1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ماہ ربیع الاول 1439 ھ کے سوال وجواب

'محدث فتویٰ' میں موضوعات آغاز کردہ از مقبول احمد سلفی, ‏نومبر 21، 2017۔

  1. ‏نومبر 21، 2017 #1
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,037
    موصول شکریہ جات:
    313
    تمغے کے پوائنٹ:
    177

    ماہ ربیع الاول 1439 ھ کے سوال وجواب

    جواب از شیخ مقبول احمد سلفی

    سوال (1):جب کوئی کسی کا سلام لیکر آئے تو کیسے جواب دیں ؟
    جواب : صحیح احادیث میں مذکور کہ اللہ تعالی اور جبریل علیہ السلام نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو نبی کے واسطہ سے سلام بھیجا اس لئے کوئی آدمی دوسرے کی معرفت سلام بھیج سکتا ہے اس کے جواب میں کہاجائے گا" وعلیک وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ " ۔ سلام بھیجنے والی عورت ہو تو کہا جائے گا" وعلیک وعلیھا السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ "۔ اس پہ مدلل جواب میرے بلاگ پر"غائبانہ سلام کا جواب" کے عنوان سے تلاش کریں ۔
    سوال (2):ایک شادی شدہ عورت جسے ایک بچہ بھی ہے اس نے چوری چھپے ایک دوسرے مرد سے شادی کرلی دس دنوں بعداس عورت کو پولیس پکڑ کر لے گئی ، پہلے شوہر کے لئے کیا حکم ہے ؟
    جواب : کسی عورت کے لئے جائز نہیں ہے کہ اس کا شوہر موجود ہو اور وہ کسی دوسرے مرد سے شادی کرلے ۔ جیساکہ سوال میں مذکور ہے عورت نے دوسرے مرد سےچوری چھپے شادی کرلی تو یہ شادی نہیں ہے ۔ اس عورت کا دوسرے مرد کے ساتھ رہنا زنا شمار ہوگا اور اس کی پاداش میں اگر دونوں شادی شدہ ہوں تو سنگسار کیا جائے گا۔افسوس اسلامی خلافت وعدالت نہ ہونے کی وجہ سے زنا کو فروغ مل رہاہے ۔
    زنا کے ارتکاب کے بعد بھی وہ عورت اب بھی پہلے والے مرد کی ہی بیوی ہے چاہے تو اسے رکھے یا طلاق دیدے ۔ یہاں مسلمان خاتون سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اگر اسےاپنے شوہر سے کوئی شکایت ہے یا اس کے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتی تو نکاح فسخ کرلے اور دوسری جگہ شادی کرلے ۔یہ اسلامی طریقہ ہے اوراس میں خیر وبھلائی ہے۔

    سوال (3):ایک اجنبی مرد ایک اجنبی عورت کو راستہ چلتے کہیں سلام کرسکتا ہے ؟
    جواب : اسلام میں ایک دوسرے کو سلام کرنے کا حکم ہے جو محبت وسلامتی کا پیغام ہے۔ ایک مرد ،دوسرے مرد کو اور ایک عورت ،دوسری عورت کو سلام کرے حتی کہ مرد اپنی محرمات (عورت) سے بھی سلام کرسکتا ہے ۔ رہا مسئلہ اجنبی مرد کا اجنبی عورت کو سلام کرنے کا تو یہ اس وقت جائز ہوگا جب فتنے کا اندیشہ نہ ہو جیسے بوڑھی عورت کو سلام کرنا یا عورتوں کی جماعت پر سلام کرنا ۔اجنبی مرد کا جوان لڑکی یا خوبصورت عورت کو سلام کرنا جائز نہیں کیونکہ اس میں فتنہ کا اندیشہ ہے ۔ اگر کسی نے ایسی عورت کو سلام کرلیا تو جواب نہیں دینا چاہئے ۔
    سوال (4):کیا ہرماہ کے شر سے بچنے کی یہ دعا "اللھم انی اعوذبک من شر ھذا الشھر وشر القدر" (اسے اللہ میں تیری پناہ لیتا ہوں اس مہینہ کی برائی سے اور تقدیر کی برائی سے ) ثابت ہے ؟
    جواب : اس معنی کی کئی روایتیں وارد ہیں اور وہ چاند دیکھنے کے سلسلے میں آئی ہیں ان میں سے کوئی روایت صحیح نہیں ہے ، سب کی سب ضعیف ہیں ۔ مجمع الزوائد اور الجامع الصغیر وغیر ہ میں یہ دعا وارد ہے ۔
    "اللهمَّ إنِّي أسألُك مِن خيرِ هذا الشَّهرِ وخيرِ القَدَرِ وأعوذُ بك مِن شرِّه"

    ترجمہ: اے اللہ میں اس ماہ کی بھلائی اور تقدیر کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور اس کے شر سے پناہ مانگتا ہوں ۔
    اسے شیخ البانی نے ضعیف کہا ہے ۔(سلسلہ ضعیفہ : 3507، ضعیف الجامع :4408)

    سوال (5):کیا عورت لوہے کی چوڑی جس پر سونے کا پانی چڑھا ہو پہن سکتی ہے اور اس میں نماز درست ہے ؟
    جواب : عورتوں کا لوہے کی چوڑی پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے خواہ اس پر سونے کا پانی چڑھا ہو یا نہیں چڑھا ہو اور اس میں نماز بھی درست ہے ۔ فقہ حنفی میں عورتوں کے لئے لوہے کی انگوٹھی پہننا اور اس میں نماز پڑھنا مکروہ لکھا ہے مگر اس بات کی قرآن وحدیث سے کوئی دلیل نہیں ہے۔
    سوال (6):آج کل بے حیائی والے مشاعروں میں جہاں لڑکیوں کو صرف حسن وجمال کی وجہ سے دعوت دی جاتی ہے انہیں سننے کے لئے مسجد کے امام اور اسٹیج کے مقررین بھی جاتے ہیں ان کے پیچھے نماز پڑھنااور تقریر کرانا کیسا ہے؟
    جواب : آج کل کےمشاعرے واقعی بے حیائی کے اڈے ہیں ، اس میں شر کے علاوہ ذرہ برابر بھی خیر نہیں ہے ، اس قسم کی کوئی بھی جگہ ہو ہر مسلمان کو بچنا چاہئے اور جو لوگوں کے امام وپیشوا ہیں انہیں تو بطور خاص بچنا چاہئے ۔ آپ کسی امام یا مقرر کے متعلق بے حیائی والے مشاعروں میں جانے کی خبر رکھتے ہیں تو پہلے آپ انہیں تنبیہ کریں مان جائے تو ٹھیک ورنہ امامت وخطابت سے معزول کریں تاہم جب تک وہ نماز پڑھائیں ان کے پیچھے نماز ہوجائے گی ۔
    سوال (7):مجھے ان بچوں کا نام چاہئے جو بچپن میں بولے ہیں ۔
    جواب : مسند احمد، طبرانی ، ابن حبان اور حاکم میں فرعون کی بیٹی کی مشاطہ کا ایک واقعہ ہے جس کی سند صحیح ہے ،اس کا آخری ٹکڑا ہے ۔
    ‏‏قَالَ ‏‏ابْنُ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما : ‏تَكَلَّمَ أَرْبَعَةُ صِغَارٍ : ‏‏عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ‏‏عَلَيْهِ السَّلام ،‏ ‏وَصَاحِبُ ‏جُرَيْجٍ ،‏ ‏وَشَاهِدُ ‏‏يُوسُفَ ‏، ‏وَابْنُ ‏مَاشِطَةِ ابْنَةِ فِرْعَوْنَ۔
    ترجمہ: ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جن چارچھوٹے بچوں نے بات کی وہ یہ ہیں۔(1)عیسی بن مریم علیہ السلام(2)صاحب جریج(3)یوسف کی گواہی دینے والا(4)فرعون کی بیٹی کی مشاطہ کا بیٹا

    سوال (8):کیا مہر میں زیور دے سکتے ہیں ؟
    جواب : زیور مہر کے طور پر دے سکتے ہیں کیونکہ مہر کی نوعیت متعین نہیں ہے اور نہ ہی کمی بیشی کی کوئی حد ہے تاہم حیثیت کے مطابق بہترین چیز عورت کو مہر میں دے ۔ زیور مہر کی صورت میں دینے کے لئے پہلے بات طے کرلے تاکہ بعد میں لوگ اسے ہدیہ نہ سمجھیں اور پھر مہر کے لئے تنازع پیدا ہوجائے ۔
    سوال (9):تین سورتوں میں اسم اعظم آیا ہے اس کی وضاحت کریں ۔
    جواب : ابن ماجہ میں حسن درجے کی روایت ہے ، نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    اسمُ اللهِ الأعظمُ الَّذي إذا دُعِي به أجاب في سورٍ ثلاثٍ البقرةُ وآلُ عمرانَ وطه(صحيح ابن ماجه:3124)
    ترجمہ:اللہ کا عظیم ترین نام (اسم اعظم) جس کے ذریعہ دعا کی جائے تو قبول ہوتی ہے وہ تین سورتوں میں ہے ۔ سورہ بقرہ ، سورہ آل عمران اور سورہ طہ ۔
    ابن ماجہ کی دوسری روایت میں دوسورتوں کی آیت کی بھی تحدید ہے ، سورہ بقرہ " وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ " (آیت:163)، سورہ آل عمران " اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ " (آیت:2) اور تیسری سورت طہ کی آیت علماء یہ آیت "
    وَعَنَتِ الْوُجُوهُ لِلْحَيِّ الْقَيُّومِ " (آیت:111) بتلاتے ہیں ۔
    سوال (10):سوشل میڈیاسے جڑی عورتوں کو چیٹ کرنے کے سلسلے میں آپ کیا نصیحت کرتے ہیں ؟
    جواب : سب سے پہلے عورتوں کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ سوشل میڈیا کے اسی حصہ سے جڑیں جہاں آپ کے لئے امن زیادہ ہواور عزت وآبرو محفوظ ہو مثلا ٹویٹریا گوگل پلس ۔ فیس بک عورتوں کے لئے زیادہ خطرناک ہے اس سے دور رہیں تو بہتر ہے ۔ جو خواتین سوشل میڈیا پہ ہیں انہیں چیٹ کرتے ہوئے وہ آداب بجالانا ہے جو کسی سے بات کرتے ہوئے ملحوظ رکھنا ہے ۔ بلاضرورت چیٹ نہ کریں اور اجنبی و غیرمعروف مردوں سے تو بالکل نہیں ،ضرورت پڑنے پر مختصر الفاظ میں صرف دیندارمعروف عورتوں سے چیٹ کریں ، کوئی دینی جانکاری جو عورتوں سے نہیں مل سکی اس بابت کسی دین وامانت میں معروف عالم سے پوچھیں ۔ سوشل میڈیا کے جہاں بہت فوائد ہیں وہیں بہت نقصانات بھی ہیں اس کا صرف مثبت استعمال کریں اور عزت وآبرو کا خیال کرتے ہوئے تنہائی میں ہمیشہ اللہ کا خوف کھاتے رہیں ۔
    سوال (11):سجدے میں قرآنی دعا پڑھنے کا کیا حکم ہے ؟
    جواب : رکوع اور سجدہ میں قرآن کی تلاوت ممنوع ہے لیکن دعا کی نیت سے قرآنی دعائیں سجدہ میں پڑھ سکتے ہیں خواہ وہ فرض نماز ہو یا نفل نماز ہو۔
    سوال (12) : مغرب کی نماز کے بعد دو رکعت سنت مؤکدہ کے علاوہ کیا چھ رکعت نماز اوابین پڑھنے کا ثبوت ملتا ہے ؟
    جواب : نماز چاشت ہی نماز اوابین ہے جو سورج بلند ہونے سے شروع ہوتا ہے اور زوال سے پہلے تک رہتا ہے تاہم تاخیر سے پڑھنا بہتر ہے ۔ مسلم شریف میں ہے ۔ نبی ﷺ نے فرمایا: صلاةُ الأوَّابينَ حين ترمَضُ الفِصالُ(صحيح مسلم:748)
    اوابین کی نماز اس وقت پڑھی جائیگی جب اونٹ کا بچہ سخت گرمی میں کُھر جلنے کے سبب اپنی ماں کا دودھ چھوڑ دے۔
    یہ حدیث صریح ہے کہ اوابین کا وقت دھوپ کے وقت ہے مغرب کا بالکل نہیں ہے ۔ اس حدیث کی روشنی میں حنفی حضرات جو اوابین کے نام سے مغرب کے بعد چھ رکعات ادا کرتے ہیں بالکل غلط ہے۔مغرب کے بعد چھ رکعات نوافل پڑھنے کا ذکر ملتاہے مگر وہ سخت ضعیف ہے ۔
    من صلَّى ستَّ رَكَعاتٍ ، بعدَ المغرِبِ ، لم يتَكَلَّم بينَهُنَّ بسوءٍ ، عدَلَت لَه عبادةَ اثنتَي عَشرةَ سنةً۔ ( ترمذی: 435،ابن ماجہ:256)
    ترجمہ:جس نے مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھیں اوران کے درمیان کوئی بری بات نہ کی تو ان کا ثواب بارہ سال کی عبادت کے برابر ہوگا۔
    یہ حدیث عمل کرنے کے لائق نہیں ہے کیونکہ یہ سخت ضعیف ہے دیکھیں :(ضعيف ابن ماجه:256)
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں