ہے؟ بلکہ حدیث صحیح خود ہی ایک اصل ہے تو یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ اصل خود اپنے خلاف ہے؟ (ابن حجر کا کلام ختم ہوا)۔ میں (عینی) کہتا ہوں: اس کا یہ قول کہ یہ اصول کے قیاس کے خلاف ہے یہ حنفیہ نے نہیں کہا۔ ان سے کیسے وہ قول نقل کیا جا سکتا ہے جو انہوں نے نہ کہا ہو یا انہوں نے کہا ہو تو اس سے جو ان کی مراد ہو اس کے خلاف نقل کیا جائے بغیر غور كیے اور تحقیق كیے بغیر؟ یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ یہ اصول کے قیاس کے مخالف ہے جب کہ قیاس خود اصول میں سے ایک اصل ہے ۔ اس لیے کہ حنفیہ نے قیاس کو چوتھا اصول شمار کیا ہے جیسا کہ ان کی مشہور کتب میں ہے۔ تو جو ان لوگوں نے ان سے نقل کیا ہےاس کا معنی بنے گا: وہ اصول کے ایک اصل کے خلاف ہے۔ اور یہ کلام فاسد ہے۔"
    علامہ عینیؒ نے اسے کلام فاسد اس لیے قرار دیا ہے کہ اس سے پہلے وہ طویل بحث کر چکے ہیں کہ احناف کے نزدیک یہ روایت مصراۃ اصول ثابتہ کے خلاف ہے اور جتنا کلام اس بارے میں ہوا تھا وہ بھی نقل کرچکے ہیں۔ اس لیے جب ابن حجرؒ نے یہ سمجھا کہ یہاں مراد اصول فقہ کا معروف قیاس ہے تو عینیؒ نے ان کی بات کو رد کر دیا۔
    حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ نے بھی علامہ عینیؒ کے اسی کلام کو بذل المجہود (15۔113 تا 118 ط: العلمیۃ) پر نقل فرمایا ہے اور اس پر نکیر نہیں فرمائی۔ اس کے بعد ایک اور کلام بھی اسی کے مثل نقل فرمایا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ محققین احناف نے اسی قول کو ترجیح دی ہے۔
    حدیث مصراۃ پر تفصیلی بحث ان شاء اللہ آگے آئے گی۔

    جاری ہے۔۔۔۔۔۔
     
  9. ‏جون 24، 2016 #9
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,683
    موصول شکریہ جات:
    733
    تمغے کے پوائنٹ:
    276


    ہم نے اوپر کلام میں لفظ "قیاس الاصول" کا استعمال کیا ہے لیکن فقہاء و اصولیین کی کتب کو دیکھنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس لفظ کا استعمال دو معنی میں ہوا ہے۔ قیاس قسم ثانی کے معنی میں جیسے کہ اوپر "التجرید" کے حوالے میں موجود ہے اور جیسا کہ اس کی صراحت علامہ ظفر احمد عثمانیؒ نے اعلاء السنن (14۔65، ط: ادارۃ القرآن) میں فرمائی ہے۔
    دوسرا معنی عام قیاس معروف کا ہے جس پر حافظ ابن حجرؒ نے تنقید فرمائی ہے۔ اس معنی میں بھی یہ لفظ فقہاء احناف نے استعمال کیا ہے۔ ہماری مراد پہلا والا معنی یعنی قواعد کلیہ یا قیاس قسم ثانی ہے۔
    محترمی ابن داؤد صاحب نے کتب اصول احناف کی ایک طویل فہرست گنوائی ہے جن میں احناف کے اس اصول کا ذکر ہے۔ ہم ان میں سے ہر کتاب پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

    01 أصول الشاشي - نظام الدين أبو علي أحمد بن محمد بن إسحاق الشاشي (المتوفى: 344هـ)
    والقسم الثاني من الرواة هم المعروفون بالحفظ والعدالة دون الاجتهاد والفتوى كأبي هريرة وأنس بن مالك فإذا صحت رواية مثلهما عندك فإن وافق الخبر القياس فلا خفاء في لزوم العمل به وإن خالفه كان العمل بالقياس أولى مثاله ما روى أبو هريرة الوضوء مما مسته النار فقال له ابن عباس أرأيت لو توضأت بماء سخين أكنت تتوضأ منه فسكت وإنما رده بالقياس إذ لو كان عنده خبر لرواه وعلى هذا ترك أصحابنا رواية أبي هريرة في مسألة المصراة بالقياس
    اصول الشاشی ،1۔276، ط: دارالكتاب العربی

    ترجمہ:" اور راویوں کی دوسری قسم وہ ہے جو حفظ اور عدالت کے ساتھ مشہور ہوں نہ کہ اجتہاد اور فتویٰ کے ساتھ جیسے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ پس اگر ان جیسے راویوں کی روایت آپ کے ہاں صحیح طور ثابت ہو جائے تو اگر وہ خبر قیاس کے موافق ہو تو اس پر عمل کے لازم ہونے کے حق میں کوئی خفا نہیں ہے اور اگر وہ خبر قیاس کے مخالف ہو تو قیاس پر عمل کرنا اولیٰ ہے اس خبر کے اوپر عمل کرنے سے۔ اس کی مثال وہ حدیث ہے جس کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے کہ وضو واجب ہوتا ہے اس چیز (کے کھانےپینے) سے جس کو آگ نے چھوا ہو۔ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ بتائیں کہ اگر آپ گرم پانی سے وضو کریں تو کیا آپ اس کی وجہ سے (پھر) وضو کریں گے پس ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ خاموش ہو گئے۔ اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو قیاس سے رد کیا اس لئے کہ اگر ان کے پاس کوئی حدیث ہوتی تو وہ اس کو ضرور روایت کرتے۔ اور اسی بنا پر ہمارے علماء نے مصراة کے مسئلے میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کو قیاس کے ساتھ رد کردیا۔"
    حدیث ابن عباس کے سلسلے میں ہم کلام کر چکے ہیں کہ ابن عباس رض کا یہ قول ایک اصول کی بنیاد پر تھا جسے آپ رض نے نبی کریم ﷺ کے فعل مبارک اور دیگر دلائل و قرائن سے اخذ فرمایا تھا۔ یہ قیاس معروف نہیں تھا۔ اس لیے کہ یہاں قیاس کے لیے مقیس علیہ اور علت مشترکہ موجود نہیں ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ ابن عباس رض نے ما مست النار کو قیاس کیا تھا دیگر ایسی پاک چیزوں پر جنہیں آگ نے نہیں چھوا ہوتا تو یہ قیاس مع الفارق ہوگا۔ کیوں کہ دونوں اشیاء میں بنیادی فرق آگ کے چھونے کا ہی تو ہے۔ اور ان چیزوں میں جنہیں آگ چھوئے ایسی کوئی چیز نہیں تھی جس کے مستثنی ہونے پر اتفاق ہو۔ البتہ ابن عباس رض نے اصول یہ اخذ کیا تھا کہ پاک اشیاء سے وضو لازم نہیں ہوتا چاہے ان کی حالت پکی ہوئی ہو یا بغیر پکی ہوئی۔ دوسرا اصول یہ تھا کہ آگ کسی چیز کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں کر سکتی۔ یہ کلام تھوڑے فرق کے ساتھ اوپر گزر چکا ہے۔
    صاحب اصول شاشی نے مثال اس روایت کی دی ہے۔ اور قیاس کے سلسلے میں انہوں نے کوئی وضاحت نہیں کی کہ کون سا قیاس مراد ہے۔ جب کہ ہم آگے دیکھیں گے کہ کچھ اصولیین نے اسی اصول کو ذکر کر کے قیاس سے مراد قیاس قسم ثانی لیا ہے۔ صاحب اصول شاشی کی دی ہوئی مثال سے یہ بات زیادہ قریب معلوم ہوتی ہے کہ ان کے نزدیک بھی قیاس سے مراد قیاس قسم ثانی ہے۔
    اس صورت میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قیاس قسم ثانی کی مخالفت کی صورت میں توفقیہ و غیر فقیہ دونوں کی ہی روایات کو رد کر دیا جاتا ہے تو ان حضرات کے یہاں پھر غیر فقیہ راوی کی قید کیوں ہے۔ اس کے دو جواب دیے جا سکتے ہیں: اول: ان حضرات کے نزدیک قیاس الاصول یا قیاس قسم ثانی کی صورت میں بھی صرف غیر فقیہ راوی کی روایت کو رد کیا جاسکتا ہے۔ فقیہ راوی کی روایت بہر حال قیاس کی ہر قسم پر مقدم ہوگی۔ بایں صورت یہ ان حضرات کے اہتمام بالحدیث پر دال ہے۔
    ثانی: ان حضرات نے اصول تو عیسی بن ابانؒ وغیرہ کا ہی لیا لیکن چونکہ قیاس معروف کو حدیث پر ترجیح دینا یہ کسی صورت درست نہیں سمجھتے تھے اس لیے انہوں نے قیاس کی تشریح قیاس قسم ثانی سے کی۔

    02 الفصول في الأصول - أحمد بن علي الرازي الجصاص (المتوفى: 370هـ)
    قال أبو بكر - رحمه الله -، وتحصيل ما روينا عنه وجملته: أنه نزل أخبار الآحاد على منازل ثلاث:
    أحدها: ما يرويه عدل معروف بحمل العلم، والضبط، والاتفاق من غير ظهور ينكر من السلف عليه في رواية، فيكون مقبولا، إلا أن يجيء معارضا للأصول التي هي: الكتاب، والسنة الثابتة، والاتفاق. ولا يرد بقياس الأصول.
    والثاني: ما يرويه من لا يعرف ضبطه وإتقانه، وليس بمشهور بحمل العلم، إلا أن الثقات قد حملوا عنه، فيكون حملهم عنه تعديلا منهم له، فخبره مقبول، ما لم يرده قياس الأصول، ويسوغ به رده، وقبوله بالاجتهاد. نحو ما ذكر عيسى من حديث: وابصة، وابن سنان، وسلمة بن المحبق، ونظرائهم، وذلك لأن حملهم العلم عنه وإن كان تعديلا منهم إياه، إذ لم يجز أن يظن بهم: أنهم نقلوا عن غير عدل، فليس في تعديلهم إياه ما يوجب وقوع الحكم منهم بضبطه وإتقانه.
    وهذان الأمران مما يحتاج إليهما في صحة النقل: أعني العدالة، والضبط لما نقل، فإذا لم يثبت عندنا ضبط الراوي لما رواه، ولم يثبت عدالته - جاز لنا النظر والاجتهاد في (قبول روايته) وردها.
    والثالث ما: يرويه رجل معروف وقد شك السلف في روايته، واتهموا غلطه، فروايته مقبولة، ما لم تعارضه الأصول التي قدمنا، ولم يعارضه القياس أيضا، فإنه إذا عارضه القياس ساغ الاجتهاد في رده بقياس الأصول، فعلى هذه المعاني يدور هذا الباب.
    الفصول فی الاصول للجصاص، 3۔136، ط: وزارۃ الاوقاف الکویتیۃ

    اس عبارت میں روات کی تین قسمیں بیان کی گئی ہیں:
    اول: جو عادل اور علم اور ضبط میں مشہور ہوں۔ اور سلف میں سے کسی نے ان کی کسی روایت پر نکیر نہ کی ہو۔
    ثانی: جن کا ضبط اور اتقان معروف نہ ہو۔
    ثالث: جسے کسی ایسے راوی نے روایت کیا ہو جو معروف ہوں لیکن سلف نے ان کی روایات پر نکیر بھی کی ہو اور انہیں غلط سمجھا ہو۔
    یہ وہ خلاصہ ہے جو عیسی بن ابان ؒ کی طویل عبارت اور کئی مثالوں کو نقل کر کے جصاصؒ نے نکالا ہے۔ اس میں بآسانی یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ ان اقسام میں فقہ و عدم فقہ کا کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔ اس سے یہ پتا چلتا ہے کہ ہم جو اس اصول کی نسبت عیسی بن ابانؒ کی طرف اور جصاصؒ کی طرف کرتے ہیں یہ نسبت درست نہیں۔ عیسی بن ابانؒ نے جو تیسری قسم بیان کی ہے اس کا اطلاق ما قبل کلام کے مطابق صرف حضرت ابو ہریرہ رض کی روایات پر ہوتا ہے اور اس میں عیسیؒ نے ابراہیم نخعیؒ کی اتباع کی ہے جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے۔
    اس سے یہ معلوم ہوا کہ مندرجہ بالا دو کتب میں احناف کا مذکورہ اصول اس معنی میں موجود نہیں ہے جس معنی میں طعن کیا جاتا ہے اور نہ ہی یہ اصول عیسی بن ابانؒ اور جصاصؒ سے ثابت ہے۔ (واللہ اعلم)

    03 تقويم الأدلة في أصول الفقه - عبيد الله بن عمر عيسی أبي زيد الدبوسي الحنفي (المتوفى: 430هـ)
    الراوي إما أن يكون معروفاً بعلمه ونسبه، أو مجهولاً ما عرف إلا بحديث رواه أو بحديثين.
    ثم كل واحد منهما إما أن يكون ظهر من الصحابة أو السلف رضي الله عنهم رد عليه أو قبول منه. فيصيرون أقساماً أربعة.
    أما المشهورون: فنحو الخلفاء الراشدين، والعبادلة الثلاثة رضي الله عنهم.
    وأما المجهولون: فنحو معقل بن يسار، وسلمة بن المحق، ووابصة بن معبد، وسائر الأعراب الذين ما عرفوا إلا بما رووا.
    ثم خبر المشهور حجة ما لم يخالف القياس الصحيح.
    فإذا خالف نظر: فإن كان الراوي من أهل الفقه والرأي والاجتهاد رد القياس بخبره.
    وإن لم يكن من أهل الفقه والرأي رد خبره بالقياس.
    تقویم الادلۃ، 1۔180، ط: العلمیۃ

    ابو زید الدبوسیؒ کا کلام مکمل طور پر اسی طرح ہے جیسے ہم ذکر کرتے ہیں یعنی اس میں فقہ و عدم فقہ کی قید بھی ہے اور اس میں قیاس سے مراد بھی قیاس معروف ہے جیسا کہ دبوسیؒ نے آگے فقیہ کی بحث میں اس کی وضاحت میں اصل اور فرع کا ذکر کیا ہے۔

    04 أصول البزدوي - كنز الوصول الى معرفة الأصول - ﻓﺨﺮ ﺍﻹﺳﻼﻡ علي بن محمد البزدوي الحنفي (المتوفى: 482هـ)
    واما رواية من لم يعرف بالفقه ولكنه معروف بالعدالة والضبط مثل أبي هريرة وانس بن مالك رضي الله عنهما فان وافق القياس عمل به وان خالفه لم يترك إلا بالضرورة وانسداد باب الرأي ووجه ذلك أن ضبط حديث النبي عليه السلام عظيم الخطر وقد كان النقل بالمعنى مستفيضا فيهم فإذا قصر فقه الراوي عن درك معاني حديث النبي عليه السلام واحاطتها لم يؤمن من ان يذهب عليه شيء من معانية بنقله فيدخله شبهة زائدة يخلو عنها القياس فيحتاط في مثله وانما نعني بما قلنا قصورا عند المقابلة بفقه الحديث فأما الازدراء بهم فمعاذ الله من ذلك فان محمدا رحمه الله يحكي عن أبي حنيفة رضي الله عنه في غير موضع انه احتج بمذهب انس بن مالك رضي الله عنه وقلده فماظنك في أبي هريرة رضي الله عنه حتى أن المذهب عند اصحابنا رحمهم الله في ذلك انه لا يرد حديث امثالهم إلا إذا انسد باب الرأي والقياس لانه إذا انسد صار الحديث ناسخا للكتاب والحديث المشهور ومعارضا للاجماع وذلك مثل حديث أبي هريرة رضي الله عنه في المصراة أن انسد فيه باب الرأي فصار ناسخا الكتاب والسنة المعروفة معارضا للاجماع في ضمان العدوان بالمثل والقيمة دون التمر وفي وجوه اخر ذكرناها في موضعها
    اصول البزدوی، 1۔160، ط: جاوید پریس، میر محمد كتب خانه

    اس عبارت میں بزدویؒ نے ان رواۃ کا ذکر کیا ہے جو فقہ میں معروف نہیں ہوں اور ان میں ابو ہریرہ رض اور انس بن مالک رض کا ذکر کیا ہے۔ پھر فرمایا ہے:
    فان وافق القياس عمل به وان خالفه لم يترك إلا بالضرورة وانسداد باب الرأي
    ترجمہ:" اگر قیاس کے موافق ہو تو اس (خبر۔۔۔۔ مترجم) پر عمل کیا جائے گا۔ اور اگر اس کے مخالف ہو تو اس پر عمل نہیں چھوڑا جائے الا یہ کہ ضرورت ہو اور وہ ضرورت رائے کا دروازہ بند ہوجانا ہے۔"
    لیکن یہاں رائے سے کون سی رائے اور قیاس سے کون سا قیاس مراد ہے اس کی وضاحت بھی بزدویؒ نے خود فرما دی ہے:
    إلا إذا انسد باب الرأي والقياس لانه إذا انسد صار الحديث ناسخا للكتاب والحديث المشهور ومعارضا للاجماع وذلك مثل حديث أبي هريرة رضي الله عنه في المصراة أن انسد فيه باب الرأي فصار ناسخا الكتاب والسنة المعروفة معارضا للاجماع في ضمان العدوان بالمثل والقيمة دون التمر وفي وجوه اخر ذكرناها في موضعها
    ترجمہ: "الا یہ کہ رائے اور قیاس کا باب بند ہو جائے اس لیے کہ جب یہ بند ہو جائے گا تو حدیث کتاب اور اور حدیث مشہور کے لیے ناسخ بن جائے گی اور اجماع کے معارض ہو جائے گی۔ جیسا کہ مصراۃ کے بارے میں ابو ہریرہ رض کی حدیث ہے کہ اس میں رائے کا باب بند ہو گیا تو یہ زیادتی کا ضمان مثل اور قیمت سے ہونے اور کھجور سے نہ ہونے میں قرآن و سنت کے لیے ناسخ اور اجماع کے لیے معارض بن گئی۔ اور دیگر وجوہ میں بھی ایسا ہوا ہے جنہیں ہم نے ان کی جگہ پر ذکر کر دیا ہے۔"
    ملاحظہ فرمائیے کہ قرآن و سنت اور اجماع سے تعارض کی مثال میں ضمان بالمثل اور بالقیمۃ کا ذکر کیا ہے جو ظاہر ہے کہ اصول ثلاثہ (قرآن، سنت اور اجماع) سے حاصل کردہ قاعدہ ہے۔ اس میں کسی اصل و فرع وغیرہ کا ذکر نہیں ہے کہ یہ قیاس معروف ہو بلکہ یہ قیاس قسم ثانی ہے۔

    05 الكافي شرح البزدوي ۔ حسام الدين حسين بن علي بن حجاج السغناقي (المتوفى: 714هـ)
    وقوله: (لأنه إذا انسد صار الحديث ناسخًا للكتاب والحديث المشهور ومعارضًا للإجماع)؛ لأن الكتاب يقتضي وجوب العمل بالقياس بقوله تعالى: {فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الأَبْصَارِ}.
    وكذلك الحديث المشهور يقتضي وجوب العمل بالقياس وهو حديث معاذ- رضي الله عنه- قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - حين أجاب هو بما أجاب: ((الحمد لله الذي وفق رسول الله)) وغيره من الأحاديث التي ذكرها في الكتاب، وكذلك الإجماع منعقد على وجوب العمل بالقياس عند انعدام دليل فوقه.
    أو نقول: الحديث الذي رواه أبو هريرة- رضي الله عنه- في المصراة لو عملنا به يلزم نسخ الكتاب والسنة والإجماع.
    أما الكتاب: فإنه يقتضي المماثلة في باب العدوان في قوله تعالى: {فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَى عَلَيْكُمْ}، وقوله: {وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سيئة مِثْلُهَا}، وكذلك السنة والإجماع، والعمل بحديث المصراة يسد باب القياس أصلًا وهو مفتوح بهذه الدلائل الثلاث.
    الكافی شرح اصول البزدوی، 3۔1266، ط: مكتبۃ الرشد

    چونکہ عموماً شارحین کا یہ طرز ہوتا ہے کہ وہ ماتن کی عبارت کو ہی لے کر چلتے ہیں شاید اسی کا سوچتے ہوئے اس کتاب کا حوالہ دیا گیا ہے۔ ورنہ اس کتاب کے مصنف نے تو اصول کو ذکر ہی نہیں کیا بلکہ صرف اس میں قول انسداد کی تھوڑی سی تشریح کی ہے۔
    چنانچہ انہوں نے حدیث کے کتاب، سنت مشہورہ اور اجماع کے خلاف ہونے کی دو ممکنہ تشریحات کی ہیں:
    اول: کتاب و سنت واور اجماع سے مراد قیاس معروف کے ثبوت میں جو آیات، احادیث اور اجماع وارد ہوا ہے وہ مراد ہو۔
    دوم: یہ مراد ہو کہ حدیث پر عمل کرنے سے قرآن، سنت اور اجماع (یعنی ان سے حاصل شدہ قواعد جنہیں ہم قیاس قسم ثانی کہتے ہیں) کا نسخ لازم آتا ہے جیسا کہ مثال میں حدیث مصراۃ سے واضح ہے۔
    اور ہم اوپر یہ واضح کر چکے ہیں کہ مصنف کی یہی دوسری والی مراد ہے۔

    06 كشف الأسرار شرح أصول البزدوي - عبد العزيز بن أحمد بن محمد، علاء الدين البخاري الحنفي (المتوفى: 730هـ)
    وأما الذي يدل عليه سوق الكلام في الكتاب فهو أن حديث المصراة ورد مخالفا للقياس وانسد فيه باب الرأي؛ لأن ضمان العدوان فيما له مثل مقدر بالمثل بالكتاب وهو قوله تعالى {فاعتدوا عليه بمثل ما اعتدى عليكم} [البقرة: 194] .
    وفيما لا مثل له مقدر بالقيمة بالحديث المعروف وهو، قوله - عليه السلام - «من أعتق شقصا له في عبد قوم عليه نصيب شريكه إن كان موسرا» على ما بيناه في باب الأداء والقضاء وقد انعقد الإجماع أيضا على وجوب المثل أو القيمة عند فوات العين وتعذر الرد ثم اللبن إن كان من ذوات الأمثال يضمن بالمثل ويكون القول في بيان المقدار قول من عليه، وإن لم يكن منها يضمن بالقيمة فإيجاب التمر مكانه يكون مخالفا للحكم الثابت بالكتاب والسنة والإجماع فيكون نسخا ومعارضة كما ذكر في الكتاب.
    وقوله في ضمان العدوان متعلق بمجموع قوله صار ناسخا للكتاب والسنة معارضا للإجماع أي يلزم من العمل بهذا الحديث نسخ الكتاب والسنة ومعارضة الإجماع في حق هذا الحكم
    كشف الاسرار ، 2۔382، ط: دار الكتاب الاسلامی

    صاحب کشف الاسرار نے بھی اصول بزدوی کے اس اصول کی تشریح میں پہلے وہ موقف بیان کیا ہے جو ابو زید دبوسیؒ کا ہے۔ پھر اس کے بعد فرماتے ہیں کہ کتاب میں لائے گئے کلام کا سیاق اس پر دلالت کرتا ہے کہ حدیث مصراۃ قیاس کے خلاف وارد ہوئی ہے اور اس میں رائے کا باب بند ہوا ہے۔ پھر اس قیاس اور رائے کی تفصیل میں اس قاعدہ کا ذکر کیا جس کا ذکر بزدویؒ نے کیا تھا اور آگے قرآن، سنت اور اجماع سے ان جگہوں کا ذکر کیا جہاں سے وہ قاعدہ اخذ ہوا ہے۔ اس سے انتہائی واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ بزدویؒ اور شارح کی مراد قیاس سے قیاس کی قسم ثانی ہے۔
    اس کے بعد آخر میں عبد العزیز بخاریؒ صاحب کشف الاسرار نے تفصیل کے ساتھ امام کرخیؒ کا کلام ذکر فرمایا ہے جو اس قاعدہ کو تسلیم ہی نہیں فرماتے۔


    محترمی @ابن داود بھائی۔ میں اس تحریر میں بطو عالم کے آپ کا ادب کرتے ہوئے کسی قسم کے توہین آمیز جملے یا دجل و فریب جیسے الفاظ استعمال نہیں کروں گا۔ اگر کسی جگہ میرے کسی جملے سے ایسا کوئی معنی نکل رہا ہو تو مجھے مطلع فرمائیے گا۔

    جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  10. ‏جون 25، 2016 #10
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,683
    موصول شکریہ جات:
    733
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    07 أصول السرخسي - محمد بن أحمد بن أبي سهل شمس الأئمة السرخسي (المتوفى: 483هـ)
    علامہ سرخسیؒ نے اولاً راویوں کی دو قسمیں کی ہیں: معروف اور مجہول۔ پھر معروف کی دو قسمیں کی ہیں۔ معروف بالفقہ والروایۃ اور معروف بالروایۃ غیر معروف بالفقہ۔
    قَالَ رَضِي الله عَنهُ اعْلَم بِأَن الروَاة قِسْمَانِ مَعْرُوف ومجهول
    فالمعروف نَوْعَانِ من كَانَ مَعْرُوفا بالفقه والرأي فِي الِاجْتِهَاد وَمن كَانَ مَعْرُوفا بِالْعَدَالَةِ وَحسن الضَّبْط وَالْحِفْظ وَلكنه قَلِيل الْفِقْه

    پھر پہلی قسم یعنی معروف بالروایۃ و الفقہ کی تفصیل بیان فرمائی ہے:
    فالنوع الأول كالخلفاء الرَّاشِدين والعبادلة وَزيد بن ثَابت ومعاذ بن جبل وَأبي مُوسَى الْأَشْعَرِيّ وَعَائِشَة وَغَيرهم من الْمَشْهُورين بالفقه من الصَّحَابَة رَضِي الله عَنْهُم وخبرهم حجَّة مُوجبَة للْعلم الَّذِي هُوَ غَالب الرَّأْي ويبتنى عَلَيْهِ وجوب الْعَمَل سَوَاء كَانَ الْخَبَر مُوَافقا للْقِيَاس أَو مُخَالفا لَهُ فَإِن كَانَ مُوَافقا للْقِيَاس تأيد بِهِ وَإِن كَانَ مُخَالفا للْقِيَاس يتْرك الْقيَاس وَيعْمل بالْخبر ۔۔۔۔
    اس کی تفصیل میں جو امام مالک کے مسلک کی تفصیل بیان فرمائی ہے اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ قیاس سے مراد قیاس کی قسم اول یعنی قیاس معروف ہے۔
    آگے رواۃ کی دوسری قسم کی تفصیل بیان فرمائی ہے:
    وقال: فَأَما الْمَعْرُوف بِالْعَدَالَةِ والضبط وَالْحِفْظ كَأبي هُرَيْرَة وَأنس بن مَالك رَضِي الله عَنْهُمَا وَغَيرهمَا مِمَّن اشْتهر بالصحبة مَعَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم وَالسَّمَاع مِنْهُ مُدَّة طَوِيلَة فِي الْحَضَر وَالسّفر۔۔۔۔۔
    پھر اس کی تفصیل کے بعد اس کا حکم بیان کیا ہے:
    فلمكان مَا اشْتهر من السّلف فِي هَذَا الْبَاب قُلْنَا مَا وَافق الْقيَاس من رِوَايَته فَهُوَ مَعْمُول بِهِ وَمَا خَالف الْقيَاس فَإِن تَلَقَّتْهُ الْأمة بِالْقبُولِ فَهُوَ مَعْمُول بِهِ وَإِلَّا فَالْقِيَاس الصَّحِيح شرعا مقدم على رِوَايَته فِيمَا ينسد بَاب الرَّأْي فِيهِ۔۔۔۔۔
    اور یہ وہی حکم ہے کہ ان کی جو روایت قیاس کے مطابق ہوگی اسے قبول کر لیا جائے گا اور جو قیاس کے خلاف ہوگی اس پر جب رائے کا باب بند ہو تو قیاس کو مقدم کیا جائے گا۔
    اس کی وجہ بیان کر کے (جو عام وجہ ہے اور عموماً اصولیین بیان کرتے ہیں کہ روایت بالمعنی عام تھی اور اس کا امکان ہے کہ راوی نے روایت بالمعنی کی ہو اور غیر فقیہ ہونے کی وجہ سے اس میں غلطی ہو گئی ہو وغیرہ) اس کی وضاحت مثال سے کرتے ہیں اور یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک قیاس سے کیا مراد ہے:
    وَبَيَان هَذَا فِي حَدِيث الْمُصراة فَإِن الْأَمر برد صَاع من تمر مَكَان اللَّبن قل أَو كثر مُخَالف للْقِيَاس الصَّحِيح من كل وَجه لِأَن تَقْدِير الضَّمَان فِي العدوانات بِالْمثلِ أَو الْقيمَة حكم ثَابت بِالْكتاب وَالسّنة وَالْإِجْمَاع
    اصول السرخسی، 1۔341، ط: دار المعرفۃ

    ترجمہ: "اور اس کی وضاحت حدیث مصراۃ میں ہے۔ دودھ کی جگہ کھجور واپس کرنے کا حکم چاہے دودھ کم ہو یا زیادہ ہر اعتبار سے قیاس صحیح کے خلاف ہے اس لیے کہ زیادتیوں میں مثل یا قیمت سے ضمان مقرر ہونا ایسا حکم ہے جو کتاب، سنت اور اجماع سے ثابت ہے۔"
    یہ واضح ہے کہ ضمان کا یہ حکم کسی شے معین پر قیاس نہیں ہے بلکہ کتاب، سنت اور اجماع سے حاصل شدہ قاعدہ ہے۔ اور اس عبارت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سرخسیؒ کے نزدیک بھی یہاں قیاس سے مراد قواعد ثابتہ یعنی قیاس قسم ثانی ہے۔

    08 الحسامي - حسام الدين محمد بن عمر الحسامي لأخسيكثي (المتوفى: 644هـ)
    ﴿خبر الراوي المعروف﴾
    وإذا ثبت أن خبر الواحد حجة قلنا: إن كان معروفاً بالفقه والتقدّم في الاجتهاد، كالخلفاء الراشدين والعبادلة الثلاثة وزيد بن ثابت ومعاذ بن جبل وأبي موسی الأشعري وعائشة رضوان الله عليهم أجمين وغيرهم ممن اشتهر بالفقه والنظر، كان حديثهم حجة، يترك به القياس، وإن كان الراوي معروفاً بالعدالة والحفظ دون الفقه، مثل أبي هريرة وأنس بن مالك رضي الله عنهما فإن وافق حديثه القياس عمل به، وإن خالفه لم يترك إلا للضرورة وانسداد باب الرأي، وذلك مثل حديث أبي هريرة في المصرّة.
    منتخب الحسامی،1۔141، ط:مکتبۃ البشری

    اصول فقہ میں منتخب الحسامی وہ متن ہے جو اپنے اجمال میں مشہور ہے۔ علامہ اخسیکثیؒ صاحب منتخب الحسامی نے بھی رواۃ کی دو قسمیں کی ہیں۔ لیکن قسم ثانی میں مخالفت قیاس کی بحث میں قیاس سے کیا مراد ہے یہ غیر واضح ہے۔ آگے اس کی مثال میں ابو ہریرہ رض کی حدیث مصراۃ کا ذکر کیا ہے لیکن اس کی بھی تفصیل بیان نہیں کی۔

    09 تبيين شرح المنتخب الحسامي – قوام الدين أمير كاتب بن أمير عمر بن أمير غازي الفارابي الإتقاني الحنفي (المتوفى: 758هـ)
    وحدیث المعروف بالروایۃ دون الفقه حجۃ إن اتفق القیاس، و إن خالف فكذا، إلا لضرورۃ انسداد باب الرأي، فسنبین۔۔۔۔۔۔
    قوله: لم یترك إلا لضرورۃ انسداد باب الرأي : أي لم یترك الحدیث إذا خالف القیاس إلا إذا لزم من مخالفته انسداد باب الرأي فحینئذ یترك، لأنه یكون ناسخاً للكتاب و السنۃ المشهورۃ و معارضاً للإجماع، و هذا لأن حجیۃ القیاس ثبتت بهذه الثلاثۃ، مثاله ما روی أبو هریرۃ رضي الله عنه: الوضوء مما مسته النار، رده ابن عباس و قال۔۔۔۔۔۔۔
    تبیین شرح الحسامی، 1۔606، ط: وزارۃ الأوقاف

    صاحب تبیین نے بھی اس قاعدہ کا ذکر کیا ہے اور ظاہر ہے صاحب حسامی کی اتباع میں کیاہے کیوں کہ تبیین اسی کی شرح ہے اور اس قاعدہ کی شرح میں روایت ابو ہریرہ رض جس پر ابن عباس رض نے رد فرمایا تھا اور روایت مصراۃ پیش فرمائی ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ان دونوں روایات میں قاعدہ ثابتہ کے ذریعے روایت کو ترک کیا گیا ہے جو کہ قیاس کی قسم ثانی ہے۔ اس کے علاوہ ایک تیسری روایت بھی ذکر فرمائی ہے جس میں حضرت ابو ہریرہ رض کی حدیث پر حضرت عائشہ رض کا رد موجود ہے اور وہ بھی قیاس کی قسم ثانی کے ذریعے ہے فمن شاء فالیراجع۔

    10 شرح الحسامي العجب المسمي بالنامي – أبي محمد عبد الحق الحقاني
    ف: اعلم أن هذا مذهب عیسی بن ابان، و أما عند الكرخي و من تابعه من اصحابنا فلیس فقه الراوي شرطا لتقدم الحدیث علی القیاس، بل یقبل خبر كل عدل ضابط إذا لم یكن مخالفا للكتاب و السنۃ المشهورۃ، و یقدم علی القیاس، و هذا هو الحق المبین، و إلیه مال اكثر العلماء، و هو المأثور من الصحابۃ و التابعین.
    النامی علی منتخب الحسامی،1۔142، ط:مکتبۃ البشری (علی ھامش الحسامی)

    یہ شرح عموماً پاکستان میں چھپی منتخب الحسامی کے حاشیہ پر مل جاتی ہے۔ نہ جانے معترضین نے اس کا نام دیتے وقت اتنی زحمت بھی کیوں نہ کی کہ اس پر ایک نظر ڈال لیتے؟ اس میں اصول کی تفصیل وغیرہ بیان کر کے آخر میں فرماتے ہیں:
    "فائدہ: جان لیجیے کہ یہ مذہب عیسی بن ابان کا ہے۔ اور کرخیؒ اور ہمارے اصحاب میں سے جنہوں نے ان کی اتباع کی ہے ان کے نزدیک راوی کا فقیہ ہونا حدیث کے قیاس پر مقدم ہونے کی شرط نہیں ہے بلکہ ہر عادل ضبط رکھنے والے کی روایت جبکہ وہ کتاب اور سنت مشہورہ کے خلاف نہ ہو قبول ہوگی اور قیاس پر مقدم ہوگی۔ اور یہی واضح حق ہے اور اسی کی طرف اکثر علماء کا میلان ہے اور یہی صحابہ اور تابعین سے منقول ہے۔"
    اس عبارت میں شارح نے کرخیؒ کے موقف کو حق مبین فرمایا ہے اور اکثر علماء کا میلان اسی کی طرف ہونے کا بھی کہا ہے۔
    ابھی تک ہم جو کتابیں دیکھتے آئے ہیں ان میں بھی صرف ابو زید دبوسیؒ کا قول ایسا ملا ہے جس میں قیاس معروف کو خبر واحد پر مقدم کرنے کا ذکر ہے۔ باقی علماء میں سے بعض نے فقہ راوی کا ذکر نہیں کیا، بعض نے کرخیؒ کے موقف کو ترجیح دی ہے اور اکثر نے قیاس کی مثال قیاس قسم ثانی سے دی ہے۔
    اس کے علاوہ ہم یہ بھی دیکھ چکے ہیں کہ جصاصؒ کے خلاصہ کے مطابق یہ اصول جصاصؒ یا عیسی بن ابانؒ سے ثابت نہیں ہے۔ ان شاء اللہ آخر میں جصاصؒ کی مکمل عبارت کو دیکھیں گے جو انہوں نے عیسی بن ابانؒ سے نقل فرمائی ہے۔


    جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں