• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مکمل صحیح بخاری اردو ترجمہ و تشریح جلد ١ - (حدیث نمبر ١ تا ٨١٣)

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
باب : اس بارے میں کہ امام کا عورتوں کو بھی نصیحت کرنا اور تعلیم دینا (ضروری ہے)

حدیث نمبر : 98
حدثنا سليمان بن حرب، قال حدثنا شعبة، عن أيوب، قال سمعت عطاء، قال سمعت ابن عباس، قال أشهد على النبي صلى الله عليه وسلم ـ أو قال عطاء أشهد على ابن عباس ـ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج ومعه بلال، فظن أنه لم يسمع النساء فوعظهن، وأمرهن بالصدقة، فجعلت المرأة تلقي القرط والخاتم، وبلال يأخذ في طرف ثوبه‏.‏ وقال إسماعيل عن أيوب عن عطاء وقال عن ابن عباس أشهد على النبي صلى الله عليه وسلم‏.‏
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے ایوب کے واسطے سے بیان کیا، انھوں نے عطاء بن ابی رباح سے سنا، انھوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر گواہی دیتا ہوں، یا عطاء نے کہا کہ میں ابن عباس پر گواہی دیتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ( ایک مرتبہ عید کے موقع پر مردوں کی صفوں میں سے ) نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ کو خیال ہوا کہ عورتوں کو ( خطبہ اچھی طرح ) نہیں سنائی دیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں علیحدہ نصیحت فرمائی اور صدقے کا حکم دیا ( یہ وعظ سن کر ) کوئی عورت بالی ( اور کوئی عورت ) انگوٹھی ڈالنے لگی اور بلال رضی اللہ عنہ اپنے کپڑے کے دامن میں ( یہ چیزیں ) لینے لگے۔ اس حدیث کو اسماعیل بن علیہ نے ایوب سے روایت کیا، انھوں نے عطاء سے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یوں کہا کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر گواہی دیتا ہوں ( اس میں شک نہیں ہے ) امام بخاری کی غرض یہ ہے کہ اگلا باب عام لوگوں سے متعلق تھا اور یہ حاکم اور امام سے متعلق ہے کہ وہ بھی عورتوں کو وعظ سنائے۔

تشریح : اس حدیث سے مسئلہ باب کے ساتھ عورتوں کا عید گاہ میں جانا بھی ثابت ہوا۔ جولوگ اس کے مخالف ہیں ان کو معلوم ہونا چاہئیے کہ وہ ایسی چیز کا انکار کررہے ہیں جوآنحضرت کے زمانہ میں مروج تھی۔ یہ امر ٹھیک ہے کہ عورتیں پردہ اور ادب وشرم وحیا کے ساتھ جائیں۔ کیونکہ بے پردگی بہرحال بری ہے۔ مگرسنت نبوی کی مخالفت کرنا کسی طرح بھی زیبا نہیں ہے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
باب : علم حدیث حاصل کرنے کی حرص کے بارے میں

حدیث نمبر : 99
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، قال حدثني سليمان، عن عمرو بن أبي عمرو، عن سعيد بن أبي سعيد المقبري، عن أبي هريرة، أنه قال قيل يا رسول الله، من أسعد الناس بشفاعتك يوم القيامة قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لقد ظننت يا أبا هريرة أن لا يسألني عن هذا الحديث أحد أول منك، لما رأيت من حرصك على الحديث، أسعد الناس بشفاعتي يوم القيامة من قال لا إله إلا الله، خالصا من قلبه أو نفسه‏"‏‏. ‏
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، انھوں نے کہا مجھ سے سلیمان نے عمرو بن ابی عمرو کے واسطے سے بیان کیا۔ وہ سعید بن ابی سعید المقبری کے واسطے سے بیان کرتے ہیں، وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! قیامت کے دن آپ کی شفاعت سے سب سے زیادہ سعادت کسے ملے گی؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مجھے یقین تھا کہ تم سے پہلے کوئی اس کے بارے میں مجھ سے دریافت نہیں کرے گا۔ کیونکہ میں نے حدیث کے متعلق تمہاری حرص دیکھ لی تھی۔ سنو! قیامت میں سب سے زیادہ فیض یاب میری شفاعت سے وہ شخص ہو گا، جو سچے دل سے یا سچے جی سے “ لا الہ الا اللہ ” کہے گا۔

تشریح : حدیث شریف کا علم حاصل کرنے کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی تحسین فرمائی۔ اسی سے اہل حدیث کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ دل سے کہنے کا مطلب یہ کہ شرک سے بچے، کیونکہ جو شرک سے نہ بچا وہ دل سے اس کلمہ کا قائل نہیں ہے اگرچہ زبان سے اسے پڑھتا ہو۔ جیسا کہ آج کل بہت سے قبروں کے پجاری نام نہاد مسلمانوں کا حال ہے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
باب : اس بیان میں کہ علم کس طرح اٹھا لیا جائےگا؟

وكتب عمر بن عبد العزيز إلى أبي بكر بن حزم انظر ما كان من حديث رسول الله صلى الله عليه وسلم فاكتبه، فإني خفت دروس العلم وذهاب العلماء، ولا تقبل إلا حديث النبي صلى الله عليه وسلم، ولتفشوا العلم، ولتجلسوا حتى يعلم من لا يعلم، فإن العلم لا يهلك حتى يكون سرا‏.‏ حدثنا العلاء بن عبد الجبار قال حدثنا عبد العزيز بن مسلم عن عبد الله بن دينار بذلك، يعني حديث عمر بن عبد العزيز إلى قوله ذهاب العلماء‏.‏
اور ( خلیفہ خامس ) حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ابوبکر بن حزم کو لکھا کہ تمہارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جتنی بھی حدیثیں ہوں، ان پر نظر کرو اور انھیں لکھ لو، کیونکہ مجھے علم دین کے مٹنے اور علماء دین کے ختم ہو جانے کا اندیشہ ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی کی حدیث قبول نہ کرو اور لوگوں کو چاہیے کہ علم پھیلائیں اور ( ایک جگہ جم کر ) بیٹھیں تا کہ جاہل بھی جان لے اور علم چھپانے ہی سے ضائع ہوتا ہے۔ ہم سے علاء بن عبدالجبار نے بیان کیا، انھوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن مسلم نے عبداللہ بن دینار کے واسطے سے اس کو بیان کیا یعنی عمر بن عبدالعزیز کی حدیث ذہاب العلماء تک۔

مقصد یہ کہ پڑھنے پڑھانے ہی سے علم دین باقی رہ سکے گا۔ اس میں کوتاہی ہرگز نہ ہونی چاہئیے۔

حدیث نمبر : 100
حدثنا إسماعيل بن أبي أويس، قال حدثني مالك، عن هشام بن عروة، عن أبيه، عن عبد الله بن عمرو بن العاص، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ‏"‏ إن الله لا يقبض العلم انتزاعا، ينتزعه من العباد، ولكن يقبض العلم بقبض العلماء، حتى إذا لم يبق عالما، اتخذ الناس رءوسا جهالا فسئلوا، فأفتوا بغير علم، فضلوا وأضلوا‏"‏‏. ‏ قال الفربري حدثنا عباس قال حدثنا قتيبة حدثنا جرير عن هشام نحوه‏.‏
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، ان سے مالک نے ہشام بن عروہ سے، انھوں نے اپنے باپ سے نقل کیا، انھوں نے عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے نقل کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اللہ علم کو اس طرح نہیں اٹھا لے گا کہ اس کو بندوں سے چھین لے۔ بلکہ وہ ( پختہ کار ) علماء کو موت دے کر علم کو اٹھائے گا۔ حتیٰ کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو سردار بنا لیں گے، ان سے سوالات کیے جائیں گے اور وہ بغیر علم کے جواب دیں گے۔ اس لیے خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔ فربری نے کہا ہم سے عباس نے بیان کیا، کہا ہم سے قتیبہ نے، کہا ہم سے جریر نے، انھوں نے ہشام سے مانند اس حدیث کے۔

تشریح : پختہ عالم جودین کی پوری سمجھ بھی رکھتے ہوں اور احکام اسلام کے دقائق ومواقع کو بھی جانتے ہوں، ایسے پختہ دماغ علماءختم ہوجائیں گے اور سطحی لوگ مدعیان علم باقی رہ جائیں گے جوناسمجھی کی وجہ سے محض تقلید جامد کی تاریکی میں گرفتار ہوں گے اور ایسے لوگ اپنے غلط فتووں سے خود گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔ یہ رائے اور قیاس کے دلدادہ ہوں گے۔ یہ ابوعبداللہ محمد بن یوسف بن مطرفربری کی روایت ہے جو حضرت امام بخاری رحمہ اللہ کے شاگرد ہیں اور صحیح بخاری کے اولین راوی یہی فربری رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ بعض روایتوں میں بغیرعلم کی جگہ برایہم بھی آیا ہے۔ یعنی وہ جاہل مدعیان علم اپنی رائے قیاس سے فتویٰ دیاکریں گے۔ قال العینی لایختص ہذا بالمفتیین بل عام للقضاۃ الجاہلین یعنی اس حکم میں نہ صرف مفتی بلکہ عالم جاہل قاضی بھی داخل ہیں۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
باب : اس بیان میں کہ کیا عورتوں کی تعلیم کے لیے کو ئی خاص دن مقرر کیا جا سکتا ہے؟

حدیث نمبر : 101
حدثنا آدم، قال حدثنا شعبة، قال حدثني ابن الأصبهاني، قال سمعت أبا صالح، ذكوان يحدث عن أبي سعيد الخدري،‏.‏ قالت النساء للنبي صلى الله عليه وسلم غلبنا عليك الرجال، فاجعل لنا يوما من نفسك‏.‏ فوعدهن يوما لقيهن فيه، فوعظهن وأمرهن، فكان فيما قال لهن ‏"‏ ما منكن امرأة تقدم ثلاثة من ولدها إلا كان لها حجابا من النار‏"‏‏. ‏ فقالت امرأة واثنين فقال ‏"‏ واثنين‏"‏‏. ‏
ہم سے آدم نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے ابن الاصبہانی نے، انھوں نے ابوصالح ذکوان سے سنا، وہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ عورتوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فائدہ اٹھانے میں ) مرد ہم سے آگے بڑھ گئے ہیں، اس لیے آپ اپنی طرف سے ہمارے ( وعظ کے ) لیے ( بھی ) کوئی دن خاص فرما دیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ایک دن کا وعدہ فرما لیا۔ اس دن عورتوں سے آپ نے ملاقات کی اور انھیں وعظ فرمایا اور ( مناسب ) احکام سنائے جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا اس میں یہ بات بھی تھی کہ جو کوئی عورت تم میں سے ( اپنے ) تین ( لڑکے ) آگے بھیج دے گی تو وہ اس کے لیے دوزخ سے پناہ بن جائیں گے۔ اس پر ایک عورت نے کہا، اگر دو ( بچے بھیج دے ) آپ نے فرمایا ہاں! اور دو ( کا بھی یہ حکم ہے )

تشریح : یعنی دومعصوم بچوں کی موت ماں کے لیے بخشش کا سبب بن جائے گی۔ پہلی مرتبہ تین بچے فرمایا، پھر دو اور ایک اور حدیث میں ایک بچے کے انتقال پر بھی یہ بشارت آئی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو ایک مقررہ دن میں یہ وعظ فرمایا۔ اسی لیے حضرت امام بخاری رحمہ اللہ کے قائم کردہ باب اور حدیث میں مطابقت پیدا ہوئی۔ دوبچوں کے بارے میں سوال کرنے والی عورت کا نام ام سلیم تھا۔ کچے بچے کے لیے بھی یہی بشارت ہے۔

حدیث نمبر : 102
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا غندر، قال حدثنا شعبة، عن عبد الرحمن بن الأصبهاني، عن ذكوان، عن أبي سعيد الخدري، عن النبي صلى الله عليه وسلم بهذا‏.‏ وعن عبد الرحمن بن الأصبهاني، قال سمعت أبا حازم، عن أبي هريرة، قال ‏"‏ ثلاثة لم يبلغوا الحنث‏"‏‏. ‏
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، ان سے غندر نے، ان سے شعبہ نے عبدالرحمن بن الاصبہانی کے واسطے سے بیان کیا، وہ ذکوان سے، وہ ابوسعید سے اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کرتے ہیں۔ اور ( دوسری سند میں ) عبدالرحمن الاصبہانی کہتے ہیں کہ میں نے ابوحازم سے سنا، وہ ابوہریرہ سے نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا کہ ایسے تین ( بچے ) جو ابھی بلوغت کو نہ پہنچے ہوں۔

تشریح : امام بخاری رحمہ اللہ یہ حدیث پہلی حدیث کی تائید اور ایک راوی ابن الاصبہانی کے نام کی وضاحت کے لیے لائے ہیں۔ بالغ ہونے سے پہلے بچے کی موت کا کافی رنج ہوتا ہے۔ اس لیے ایسے بچے کی موت ماں کی بخشش کا ذریعہ قراردی گئی ہے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
باب : اس بارے میں کہ ایک شخص کو ئی بات سنے اور نہ سمجھے تو دوبارہ دریافت کر لے تاکہ وہ اسے ( اچھی طرح ) سمجھ لے، یہ جائز ہے

حدیث نمبر : 103
حدثنا سعيد بن أبي مريم، قال أخبرنا نافع بن عمر، قال حدثني ابن أبي مليكة، أن عائشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم كانت لا تسمع شيئا لا تعرفه إلا راجعت فيه حتى تعرفه، وأن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ من حوسب عذب‏"‏‏. ‏ قالت عائشة فقلت أو ليس يقول الله تعالى ‏{‏فسوف يحاسب حسابا يسيرا‏}‏ قالت فقال ‏"‏ إنما ذلك العرض، ولكن من نوقش الحساب يهلك‏"‏‏. ‏
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، انھیں نافع بن عمر نے خبر دی، انھیں ابن ابی ملیکہ نے بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جب کوئی ایسی باتیں سنتیں جس کو سمجھ نہ پاتیں تو دوبارہ اس کو معلوم کرتیں تا کہ سمجھ لیں۔ چنانچہ ( ایک مرتبہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس سے حساب لیا گیا اسے عذاب کیا جائے گا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ( یہ سن کر ) میں نے کہا کہ کیا اللہ نے یہ نہیں فرمایا کہ عنقریب اس سے آسان حساب لیا جائے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ صرف ( اللہ کے دربار میں ) پیشی کا ذکر ہے۔ لیکن جس کے حساب میں جانچ پڑتال کی گئی ( سمجھو ) وہ غارت ہو گیا۔

تشریح : یہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے شوق علم اور سمجھ داری کا ذکر ہے کہ جس مسئلہ میں انھیں الجھن ہوتی، اس کے بارے میں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بے تکلف دوبارہ دریافت کرلیاکرتی تھیں۔ اللہ کے یہاں پیشی تو سب کی ہوگی، مگر حساب فہمی جس کی شروع ہوگئی وہ ضرور گرفت میں آجائے گی۔ حدیث سے ظاہر ہوا کہ کوئی بات سمجھ میں نہ آئے توشاگرد استاد سے دوبارہ سہ بارہ پوچھ لے، مگرکٹ حجتی کے لیے باربار غلط سوالات کرنے سے ممانعت آئی ہے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
باب : اس بارے میں کہ جو لوگ موجود ہیں وہ غائب شخص کو علم پہنچائیں، یہ قول حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جناب حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے۔ اور ( بخاری کتاب الحج میں یہ تعلیق باسناد موجود ہے )

حدیث نمبر : 104
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال حدثني الليث، قال حدثني سعيد، عن أبي شريح، أنه قال لعمرو بن سعيد وهو يبعث البعوث إلى مكة ائذن لي أيها الأمير أحدثك قولا قام به النبي صلى الله عليه وسلم الغد من يوم الفتح، سمعته أذناى ووعاه قلبي، وأبصرته عيناى، حين تكلم به، حمد الله وأثنى عليه ثم قال ‏"‏ إن مكة حرمها الله، ولم يحرمها الناس، فلا يحل لامرئ يؤمن بالله واليوم الآخر أن يسفك بها دما، ولا يعضد بها شجرة، فإن أحد ترخص لقتال رسول الله صلى الله عليه وسلم فيها فقولوا إن الله قد أذن لرسوله، ولم يأذن لكم‏.‏ وإنما أذن لي فيها ساعة من نهار، ثم عادت حرمتها اليوم كحرمتها بالأمس، وليبلغ الشاهد الغائب‏"‏‏. ‏ فقيل لأبي شريح ما قال عمرو قال أنا أعلم منك يا أبا شريح، لا يعيذ عاصيا، ولا فارا بدم، ولا فارا بخربة‏.‏
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، ان سے لیث نے، ان سے سعید بن ابی سعید نے، وہ ابوشریح سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے عمرو بن سعید ( والی مدینہ ) سے جب وہ مکہ میں ( ابن زبیر سے لڑنے کے لیے ) فوجیں بھیج رہے تھے کہا کہ اے امیر! مجھے آپ اجازت دیں تو میں وہ حدیث آپ سے بیان کر دوں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دوسرے دن ارشاد فرمائی تھی، اس ( حدیث ) کو میرے دونوں کانوں نے سنا اور میرے دل نے اسے یاد رکھا ہے اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ حدیث فرما رہے تھے تو میری آنکھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( پہلے ) اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا کہ مکہ کو اللہ نے حرام کیا ہے، آدمیوں نے حرام نہیں کیا۔ تو ( سن لو ) کہ کسی شخص کے لیے جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو جائز نہیں ہے کہ مکہ میں خون ریزی کرے، یا اس کا کوئی پیڑ کاٹے، پھر اگر کوئی اللہ کے رسول ( کے لڑنے ) کی وجہ سے اس کا جواز نکالے تو اس سے کہہ دو اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اجازت دی تھی، تمہارے لیے نہیں دی اور مجھے بھی دن کے کچھ لمحوں کے لیے اجازت ملی تھی۔ آج اس کی حرمت لوٹ آئی، جیسی کل تھی۔ اور حاضر غائب کو ( یہ بات ) پہنچا دے۔ ( یہ حدیث سننے کے بعد راوی حدیث ) ابوشریح سے پوچھا گیا کہ ( آپ کی یہ بات سن کر ) عمر و نے کیا جواب دیا؟ کہا یوں کہ اے ( ابوشریح! ) حدیث کو میں تم سے زیادہ جانتا ہوں۔ مگر حرم ( مکہ ) کسی خطا کار کو یا خون کر کے اور فتنہ پھیلا کر بھاگ آنے والے کو پناہ نہیں دیتا۔

تشریح : عمروبن سعیدیزید کی طرف سے مدینہ کے گورنرتھے، انھوں نے ابوشریح سے حدیث نبوی سن کر تاویل سے کام لیا اور صحابی رسول حضرت عبداللہ ابن زبیر رضی اللہ عنہ کو باغی فسادی قراردے کر مکہ شریف پر فوج کشی کا جواز نکالا حالانکہ ان کا خیال بالکل غلط تھا۔ حضرت ابن زبیرنہ باغی تھے نہ فسادی تھے۔ نص کے مقابلہ پر رائے وقیاس وتاویلات فاسدہ سے کام لینے والوں نے ہمیشہ اسی طرح فسادات برپا کرکے اہل حق کو ستایا ہے۔ حضرت ابوشریح کا نام خویلد بن عمروبن صخرہے اور بخاری شریف میں ان سے صرف تین احادیث مروی ہیں۔ 68ھ میں آپ نے انتقال فرمایا رحمہ اللہ ورضی اللہ عنہ۔

چونکہ حضرت عبداللہ بن زبیر نے یزید کی بیعت سے انکار کرکے حرم مکہ شریف کو اپنے لیے جائے پناہ بنایاتھا۔ اسی لیے یزید نے عمروبن سعید کو مکہ پر فوج کشی کرنے کا حکم دیا۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ شہید کئے گئے۔ اور حرم مکہ کی سخت بے حرمتی کی گئی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھی زاد بھائی اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے نواسے تھے۔ آج کل بھی اہل بدعت حدیث نبوی کو ایسے بہانے نکال کر ردکردیتے ہیں۔

حدیث نمبر : 105
حدثنا عبد الله بن عبد الوهاب، قال حدثنا حماد، عن أيوب، عن محمد، عن ابن أبي بكرة، عن أبي بكرة، ذكر النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ فإن دماءكم وأموالكم ـ قال محمد وأحسبه قال وأعراضكم ـ عليكم حرام كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا، ألا ليبلغ الشاهد منكم الغائب‏"‏‏. ‏ وكان محمد يقول صدق رسول الله صلى الله عليه وسلم كان ذلك ‏"‏ ألا هل بلغت ‏"‏ مرتين‏.‏
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، ان سے حماد نے ایوب کے واسطے سے نقل کیا، وہ محمد سے اور وہ ابن ابی بکرہ سے روایت کرتے ہیں کہ ( ایک مرتبہ ) ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یوں ) فرمایا، تمہارے خون اور تمہارے مال، محمد کہتے ہیں کہ میرے خیال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعراضکم کا لفظ بھی فرمایا۔ ( یعنی ) اور تمہاری آبروئیں تم پر حرام ہیں۔ جس طرح تمہارے آج کے دن کی حرمت تمہارے اس مہینے میں۔ سن لو! یہ خبر حاضر غائب کو پہنچا دے۔ اور محمد ( راوی حدیث ) کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا۔ ( پھر ) دوبارہ فرمایا کہ کیا میں نے ( اللہ کا یہ حکم ) تمہیں نہیں پہنچا دیا۔

تشریح : مقصد یہ کہ میں اس حدیث نبوی کی تعمیل کرچکاہوں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں یہ فرمایا تھا، دوسری حدیث میں تفصیل سے اس کا ذکر آیا ہے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
باب : رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے والے کا گناہ کس درجے کا ہے

حدیث نمبر : 106
حدثنا علي بن الجعد، قال أخبرنا شعبة، قال أخبرني منصور، قال سمعت ربعي بن حراش، يقول سمعت عليا، يقول قال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لا تكذبوا على، فإنه من كذب على فليلج النار‏"‏‏. ‏
ہم سے علی بن جعد نے بیان کیا، انھیں شعبہ نے خبر دی، انھیں منصور نے، انھوں نے ربعی بن حراش سے سنا کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ پر جھوٹ مت بولو۔ کیونکہ جو مجھ پر جھوٹ باندھے وہ دوزخ میں داخل ہو۔
یعنی مجھ پر جھوٹ باندھنے والے کو چاہئیے کہ وہ دوزخ میں داخل ہونے کو تیاررہے۔

حدیث نمبر : 107
حدثنا أبو الوليد، قال حدثنا شعبة، عن جامع بن شداد، عن عامر بن عبد الله بن الزبير، عن أبيه، قال قلت للزبير إني لا أسمعك تحدث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم كما يحدث فلان وفلان‏.‏ قال أما إني لم أفارقه ولكن سمعته يقول ‏"‏ من كذب على فليتبوأ مقعده من النار‏"‏‏. ‏
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، انھوں نے کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے جامع بن شداد نے، وہ عامر بن عبداللہ بن زبیر سے اور وہ اپنے باپ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا میں نے اپنے باپ یعنی زبیر سے عرض کیا کہ میں نے کبھی آپ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث نہیں سنیں۔ جیسا کہ فلاں، فلاں بیان کرتے ہیں، کہا میں کبھی آپ سے الگ تھلگ نہیں رہا لیکن میں نے آپ کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص مجھ پر جھوٹ باندھے گا وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔
اسی لیے میں حدیث رسول بیان نہیں کرتا کہ مبادا کہیں غلط بیانی نہ ہوجائے۔

حدیث نمبر : 108
حدثنا أبو معمر، قال حدثنا عبد الوارث، عن عبد العزيز، قال أنس إنه ليمنعني أن أحدثكم حديثا كثيرا أن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ من تعمد على كذبا فليتبوأ مقعده من النار‏"‏‏
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، ان سے عبدالوارث نے عبدالعزیز کے واسطے سے نقل کیا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ مجھے بہت سی حدیثیں بیان کرنے سے یہ بات روکتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔

حدیث نمبر : 109
حدثنا مكي بن إبراهيم، قال حدثنا يزيد بن أبي عبيد، عن سلمة، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول ‏"‏ من يقل على ما لم أقل فليتبوأ مقعده من النار‏"‏‏. ‏
ہم سے مکی ابن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی عبید نے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کے واسطے سے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص میرے نام سے وہ بات بیان کرے جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔

یہ حضرت امام بخاری رحمہ اللہ کی پہلی ثلاثی حدیث ہے۔ ثلاثی وہ حدیث ہیں جن میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور امام بخاری رحمہ اللہ تک درمیان میں صرف تین ہی راوی ہوں۔ ایسی حدیثوں کو ثلاثیات امام بخاری رحمہ اللہ کہا جاتا ہے۔ اور جامع الصحیح میں ان کی تعداد صرف بائیس ہے۔ یہ فضیلت امام بخاری رحمہ اللہ کے دوسرے ہم عصرعلماءجیسے امام مسلم وغیرہ ہیں ان کو حاصل نہیں ہوئی۔ صاحب انوارالباری نے یہاں ثلاثیات امام بخاری رحمہ اللہ کا ذکر کرتے ہوئے ثنائیات امام ابوحنفیہ کے لیے مسندامام اعظم نامی کتاب کا حوالہ دے کر حضرت امام بخاری پر حضرت امام ابوحنیفہ کی برتری ثابت کرنے کی کوشش کی ہے مگریہ واقعہ ہے کہ فن حدیث میں حضرت امام ابوحنیفہ کی لکھی ہوئی کوئی کتاب دنیا میں موجود نہیں ہے اور مسندامام اعظم نامی کتاب محمدخوارزمی کی جمع کردہ ہے جو674ھ میں رائج ہوئی ( بستان المحدثین،ص: 5 )

حدیث نمبر : 110
حدثنا موسى، قال حدثنا أبو عوانة، عن أبي حصين، عن أبي صالح، عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ تسموا باسمي ولا تكتنوا بكنيتي، ومن رآني في المنام فقد رآني، فإن الشيطان لا يتمثل في صورتي، ومن كذب على متعمدا فليتبوأ مقعده من النار‏"‏‏. ‏
ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، ان سے ابوعوانہ نے ابی حصین کے واسطہ سے نقل کیا، وہ ابوصالح سے روایت کرتے ہیں، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ ( اپنی اولاد ) کا میرے نام کے اوپر نام رکھو۔ مگر میری کنیت اختیار نہ کرو اور جس شخص نے مجھے خواب میں دیکھا تو بلاشبہ اس نے مجھے دیکھا۔ کیونکہ شیطان میری صورت میں نہیں آ سکتا اور جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولے وہ دوزخ میں اپنا ٹھکانہ تلاش کرے۔

تشریح : ان مسلسل احادیث کا مقصد یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ا کی طرف لوگ غلط بات منسوب کرکے دنیا میں خلق کو گمراہ نہ کریں۔ یہ حدیثیں بجائے خود اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ عام طور پر احادیث نبوی کا ذخیرہ مفسد لوگوں کے دست بردسے محفوظ رہا ہے اور جتنی احادیث لوگوں نے اپنی طرف سے گھڑلیں تھیں ان کو علماءحدیث نے صحیح احادیث سے الگ چھانٹ دیا۔

اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی واضح فرمادیاکہ خواب میں اگرکوئی شخص میری صورت دیکھے تووہ بھی صحیح ہونی چاہئیے، کیونکہ خواب میں شیطان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں نہیں آسکتا۔
موضوع اور صحیح احادیث کو پر کھنے کے لیے اللہ پاک نے جماعت محدثین خصوصاً حضرت امام بخاری ومسلم رحمۃ اللہ علیہما جیسے اکابر امت کو پیدا فرمایا۔ جنھوں نے اس فن کی وہ خدمت کی کہ جس کی امم سابقہ میں نظیر نہیں مل سکتی، علم الرجال وقوانین جرح وتعدیل وہ ایجاد کئے کہ قیامت تک امت مسلمہ ان پر فخر کیا کرے گی مگر صدافسوس کہ آج چودہویں صدی میں کچھ ایسے بھی متعصب مقلد جامد وجود میں آگئے ہیں جو خود ان بزرگوں کو غیرفقیہ ناقابل اعتماد ٹھہرا رہے ہیں، ایسے لوگ محض اپنے مزعومہ تقلیدی مذاہب کی حمایت میں ذخیرہ احادیث نبوی کو مشکوک بناکر اسلام کی جڑوں کوکھوکھلا کرنا چاہتے ہیں۔ اللہ ان کو نیک سمجھ دے۔ آمین۔ یہ حقیقت ہے کہ حضرت امام بخاری رحمہ اللہ کو غیرفقیہ زود رنج بتلانے والے خود بے سمجھ ہیں جو چھوٹا منہ اور بڑی بات کہہ کر اپنی کم عقلی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس مقام کی تفصیل میں جاتے ہوئے صاحب انوارالباری نے جماعت اہل حدیث کو باربار لفظ جماعت غیرمقلدین سے جس طنز وتوہین کے ساتھ یاد کیا ہے وہ حددرجہ قابل مذمت ہے مگرتقلید جامد کا اثرہی یہ ہے کہ ایسے متعصب حضرات نے امت میں بہت سے اکابر کی توہین وتخفیف کی ہے۔ قدیم الایام سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ معاندین نے توصحابہ کو بھی نہیں چھوڑا۔ حضرت ابوہریرہ، عقبہ بن عامر، انس بن مالک وغیرہ رضی اللہ عنہم کو غیر فقیہ ٹھہرایا ہے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
باب : علم ( دینی ) کو قلم بند کرنے کے جواز میں

حدیث نمبر : 111
حدثنا محمد بن سلام، قال أخبرنا وكيع، عن سفيان، عن مطرف، عن الشعبي، عن أبي جحيفة، قال قلت لعلي هل عندكم كتاب قال لا، إلا كتاب الله، أو فهم أعطيه رجل مسلم، أو ما في هذه الصحيفة‏.‏ قال قلت فما في هذه الصحيفة قال العقل، وفكاك الأسير، ولا يقتل مسلم بكافر‏.‏
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، انھیں وکیع نے سفیان سے خبر دی، انھوں نے مطرف سے سنا، انھوں نے شعبی رحمہ اللہ سے، انھوں نے ابوحجیفہ سے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ کے پاس کوئی ( اور بھی ) کتاب ہے؟ انھوں نے فرمایا کہ نہیں، مگر اللہ کی کتاب قرآن ہے یا پھر فہم ہے جو وہ ایک مسلمان کو عطا کرتا ہے۔ یا پھر جو کچھ اس صحیفے میں ہے۔ میں نے پوچھا، اس صحیفے میں کیا ہے؟ انھوں نے فرمایا، دیت اور قیدیوں کی رہائی کا بیان ہے اور یہ حکم کہ مسلمان، کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔

بہت سے شیعہ یہ گمان کرتے تھے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ ایسے خاص احکام اور پوشیدہ باتیں کسی صحیفے میں درج ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انے ان کے علاوہ کسی اور کو نہیں بتائیں، اس لیے ابوحجیفہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کیا اور آپ نے صاف لفظوں میں اس خیال باطل کی تردید فرمادی۔

حدیث نمبر : 112
حدثنا أبو نعيم الفضل بن دكين، قال حدثنا شيبان، عن يحيى، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة، أن خزاعة، قتلوا رجلا من بني ليث عام فتح مكة بقتيل منهم قتلوه، فأخبر بذلك النبي صلى الله عليه وسلم فركب راحلته، فخطب فقال ‏"‏ إن الله حبس عن مكة القتل ـ أو الفيل شك أبو عبد الله ـ وسلط عليهم رسول الله صلى الله عليه وسلم والمؤمنين، ألا وإنها لم تحل لأحد قبلي، ولا تحل لأحد بعدي ألا وإنها حلت لي ساعة من نهار، ألا وإنها ساعتي هذه حرام، لا يختلى شوكها، ولا يعضد شجرها، ولا تلتقط ساقطتها إلا لمنشد، فمن قتل فهو بخير النظرين إما أن يعقل، وإما أن يقاد أهل القتيل‏"‏‏. ‏ فجاء رجل من أهل اليمن فقال اكتب لي يا رسول الله‏.‏ فقال ‏"‏ اكتبوا لأبي فلان‏"‏‏. ‏ فقال رجل من قريش إلا الإذخر يا رسول الله، فإنا نجعله في بيوتنا وقبورنا‏.‏ فقال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إلا الإذخر، إلا الإذخر‏"‏‏. ‏
ہم سے ابونعیم الفضل بن دکین نے بیان کیا، ان سے شیبان نے یحییٰ کے واسطے سے نقل کیا، وہ ابوسلمہ سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ قبیلہ خزاعہ ( کے کسی شخص ) نے بنو لیث کے کسی آدمی کو اپنے کسی مقتول کے بدلے میں مار دیا تھا، یہ فتح مکہ والے سال کی بات ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر دی گئی، آپ نے اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر خطبہ پڑھا اور فرمایا کہ اللہ نے مکہ سے قتل یا ہاتھی کو روک لیا۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس لفظ کو شک کے ساتھ سمجھو، ایسا ہی ابونعیم وغیرہ نے القتل اور الفیل کہا ہے۔ ان کے علاوہ دوسرے لوگ الفیل کہتے ہیں۔ ( پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) کہ اللہ نے ان پر اپنے رسول اور مسلمان کو غالب کر دیا اور سمجھ لو کہ وہ ( مکہ ) کسی کے لیے حلال نہیں ہوا۔ نہ مجھ سے پہلے اور نہ ( آئندہ ) کبھی ہو گا اور میرے لیے بھی صرف دن کے تھوڑے سے حصہ کے لیے حلال کر دیا گیا تھا۔ سن لو کہ وہ اس وقت حرام ہے۔ نہ اس کا کوئی کانٹا توڑا جائے، نہ اس کے درخت کاٹے جائیں اور اس کی گری پڑی چیزیں بھی وہی اٹھائے جس کا منشاء یہ ہو کہ وہ اس شئے کا تعارف کرا دے گا۔ تو اگر کوئی شخص مارا جائے تو ( اس کے عزیزوں کو ) اختیار ہے دو باتوں کا، یا دیت لیں یا بدلہ۔ اتنے میں ایک یمنی آدمی ( ابوشاہ نامی ) آیا اور کہنے لگا ( یہ مسائل ) میرے لیے لکھوا دیجیئے۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوفلاں کے لیے ( یہ مسائل ) لکھ دو۔ تو ایک قریشی شخص نے کہا کہ یا رسول اللہ! مگر اذخر ( یعنی اذخر کاٹنے کی اجازت دے دیجیئے ) کیونکہ اسے ہم گھروں کی چھتوں پر ڈالتے ہیں۔ ( یا مٹی ملا کر ) اور اپنی قبروں میں بھی ڈالتے ہیں ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( ہاں ) مگر اذخر، مگر اذخر۔


یعنی اس کے اکھاڑنے کی اجازت ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یمنی سائل کی درخواست پر یہ جملہ مسائل اس کے لیے قلم بند کروا دیے۔ جس سے معلوم ہوا کہ تدوین احادیث وکتابت احادیث کی بنیاد خود زمانہ نبوی سے شروع ہوچکی تھی، جسے حضرت عمربن عبدالعزیز کے زمانہ میں نہایت اہتمام کے ساتھ ترقی دی گئی۔ پس جو لوگ احادیث نبوی میں ایسے شکوک وشبہات پیدا کرتے اور ذخیرہ احادیث کو بعض عجمیوں کی گھڑنت بتاتے ہیں، وہ بالکل جھوٹے کذاب اور مفتری بلکہ دشمن اسلام ہیں، ہرگز ان کی خرافات پر کان نہ دھرنا چاہئیے۔ جس صورت میں قتل کا لفظ ماناجائے تومطلب یہ ہوگا کہ اللہ پاک نے مکہ والوں کو قتل سے بچالیا۔ بلکہ قتل وغارت کو یہاں حرام قرارد ے دیا۔ اور لفظ فیل کی صورت میں اس قصے کی طرف اشارہ ہے جو قرآن پاک کی سورۃ فیل میں مذکور ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سال ولادت میں حبش کا بادشاہ ابرہ نامی بہت سے ہاتھی لے کر خانہ کعبہ کو گرانے آیاتھا مگراللہ پاک نے راستے ہی میں ان کوابابیل پر ندوں کی کنکریوں کے ذریعے ہلاک کرڈالا۔

حدیث نمبر : 113
حدثنا علي بن عبد الله، قال حدثنا سفيان، قال حدثنا عمرو، قال أخبرني وهب بن منبه، عن أخيه، قال سمعت أبا هريرة، يقول ما من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم أحد أكثر حديثا عنه مني، إلا ما كان من عبد الله بن عمرو فإنه كان يكتب ولا أكتب‏.‏ تابعه معمر عن همام عن أبي هريرة‏.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے عمرو نے، وہ کہتے ہیں کہ مجھے وہب بن منبہ نے اپنے بھائی کے واسطے سے خبر دی، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے علاوہ مجھ سے زیادہ کوئی حدیث بیان کرنے والا نہیں تھا۔ دوسری سند سے معمر نے وہب بن منبہ کی متابعت کی، وہ ہمام سے روایت کرتے ہیں، وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے۔
اس سے مزید وضاحت ہوگئی کہ زمانہ نبوی میں احادیث کو بھی لکھنے کا طریقہ جاری ہوچکا تھا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ سمجھے کہ عبداللہ بن عمرو نے مجھ سے زیادہ احادیث روایت کی ہوں گی، مگربعد کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مرویات پانچ ہزار سے زائد احادیث ( 5376احادیث ) ہیں۔ جبکہ عبداللہ بن عمرو کی مرویات سات سو سے زائد نہیں ہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ علمی مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے صدقہ میں ملاتھا۔

حدیث نمبر : 114
حدثنا يحيى بن سليمان، قال حدثني ابن وهب، قال أخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، قال لما اشتد بالنبي صلى الله عليه وسلم وجعه قال ‏"‏ ائتوني بكتاب أكتب لكم كتابا لا تضلوا بعده‏"‏‏. ‏ قال عمر إن النبي صلى الله عليه وسلم غلبه الوجع وعندنا كتاب الله حسبنا فاختلفوا وكثر اللغط‏.‏ قال ‏"‏ قوموا عني، ولا ينبغي عندي التنازع‏"‏‏. ‏ فخرج ابن عباس يقول إن الرزية كل الرزية ما حال بين رسول الله صلى الله عليه وسلم وبين كتابه‏.‏
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے ابن وہب نے، انھیں یونس نے ابن شہاب سے خبر دی، وہ عبیداللہ بن عبداللہ سے، وہ ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض میں شدت ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس سامان کتابت لاؤ تا کہ تمہارے لیے ایک تحریر لکھ دوں، تا کہ بعد میں تم گمراہ نہ ہو سکو، اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ( لوگوں سے ) کہا کہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تکلیف کا غلبہ ہے اور ہمارے پاس اللہ کی کتاب قرآن موجود ہے جو ہمیں ( ہدایت کے لیے ) کافی ہے۔ اس پر لوگوں کی رائے مختلف ہو گئی اور شور و غل زیادہ ہونے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس سے اٹھ کھڑے ہو، میرے پاس جھگڑنا ٹھیک نہیں، اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما یہ کہتے ہوئے نکل آئے کہ بے شک مصیبت بڑی سخت مصیبت ہے ( وہ چیز جو ) ہمارے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اور آپ کی تحریر کے درمیان حائل ہو گئی۔

تشریح : حضرت عمررضی اللہ عنہ نے ازراہ شفقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت ترین تکلیف دیکھ کر یہ رائے دی تھی کہ ایسی تکلیف کے وقت آپ تحریر کی تکلیف کیوں فرماتے ہیں۔ ہماری ہدایت کے لیے قرآن مجید کافی ہے۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس رائے پر سکوت فرمایا اور اس واقعہ کے بعد چارروز آپ زندہ رہے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ اس خیال کا اظہار نہیں فرمایا۔ علامہ قسطلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وقد کان عمرافقہ من ابن عباس حیث اکتفی بالقرآن علی انہ یحتمل ان یکون صلی اللہ علیہ وسلم کان ظہرلہ حین ہم بالکتاب انہ مصلحۃ ثم ظہر لہ اواوحی الیہ بعد ان المصلحۃ فی ترکہ ولوکان واجبا لم یترکہ علیہ الصلوٰۃ والسلام لاختلافہم لانہ لم یترک التکلیف بمخالفۃ من خالف وقد عاش بعدذلک ایاما ولم یعاود امرہم بذلک۔ خلاصہ اس عبارت کا یہ کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بہت زیادہ سمجھ دار تھے،انھوں نے قرآن کو کافی جانا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مصلحتاً یہ ارادہ ظاہر فرمایا تھامگربعد میں اس کا چھوڑنا بہتر معلوم ہوا۔ اگریہ حکم واجب ہوتاتوآپ لوگوں کے اختلاف کی وجہ سے اسے ترک نہ فرماتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس واقعہ کے بعد کئی روز زندہ رہے مگر پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا اعادہ نہیں فرمایا۔ صحیح بخاری میں یہ حدیث سات طریقوں سے مذکور ہوئی ہے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
باب : اس بیان میں کہ رات کو تعلیم دینا اور وعظ کرنا جائز ہے

حدیث نمبر : 115
حدثنا صدقة، أخبرنا ابن عيينة، عن معمر، عن الزهري، عن هند، عن أم سلمة، وعمرو، ويحيى بن سعيد، عن الزهري، عن هند، عن أم سلمة، قالت استيقظ النبي صلى الله عليه وسلم ذات ليلة فقال ‏"‏ سبحان الله ماذا أنزل الليلة من الفتن وماذا فتح من الخزائن أيقظوا صواحبات الحجر، فرب كاسية في الدنيا عارية في الآخرة‏"‏‏. ‏
صدقہ نے ہم سے بیان کیا، انھیں ابن عیینہ نے معمر کے واسطے سے خبر دی، وہ زہری سے روایت کرتے ہیں، زہری ہند سے، وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے، ( دوسری سند میں ) عمرو اور یحییٰ بن سعید زہری سے، وہ ایک عورت سے، وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیدار ہوتے ہی فرمایا کہ سبحان اللہ! آج کی رات کس قدر فتنے اتارے گئے ہیں اور کتنے ہی خزانے بھی کھولے گئے ہیں۔ ان حجرہ والیوں کو جگاؤ۔ کیونکہ بہت سی عورتیں ( جو ) دنیا میں ( باریک ) کپڑا پہننے والی ہیں وہ آخرت میں ننگی ہوں گی۔

تشریح : مطلب یہ ہے کہ نیک بندوں کے لیے اللہ کی رحمتوں کے خزانے نازل ہوئے اور بدکاروں پر اس کا عذاب بھی اترا۔ پس بہت سی عورتیں جو ایسے باریک کپڑے استعمال کرتی ہیں جن سے بدن نظر آئے، آخرت میں انھیں رسوا کیا جائے گا۔ اس حدیث سے رات میں وعظ ونصیحت کرنا ثابت ہوتا ہے، پس مطابقت حدیث کی ترجمہ سے ظاہر ہے ( فتح الباری ) عورتوں کے لیے حد سے زیادہ باریک کپڑوں کا استعمال جن سے بدن نظر آئے قطعاحرام ہے۔ مگرآج کل زیادہ تر یہی لباس چل پڑا ہے جوقیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,097
پوائنٹ
1,033
باب : اس بارے میں کہ سونے سے پہلے رات کے وقت علمی باتیں کرنا جائز ہے

حدیث نمبر : 116
حدثنا سعيد بن عفير، قال حدثني الليث، قال حدثني عبد الرحمن بن خالد، عن ابن شهاب، عن سالم، وأبي، بكر بن سليمان بن أبي حثمة أن عبد الله بن عمر، قال صلى بنا النبي صلى الله عليه وسلم العشاء في آخر حياته، فلما سلم قام فقال ‏"‏ أرأيتكم ليلتكم هذه، فإن رأس مائة سنة منها لا يبقى ممن هو على ظهر الأرض أحد‏"‏‏. ‏
سعید بن عفیر نے ہم سے بیان کیا، ان سے لیث نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمن بن خالد بن مسافر نے ابن شہاب کے واسطے سے بیان کیا، انھوں نے سالم اور ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ سے روایت کیا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ آخر عمر میں ( ایک دفعہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عشاء کی نماز پڑھائی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو کھڑے ہو گئے اور فرمایا کہ تمہاری آج کی رات وہ ہے کہ اس رات سے سو برس کے آخر تک کوئی شخص جو زمین پر ہے وہ باقی نہیں رہے گا۔

تشریح : مطلب یہ ہے کہ عام طور پر اس امت کی عمریں سوبرس سے زیادہ نہ ہوں گی،یا یہ کہ آج کی رات میں جس قدر انسان زندہ ہیں سوسال کے آخر تک یہ سب ختم ہوجائیں گے۔ اس رات کے بعد جو نسلیں پیدا ہوں گی ان کی زندگی کی نفی مراد نہیں ہے۔ محققین کے نزدیک اس کا مطلب یہی ہے اور یہی ظاہر لفظوں سے سمجھ میں آتا ہے۔ چنانچہ سب سے آخری صحابی ابوطفیل عامربن واثلہ کا ٹھیک سوبرس بعد110برس کی عمرمیں انتقال ہوا۔

سمرکے معنی رات کو سونے سے پہلے بات چیت کرنا مراد ہے۔ پہلے باب میں مطلق رات کو وعظ کرنے کا ذکر تھا اور اس میں خاص سونے سے پہلے علمی باتوں کا ذکر ہے۔ اسی سے وہ فرق ظاہر ہوگیا جو پہلے باب میں اور اس میں ہے۔ ( فتح الباری )
مقصد یہ ہے کہ درس وتدریس وعظ وتذکیر بوقت ضرورت دن اور رات کے ہر حصہ میں جائز اور درست ہے۔ خصوصاً طلباءکے لیے رات کا پڑھنا دل ودماغ پر نقش ہو جاتا ہے۔ اس حدیث سے حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نے دلیل پکڑی ہے کہ حضرت خضرعلیہ السلام کی زندگی کا خیال صحیح نہیں۔ اگروہ زندہ ہوتے توآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ضرور ملاقات کرتے۔ بعض علماءان کی حیات کے قائل ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔

حدیث نمبر : 117
حدثنا آدم، قال حدثنا شعبة، قال حدثنا الحكم، قال سمعت سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال بت في بيت خالتي ميمونة بنت الحارث زوج النبي صلى الله عليه وسلم وكان النبي صلى الله عليه وسلم عندها في ليلتها، فصلى النبي صلى الله عليه وسلم العشاء، ثم جاء إلى منزله، فصلى أربع ركعات، ثم نام، ثم قام، ثم قال ‏"‏ نام الغليم‏"‏‏. ‏ أو كلمة تشبهها، ثم قام فقمت عن يساره، فجعلني عن يمينه، فصلى خمس ركعات ثم صلى ركعتين، ثم نام حتى سمعت غطيطه ـ أو خطيطه ـ ثم خرج إلى الصلاة‏.‏
ہم سے آدم نے بیان کیا، انھوں نے کہا کہ ہم کو شعبہ نے خبر دی، ان کو حکم نے کہا کہ میں نے سعید بن جبیر سے سنا، وہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ ایک رات میں نے اپنی خالہ میمونہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا زوجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گزاری اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( اس دن ) ان کی رات میں ان ہی کے گھر تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز مسجد میں پڑھی۔ پھر گھر تشریف لائے اور چار رکعت ( نماز نفل ) پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے، پھر اٹھے اور فرمایا کہ ( ابھی تک یہ ) لڑکا سو رہا ہے یا اسی جیسا لفظ فرمایا۔ پھر آپ ( نماز پڑھنے ) کھڑے ہو گئے اور میں ( بھی وضو کر کے ) آپ کی بائیں طرف کھڑا ہو گیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دائیں جانب ( کھڑا ) کر لیا، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ رکعت پڑھیں۔ پھر دو پڑھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے۔ یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خراٹے کی آواز سنی، پھر آپ کھڑے ہو کر نماز کے لیے ( باہر ) تشریف لے آئے۔

تشریح : کتاب التفسیر میں بھی امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ حدیث ایک دوسری سند سے نقل کی ہے۔ وہاں یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انے کچھ دیر حضرت میمونہ رضی اللہ عنہ سے باتیں کیں اور پھر سوگئے، اس جملے سے اس حدیث کی باب سے مطابقت صحیح ہوجاتی ہے۔ یعنی سونے سے پہلے رات کو علمی گفتگو کرنا جائز ودرست ہے۔
 
Top