1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

محدثین ارسال پر تدلیس کا حکم لگاتے ہیں ؟

'علوم حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از عدیل سلفی, ‏مارچ 02، 2016۔

  1. ‏مارچ 02، 2016 #1
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,416
    موصول شکریہ جات:
    378
    تمغے کے پوائنٹ:
    161

    السلام و علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

    کیا محدثین ارسال پر تدلیس کا حکم لگاتے ہیں ؟؟


    جیسا کے شیخ ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ نے توضیح الکلام فی وجوب القراۃ خلف الامام میں امام ابن حبان رح اور امام ذہبی رح کی عبارتوں کی تفصیل بتائی ہے

    اسی طرح کیا تمام محدثین ارسال پر تدلیس کا اطلاق کرتے تھے؟
     
  2. ‏مارچ 31، 2016 #2
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,416
    موصول شکریہ جات:
    378
    تمغے کے پوائنٹ:
    161

  3. ‏مارچ 31، 2016 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,685
    موصول شکریہ جات:
    2,244
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ؛
    محترم بھائی
    اصطلاح محدثین میں " ارسال " سے مراد سند حدیث میں تابعی کے بعد راوی کا مذکور نہ ہونا ،
    حافظ ابن حجر لکھتے ہیں : ( هو ما سقط من آخر إسناده مَنْ بعد التابعي ، هو "المُرْسَل" ) یعنی تابعی کے بعد والے راوی کو گرادینے کو ارسال کہتے ہیں ،اور اس روایت کو مرسَل کہا جاتا ہے ٌ(( یعنی سلسلہ سند میں ایک اہم کڑی موجود نہیں ہوتی )
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اور " تدلیس "لغت میں کسی چیز کے عیب چھپانے کو کہا جاتا ہے ،یہ اصل میں"دلس " یعنی ظلمت اندھیرے کو کہا جاتا ہے ؛
    والتدليس في اللغة: كتمان عيب السلعة عن المشتري، وأصل التدليس مشتق من "الدلس" وهو الظلمة، أو اختلاط الظلام،
    اور اصطلاح میں :إخفاء عيب في الإسناد، وتحسين لظاهره " سند میں موجود عیب کو چھپانا ، اور اسنادی خوبی ظاہر کرنا "(تيسير مصطلح الحديث )
    اس کی بڑی قسمیں دو ہیں :
    (1) تدليس الإسناد ،
    أن يروي الراوي عن شيخ قد سمع منه بعض الأحاديث، لكن هذا الحديث الذي دلسه لم يسمعه منه، وإنما سمعه من شيخ آخر عنه، فيسقط ذلك الشيخ ويرويه عن الشيخ الأول ، بلفظ محتمل للسماع وغيره، ك"قال" أو "عن"
    "

    یعنی راوی اس شیخ سے روایت بیان کرے ،جس سے اس نےدوسری کچھ احادیث تو سنی ہیں ، لیکن یہ روایت جس میں تدلیس کی یہ اس سے براہ راست نہیں سنی بلکہ کسی اور شیخ سے سنی ، لیکن جس سے سنی اسکا حوالہ گرا دیا ،اور پہلے شیخ سے ایسے لفظ سے بیان کردی جس سے سماع کا احتمال ہو ،مثلاً ۔۔(قال)اس نے کہا۔۔(عن )اس سے مروی ہے ،،
    (تيسير مصطلح الحديث )
    (2 ) تدليس التسوية:
    هذا النوع من التدليس هو في الحقيقة نوع من أنواع تدليس الإسناد.
    أ- تعريفه: هو رواية الراوي عن شيخه، ثم إسقاط راوٍ ضعيف بين ثقتين لقي أحدهما الآخر

    یعنی تدلیس تسویہ میں راوی اپنے سے اوپر دو ایسے ثقہ روایوں جن کی ۤپس میں ملاقات بھی ہوتی ہے کسی روایت میں ان کے درمیان آنے والے ضعیف راوی کو
    گرا دیتا ہے ،تاکہ یہ ظاہر کیا جائے کہ یہ روایت صرف ثقہ رواۃ سے مروی ہے ،
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مرسل اور تدلیس خفی
    حافظ ابن حجر فرماتے ہیں :
    [الفرق بين المُدَلَّس والمُرْسَل الخفي]
    والفَرْقُ بينَ المُدَلَّس والمُرْسَل الخفيِّ دقيقٌ، حَصَل تحريرُه بما ذُكِر هنا: وهو أَنَّ التَّدليسَ يَختص بمن روى عمّن عُرِفَ لقاؤه إياه.
    فأَمَّا إِن عاصَرَهُ، ولم يُعْرَفْ أَنَّه لقِيَهُ، فَهُو المُرْسَل الخَفِيُّ۔۔۔
    مدلس اور مرسل خفی میں ایک باریک فرق ہے کہ تدلیس کی اصطلاح تو اس صورت سےخاص ہے جس میں راوی اس سے روایت بیان جس سے اس کا لقاء تو ہے ،لیکن تدلیس والی روایت اس سے نہیں سنی ،
    اور اگر معاصرت تو پائی جائے لیکن ملاقات ثابت نہ ہو تو یہ مرسل خفی ہے ،،
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    شیخ ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ نے توضیح الکلام میں لکھتے ہیں :

    تدلیس و ارسال.jpg
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ہماری ان سطور سے واضح ہے کہ تدلیس و ارسال میں فرق ہے ، ہاں کچھ محدثین کے ہاں اپنی خاص اصطلاح میں تدلیس بمعنی ارسال ہوتا ہے ؛
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    Last edited: ‏مارچ 31، 2016
    • علمی علمی x 3
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  4. ‏اپریل 01، 2016 #4
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,416
    موصول شکریہ جات:
    378
    تمغے کے پوائنٹ:
    161

    جزاک اللہ خیرا اسحاق سلفی بھائی
     
  5. ‏اپریل 01، 2016 #5
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,206
    موصول شکریہ جات:
    8,202
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    تدلیس اور ارسال میں موٹا سا فرق ہے کہ اول میں سماع و عدم سماع دونوں کا احتمال ہوتا ہے ، لیکن راجح یہ ہوتا ہے کہ یہاں سماع نہیں ہے ۔
    دوسرے میں چونکہ لقاء ہی نہیں ہوتی ، اس لیےسماع کا احتمال تک نہیں ہوتا ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  6. ‏اپریل 01، 2016 #6
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,295
    موصول شکریہ جات:
    699
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    جزاكم الله خيرا
     
  7. ‏اپریل 01، 2016 #7
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,269
    موصول شکریہ جات:
    1,067
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ.
    شیخ!
    کیا ارسال کی کوئ قسم قابل قبول ھے؟؟؟
    اسکے بارے میں تھوڑی وضاحت فرمائیں.
    جزاک اللہ خیرا
     
  8. ‏اپریل 01، 2016 #8
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,685
    موصول شکریہ جات:
    2,244
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    راجح بات یہی ہے کہ مرسل حدیث ضعیف ہوتی ہے ،اور ضعیف مقبول نہیں ہوتی ؛
    الاسلام سوال و جواب "کے درج ذیل فتوی میں کچھ اہل علم کے اقوال اس ضمن میں بیان ہوئے ہیں ؛

    هل يجوز العمل بـ" الحديث المرسل " في أحكام الشريعة ؟
    السؤال :
    أرجو بيان الأمر مع الدليل هل يجوز العمل بالحديث المرسل في أحكام الشريعة " الفقه " ؟

    تم النشر بتاريخ: 2013-01-16
    الجواب :
    الحمد لله
    أولا :
    " الحديث المرسل " هو ذلك الحديث الذي يرويه التابعي عن النبي صلى الله عليه وسلم دون ذكر الصحابي في سنده .
    راجع جواب السؤال رقم : (130686) .
    ثانيا :
    تقدم في جواب السؤال رقم (112086) بيان أن الأحاديث التي يجب الأخذ بها والاستدلال بها هي الأحاديث المقبولة : الصحيحة أو الحسنة ، أما الأحاديث الضعيفة أو المكذوبة فلا يجوز الاستدلال بها على الحكم الشرعي .
    ثالثا :
    الحديث المرسل من أقسام الحديث الضعيف ، وليس بحجة عند جماهير أهل العلم بالحديث .
    قال الإمام مسلم رحمه الله في "مقدمة صحيحه" (1/12) :
    " وَالْمُرْسَلُ مِنْ الرِّوَايَاتِ فِي أَصْلِ قَوْلِنَا وَقَوْلِ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْأَخْبَارِ لَيْسَ بِحُجَّةٍ " انتهى .
    وقال ابن أبي حاتم رحمه الله :
    " سَمِعْتُ أَبِي وَأَبَا زُرْعَةَ يَقُولَانِ : لَا يُحْتَجُّ بِالْمَرَاسِيلِ وَلَا تَقُومُ الْحُجَّةُ إِلَّا بِالْأَسَانِيدِ الْصِّحَاحِ الْمُتَّصِلَةِ ، وَكَذَا أَقُولُ أَنَا " انتهى من "المراسيل" (ص: 7) .
    وقال الشيخ الألباني رحمه الله :
    " عُرف من علم " مصطلح الحديث " أن الحديث المرسل من أقسام الحديث الضعيف عند جمهور علماء الحديث " انتهى من "سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة" (1/ 55) .
    وقال الشيخ ابن باز رحمه الله :
    " والمرسل ليس بحجة عند جماهير أهل العلم ؛ كما نقل ذلك عنهم الإمام أبو عمر بن عبد البر في كتاب التمهيد " انتهى من "مجموع فتاوى ابن باز" (4/ 261) .
    والعلة في عدم الاحتجاج بالمرسل أن المرسِل لم يذكر لنا عمن أخذ هذا الحديث ؟ هل أخذه عن صحابي ؟ أم أخذه عن رجل مجهول ؟ أم أخذه عن غير ثقة ؟
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  9. ‏اپریل 01، 2016 #9
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,295
    موصول شکریہ جات:
    699
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    جزاک اللہ خیرا
     
  10. ‏اپریل 02، 2016 #10
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,685
    موصول شکریہ جات:
    2,244
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ :
    تابعی راوی اگر نبی کریم ﷺ سے نقل کرے (حالانکہ وہ ان کے زمانے میں نہیں تھا،اور اس کی انسے ملاقات بھی نہیں )تو ایسی روایت کو مرسَل کہا جاتا ہے
    اور اگر کوئی راوی اپنے زمانے کے دوسرے راوی سے نقل کرے جس کا زمانہ تو اس نے پایا ہے لیکن اس سے ملاقات و صحبت ثابت نہیں تو یہ روایت بھی مرسَل ہے، لیکن چونکہ دونوں کا زمانہ ایک ہے اس یہ مرسَل خفی ہے ،
     
    • علمی علمی x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں