1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

لفظ نجد کی دلالت (بحوالہ حدیث نجد)

'حالات حاضرہ' میں موضوعات آغاز کردہ از عبدہ, ‏جنوری 07، 2014۔

موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
  1. ‏جنوری 07، 2014 #1
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,161
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    نجد کی حدیث میں نجد کا لفظ آیا ہے جس لفظ کا بعض لوگ صرف ایک نجد پر اطلاق ثابت کرتے ہیں اور اسکا فائدہ اٹھا کر شیطان کے سینگوں والی حدیث کی غلط تعبیر کرتے ہیں
    اسی کو سامنے رکھتے ہوئے یہ موضوع شروع کیا ہے کہ لفظ نجد کتنے علاقوں پر دلالت کرتا ہے چنانچہ میں اس موضوع کے دائرہ کارکی اچھی طرح وضاحت کر دیتا ہوں تاکہ غیر متعلق باتوں سے کسی کا وقت ضائع نہ کیا جا سکے
    محل نزاع

    کیا صحابہ کے دور میں اور قرآن و حدیث میں نجد لفظ ہمیشہ صرف ایک خاص علاقے کے لئے بولا جاتا تھا
    انتباہ اور بحث کا طریقہ

    -تمام ممبران صرف اوپر کے محل نزاع پر بحث کریں گے
    -ہر ممبر اپنی پوسٹ میں صرف اوپر محل نزاع کے حق یا مخالفت میں دلائل لکھ سکتا ہے یا پھر پہلے کسی ممبر کی دلیل کو لکھ کر اسکا رد کر سکتا ہے
    -غیر متعلقہ بحث کی نشاندہی پر انتظامیہ سے کہہ کر دوسرے ممبران اس غیر متعلقہ پوسٹ کو حذف کروا سکتے ہیں تاکہ لکھنے والوں کا اور پڑھنے والوں کا وقت برباد نہ ہو
    بہرام صاحب کیا منظور ہے
     
  2. ‏جنوری 07، 2014 #2
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,161
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    میرا دعوی
    صحابہ کے دور میں نجد لفظ صرف سعودی نجد کے لئے نہیں بولا جاتا تھا بلکہ اور بھی علاقے (بشمول نجد عراق) بھی اس میں آتے تھے
    میری پہلی دلیل
    بہرام صاحب نے اپنی پوسٹ میں مندرجہ بالا احادیث ذکر کی تھیں جس میں دوسری حدیث کا انھوں نے ترجمہ نہیں کیا کیونکہ وہ ترجمہ بتاتا ہے کہ اہل عراق جب عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو اپنے آپ کو اہل نجد میں شمار کرتے ہوئے اپنے لئے اہل نجد والے مقام قرن کو متعین سمجھتے تھے مگر مشقت کی وجہ سے دوسرا مقام متعین کروانا چاہتے تھے یہ ہے اصح الکتاب بعد کتاب اللہ کی گواہی بہرام صاحب کی زبانی
     
  3. ‏جنوری 07، 2014 #3
    علی بہرام

    علی بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 18، 2013
    پیغامات:
    1,216
    موصول شکریہ جات:
    161
    تمغے کے پوائنٹ:
    105

    ایک اور حیلہ بہانہ اب نیا دھاگہ ہی بنالیا

    جبکہ ان تمام باتوں کا جواب متعلقہ دھاگے میں عرض کیا جاچکا زحمت فرمالیں
    http://forum.mohaddis.com/threads/برائیوں-کی-جڑ-نجد-یا-عراق.8357/page-4
     
  4. ‏جنوری 07، 2014 #4
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,161
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    بہرام صاحب نے میری دلیل کا واضح جواب کہیں نہیں دیا تھا اگر دیا ہوتا تو وہ یہاں لگا دیتے اس کی بجائے آپ نے خالی تھریڈ کا لنک دے دیا ہے تاکہ وہاں اتنی زیادہ غیر متعلقہ باتیں کی ہیں کہ نہ تو من تیل ہو گا اور نہ رادھا ناچے گی کے مصداق کون وہاں جا کر جواب ڈھونڈے گا
    اب میں آپ کا جواب یہاں کاپی کر دیتا ہوں
    1-بہرام صاحب میں نے اپنے پاس سے اوپر کوئی دلیل نہیں لکھی کہ جو آپ کو بخاری کے خلاف لگ رہی ہے بلکہ اوپر کی احادیث آپ نے ہی پیسٹ کی تھیں اسلئے ذرا چشمہ لگا کر دیکھ لیں کہ وہاں لکھا ہے کہ بہرام نے کہا---------
    پس اگر آپ اگر یہ مان لیں کہ میں پہلی دلیل غلطی سے دے بیٹھا تھا تو پھر میں وضاحت کروں گا کہ یہ بخاری کے خلاف ہے کہ نہیں
    2-آپ کی دلیل میں یہ واضح لکھا ہے کہ
    إن رسولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم حدَّ لأهلِ نجدٍ قَرْنًا ، وهو جَوْرٌ عن طريقِنا ، وإنا إن أَرَدْنا قَرْنًا شقَّ علينا
    یعنی اللہ کے رسول نے اہل نجد کے لئے قرن متعین کیا تھا مگر ہم اگر قرن جاتے ہیں تو ہمارے لئے مشکل ہے
    بہرام صاحب اب یہ بات آپ کو مثال سے سمجھاتا ہوں اگر سمجھ آ جائے تو
    بہرام کو سمجھانے کے لئے مثال

    شاکر صاحب ایک اصول بتاتے ہیں کہ اس فورم پر گدھے روزانہ ایک سے زیادہ پوسٹیں نہ کریں اس پر بہرام صاحب واویلا مچاتے ہیں کہ اس طرح اگر میں ایک پوسٹ روزانہ کروں گا تو بات سمجھانا میرے لئے مشکل ہے میرے اوپر یہ اصول نہ لگائیں تو اس سے ایک بچہ بھی سمجھ جائے گا کہ بہرام صاحب----------
    شاکر بھائی میں نہیں کہتا مثال دی ہے مجھے بین نہیں کرنا اللہ آپکو جزا دے امین
     
  5. ‏جنوری 07، 2014 #5
    علی بہرام

    علی بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 18، 2013
    پیغامات:
    1,216
    موصول شکریہ جات:
    161
    تمغے کے پوائنٹ:
    105

    اصح کتاب بعد کتاب اللہ میں خطہ نجد اور خطہ نجد میں رہنے والوں کے لئے اہل نجد سے متعلق احادیث

    - بعث عليٌّ رَضِيَ اللهُ عنهُ إلى النبيِّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ بذُهَبِيَّةٍ ، فقسَّمَهَا بين الأربعةِ : الأقرعِ بنِ حابسٍ الحنظليِّ ثم المجاشعيِّ ، وعيينةَ بنِ بدرٍ الفَزَاريِّ ، وزيدٍ الطائيِّ ثم أحدِ بني نبهانَ ، وعلقمةَ بنِ علاثةَ العامريِّ ، ثم أحدِ بني كلابٍ ، فغضبت قريشٌ والأنصارُ ، قالوا : يُعطي صناديدَ أهلِ نجدٍ ويَدَعُنَا ، قال : ( إنما أَتَأَلَّفُهُمْ ) . فأقبلَ رجلٌ غائرُ العينينِ مشرفُ الوَجنتينِ ، ناتئُ الجبينِ ، كثُّ اللحيةِ محلوقٌ ، فقال : اتَّقِ اللهَ يا محمدُ ، فقال : ( من يُطِعِ اللهَ إذا عصيتُ ؟ أَيَأْمَنُنِي اللهُ على أهلِ الأرضِ فلا تأمنونني ) . فسأل رجلٌ قَتْلَهُ - أحسبُهُ خالدُ بنُ الوليدِ - فمنعَهُ ، فلما وَلَّى قال : ( إنَّ من ضِئْضِئِ هذا ، أو : في عقبِ هذا قومٌ يقرؤونَ القرآنَ لا يُجاوزُ حناجرهم ، يمرقونَ من الدِّينِ مروقَ السهمِ من الرَّمِيَّةِ ، يقتلونَ أهلَ الإسلامِ ويدعونَ أهلَ الأوثانِ ، لئن أنا أدركتهم لأَقْتُلَنَّهُمْ قتلَ عادٍ ) .
    ترجمہ داؤد راز
    حضرت علی رضی اللہ عنہ نے (یمن سے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ سونا بھیجا تو آپ نے اسے چار آدمیوں میں تقسیم کر دیا، اقرع بن حابس حنظلی ثم المجاشعی، عیینہ بن بدر فزاری، زید طائی بنی نبہان والے اور علقمہ بن علاثہ عامری بنو کلاب والے، اس پر قریش اور انصار کے لوگوں کو غصہ آیا اور کہنے لگے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کے بڑوں کو تو دیا لیکن ہمیں نظرانداز کر دیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں صرف ان کے دل ملانے کے لیے انہیں دیتا ہوں (کیونکہ ابھی حال ہی میں یہ لوگ مسلمان ہوئے ہیں) پھر ایک شخص سامنے آیا، اس کی آنکھیں دھنسی ہوئی تھیں، کلے پھولے ہوئے تھے، پیشانی بھی اٹھی ہوئی، ڈاڑھی بہت گھنی تھی اور سر منڈا ہوا تھا۔ اس نے کہا اے محمد! اللہ سے ڈرو ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر میں ہی اللہ کی نافرمانی کروں گا تو پھر اس کی فرمانبرداری کون کرے گا؟ اللہ تعالیٰ نے مجھے روئے زمین پر دیانت دار بنا کر بھیجا ہے۔ کیا تم مجھے امین نہیں سمجھتے؟ اس شخص کی اس گستاخی پر ایک صحابی نے اس کے قتل کی اجازت چاہی، میرا خیال ہے کہ یہ حضرت خالد بن ولید تھے، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے روک دیا، پھر وہ شخص وہاں سے چلنے لگا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص کی نسل سے یا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ) اس شخص کے بعد اسی کی قوم سے ایسے لوگ جھوٹے مسلمان پیدا ہوں گے، جو قرآن کی تلاوت تو کریں گے، لیکن قرآن مجید ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، دین سے وہ اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتاہے، یہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے، اگر میری زندگی اس وقت تک باقی رہے تو میں ان کو اس طرح قتل کروں گا جیسے قوم عاد کا (عذاب الٰہی سے) قتل ہوا تھا کہ ایک بھی باقی نہ بچا۔
    اس حدیث میں ہائی لائٹ کردہ امور پر وضاحت درکار ہے

    1۔ اقرع بن حابس حنظلی ثم المجاشعی، عیینہ بن بدر فزاری، زید طائی بنی نبہان والے اور علقمہ بن علاثہ عامری بنو کلاب والے یہ چار لوگ جن کو قریش و انصار نے اہل نجد کہا کیا یہ لوگ عراق کے رہنے والے تھے یا سعودی نجد کے


    1۔ اس حدیث میں ایک گستاخ خبیث کا ذکر ہوا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا نام ذوالخویصرہ التمیی تھا اور یہ محمد بن عبدالواھاب کے قبیلے بنی تمیم سی تعلق رکھتا تھا اس کی نسل سے پیدا ہونے والے اس جیسے گستاخ و خبیثوں کا طریقہ واردات رسول اللہﷺ نے بیان کیا ہے کہ " یہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے " اور آج کل کے عالم اسلام کے حالات کو دیکھتے ہوئے لوگ یہ کہتے ہیں کہ سعودی نجد سے اٹھنے والے اس فتنے کے سبب ہی سے عالم اسلام میں فتنہ برپا ہے اس فتنے میں مبتلا لوگ ہی مسلمانوں کو خود کش دھماکوں سے بے دریغ قتل کر رہے ہیں جبکہ آج کل بت پرستوں لوگ نہایت امن کی حالت میں ہیں یہاں یہ بات یاد رہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے کے گستا خ و خبیث کا تعلق بھی قبیلہ بنی تمیم سے ہے اور موجودہ دور میں جو اس فتنے کا بانی ہے اس کا تعلق بھی قبیلہ بنی تمیم سے ہے
    اور اس حدیث میں یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ " جو قرآن کی تلاوت تو کریں گے، لیکن قرآن مجید ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، دین سے وہ اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتاہے "
    اور آج کل ہم یہ دیکھتے ہیں کہ سعودی نجد سے تعلق رکھنے والے قرآن کے قاریوں کی تلاوت قرآن کی دھوم ہے
    اب سوال یہ ہے کہ کیا گستاخ و خبیث ذوالخویصرہ التمیی اور اس کاقبیلہ بنی تمیم عراق میں رہتا تھا یا موجودہ سعودی نجد سے ان کا تعلق تھا ؟


    دوسری حدیث اگلی پوسٹ میں ان شاء اللہ
     
  6. ‏جنوری 07، 2014 #6
    علی بہرام

    علی بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 18، 2013
    پیغامات:
    1,216
    موصول شکریہ جات:
    161
    تمغے کے پوائنٹ:
    105

    دلیل رد ہونے پر آپ کا یہ غصہ کرنا آپ کا حق ہے لیکن اگر نفس عمارہ کی ہی باتیں ماننی ہے تو پھر چاہے قرآن و حدیث کے کتنے ہی دلائل دیئے جائے آپ ان کو نہیں قبول کرنا
    لیکن ہوسکتا ہے دوسرے پڑھنے والوں کو اس سے فائدہ ہو اس لئے اس کو بیان کرنا مفید رہے گا یہی سوچ کر اب میں یہاں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اصح کتاب بعد کتاب اللہ کی دلیل سے یہ ثابت کروں گا کہ نجدسے مراد کون سا خطہ ہے امید کرتا ہوں آپ بھی یہی موجود رہیں گے اور کوئی اور دھاگہ بنا کر اس دھاگے سے جان نہیں چھڑائے گے
     
  7. ‏جنوری 07، 2014 #7
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,161
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    بہرام نے یہ ثابت کرنا ہے کہ نجد کا لفظ احادیث میں صرف ایک علاقہ کے لئے بولا جاتا ہے پس انہوں نے کوئی ایسی حدیث پیش کرنی ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ نجد صرف ایک علاقے کا نام ہے
    مگر اوپر کی حدیث یا بحث میں ایسی کوئی نص نہیں ملتی اگر بہرام اوپر کی حدیث سے یہ بات ثابت کر دے تو میں بحث چھوڑ دوں گا ورنہ شاکر بھائی سے گزارش ہے کہ یا تو اس طرح کی پوسٹیں ڈیلیٹ کریں یا پھر میری بحث سے معذرت ہے
     
  8. ‏جنوری 07، 2014 #8
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    بہرام صاحب اوپر ہائی لائٹ کردہ بات کے جواب میں آپ کے پاس جو بھی قوی دلیل ہو، بس ایک دلیل، وہ پیش کر دیجئے، تاکہ مکالمہ کو آگے بڑھایا جا سکے۔
     
  9. ‏جنوری 07، 2014 #9
    علی بہرام

    علی بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 18، 2013
    پیغامات:
    1,216
    موصول شکریہ جات:
    161
    تمغے کے پوائنٹ:
    105

    پہلے آپ نے لأهلِ نجدٍ کا ترجمہ ہمارے نجد کرکے گمراہی پھیلانے کی کوشش کی کچھ اس طرح
     
  10. ‏جنوری 07، 2014 #10
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,161
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    محترم شاکر بھائی قرآن میں قربانی کے ذبح کے پس منظر میں یوم کا لفظ آتا ہے جس سے کچھ فقہا کہتے ہیں کہ دن کو صرف قربانی کرنی چاہئے مگر دوسرے کہتے ہیں کہ ہوم اگرچہ دن کو اوپر کسی آیت میں بولا جاتا ہے مگر اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ صرف دن کے ساتھ خاص ہے پس جب قرآن میں آتا ہے کہ
    سخرھا علیھم سبع لیال و ثمانیۃ ایام حسوما
    یہاں یوم سے مراد صرف دن ہے
    تو دوسری جگہ یہ ایسے آتا ہے
    فتمتعوا فی دارکم ثلاثۃ ایام
    یعنی یہاں دن اور رات دونوں یوم کے معنی میں شامل ہیں
    اسی طرح کتاب اللہ کا لفظ صرف قرآن کے لئے عموما آتا ہے مگر کبھی کسی خاص حدیث میں اس سے ہٹ کے بھی آیا ہے

    پس بخاری کی حدیث میں کہیں نجد کا لفظ آ جائے جو سعودی نجد پر ہی دلالت کرے تو اس سے یہ تو کوئی عقلمند نہیں سمجھ سکتا کہ اب دوسرا نجد قرآن و حدیث میں ہو ہی نہیں سکتا
    پس شاکر بھائی یا تو اس سے اصولوں کی پیروی کرا دیں یا پھر میری معذرت ہے
     
لوڈ کرتے ہوئے...
موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں