1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قرآن عظیم الشان کے عربی پر اعتراضات

'قواعد لغویہ عربیہ' میں موضوعات آغاز کردہ از الیاسی, ‏جنوری 26، 2013۔

  1. ‏جنوری 26، 2013 #1
    الیاسی

    الیاسی رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏فروری 28، 2012
    پیغامات:
    425
    موصول شکریہ جات:
    736
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ محترم قاریین وعلماء کرام وقاریات محدث فورم السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
    وبعد چونکہ میرا تعلق جناب الیاس ستار صاحب کے ساتھ شاگردی کا ہے میں ان کا شاگرد ہو اور وہ میرے استاد محترم ہے جناب الیاس ستار صاحب ایک بزنس مین ہونے کے ساتھ
    ساتھ اسلام کا ایک عظیم مبلغ بھی ہیں کافی لوگ ان کے تبلیغ کی وجہ سے مسلمان ہو چکے ہیں الحمد للہ رب العالمین چونکہ الیاس صاحب کے تبلیغ کے ٹارگٹ اعلی تعلیم یافتہ عیسائی یھودی بہائی قادیانی کرسچن شیعہ منکرین حدیث کے علاوہ وہ مسلمان بھی ہیں جو غلط عقاید رکھتے ہیں ہم کچھ مسایل مین ان کے ساتھ اختلاف بھی کرتے ہیں لیکن ہم ہمارا مجموعی ہدف کفار ہے ساتھ ساتھ ہم مسلمانوں کے اصلاح سے بھی غافل نھیں ہے اور جناب الیاس ستار صاحب چونکہ لڑائی جگھڑے کی سخت خلاف ہیں صرف دلیل سے بات کرتے ھیں اسلیے یھاں مذکورہ بالا تمام ادیان والے آتے ہیں بحث مباحثے کیلیے حالیہ دنوں میں کچھ ایسے لوگ بھی آے جنھوں نے قرآن عظیم الشان کے عربی پر اعتراضات کیے عربی گرامر کے لحاظ جو میری ذہن میں ہو میں جواب دیتا ہو لیکن انسان ہو کمزور ھو اللہ تعالی جنت دیں محدث فورم کے انتظامیہ کو کہانھوںنے ایک علمی ماحول ہمیں میسر کردیا ہے یھاں کے اہل علم سے فایدہ اٹھانے کیلیے اور ان سے سیکھنے کیلیے یہ موضوع شروع کررہاھوں امید ہے کہ آپ لوگ میری رہنمائی فرماینگے تاکہ میں موثر جواب دے سکوں جزاکم اللہ خیرا
     
    • شکریہ شکریہ x 8
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏جنوری 26، 2013 #2
    الیاسی

    الیاسی رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏فروری 28، 2012
    پیغامات:
    425
    موصول شکریہ جات:
    736
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    اعتراض نمبر ایک
    سنفرغ لکم ایھا الثقلان سورہ رحمن کے اس آیت مبارکہ پر انھوں نے یہ اعتراض کیا کہ دیکھو یھاں خظاب ثقلان کے ساتھ ہیں اور ثقلان تثنیہ ہے اس لیے ایسا کہنا چاھیے تھا کہ سنفرغ لکما ایھا الثقلان تو میں نے جو جواب دیا تھا وہ یہ کہ میں نے کہا چونکہ ثقلان اگر چہ تثنیہ ہے لیکن ان کے افراد بہت زیادہ ہے اس لیے لکم سے تعبیر کیا گیا جمع کے ساتھ تو انھوں نے کہا کہ بھر حال اللہ تعالی نے لکما کیوں نھیں کہا کیا اللہ تعالی کیلیے کیا مشکل تھا
    اب یہ تو جو مجھے آتا تھا بتادیا اب اگر کسی بہائی کے ذھن میں کوئی اچھا جواب ہو تو ضرور شییر کریں میں احسان مند رہونگا شدید انتظار رھیگا
     
  3. ‏جنوری 27، 2013 #3
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,175
    موصول شکریہ جات:
    15,220
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    آپ نے صحیح جواب دیا ہے۔ جن وانس دونوں فرد نہیں بلکہ گروہ اور جماعتیں ہیں اور ہر گروہ بذات خود جمع ہے۔ فرمانِ باری ہے: فإذا هم فريقان يختصمون، نیز فرمایا: هذان خصمان اختصموا في ربهم
    ان دونوں آیات کریمہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے جماعتوں کے تثنیہ کیلئے جمع کا صیغہ استعمال کیا ہے۔
    تفسیر جامع البیان (المعروف بہ تفسیر طبری) میں ہے:
    وقال : سنفرغ لكم فجمع ، ثم قال : أيه الثقلان لأنهما فريقان وكل فريق جمع ، وكذا قوله تعالى : يا معشر الجن والإنس إن استطعتم ولم يقل إن استطعتما ، لأنهما فريقان في حال الجمع ، كقوله تعالى : فإذا هم فريقان يختصمون و هذان خصمان اختصموا في ربهم ولو قال : سنفرغ لكما ، وقال : إن استطعتما لجاز .

    اس کا ایک جواب میرے نزدیک یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تثنیہ در اصل جمع کی ہی ایک قسم ہے۔ لہٰذا یہ واحد کی نسبت جمع سے زیادہ قریب ہے۔
    اسی لئے دو لوگ انفرادی نہیں بلکہ باجماعت نماز پڑھتے ہیں۔
    اسی طرح جمع متکلم کا صیغہ تثنیہ وجمع دونوں کیلئے استعمال ہوتا ہے۔
    اسی طرح فرمانِ باری ہے: إن تتوبا إلى الله فقد صغت قلوبكما پیچھے دو خواتین کا ذکر ہوا اور آگے جب ان کے دلوں کا ذکر فرمایا تو تثنیہ کی بجائے جمع کے صیغے سے۔

    واللہ تعالیٰ اعلم!
     
    • شکریہ شکریہ x 11
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  4. ‏جنوری 28، 2013 #4
    الیاسی

    الیاسی رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏فروری 28، 2012
    پیغامات:
    425
    موصول شکریہ جات:
    736
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    اعتراض نمبر دو
    انھوں نے یہ بھی کہا کہ لکم دینکم ولی دین میں لی دین میں دین کا لفظ غلط ہے ایسا ہونا چاہیے تھا دینی
    میں نے کہا یہاں یا محذوف ہے اصل میں دینی تھا لیکن عربی میں کبھی یاء حذف کرکے اکتفاء باالکسرہ کیا جاتاہے لیکن بد قسمتی سے اس وقت قرآن مجید سے کوئی اور مثال مستحضر نھیں
    ھوسکا اگر کوئی ساتھی مدد کرکے بتاے تو مھربانی ہوگی
     
  5. ‏جنوری 30، 2013 #5
    الیاسی

    الیاسی رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏فروری 28، 2012
    پیغامات:
    425
    موصول شکریہ جات:
    736
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    ایچ ٹی ایم ایل:
    
    

    جزاک اللہ احسن الجزاء انس بہائی دل ٹھنڈا کردیا آپ نے بارک اللہ فیک وزداللہ علمک
     
  6. ‏جنوری 31، 2013 #6
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,175
    موصول شکریہ جات:
    15,220
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    بھائی! قرآن کریم کی گرائمر پر اعتراض کرنے والا اگر لغت عربی اور اس کی گرائمر کی الف بے بھی واقف نہ ہو تو بہرحال یہ بہت بڑی زیادتی ہے۔ یہ عجیب لوگ ہیں جنہوں نے قرآن کریم کو مشق ستم بنا رکھا ہے۔ مسلمان تو نہیں لگتے۔ بہرحال ۔۔۔

    آپ ان سے کہیں کہ ﴿ لَكُم دينُكُم وَلِىَ دينِ ٦ میں لفظ دينِ کی نون پر کسرہ ہونا ہی اس بات کی علامت ہے کہ یہ اصل میں دِينِي تھا، اور اس کی یاء محذوف ہے، جس کی دلیل نون پر کسرہ ہے۔ وگرنہ اگر یہ اصل میں ديني نہ ہوتا تو پھر اسے دِينٌ (مرفوع، مبتدا مؤخر ہونے کی وجہ سے) ہونا چاہئے تھا، جیسے لكم دينكم میں دِینُکم مرفوع ہے۔
    ویسے بھی امام یعقوب بصری﷫ کی متواتر قراءت میں یہ لفظ یاء کے ساتھ ہی ہے: لكم دينكم ولي دِينِي

    قرآن کریم میں اس کی ساٹھ کے قریب مثالیں ہیں، جن میں اصلا یاء موجود تھی لیکن اسے محذوف کرکے کسرہ پر اکتفاء کیا گیا، جن میں چند ایک حسب ذیل ہیں، اگر آپ کہیں گے تو میں آپ وہ تمام الفاظ پیش كر دوں گا:

    ﴿ يـٰبَنى إِسرٰ‌ءيلَ اذكُر‌وا نِعمَتِىَ الَّتى أَنعَمتُ عَلَيكُم وَأَوفوا بِعَهدى أوفِ بِعَهدِكُم وَإِيّـٰىَ فَار‌هَبونِ ٤٠ وَءامِنوا بِما أَنزَلتُ مُصَدِّقًا لِما مَعَكُم وَلا تَكونوا أَوَّلَ كافِرٍ‌ بِهِ ۖ وَلا تَشتَر‌وا بِـٔايـٰتى ثَمَنًا قَليلًا وَإِيّـٰىَ فَاتَّقونِ ٤١ ﴾ ۔۔۔ البقرة
    ﴿ وَتَزَوَّدوا فَإِنَّ خَيرَ‌ الزّادِ التَّقوىٰ ۚ وَاتَّقونِ يـٰأُولِى الأَلبـٰبِ ١٩٧ ﴾ ۔۔۔ البقرة
    ﴿ فَإِن حاجّوكَ فَقُل أَسلَمتُ وَجهِىَ لِلَّـهِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ ۗ وَقُل لِلَّذينَ أوتُوا الكِتـٰبَ وَالأُمِّيّـۧنَ ءَأَسلَمتُم ۚ فَإِن أَسلَموا فَقَدِ اهتَدَوا ۖ وَإِن تَوَلَّوا فَإِنَّما عَلَيكَ البَلـٰغُ ۗ وَاللَّـهُ بَصيرٌ‌ بِالعِبادِ ٢٠ ﴾ ۔۔۔ آل عمران
    ﴿ إِنَّما ذٰلِكُمُ الشَّيطـٰنُ يُخَوِّفُ أَولِياءَهُ فَلا تَخافوهُم وَخافونِ إِن كُنتُم مُؤمِنينَ ١٧٥ ﴾ ۔۔۔ آل عمران
    ﴿ فَلا تَخشَوُا النّاسَ وَاخشَونِ وَلا تَشتَر‌وا بِـٔايـٰتى ثَمَنًا قَليلًا ۚ وَمَن لَم يَحكُم بِما أَنزَلَ اللَّـهُ فَأُولـٰئِكَ هُمُ الكـٰفِر‌ونَ ٤٤ ﴾ ۔۔۔ المائدة
     
    • شکریہ شکریہ x 9
    • علمی علمی x 2
    • لسٹ
  7. ‏جنوری 31، 2013 #7
    الیاسی

    الیاسی رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏فروری 28، 2012
    پیغامات:
    425
    موصول شکریہ جات:
    736
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    جزاک اللہ انس بہائی بس مجھے یہی مثالیں چاہیے تھی شکرا جزیلا ان لوگوں کو عربی آتی ہیں لیکن
    ھم من الروافض وانت تعلم انہم قایلون علی التحریف فی کتاب اللہ
    ویضل بہ کثیرا کے عملی مصداق ہے اگر ہم ہار نا مانے اور ان سے بات چیت کرتے رہے فعسی ربنا ان یھدیھم
    آپ سے اختلاف اپنے جگہ لیکن اس مسئلے میں آپ نے میری بڑے مدد کی میں آپ کا ازحد مشکور ہوں
     
  8. ‏جنوری 31، 2013 #8
    الیاسی

    الیاسی رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏فروری 28، 2012
    پیغامات:
    425
    موصول شکریہ جات:
    736
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    اعترض نمبر تین انھوں نے یہ کیا کہ وقرن فی بیوتکن ولاتبرجن تبرج الجاھلیۃ الاولی یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اہل البیت ویطھرکم تطہیرا انھوں نے کہا کہ یھاں خطاب چونکہ امھات الموءمنین سے ہے اس لیذہب عنکم کے بجاے لیذہب عنکن کہنا چاھیے تھا
    استغفراللہ استغفراللہ نعوذباللہ لاالہ الاللہ محمدرسول اللہ عام لوگ تو اس سے ہل جاینگے میں نے تو ان کو کہا یہ گرامر ہی غلط ہیں جمع موءنث کیلیے کن بھی آتا ہے اور کم بھی لیکن بھرحال کتابوں میں تو اس کا برعکس لکھا ہوا ہے براے مہربانی رہنمائی فرماے
     
  9. ‏فروری 04، 2013 #9
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,175
    موصول شکریہ جات:
    15,220
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    نہ بھائی! گرائمر کو غلط نہ کہیں، عام لوگوں کو ہلنے سے بچانے کیلئے کچھ گزارشات پیش کرتا ہوں، اگر صحیح ہیں تو اللہ کی طرف سے ہیں ورنہ میری اور شیطان کی طرف سے۔
    اللهم إنا نسألك علما نافعا وعملا متقبلا ورزقا واسعا طيبا

    اولاً
    یہاں سیدات امہات المؤمنین (ازواج مطہرات) کو ’اہل بیت‘ کہہ کر پکارا گیا ہے۔ اور ’اہل‘ کا لفظ بیوی، عزیز واقارب اور اصحاب کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ یہ لفظ جمع ہے۔ اگر اس سے مراد اکیلی بیوی یا زیادہ بیویاں یا دیگر مذکر ومؤنث عزیز واقارب (خواہ وہ ایک دو ہوں یا زیادہ) بھی مراد ہوں تب بھی ظاہری لفظ کا دھیان رکھتے ہوئے جمع مذکر کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے، جیسے
    وَهَل أَتىٰكَ حَديثُ موسىٰ ٩ إِذ رَ‌ءا نارً‌ا فَقالَ لِأَهلِهِ امكُثوا إِنّى ءانَستُ نارً‌ا لَعَلّى ءاتيكُم مِنها بِقَبَسٍ أَو أَجِدُ عَلَى النّارِ‌ هُدًى ١٠ ۔۔۔ سورة طه
    بہت سے علماء کے نزدیک یہاں ’اہل‘ سے مراد سیدنا موسیٰ﷤ کی اہلیہ ہیں، اس کے باوجود لفظ اہل کی وجہ سے جمع مذکر کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔

    اسی طرح جب فرشتوں نے سیدنا ابراہیم﷤ کو سیدنا اسحاق اور یعقوب علیہما السلام کی بشارت دی اور سیدہ سارہ نے حیرانگی ظاہر کی تو فرشتوں نے کہا:
    قالوا أَتَعجَبينَ مِن أَمرِ‌ اللَّـهِ ۖ رَ‌حمَتُ اللَّـهِ وَبَرَ‌كـٰتُهُ عَلَيكُم أَهلَ البَيتِ ۚ إِنَّهُ حَميدٌ مَجيدٌ ٧٣ ۔۔۔ سورة هود
    یہاں بھی سيده سارہ کیلئے جمع مذکر کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔

    نیز فرمایا:
    وَحَرَّ‌منا عَلَيهِ المَر‌اضِعَ مِن قَبلُ فَقالَت هَل أَدُلُّكُم عَلىٰ أَهلِ بَيتٍ يَكفُلونَهُ لَكُم وَهُم لَهُ نـٰصِحونَ ١٢ ۔۔۔ سورۃ القصص
    یہاں بھی سیدہ ام موسیٰ کا لفظ ’اہل‘ سے تذکرہ کرتے ہوئے ان کیلئے صیغۂ جمع مذکر استعمال کیا گیا ہے۔

    البتہ الیاسی صاحب ان تینوں مثالوں میں یہ اعتراض کر سکتے ہیں کہ یہ اللہ کے اقوال نہیں ہیں، بلکہ سیدنا موسیٰ﷤، فرشتوں اور اخت موسیٰ کے قول کی حکایت ہے۔ (ابتسامہ)

    ثانیاً
    یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ سورۃ الاحزاب کی اس آیت کریمہ ﴿ إِنَّما يُر‌يدُ اللَّـهُ لِيُذهِبَ عَنكُمُ الرِّ‌جسَ أَهلَ البَيتِ وَيُطَهِّرَ‌كُم تَطهيرً‌ا ٣٣ میں جمع مذکر کا صیغہ اس لئے استعمال کیا گیا ہے کہ اس جملہ میں یہاں اہل بیت سے مراد صرف امہات المؤمنین نہیں بلکہ سادات علی، فاطمہ، حسن وحسین﷢ بھی مراد ہیں اور جب زیادہ مذکر ومؤنث جمع ہوں تو ان کیلئے جمع مذکر کا صیغہ استعمال ہوتا ہے۔
    صحیح احادیث مبارکہ میں ہے:
    لمَّا نزلت هذِهِ الآيةُ على النَّبيِّ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا في بيتِ أمِّ سلمةَ فدعا فاطمةَ وحَسنًا وحُسينًا فجلَّلَهم بِكساءٍ وعليٌّ خلفَ ظَهرِهِ فجلَّلَهُ بِكساءٍ ثمَّ قالَ اللَّهمَّ هؤلاءِ أَهلُ بيتي فأذْهِب عنْهمُ الرِّجسَ وطَهِّرْهم تطْهيرًا قالت أمُّ سلمةَ وأنا معَهُم يا نبيَّ اللَّهِ قالَ أنتِ على مَكانِكِ وأنتِ على خيرٍ
    الراوي: عمر بن أبي سلمة
    المحدث: الألباني - المصدر: صحيح الترمذي - الصفحة أو الرقم: 3205
    خلاصة حكم المحدث: صحيح
    الدرر السنية - الموسوعة الحديثية
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • علمی علمی x 3
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  10. ‏فروری 13، 2013 #10
    الیاسی

    الیاسی رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏فروری 28، 2012
    پیغامات:
    425
    موصول شکریہ جات:
    736
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    کمال کی چیزہو انس بھائی ماشاء اللہ بارک اللہ فی علمک وعملک

    ْ
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں