- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,589
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
بَابُ أَبْوَالِ الإِبِلِ وَالدَّوَابِّ وَالْغَنَمِ وَمَرَابِضِهَا *
اونٹ کا اور چوپایوں کا اور بکری کا پیشاب اور ان کے رہنے کے مقامات ( یعنی باڑے نجس ہیں یا نہیں) ؟
اونٹ کا اور چوپایوں کا اور بکری کا پیشاب اور ان کے رہنے کے مقامات ( یعنی باڑے نجس ہیں یا نہیں) ؟
(173) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمَ أُنَاسٌ مِنْ عُكْلٍ أَوْ عُرَيْنَةَ فَاجْتَوَوُا الْمَدِينَةَ فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ ﷺ بِلِقَاحٍ وَأَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا فَانْطَلَقُوا فَلَمَّا صَحُّوا قَتَلُوا رَاعِيَ النَّبِيِّ ﷺ وَاسْتَاقُوا النَّعَمَ فَجَائَ الْخَبَرُ فِي أَوَّلِ النَّهَارِ فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمْ فَلَمَّا ارْتَفَعَ النَّهَارُ جِيئَ بِهِمْ فَأَمَرَ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسُمِرَتْ أَعْيُنُهُمْ وَأُلْقُوا فِي الْحَرَّةِ يَسْتَسْقُونَ فَلاَ يُسْقَوْنَ *
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عکلؔ کے یا عرینہؔ کے کچھ لوگ آئے چنانچہ انھیں مدینہ کی ہوا موافق نہ آئی تو وہ مدینہ میں بیمار ہو گئے تو آپ ﷺ نے انھیں چند اونٹنیاں دینے کا حکم دیا اور یہ(حکم بھی دیا) کہ وہ لوگ ان کا پیشاب اور ان کا دودھ پئیں۔ پس وہ (جنگل میں) چلے گئے (اور ایسا ہی کیا)۔ جب ٹھیک ہو گئے تو نبی ﷺ کے چرواہے کو قتل کر ڈالا اور جانوروں کو ہانک کر لے گئے ۔پس دن کے اول وقت (یہ) خبر نبی ﷺ کے پاس آئی اور آپ ﷺ نے ان کے تعاقب میں آدمی بھیجے ۔ چنانچہ دن چڑھے وہ (گرفتار کرکے) لائے گئے، پس آپ ﷺ نے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹنے کا حکم دیا اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیر دی گئیں اور وہ گرم سنگلاخ جگہ پر ڈال دیے گئے ، پانی مانگتے تھے تو انھیں پانی نہ پلایا جاتا تھا ۔(اس لیے کہ انھوں نے بھی احسان فراموشی کی تھی)۔
(174) وَ عَنْهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يُصَلِّي قَبْلَ أَنْ يُبْنَى الْمَسْجِدُ فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ*
سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں مسجد کے بنائے جانے سے پہلے نبی ﷺ بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لیا کرتے تھے ۔