1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مشرک کی نجاست کا حکم

'نجاست اور اقسام' میں موضوعات آغاز کردہ از انور شاہ راشدی, ‏مئی 03، 2014۔

  1. ‏مئی 08، 2014 #51
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,161
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    جزاک اللہ خیرا اس بات کی سمجھ آ گئی
     
  2. ‏مئی 08، 2014 #52
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,161
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    محترم شیخ صاحب غالبا مجھے یہی غلط فہمی ہو رہی تھی کہ آیا جنابت حکمی نجاست میں سے ہے یا حسی نجاست میں سے-
    اوپر محترم شیخ انور شاہ راشدی نے فتح الباری کے حوالے سے بتایا تھا کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اسکو حسی نجاست سمجھ رہے تھے تو میں سمجھا کہ وہ اسکو حسی نجاست کہ رہے تھے چونکہ یہ بھی حسی ناپاکی ہی ہے اسی لئے میں نے اوپر پوسٹ نمبر 43 میں شاید الٹ بات کہ دی ہو مگر لگتا ہے کہ میں غلط تھا اور ابو ہریرہ اس کو حسی نجاست کہ نہیں رہے تھے بلکہ سمجھ (یعنی حسی پر قیاس) رہے تھے
    آپ میری اصلاح کر دیں تاکہ اس حوالے سے بات کو سمجھ سکوں جزاک اللہ خیرا
     
  3. ‏مئی 08، 2014 #53
    رفیق طاھر

    رفیق طاھر رکن مجلس شوریٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    ارض اللہ
    شمولیت:
    ‏مارچ 04، 2011
    پیغامات:
    790
    موصول شکریہ جات:
    3,974
    تمغے کے پوائنٹ:
    323

    یہ بات درست ہے کہ
     
  4. ‏مئی 08، 2014 #54
    انور شاہ راشدی

    انور شاہ راشدی رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 01، 2014
    پیغامات:
    257
    موصول شکریہ جات:
    67
    تمغے کے پوائنٹ:
    77

    محترمی ومکرمی
    جزاک اللہ خرا.
    میں سمجہتا ھوں کہ یقینا الحمدللہ میری طرح قارئین کے اشکالات بھی ختم ہوگئے ھوںگے.
    اب گلی بات یہ ھے کہ حدیث "لا یمس القرآن الا طاھر "سے مسلم مراد ھے یا مشرک؟
    علامہ البانی نے اس سے مسلم مراد لیا ھے کہ وہ چھوسکتا ھے.چاھے بے وضو ھی کیوں نہ ھو.اور اسکی دلیل یہ دی کہ یا یوں سمجہیں ک اس حدیث کا مفہوم مخالف یہ لیا ک مصححف کو مشرک نہ چھوئے.کیونکہ وہ نجس ھے اور مسلم نجس نہیں.
    لیکن بات یہ ہے کہ مسلم اور مشرک میں نجاست حسی مشترک ہے.دونوں کو جہاں لگے گی وہ جگہ نجس ھوگی.
    سارا نجس نہیں ھوگا.اور اگر اسکو نجاست لگی ھی نھیں تو یہ بات بہی ختم ہوجاتی ھے.
    اصل بات یہ ھے کہ مشرک میں نجاست حسی ھے.اور وہ نجاست حکمی سے بہی خطرناک ھے.جب تک اسکی نجاست حسی ختم نہین ھوجاتی تب تک اسکے لئے طہارت وغیر طہارت برابر ھے.
    تو جب بات یہ ھو مشرک کو مصحف سے منع چہ معنی دارد ؟
    جبکہ اگر کسی مشرک میں اسلام لانے کی امید ھو تو اسکو تو قرآن دینا ضروری ھے کہ اسکو ھدایت مل جائے.علامہ البانی نے مشرک کے نہ چھونے کی یہ دلیل بھی دی ھے کہ قرآن مجید کو دشمن کے علاقے میں نہ لیجایا جائے.کہ اسکو وہ لے نا لیں.یعنی وہ اسکو نقصان نہ پہنچائیں.
    حالانکہ اسکا بھی زیر بحث مسئلہ سے تعلق نہیں.بالکہ اگر دیکھا تو یہ مشرک کے لئے چھنے کی دلیل ھے نا کہ نا چہونے کی.اس لئے کہ اسکا مفھوم مخالف یہ ھوا کہ اگر نقصان کا اندیشہ نہ ھو تو وہ چھو سکتے ھیں یعنی پڑھ سکتے ھیں.
    اور صحابہ نے بھی اس حدیث سے مسلم کا نہ چھونا ھی سمجہا ھے.کتب میں انکے آثار موجود ھیں.
    مختصر حدیث کا مفہوم مخالف یہ ھے کہ قرآن کو غیر طاہر نہ چہوئے.نہ کہ اسکا مفہوم مخالف یہ ہے کہ نجس نہ چھوئے.کیونکہ طاھر کا مفہوم مخالف غیر طاھر ھے نہ کہ نجس.اور نجس کا غیر نجس.
    کیا رائے ھے علماء کی
     
  5. ‏مئی 08، 2014 #55
    انور شاہ راشدی

    انور شاہ راشدی رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 01، 2014
    پیغامات:
    257
    موصول شکریہ جات:
    67
    تمغے کے پوائنٹ:
    77

    شرک میں نجاست حکمی ھے حسی نہیں.جلدی میں ایسا ھوگیا.
     
  6. ‏مئی 09، 2014 #56
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,161
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    جزاک اللہ خیرا محترم شیخ صاحب شاید الفاظ آگے پیچھے ہو جاتے ہیں مثلا آپ شاید کہنا یہ چاہتے تھے کہ حدیث میں نہ چھونے کی علت نجس ہونا ہے اور اسکا مفہوم مخآلف یہ لیا کہ مسلم نجس نہیں یعنی مفہوم مخالف مشرک کا نجس ہونا نہیں بلکہ اسکی علت کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ مسلم نجس نہیں

    میرے علم کے مطابق اس کی تفسیر میں اختلاف ہے مجھے زیادہ بہتر ابن عثیمین کی یہ تفسیر لگی ہے


    فائدة و إشارة عظيمة للشيخ العثيمين - رحمه الله - في تفسير قوله تعالى : "لا يمسه إلا المطهرون"
    قوله : لا يمسه إلا المطهرون
    الضمير يعود إلى الكتاب المكنون ، لأنه أقرب شيء ، وهو بالرفع لا يمسه باتفاق القراء ، وإنما نبهنا على ذلك ، لدفع قول من يقول : إنه خبر بمعنى النهي ، والضمير يعود على القرآن ، أي : نهى أن يمس القرآن إلا طاهر ، والآية ليس فيها ما يدل على ذلك ، بل هي ظاهرة في أن المراد به اللوح المحفوظ ، لأنه أقرب مذكور ، ولأنه خبر ، والأصل في الخبر أن يبقى على ظاهره خبراً لا أمراً ولا نهياً حتى يقوم الدليل على خلاف ذلك ، ولم يرد ما يدل على خلاف ذلك ، بل الدليل على أنه لا يراد به إلا ذلك ، وأنه يعود إلى الكتاب المكنون ، ولهذا قال الله إلا المطهرون باسم المفعول ، ولم يقل : إلا المطَّهِّرون ، ولو كان المراد المطَّهِّرون لقال ذلك ، أو قال : إلا المتطهرون ، كما قال تعالى : إن الله يحب التوابين ويحب المتطهرين .
    والمطهرون : هم الذين طهرهم الله تعالى ، وهم الملائكة ، طُهِّروا من الذنوب وأدناسها ، قال تعالى : لا يعصون الله ما أمرهم [التحريم : 6 ] .
    وقال تعالى : يسبحون الليل والنهار لا يفترون [ الأنبياء : 20 ] ، وقال تعالى بل عباد مكرمون لا يسبقونه بالقول وهم بأمره يعملون [ الأنبياء : 26-27] ، وفرق بين المطِّهر الذي يريد أن يفعل الكمال بنفسه ، وبين المطَّهر الذي كمله غيره وهم الملائكة ، وهذا مما يؤيد ما ذهب إليه ابن القيم أن المراد بالكتاب الكتب التي في أيدي الملائكة ، وفي الآية إشارة على أن من طهر قلبه من المعاصي كان أفهم للقرآن ،وأن من تنجس قلبه بالمعاصي كان أبعد فهماً عن القرآن ، لأنه إذا كانت الصحف التي في أيدى الملائكة لم يمكن الله من مسها إلا هؤلاء المطهرين ، فكذلك معاني القرآن

    .
    شیخ عثیمین رحمہ اللہ کے نزدیک پہلی بات تو یہ ہے کہ بغیر قرینہ یا دلیل کے اسکو نہی نہیں بنا سکتے اور دوسری بات کہ اس مفعول کا صیغہ استعمال ہوا ہے نہ کی اس فاعل کا- اس آیت لانے کی ایک وجہ تو یہاں بتائی گئی ہے کہ اشارہ ہےکہ جس کے دل گناہوں سے پاک ہوں گے وہ اسکو اچھا سمجھ لے گا جیسے ھدی للمتقین سے بھی پتا چلتا ہو اور کچھ نے یہ بھی کہا ہے کہ جو یہ اعتراض کرتے تھے کہ شیطان قرآن لکھواتا ہے اسکا جواب ہے واللہ اعلم

    دوسرا اگر نہی میں بھی لیں تو پھر بھی طاہر کے مفہوم کے لئے یہ دیکھا جائے گا کہ کس تناظر میں بات ہو رہی ہے جیسے مفرد کا معنی مرکب کے تناظر میں اور ہوتا ہے اور واحد تثنیہ کے مقابلے میں اور ہوتا ہے اسی طرح جمع کا لفظ بھی مختلف تناظر میں بولا جاتا ہے میرے خیال میں یہاں طاہر سے مراد غیر جنبی ہو گا غیر نجس یا وضو والا مراد نہیں ہو گا واللہ اعلم
     
  7. ‏مئی 10، 2014 #57
    انور شاہ راشدی

    انور شاہ راشدی رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 01، 2014
    پیغامات:
    257
    موصول شکریہ جات:
    67
    تمغے کے پوائنٹ:
    77

    طاہر کا مفھوم مخالف غیر طاہ ھے نا کہ نجس۔
    اور طھارت اسکے لئے مفید ھے جو حکمی نجاست سے پاک ھو۔حکمی نجاست والے کے لئے طہارت کا ھونا نا ھونا برابر ھے۔اور طاہر وغیر طاھر دونوں کا تعلق مسلم سے ھے۔نا کہ مشرک سے۔
    کچھ اور بھی قرینے ذکر کئے ھیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  8. ‏مئی 22، 2014 #58
    انور شاہ راشدی

    انور شاہ راشدی رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 01، 2014
    پیغامات:
    257
    موصول شکریہ جات:
    67
    تمغے کے پوائنٹ:
    77

    اس سے یہ واضح ھوا کہ زیر بحث حدیث: لا یمس القرآن الا طاھر " میں ممانعت مسلم کو ھے نہ کہ مشرک کو.
    واللہ اعلم.
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں