1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مسئلہ حیات انبیا علیھم السلام :حیاتی اور مماتی دونوں غلط ہیں!

'عقیدہ اہل سنت والجماعت' میں موضوعات آغاز کردہ از طاہر اسلام, ‏نومبر 21، 2014۔

  1. ‏مارچ 02، 2015 #11
    جوش

    جوش مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 17، 2014
    پیغامات:
    621
    موصول شکریہ جات:
    307
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    قبرستان میں نمازپڑھنا الگ مسئلہ ہے یہ منع ہے اور برزخی زندگی کا مسئلہ الگ ہے یہ تشریعی اور تکلیفی نہیں ہے دونوں میں کوئی تضاد نہیں ۔ پھر قبر میں نماز پڑھنا الگ بات ہے اور قبر والوں سے مانگنا الگ بات ہے دونوں میں بڑا فرق ہے اسلئے دونوں کوئی تعارض نہیں۔ ہر مسئلہ کو اس کے مقام پر رکھ کر سمجھنے کی کوشش کیجئے حل ہوجائیگاانشاءاللہ۔
     
  2. ‏مارچ 02، 2015 #12
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,987
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    حدثنا : علي بن محمود ، ثنا : عبد الله بن إبراهيم بن الصباح ، ثنا : عبد الله بن محمد بن يحيى بن أبى بكير ، ثنا : يحيى بن أبى بكير ، ثنا : المستلم بن سعيد ، عن حجاج ، عن ثابت البنانى ، عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صل الله علیہ و آ له وسلم : "الأنبياء في قبورهم يصلون".

    اس حدیث میں ایک راوی "الحجاج" مجہول ہے-جس کی بنیاد پر یہ حدیث ضعیف ہے

    البزاز المتوفى: ھ٢٩٢ کہتے ہیں
    حَدَّثنا رزق الله بن موسى، حَدَّثنا الحسن بن قتيبة، حَدَّثنا الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ، عَن الحَجَّاج، الصَّوَّافَ، عَنْ ثابتٍ، عَن أَنَس؛ أَن رَسولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيه وَسَلَّم قَالَ: الأَنْبِيَاءُ أَحْيَاءٌ فِي قُبُورِهِمْ يُصَلُّونَ.


    جب کہ علامہ حجر عسقلانی فتح الباری میں اس راوی کو "الحجاج الاسود" کہا ہے -

    وَأَخْرَجَهُ الْبَزَّارُ لَكِنْ وَقَعَ عِنْدَهُ عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ وَهُوَ وَهْمٌ وَالصَّوَابُ الْحَجَّاجُ الْأَسْوَدُ -

    جب کہ ابن حبان نے اس راوی کو حجاج بن أبي عُثْمَان الصَّواف کہا ہے -اور یہ بصری ہے -

    علامہ البانی رح ابن حجرکی راے کو فوقیت دیتے ہیں - باوجود اس کے کہ امام الذھبی اس روایت کو منکر قرار دے رہے ہیں -

    البانی اپنی کتاب سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها میں لکھتے ہیں-
    فقد أورده الذهبي في ” الميزان ” وقال: ” نكرة، ما روى عنه – فيما أعلم – سوى مستلم بن سعيد فأتى بخبر منكر عنه عن أنس في أن الأنبياء أحياء في قبورهم يصلون. رواه البيهقي “. لكن تعقبه الحافظ في ” اللسان “، فقال عقبه: ” وإنما هو حجاج بن أبي زياد الأسود يعرف بزق العسل ” وهو بصري كان ينزل القسامل-

    س بے شک اس کو الذهبي میزان میں لے کر آئے ہیں اور کہا ہے منکرہے جو روایت کیا ہے -یہ علم ہوا ہے کہ سوائے مستلم بن سعيد کے کوئی اور اس کو روایت نہیں کرتا ،پس ایک منکر خبر انس سے روایت کرتا ہے کہ بے شک انبیاء قبروں میں زندہ ہیں نماز پڑھتے ہیں- اسکو البيهقي نے (بھی ) روایت کیا ہے، لیکن حافظ ابن حجر نے لسان المیزان میں اس کا تعاقب کیا ہے پس اس روایت کے بعد کہا ہے بے شک یہ حجاج بن أبي زياد الأسود ہے جوزق العسل سے معروف ہے اور بصری ہے-

    اس بحث کا لب لباب ہے کہ ابن حجر کی تصحیح نہ صرف مشکوک ہے بلکہ راوی کی نامکمل تحقیق پر مبنی ہے ابن حجر نے بیہقی کی اس روایت کی تصحیح کا حوالہ بھی دیا ہے لیکن بیہقی نے جس روایت کو صحیح قرار دیا ہے اس کی سند میں حجاج بن أبي عُثْمَان الصَّواف ہے نہ کہ حجاج بن أبي زياد الأسود-
     
  3. ‏مارچ 02، 2015 #13
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,987
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    قبرستان میں نماز پڑھنا اس لئے منع اور حرام ہے کہ یہ شرک و بدعت کی آماجگاہ ہے -الله کے نبی کا ارشاد پاک ہے -

    لعن اﷲ الیھود والنصارٰی إتخذوا قبور أنبیائھم مساجد لولا ذلك أُبرز قبرہ غیر أنه خشي أو خشی أن یتخذ مسجدًا (صحیح بخاری:۱۳۹۰، مسلم :۵۲۹)

    ''اللہ یہود و نصاریٰ پر لعنت کرے جنہوں نے انبیاء علیہم السلام کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا، اگر یہ خطرہ نہ ہوتا تو آپ کی قبر کو ظاہر کردیا جاتا، لیکن آپ کو ڈر تھا کہ آپ کی قبر کو سجدہ گاہ بنا لیا جائے گا۔''

    اورحقیقت یہ ہے کہ انبیاء و اولیاء الله کو ان کی قبروں میں زندہ سمجھ کر ہی باطل فرقے ان کو اپنی حاجت روائی کے لئے پکارتے ہیں- اور دلیل یہی دی جاتی ہے کہ یہ انبیاء اپنی قبروں میں نماز پڑھتے ہیں جن سے ان کی زندگی ثابت ہوتی ہے- اور اس بنا پر ہی ہم ان کی حاجت روائی کرتے ہیں - یہی وجہ ہے کہ الله رب العزت قرآن کریم میں واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ جن (انبیاء کو تم زندہ سمجھ کر) اس (زمینی قبر) جہاں جا کر تم ان کو حاجت روائی کے لئے پکارتے ہو- وہ تو حقیقت میں وہاں مردہ حالت میں ہیں (زندہ نہیں) - ان کو تو اتنا شعور بھی نہیں کہ وہ کب زندہ کرکے اٹھاے جائیں گے -

    کیوں کہ ان انبیاء و صالحین کو ان کی زمینی قبر کے پاس جا کرہی پکارا جاتا ہے-

    وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ -أَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاءٍ ۖ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ سوره النحل ٢٠-٢١-


    لهذا یہ مختلف فیہ مسئلہ نہیں ہے-

    یہاں یہ بات بھی زہن میں رہے کہ "شہید" کی زندگی کا جو بیان الله نے جو قرآن میں کیا ہے- وہ عالم برزخ میں علیین کا مقام ہے - جہاں پر وہ زندہ ہیں- وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا ۭ بَلْ اَحْيَاۗءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ يُرْزَقُوْنَ سوره آل عمران ١٦٩ اور انہیں مردہ گمان نہ کرو جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں ، بلکہ وہ تو زندہ ہیں اپنے رب کے پاس، رزق پاتے ہیں-

    عالم برزخ کا مقام چوں کہ زمینی قبر کی طرح ہم انسانوں کو معلوم نہیں - اس بنا پر ان سے حاجت روائی کا امکان نہیں ہوتا -(واللہ اعلم)-
     
  4. ‏اپریل 21، 2015 #14
    hanif qasmi

    hanif qasmi مبتدی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2015
    پیغامات:
    5
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    2

    مماتی حیاتی اور اک تسرا اپ کا جسے اپ خود صحیح کہتے ہی اس کو سلفا تی کہے
     
  5. ‏اپریل 21، 2015 #15
    hanif qasmi

    hanif qasmi مبتدی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2015
    پیغامات:
    5
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    2

    ایسا کیو سلفی مکتبےفکر کے محقق مسالک اربعہ کو اور مسلک دوبند کو غلط کیو کہتےہے
     
  6. ‏اپریل 21، 2015 #16
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,402
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    بھائی جی آپ کی بات سمجھ نہیں آئی ؛
    تھوڑا واضح کریں ،آپ کیا بتانا چاہتے ہیں
     
  7. ‏اپریل 22، 2015 #17
    جوش

    جوش مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 17، 2014
    پیغامات:
    621
    موصول شکریہ جات:
    307
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    حنیف صاحب مبارک ہو آپکو ابھی تو ہم نے حیاتی اور مماتی ہی سنا تھا لیکن ایک تیسرے کے موجد آپ ہوے اور وہ۔سلفاتی۔ ذرا اسکی بھی وضاحت کردیں کہ یہ کون ہیں نیز ان کا نظریہ و عقیدہ کیا ہے
     
  8. ‏مئی 16، 2016 #18
    عبداللہ ابن آدم

    عبداللہ ابن آدم رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 05، 2014
    پیغامات:
    161
    موصول شکریہ جات:
    54
    تمغے کے پوائنٹ:
    61

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    محترم @طاہر اسلام بھائی آپ کی بات سے میں بالکل متفق ہوں لیکن میرے اس حوالے سے چند اشکالات ہیں اُمید کرتا ہوں ان کا ازالہ فرمائیں گے۔
    قبر میں رُوح لوٹائی جاتی ہے یہ بات تو درست ہے لیکن کیا عارضی طور پر ایسا ہوتا ہے یا مستقل رُوح اس کے بدن میں ہی رہتی ہے۔؟؟ اس کا جواب عنایت فرما دیں۔
     
  9. ‏مئی 17، 2016 #19
    طاہر اسلام

    طاہر اسلام سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 07، 2011
    پیغامات:
    843
    موصول شکریہ جات:
    725
    تمغے کے پوائنٹ:
    256

    جی یہ مستقل نہیں ہے ؛ سوال و جواب کے وقت ہے ۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں