1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نماز عصر کا وقت ایک مثل پر

'اوقات' میں موضوعات آغاز کردہ از شاکر, ‏فروری 17، 2014۔

  1. ‏فروری 27، 2014 #21
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    محترم بھائی ایک تو یہ بتانا ہے احتیاط صرف ایک طرح کی نہیں ہوتی بلکہ کئی قسم کی ہو سکتی ہے مثلا زیادہ راجح حدیث پر عمل کرنا یا افضل پر عمل کرنا بھی احتیاط ہی کا ایک پہلو ہے جو شاکر بھائی نے آپ کو کہا تھا پس جب آپ کے اکثر لوگوں کے نزدیک زیادہ راجح ایک قول ہے تواس پر عمل کرنا زیادہ احتیاط ہو گی
    دوسرا عصر کی نماز کے بارے تین قسم کی روایات ملتی ہیں
    1-مثل اول کے بارے روایات
    2-مثل ثانی کے بارے روایات
    3-اول وقت میں ثواب کی فضیلت اور نہ پڑھنے میں منافقت کا الزام کی روایات
    پس احتیاط میں سب کو دیکھ کر چلنا ہوتا ہے
    دوسرا آپ نے خود اقرار کیا ہے بلکہ قطبین کی مثالیں جگہ جگہ دے کر ثابت کیا ہے کہ جب دو مثل پر پڑھیں گے تو اللہ ہمیں غلط ہونے پر بھی نیت کے مطابق دو مثل پر ہی اول وقت کا ثواب دے گا تو یہ بھی ثابت ہوا کہ جب کسی دوسرے قول کو چھوڑ کر نیک نیتی سے ایک قول پر کسی بھی وجہ سے عمل کیا جائے تو وہ بھی احتیاط کا ہی پہلو ہوتا ہے ورنہ ثابت تو دونوں ہی ہوتے ہیں

    اب میں خلاصہ بتانا چاہوں گا کہ اگر کوئی دو قول ثابت ہوں اور ان دونوں میں تطبیق بھی ممکن ہو تو ایسا طریقہ اختیار کیا جائے گا جو احتیاطی طور پر دونوں پر عمل کروا دے مگر اگر کوئی تیسرا ایسا قول موجود ہو جسکی وجہ سے پہلے دو قولوں میں تطبیق ممکن نہ ہو بلکہ تیسرا قول یہ مطالبہ کرتا ہو کہ پہلے دونوں قولوں میں تطبیق کی بجائے راجح اور افضل کو تلاش کیا جائے تو پھر ایسا ہی کیا جائے گا اور اللہ سے ثواب کی نیت رکھتے ہوئے اس پر عمل کر لیا جائے گا
    میرے خیال میں یہ بات آپ کو محترم شاکر بھائی سمجھانا چاہ رہے تھے
     
  2. ‏فروری 28، 2014 #22
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290



    جی میرے محترم بھائی۔
    اور اسی کا میں نے جواب دیا تھا۔



    احتیاط کا قول سوچتے وقت ہمیں بہت سی چیزیں دیکھنی ہوتی ہیں لیکن ہر چیز کو اس کے مناسب مقام بھی دینا ہوتا ہے۔
    جیسے ایک جانب فضیلت ہو صرف اور دوسری جانب ہونے یا نہ ہونے کا امکان اور عمل کی صورت میں دونوں قولوں کے مطابق درستگی تو دوسری جانب کو ترجیح ہوگی۔
    ویسے جانب فضیلت کے بارے میں بھی میں نے عرض کر دیا۔
    ویسے میرا تجربہ یہ ہے کہ جب میں ان چیزوں کے بارے میں تحقیق شروع کرتا ہوں تو ان سب چیزوں کو محققین دیکھ چکے ہوتے ہیں اور اس کے بعد دلائل کے ساتھ فیصلے دے چکے ہوتے ہیں۔ پھر بھی ہمیں اپنی تحقیق جاری رکھنی چاہیے۔
     
  3. ‏فروری 28، 2014 #23
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    محترم بھائی جلدی میں سمجھا نہیں سکا اصل میں بات یہ ہے کہ احادیث دو قسم کی ہوتی ہیں ایک محکم (جس میں اختلاف نہ ہو) اس میں عمل لازمی ہوتا ہے اور احتیاط کا سوال ہی نہیں آ سکتا
    دوسری مختلف الحدیث (جس میں اختلاف ہو) اس میں تطبیق دیں گے جس میں احتیاط کو بھی مدنظر رکھا جائے گا
    اب اگر صرف دو قول (مثل اور مثلین) کے ہوں تیسرا منافقت اور فضیلت والا نہ ہو تو پھر مختلف الحدیث ہونے کی وجہ سے احتیاط کو دیکھا جائے گا اور آپ والی بات کے مطابق وہ قول لیا جائے گا جس میں دونوں پر عمل ہو جائے
    لیکن اگر صرف دو قول نہ ہوں بلکہ تیسرا منافقت والا اور فضیلت والا قول بھی ہو جو محکم ہے تو محکم ہونے کی وجہ سے اس پر تو عمل لازمی ہے جبکہ اس کی موجودگی میں دوسرے دو قولوں میں تطبیق ممکن نہیں لیکن کیا مختلف الحدیث دو قولوں میں احتیاط صرف وہی ہو سکتی ہے جس میں دونوں پر عمل ہو تو یہ ٹھیک نہیں بلکہ احتیاط اور قسم کی بھی ہو سکتی ہے مثلا راجح اور افضل اور صریح پر عمل کرنا بھی احتیاط اور prudence concept کے تحت ہی آتا ہے اب جب دوسری احتیاطی پہلو موجود ہے جس پر عمل سے محکم پر عمل نہیں چھوٹا- جبکہ آپ والے پہلے احتیاطی پہلو پر عمل سے محکم پر عمل چھوٹ سکتا ہے پس مجھے یہ زیادہ صحیح لگتا ہے باقی اہل سنت سے خارج میں کسی کو نہیں کرتا البتہ اپنی اپنی سمجھ ےس ہی عمل ہے اور اتنی پیچیدگیوں کی ضرورت بھی شاید نہیں- واللہ اعلم
     
    • زبردست زبردست x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏فروری 28، 2014 #24
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    میں یہی عرض کررہا ہوں میرے بھائی کہ محکم پر عمل نہیں چھوٹتا۔ نماز آخر وقت میں ادا نہیں ہوتی اور نہ ہی اول وقت کی فضیلت ختم ہوتی ہے۔ یہ تو وہ آخری وقت نہیں ہوتا جس پر منافق کی نماز کا ذکر ہے کیوں کہ سورج کے زرد ہونے میں بہت وقت باقی ہوتا ہے۔ حدیث مبارکہ میں نبی ﷺ کا مثلین پر نماز پڑھنا مذکور ہے۔ اگر بالفرض والمحال منافق کا وقت یہ ہوتا تو آپ ﷺ یہ کیسے کر سکتے تھے؟ اسی طرح اگر ابتدا کا افضل وقت مثل اول ہے اور اس سے پہلے تو نماز ہو ہی نہیں سکتی۔ اور روایت میں یہ ہے کہ تم نبی ﷺ سے زیادہ جلدی عصر پڑھتے ہو تو اگر نماز کا فضیلت والا وقت یہ تھا تو نبی ﷺ کیوں تاخیر فرماتے تھے؟
    خلاصہ کلام یہ کہ محکم پر عمل نہیں چھوٹتا۔
     
  5. ‏فروری 28، 2014 #25
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    نمازوں كے اوقات


    كالج ميں پيريڈ اور نماز عصر كا وقت ايك ہى ہے اور پڑھانے والا پروفيسر عيسائى ہے جو ہميں نماز ادا كرنے كى فرصت نہيں ديتا، ہم ليكچر سے فارغ ہو كر غروب آفتاب سے ايك گھنٹہ قبل نماز عصر ادا كرتے ہيں كيا صحيح ہے ؟

    الحمد للہ :

    آپ كا اول وقت ميں نماز ادا كرنا افضل ہے، اور آپ كا اس وقت نماز ادا كرنا صحيح ہے جس كا ذكر آپ نے سوال ميں كيا ہے يہ واقعى وقت ميں ہى نماز ادا كرنا ہے، اور اسے سورج زرد ہونے تك موخر كرنا جائز نہيں كيونكہ اس سلسلہ ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے حديث وارد ہے:

    عمرو بن عاص رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

    " جب تم فجر كى نماز ادا كرو تو اس كا وقت طلوع شمس كى پہلى كرن نكلنے تك ہے، اور جب ظہر كى نماز ادا كرو تو اس كا وقت عصر كى نماز كا وقت ہونے تك ہے، اور جب تم عصر كى نماز ادا كرو تو اس كا وقت سورد زرد ہونے تك ہے، اور جب تم نماز مغرب ادا كرو تو اس كا وقت سرخى غائب ہونے تك ہے، اور جب تم عشاء كى نماز ادا كرو تو اس كا وقت آدھى رات تك ہے "

    صحيح مسلم ( 5 / 109 ).

    ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 6 / 121 ).

    اور علاء بن عبد الرحمن رحمہ اللہ بيان كرتے ہيں كہ ہم ظہر كے بعد انس بن مالك رضى اللہ تعالى عنہ كے پاس گئے تو وہ وہ كھڑے عصر كى نماز ادا كر رہے تھے، جب نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے نماز جلد ادا كرنے كا ذكر كيا يا انہوں نے ذكر كيا تو وہ فرمانے لگے:

    " ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو يہ فرماتے ہوئے سنا كہ: يہ منافقوں كى نماز ہے، يہ منافقوں كى نماز ہے، يہ منافقوں كى نماز ہے، وہ بيٹھے رہتے ہيں حتى كہ جب سورج زرد اور شيطان كے دونوں سينگوں كے درميان ہو جاتا ہے يا شيطان كے سينگوں پر ہو جاتا ہے تو كھڑے ہو كر چار ٹھونگے مارتا ہے، اس ميں اللہ كا ذكر نہيں كرتا، ليكن كچھ قليل سا "

    سنن ابو داود حديث نمبر ( 350 ).

    واللہ اعلم .

    الشيخ محمد صالح المنجد

    http://islamqa.info/ur/2183
     
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  6. ‏فروری 28، 2014 #26
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    جی میرے خیال میں منافق والی بات عموما کرنا تھی مگر عصر کے مثلین کے ساتھ فکس غلطی سے کر دیا آپ کی بات ٹھیک ہے اللہ جزائے خیر دے امین

    اس بارے میرا علم اتنا زیادہ نہیں محترم کفایت اللہ بھائی یا کوئی اور بھائی بتا سکتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عموما تاخیر سے پڑھتے تھے کیا کوئی ایسی روایت ہے
    اگر نہیں ہے تو ایک دفعہ ایسا کرنے کا کوئی عذر ہو سکتا ہے پس قول کو عمل پر ترجیح حاصل ہہو گی واللہ اعلم
    آدھا خلاصہ سمجھ آ گیا ہے اور اوپر اصلاح کر دی ہے اللہ جزا دے
     
  7. ‏فروری 28، 2014 #27
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    " نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان:

    " تمہارى حالت اس وقت كيا ہو گى جب تم پر ايسے حكمران ہونگے جو نماز وقت سے تاخير كر كے ادا كرينگے، يا نماز وقت سے مار دينگے ؟
    راوى كہتے ہيں: ميں نے عرض كيا: آپ مجھے كيا حكم ديتے ہيں ؟
    تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

    " تم نماز وقت پر ادا كر لينا، اور اگر ان كے ساتھ نماز پاؤ تو ان كے ساتھ بھى ادا كر لينا يہ تمہارے ليے نفلى نماز ہو گى "

    وقت سے مار دينگے كا معنى يہ ہے كہ وہ نماز كو ليٹ كرينگے، اور اسے ميت كى طرح كر كے ركھ دينگے جس كى روح نكل چكى ہو.

    اور وقت سے تاخير كرنے كا مقصد يہ ہے كہ: وہ اختيارى وقت سے ليٹ كرينگے، نہ كہ سارے وقت سے، كيونكہ متقدمين اور متاخير حكمرانوں سے اختارى وقت سے تاخير ہى منقول ہے، ان ميں سے كسى ايك نے بھى سارے وقت سے ليٹ كر كے نماز ادا نہيں كى، اس ليے اسے اس پر ہى محمول كيا جائيگا جو فى الواقع ہے. اھـ

    ديكھيں: شرح مسلم للنووى ( 5 / 147 ).
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  8. ‏فروری 28، 2014 #28
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    محترم بھائی! صرف ’اسماع‘ کی نہیں بلکہ ’سماع‘ کی بھی نفی ہے:

    وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِن قِطْمِيرٍ ١٣ إِن تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ ۖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ ۚ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ ١٤ ۔۔۔ فاطر
    وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّـهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ ٥ ۔۔۔ الأحقاف
    وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَكُمْ وَلَا أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ ١٩٧ وَإِن تَدْعُوهُمْ إِلَى الْهُدَىٰ لَا يَسْمَعُوا ۖ وَتَرَاهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ ١٩٨ ۔۔۔ الأعراف
    وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ إِبْرَاهِيمَ ٦٩ إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا تَعْبُدُونَ ٧٠ قَالُوا نَعْبُدُ أَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَهَا عَاكِفِينَ ٧١ قَالَ هَلْ يَسْمَعُونَكُمْ إِذْ تَدْعُونَ ٧٢ ۔۔۔ الشعراء
     
    • پسند پسند x 3
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  9. ‏فروری 28، 2014 #29
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    ذرا واضح کیجئے گا کہ کیا سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہاں تمام نمازوں کے اول اوقات بیان کیے ہیں؟

    اگر آپ اسے عصر کے اول وقت کی دلیل بنا رہے ہیں تو پھر کیا آپ کے نزدیک ظہر اور فجر کا اول وقت بھی اسی کے مطابق نہیں ہونا چاہئے؟ کیا خیال ہے؟
     
    • پسند پسند x 3
    • متفق متفق x 2
    • لسٹ
  10. ‏فروری 28، 2014 #30
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    محترمی و مکرمی انس بھائی!
    ویسے تو میں اس موضوع پر کوئی بات کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ اور میں نے "اسماع" کا ذکر مذکورہ آیت کے بارے میں کیا تھا۔
    لیکن ایک چھوٹی سی بات عرض کرتا چلوں کہ ان آیات میں "پکار" کے نہ سننے کا ذکر ہے اور اگر آپ مکمل آیت کو دیکھیں تو اس میں مشرکین کی پکار کا ذکر ہے یعنی استغاثہ یا استعانت یا جس خاص طرز سے وہ مانگتے تھے۔ اس مدد مانگنے وغیرہ کے سننے کے تو ہم قائل نہیں ہیں۔ چوں کہ یہ ہیں بھی بتوں کے بارے میں اس لیے یوں کہہ لیں کہ مردوں میں اگر سن بھی لیں تو جواب نہیں دے سکتے یا مدد نہیں کر سکتے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں