1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

منکرین تصوف

'شریعت وطریقت' میں موضوعات آغاز کردہ از aqeel, ‏مئی 10، 2013۔

  1. ‏مئی 10، 2013 #1
    aqeel

    aqeel مشہور رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏فروری 06، 2013
    پیغامات:
    299
    موصول شکریہ جات:
    307
    تمغے کے پوائنٹ:
    119

    [​IMG]
     
  2. ‏مئی 11، 2013 #2
    ابو القاسم

    ابو القاسم رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 23، 2011
    پیغامات:
    79
    موصول شکریہ جات:
    324
    تمغے کے پوائنٹ:
    65

    ہم تصوف کو کلی طور پر بدعت نہیں کہتے۔ بلکہ تصوف کے نام پر در آنے والی بدعات کو بدعت کہتے ہیں۔ اور سیکڑوں کو متقدمین و متاخرین علما نے ان کو بدعت کہا ہے۔ ان تمام علما کو بدعتی کہنے کی وجہ سے اپنے آپ کو بھی بدعتی ہی سمجھیے۔
     
  3. ‏مئی 11، 2013 #3
    aqeel

    aqeel مشہور رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏فروری 06، 2013
    پیغامات:
    299
    موصول شکریہ جات:
    307
    تمغے کے پوائنٹ:
    119

    چلو بھائی سارا نہیں تو کچھ تو ٹھیک ہوگیا،بس آپ اتنا بتا دے کہ صوفیا اہلحدیث ؒ کا تصوف بدعتی تھا یا اسلامی؟
    دوسرا مولانا جب میں تصوف کی بات کرتا ہوں تو اس تصوف کی بات کرتا ہوں جو آج علما اہلحدیث اور حناف میں ہے،مراد جس کی سند میں علما اہلحدیث بھی شامل ہیں ،اگر مجھے بدعتی کہہ کر آپ کے دل کو تسکین ہوتی ہے تو ہزار بار کہہ لے مگر خدا راہ اکابرین کو خواہ مخواہ بدعتی اور مشرک کہنے سے اپنے حلقہ احباب کو باز رکھو
    اور اس امیج میں مطلق جو لوگ تصوف سے انکاری ہیں انہیں بدعتی کہا گیا ہے ۔آپ غضہ نہ کریں، چلو اچھا ہوا کسی حد آپ تصوف کے قائل ہیں ۔جس تصوف کے قائل ان صوفیا کی فہرست پیش کر دیجئے گا،،تا کہ ہمیں پتہ چل جائے کہ یہ صوفی بدعت سے پاک ہیں ،مجھے انتظار رہئے گا۔
     
  4. ‏مئی 13، 2013 #4
    شاہد نذیر

    شاہد نذیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2011
    پیغامات:
    1,940
    موصول شکریہ جات:
    6,202
    تمغے کے پوائنٹ:
    412

    ہم سے کیا مراد ہے؟ کیا آپ کسی جماعت کی نمائندگی میں یہ بات کہہ رہے ہیں؟

    تصوف ایک نیا لفظ ہے جس کا کوئی ثبوت کتاب و سنت میں موجود نہیں۔ علامہ احسان الہی ظہیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابن تیمیہ، ابن الجوزی، ابن خلدون وغیرہ کا اس بارے میں موقف یہ ہے کہ یہ لفظ ابتدائی تین صدیوں تک استعمال نہیں ہوا اور ٣٠٠ھ تک ہمیں کہیں بھی اس لفظ کے بارے میں کوئی ثبوت نہیں ملتا۔(تصوف، ص ٥٦)

    تصوف کے لفظ اور صوفی مذہب کے بدعت ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں۔
     
  5. ‏مئی 13، 2013 #5
    شاہد نذیر

    شاہد نذیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2011
    پیغامات:
    1,940
    موصول شکریہ جات:
    6,202
    تمغے کے پوائنٹ:
    412

    اس اہم ترین اقتباس سے معلوم ہوا کہ تصوف کے حاملین کے پاس تصوف کو ثابت کرنے کے لئے دلائل نام کی کوئی چیز نہیں صرف اٹکل پچو سے کام چلاتے ہیں۔ اس اقتباس سے یہ بات بھی ہماری عقل شریف میں آتی ہے کہ اس صوفیانہ اصول پر تو ابوحنیفہ بھی بدعتی تھے کیونکہ انکا صوفی ہونا نقل نہیں کیا گیا۔ کیوں! کیا خیال ہے؟
     
  6. ‏مئی 14، 2013 #6
    aqeel

    aqeel مشہور رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏فروری 06، 2013
    پیغامات:
    299
    موصول شکریہ جات:
    307
    تمغے کے پوائنٹ:
    119

    امام ابو حنیفہؒ پر بات کرنے کی ضرورت نہیں ،آپ بس اتنا بتا دے کہ صوفیا اہلحدیث کا تصوف بدعتی تھا یا اسلامی؟
    کیونکہ کہ آپ سابقہ تھریڈ میں تسلیم کر چکے ہیں کہ کچھ صوفی تھے ذرا بتا دے کہ آیا وہ بھی بدعتی مشرک تھے یا نہیں ؟
     
  7. ‏مئی 14، 2013 #7
    aqeel

    aqeel مشہور رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏فروری 06، 2013
    پیغامات:
    299
    موصول شکریہ جات:
    307
    تمغے کے پوائنٹ:
    119

    ؟؟؟
     
  8. ‏مئی 14، 2013 #8
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    السلام علیکم
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
    گرامی قدر حضرات میں باقاعدہ طور پر تو اس موضوع میں مشارکت نہیں کررہا ہوں
    تصوف کا ٹاپک کافی پرانا ہے ساری توانائی دو بات پر صرف کی جارہی ہیں ایک تا یہ کہ تصوف کی ابتداء کہاں سے ہوئی اور کیا قرآن وحدیث سے ثابت ہے کہ نہیں؟
    اور دوسری بات یہ کہ تصوف پر عمل پیراء حضرات بدعتی ہیں
    تو عرض کردوں ہر ہر بات کاثبوت بعنیہ ان ہی الفاظ میں قرآن و حدیث میں تلاش کرنا میرے حساب سے مناسب نہیں جبکہ دوسرے معنیٰ کر اس کا ثبوت قرآن و حدیث میں ہوتا ہے بس تدبر اور حق تک پہونچنے کا تجسس ہونا چاہئے
    مثال کے طور پر قرآن پاک کو معرب کرنا ۔قرآن پاک کو مجود کرنا قرآن پاک کو ملون کرنا
    قراء حضرات کا قرآن پاک تلاوت میں حسن پیدا کرنے کے لیے مختلف طریقہ استعمال کرنا مثلاً
    ایک بڑے گھڑے کے منہ کے قریب اپنا منہ قریب کرکے آواز میں تحسین پیدا کرنے کی کوشش کرنا، اسی طرح کنویں میں منہ لٹکا کر تلاوت کرنا، بڑے ہال میں مشق کرنا ، سانس طویل کرنے کی مشق کرنا، گلا بنانے کی مشق کرنا اور بھی کئی طریقہ ہیں جن پر عمل کرنے سے آواز میں حسن پیدا ہوتا ہے اب عرب حضرات اس طرح کی تلاوت کو جس کو ہم ترتیل(مصری لہجہ) کہتے ہیں مستحسن نہیں سمجھتے بلکہ بدعت کہتے ہیں عرب حضرات حدر اور تدویر کو پسند کرتے ہیں
    (۱) ترتیل: یعنی بہت ٹھہر کر پڑھنا جیسے عام طور پر قراء حضرات محفلوں میں پڑھتے ہیں۔
    (۲) حدر: اتنی جلدی جلدی پڑھنا کہ حروف آسانی سے سمجھ میں آجائیں اور قواعدبھی نہ بگڑیں عام طور پر تراویح میں پڑھا جاتا ہے
    (۳) تدویر: یعنی ترتیل اور حدر کے درمیان پڑھنا جیسے عام طور پر فرض نمازوں میں پڑھاجاتا ہے
    اب قرآن پاک کی تلاوت کرنے کے یہ رموز قراء حضرات کے وضع کردہ ہیں
    اسی طرح سے دیگر فنون ہیں جن کو تابعین کے زمانہ سے مدون کیا گیا ان تمام فنون پر ہم عمل پیراء ہیں اور ان ہی کی روشنی میں قرآن وحدیث کو سمجھتے ہیں اس کو ہم بدعت نہیں کہتے بلکہ مستحسن سمجھتے ہیں۔لہٰذا:
    بدعت ہر اس عمل کو کہتے ہیں جو قرآن وحدیث کی ضد ہو مثلاً قرآن پاک کی تلاوت کے وقت قراء حضرات کا غیر معمولی یا غیر فطری پر سانس کو طول دینا
    اور یہ بدعت ہمارے تمام اعمال چاہے وہ روزہ ہو نماز ہو حج ہو یا زکوٰۃ سب پایا جاتا ہے
    اسی طرح سے حرمین شریفین کو مزین کرنا دیکھا جائے تو اسراف ہے اور ان کے ارد گرد فلک بوس عمارتیں تعمیر کرنا بدعت ہے کیوں کہ قرون اولیٰ میں اس طرح کیا عمارتیں نہیں پائی جاتی تھیں
    تو اس لیے تصوف بمعنیٰ ولایت ہر زمانہ میں پسندیدہ عمل تھا اور ہے بشرطیکہ اسلامی تعلیمات سے متصادم نہ ہو اور اسلام کا اصول نہ ٹوٹتا ہو اگر اسلا م کا کوئی اصول ٹوٹتا ہے تو وہ بدعت ہے اس طرح سے ہم اپنے تمام اعمال کا محاسبہ کر سکتے ہیں
    فقط واللہ اعلم بالصواب
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  9. ‏مئی 14، 2013 #9
    ارشد

    ارشد رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 20، 2011
    پیغامات:
    44
    موصول شکریہ جات:
    150
    تمغے کے پوائنٹ:
    66

    اسلام واعلیکم
    اسلامی اور غیراسلامی تصوف میں فرق کیسے ہوگا اورکس معیار اور بنیاد پہ ہوگا ؟؟؟ ؟؟؟ ورنہ تو کوی اہیلہ غیراسلامی تصوف آپ ہی کے انداز میں بڑی چالاکی سے غیراسلامی تصوف کو آپ پہ ہجت بنا سکتا ہے۔ پھر آپ غیر اسلامی تصوف کو کیسے ردّ کرتے ہیں کیا آپ دلایل دیسکتے ہیں؟؟؟ ۔۔
     
  10. ‏مئی 14، 2013 #10
    شاہد نذیر

    شاہد نذیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2011
    پیغامات:
    1,940
    موصول شکریہ جات:
    6,202
    تمغے کے پوائنٹ:
    412

    بات تو اصولی ہے اس لئے اس میں ابوحنیفہ کو شامل کرنا اس لئے ضروری ہے کہ ان کے مقلدین جو دینی احکام میں ابوحنیفہ کی رائے کے مکمل محتاج ہیں وہ تصوف کے منکرین کو بدعتی کہہ رہے ہیں تو سب سے پہلے تو انہیں یہی بتانا چاہیے کہ خود انکے امام تصوف کے منکر تھے یا حامی؟

    تصوف کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اس لئے اگر کوئی اہل حدیث تصوف سے متاثر رہا ہے تو یہ انکی خطاء اور غلطی ہے۔ اسکے علاوہ وہ اہل حدیث جو کچھ نہ کچھ تصوف میں ملوث تھے وہ مشرک نہیں تھے کیونکہ وہ شریعت ہی کو تصوف سمجھتے تھے اس کے برعکس بریلوی اور دیوبندی صوفی ضرور مشرک ہیں کیونکہ انکا تصوف شریعت سے ہٹ کر ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں