1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نماز وتر از شیخ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری حفطہ اللہ

'پی ڈی ایف' میں موضوعات آغاز کردہ از مظاہر امیر, ‏دسمبر 02، 2016۔

  1. ‏دسمبر 02، 2016 #11
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    نماز وتر والی کتاب میں سرورق کی کمی ہے...ابتسامہ
     
  2. ‏فروری 13، 2019 #12
    طالب علم 1981

    طالب علم 1981 رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 05، 2019
    پیغامات:
    23
    موصول شکریہ جات:
    2
    تمغے کے پوائنٹ:
    30

    اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
    کیا نماز وتر میں دعاۓ قنوت پڑھنے کےبعد دعا پڑھنا مستحب ہے یا پہلے رہنماٸی فرما دیں
     
  3. ‏فروری 13، 2019 #13
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,368
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    دعاءِ قنوت خود بھی جامع دعاء ہے ،
    اس مقرر کردہ دعاءِ قنوت کو پہلے مکمل پڑھیں ،پھر اس کے بعد کوئی اور دعاء پڑھنا چاہیں توعربی میں پڑھ سکتے ہیں
    تاہم دعاءِ قنوت کے علاوہ دعاء کو روزانہ معمول نہ بنائیں تو بہتر ہوگا ۔
    ــــــــــــــــــــ
    مسنون دعاءِ قنوت
    «اللَّهُمَّ اهۡدِنِي فِيمَن هَدَيتَ وَعَافنِي فِيمَن عَافَيتَ وَتَوَلَّنِي فِيمَن تَوَلَّيتَ وَبَارِكۡ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْك إنَّه لَا يَذِلُّ مَن وَالَيتَ (وَلَا یَعِزُّ مَنۡ عَادَیتَ)* تَبَارَكتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ» )

    رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ والدارمي، وقد صححه الألباني في تخريجه على مشكاة المصابيح رقم 1273. * الزيادة من صحيح أبي داود)
    سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرماتے ہیں: مجھے رسول اللہﷺ نے یہ کلمات سکھائے کہ میں یہ کلمات وتر کے قنوت میں پڑھوں:
    اے اللہ! مجھے ہدایت دے ان (خوش بختوں) میں جنہیں تو نے ہدایت دی۔ مجھے عافیت دے ان میں جنہیں تو نے عافیت دی۔ مجھے اپنا بنالے، ان (خوش نصیبوں) میں جنہیں تو نے اپنا بنایا۔ اور برکت دے مجھے اس سب کچھ میں جو تو نے عطا کیا۔ اور بچا مجھ کو قضائے بد سے۔ کہ فیصلہ ہے سب تیرا، تیرے اوپر کسی کا فیصلہ نہیں۔ نہیں ذلیل ہوتا وہ جسے تو دوست رکھے۔ اور نہیں عزت پاتا وہ جسے تو دشمن جانے۔ بزرگ و برتر ہے تو پروردگارا، تو بلند و بالا ہے۔
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
     
    Last edited: ‏فروری 14، 2019
  4. ‏فروری 14، 2019 #14
    طالب علم 1981

    طالب علم 1981 رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 05، 2019
    پیغامات:
    23
    موصول شکریہ جات:
    2
    تمغے کے پوائنٹ:
    30

    جزاك الله خيرًا كثيرا و احسن الجزاء
     
  5. ‏فروری 22، 2019 #15
    saeedimranx2

    saeedimranx2 رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 07، 2017
    پیغامات:
    136
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    44

    السلام علیکم! جی بھائی اندھی تقلید کرنے والوں کے خیالات اور عقائد ایسے ہی ہوتے ہیں، صحابی رسول ﷺ کہہ رہے ہیں کہ ہو جاتی ہے جبکہ ابن ہمام اس کو کسی خاص موقع کے لیے مشرو ط قرارد یتے ہیں۔ اب آپ دیکھیں نا اندھی تقلید کا کیا عالم ہے، صحابیان رسول ﷺ عبداللہ بن مسعود، عبداللہ بن زبیر اور زید بن ثابت کہتے ہیں کہ اگر رکوع میں رکعت ملے تو وہ رکعت مل جاتی ہے جبکہ چند اندھے مقلدین اپنے علماء کی باتوں کی تقلید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے ، رکوع میں ملیں تو رکعت نہیں ہوتی۔بھلا کسی صحابی نے ایسا کہا ؟ افسوس کہ اندھی تقلید ایک ایسا مرض ہے جس کا علاج اللہ ہی کرسکتا ہے۔جزاک اللہ۔
     
  6. ‏فروری 22، 2019 #16
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,368
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    یہ بڑی اہم بات آپ نے بتائی ؛
    مجھے اس کا حوالہ چاہیئے کہ جس میں بالاسناد ثابت ہو کہ :
    صحابیان رسول ﷺ عبداللہ بن مسعود، عبداللہ بن زبیر اور زید بن ثابت کہتے ہیں کہ اگر رکوع میں رکعت ملے تو وہ رکعت مل جاتی ہے"
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  7. ‏اکتوبر 29، 2019 #17
    دانیال احمد

    دانیال احمد مبتدی
    جگہ:
    Karachi
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 28، 2019
    پیغامات:
    1
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    3

    مصنف ابن أبي شيبة (1/ 229)
    2622 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: نا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ، مِنْ دَارِهِ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَلَمَّا تَوَسَّطْنَا الْمَسْجِدَ رَكَعَ الْإِمَامُ، فَكَبَّرَ عَبْدُ اللَّهِ، ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعْتُ مَعَهُ، ثُمَّ مَشَيْنَا رَاكِعَيْنِ، حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى الصَّفِّ، حَتَّى رَفَعَ الْقَوْمُ رُءُوسَهُمْ، قَالَ: فَلَمَّا قَضَى الْإِمَامُ الصَّلَاةَ قُمْتُ أَنَا، وَأَنَا أَرَى لَمْ أُدْرِكْ، فَأَخَذَ بِيَدِي عَبْدُ اللَّهِ فَأَجْلَسَنِي، وَقَالَ: «إِنَّكَ قَدْ أَدْرَكْتَ»
    صحيح (ما صح من اثار الصحابة :378/1)
    وقال الألباني: قلت وسنده صحيح [إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل 2/263]
    وقال حافظ زبير: سنده صحيح [ماهنامة الحديث 30/13]


    اس حوالے سے کسی صحیح دلیل سے میں واقف نہیں۔ کیا آپ کی مراد عبد اللہ ابن عمر ہیں؟

    مصنف عبد الرزاق الصنعاني (2/ 279)
    3361 - عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «إِذَا أَدْرَكَتَ الْإِمَامَ رَاكِعًا فَرَكَعْتَ قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ فَقَدْ أَدْرَكْتَ، وَإِنْ رَفَعَ قَبْلَ أَنْ تَرْكَعَ فَقَدْ فَاتَتْكَ»
    قال الألباني: قلت وإسناده صحيح [إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل 2/263]​



    شرح مشكل الآثار (14/ 207)
    وَمَا قَدْ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي دَاوُدَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ خَارِجَةَ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ كَانَ يَرْكَعُ عَلَى عَتَبَةِ الْمَسْجِدِ , وَوَجْهُهُ إِلَى الْقِبْلَةِ، ثُمَّ يَمْشِي مُعْتَرِضًا عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ يَعْتَدُّ بِهَا إِنْ وَصَلَ إِلَى الصَّفِّ أَوْ لَمْ يَصِلْ
    قال الألباني: قلت وإسناده جيد [إرواء الغليل في تخريج أحاديث منار السبيل 2/264]
    وقال الأرنؤوط: إسناده حسن [حاشية شرح مشكل الآثار 14/207]
    وقال الشيخ ياسر آل عيد: هذا عندي شاذ إذ المحفوظ ما تقدم (بعدم ذكر الاعتداد الركعة) بإسناد مدني صحيح وله متابعة صالحة وأخشى أن لا يكون ابن أبي مريم حمله عن ابن أبي الزناد بالمدينة وأن يكون حمله عنه ببغداد [فضل الرحيم الودود 7/492]
    ولكن جزم ابن المديني بأن إدراك الركعة ثابت عن زيد بن ثابت [القراءة خلف الإمام للبخاري ص 36] وهو من أئمة العلل


    تمام حوالہ جات مکتبہ شاملہ کے ہیں​
     
  8. ‏اکتوبر 30، 2019 #18
    بھائی جان

    بھائی جان مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    249
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    29

    میں نے نماز کے اختلافی مسائل میں اہلحدیث کہلانے والوں کو خلاف سنت ہی پایا۔
    ان کا طریقہ واردات یہ ہے کہ پہلے دو دو طریقوں کا شور مچاتے ہیں اور پھر ایسا طریقہ وضع کرتے ہیں جو تمام احادیث کے خلاف ہو تا کہ مخالفت سنت کی شق لازم آئے۔
     
  9. ‏اکتوبر 31، 2019 #19
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,649
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    وحشت میں ہر اک نقشہ الٹا نظر آتا ہے
    مجنوں نظر آتی ہے لیلیٰ نظر آتا ہے

    صرف وحشت میں ہی نہیں بلکہ تقلیدی جنون میں بھی!
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں