1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

نکاح سے پہلے شرط

'نکاح' میں موضوعات آغاز کردہ از عمر اثری, ‏مئی 08، 2016۔

  1. ‏مئی 08، 2016 #1
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    3,943
    موصول شکریہ جات:
    1,019
    تمغے کے پوائنٹ:
    331

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ.

    کیا لڑکی والے شادی سے پہلے کچھ شرط رکھ سکتے ھیں؟؟؟
    ایک لڑکی ھے جسکے ولی (بھائ) نے لڑکے کے سامنے دو شرطیں رکھیں ھیں:

    1. لڑکا دوسری شادی نہیں کرےگا لڑکی کے ھوتے ھوۓ (بہن کے ھوتے ھوۓ)
    2. لڑکی کو طلاق دیگا تو 50000 درہم ادا کریگا (اسلام میں طلاق دینے کے بعد اچھے سے رخصت دینے کا حکم ھے. تو کیا وہ حسب استطاعت ھے؟؟؟ واضح رھے کہ یہ معاملہ اسلامی ملک کا ھے اور وہاں اسلامی شریعت ھے. اور مزید کہ یہ 50000 درہم بطور سیفٹی کہ رھے ھیں)
    ایک بات اور. لڑکی کو کوئ بیماری ھے. لڑکے کو خبر بھی ھے اور وہ شادی کے لۓ راضی بھی ھے. لیکن لڑکی کا ولی کہتا ھے کہ آج شادی کے لۓ وہ راضی ھو گیا ھے کل کو کہیں بیماری کی وجہ سے چھوڑ نہ دے. لہذا وہ اسی ڈر سے سیفٹی کے لۓ مؤخر لکھوا سکتے ھیں؟؟؟؟


    نوٹ: لڑکا اور لڑکی دیندار ھیں. لیکن دونوں کے گھر والے دیندار نہیں ھیں. وہ دنیوی لحاظ سے شادی کر رھے ھیں (یعنی اسلام کا زیادہ لحاظ نہیں رکھ رھے)


    یہ کسی بہن کا سوال ھے. محترم شیخ @اسحاق سلفی صاحب حفظہ اللہ. براہ کرم رہنمائ فرمائیں.
    جزاک اللہ خیرا
     
  2. ‏مئی 08، 2016 #2
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,450
    موصول شکریہ جات:
    4,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    آپ کا سوال اسحاق بھائی سے ہے اس لئے اس پر شریعی جواب وہی عطا فرمائیں گے، شادی عرب ملک میں کونسے نیشنل کر رہے ہیں اس پر کچھ نہیں لکھا جیسے (دونوں پاکستانی یا دونوں انڈین، ایک پاکستانی دوسرا انڈین یا فلپائنی وغیرہ)۔ میں بھی اس پر کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں شائد سمجھنے میں مددگار ہو۔

    یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ لڑکی والوں کی طرف سے اگر کوئی شرائط ہیں تو اس پر نکاح سے پہلے بات کر لی جائے تو یہ دونوں خاندان کے لئے بہتر ہوتا ہے، عین نکاح کے وقت اکثر معاملات بگڑ جاتے ہیں۔


    نکاح نامہ پر نمبر 12 سے نمبر 20 پر دیکھیں آپکو معلوم ہو جائے گا کہ اس پر عورت کو کیا حقوق حاصل ہیں۔

    [​IMG]

    12۔ شادی سرانجام پانے کی تاریخ

    13۔ مہر کی رقم

    14۔ مہر کی کتنی رقم معجل ہے

    اور کتنی غیر معجل

    15۔ آیا مہر کا کچھ حصہ شادی کے موقع پر

    ادا کیا گیا، اگر کیا گیا ہے تو کس قدر

    16۔ آیا پورے مہر یا اس کے کچھ حصہ کی عوض میں کوئی
    جائیداد دی گئی ہے تو اس جائیداد کی صراحت اور اس کی
    قیمت جو فریقین کے مابین طے پائی ہے۔

    17۔ خاص شرائط اگر کوئی ہوں

    18۔ آیا شوہر نے طلاق کا حق
    بیوی کو تقویض کر دیا ہے اگر
    کر دیا ہے تو کونسی شرائط کے تحت؟

    19۔ آیا شوہر کے طلاق کے حق پر کسی قسم
    کی کوئی پابندی لگائی گئی ہے؟

    20۔ آیا شادی کے موقع پر مہر و نان نفقہ سے

    متعلق کوئی دستاویز تیار کی گئی ہے اگر کی
    گئی ہے تو اس کے مختصر مندرجات
    ==================================

    آپ کے سوالوں کے جواب نکاح نامہ میں پہلے سے ہی درج ہیں۔

    لڑکی کو طلاق دیگا تو 50000 درہم ادا کریگا
    13۔ مہر کی رقم: 50000 درہم

    14۔ مہر کی کتنی رقم معجل ہے اور کتنی غیر معجل: غیر معجل

    لڑکا دوسری شادی نہیں کرے گا لڑکی کے ھوتے ہوئے
    19۔ آیا شوہر کے طلاق کے حق پر کسی قسم
    کی کوئی پابندی لگائی گئی ہے؟ ہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اگر شادی عرب ملک میں ہو یا انگلش ملک میں دونوں صورتوں میں اگر تو پاکستانی ہیں تو پھر اردو نکاح نامہ بھی بنتا ہے، اگر ایسا نہیں تو عرب ملک میں بھی نکاح پر عورت کے حقوق پر حق مہر تو ضرور ہو گا اور باقی پر اگر مزید زیادہ کچھ نہیں تو ایک ہی عبارت کافی ہے "خاص شرائط اگر کوئی ہوں" یہ ضرور ہو گی۔

    نوٹ: معجل: اسی وقت / غیر معجل: بعد میں کسی بھی وقت
    اگر معجل ہے تو پھر نمبر 15 اور نمبر 16 بھی مکمل کرنا پڑے گا۔

    والسلام
     
    Last edited: ‏مئی 08، 2016
  3. ‏مئی 08، 2016 #3
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    3,943
    موصول شکریہ جات:
    1,019
    تمغے کے پوائنٹ:
    331

    ان شاء اللہ تھوڑی دیر میں بتاتا ھوں
     
  4. ‏مئی 08، 2016 #4
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    3,943
    موصول شکریہ جات:
    1,019
    تمغے کے پوائنٹ:
    331

    معاف کیجۓ گا لڑکا اور لڑکی دونوں پاکستان سے ھیں.
     
  5. ‏مئی 08، 2016 #5
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,450
    موصول شکریہ جات:
    4,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    کونسے عرب ملک میں ہیں، اور اپنا بھی بتا دیں کہ آپ انڈیا سے ہیں مگر اس وقت انڈیا میں ہی ہیں یا کسی عرب ملک میں اگر ہاں تو اس کا نام؟

    والسلام
     
  6. ‏مئی 08، 2016 #6
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    3,943
    موصول شکریہ جات:
    1,019
    تمغے کے پوائنٹ:
    331

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    وہ فی الحال پاکستان میں ھی ھیں.
    میں انڈیا میں نئ دہلی سے ھوں اور وہیں پر ہی رہتا ھوں.
    لڑکا اور لڑکی کی شادی بھی پاکستان میں ھی ھے.
    اور مجھے ایک بہن نے سوال آڈیو میں بھیجا ھے. جو فی الحال دبئ میں رہتی ھیں. لیکن انکا تعلق انڈیا سے ھے.
    یہ سسٹر ہمارے واٹس اپ گروپ میں تھیں. فی الحال اپنے جاب کی مصروفیت سے گروپ کو چھوڑ دیا ھے. انھیں نے سوال بھیجا ھے آڈیو کی شکل میں. اور مجھے حیرت ھیکہ سوال میں 5000درہم کا تذکرہ ھے. اور اب بات سامنے آئ کہ وہ پاکستان سے ھیںناور شادی بھی وھیں ھے.
    میں یہاں آدیو نہیں بھیج سکتا. شیخ کو پرسنل میں بھیجنا زیادہ صحیح رھے گا.
    کیا فیسبوک پر آڈیو بھیج سکتے ھیں؟؟؟؟
     
  7. ‏مئی 09، 2016 #7
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,450
    موصول شکریہ جات:
    4,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    بھائی آپ نے جنہیں جو بھیجنا ہے بھیجیں مجھے اس پر کچھ نہیں چاہئے، ایسے مسائل پر خود ہی پہلے چھانٹ پھٹک کر لیا کریں، پھر سوال لایا کریں تو زیادہ بہتر ہے ورنہ جواب دینے والے کا وقت ضائع ہوتا ہے جو دو منٹ کا کام نہیں ہوتا بلکہ بہت وقت کی ضرورت پڑتی ہے۔ ایک تجربہ کی بات نوٹ فرما لیں ہر سوال پوچھے والا یہی کہتا ہے کہ مجھے اپنے دوست کے لئے دو سوال پوچھنے ہیں مگر پوچھنے والا اس پر خود ہی ہوتا ہے دوست نہیں، یہ آپ کے لئے نہیں آپکو سمجھانے کے لئے ہے۔ آپ کو جس نے بھی سوال بھیجے ہیں وہ مشقوق ہے۔ سوال میں داستان درھم کی ادائیگی اور شادی پاکستان میں روپے؟ خیر میں مزید اس ریس سے باہر ہوں۔

    والسلام
     
  8. ‏مئی 09، 2016 #8
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    3,943
    موصول شکریہ جات:
    1,019
    تمغے کے پوائنٹ:
    331

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    محترم ومعزز جناب کنعان صاحب!
    مجھے آپ سے ایسی باتوں کی امید نہیں تھی.
    محترم!
    بصد احترام حسن ظن رکھیں. میں ان سسٹر کو اچھی طرح جانتا ھوں وہ کبھی پریشان وغیرہ کرنے کے لۓ سوال نہیں کرتی ھیں. ابھی جلدی ھی میں نے انھیں کا سوال شیخ @اسحاق سلفی صاحب حفظہ اللہ سے پرسنل میں پوچھا تھا. اور انھوں نے جواب بھی دیا تھا.
    خیر اب آپ سے معذرت چاہتا ھوں کہ میں نے آپ لوگوں کا وقت برباد کیا. دل کی گہرائیوں سے معذرت قبول کیجۓ.
    مجھے بے حد افسوس ھے کہ آپکا قیمتی وقت ضائع کیا.
    میں شیخ سے بھی معذرت چاہتا ہوں کہ میں نے انکا وقت ضائع کیا.
    محترم جناب کنعان صاحب! یقین جانۓ میں پہلے خود ماسائل کو حل کرنے کی کوشش کرتا ھوں. Islam. Qa پر دیکھتا ھوں محدث فتوی کی طرف رجوع کرتا ھوں گوگل پر سرچ کرتا ھوں. لیکن جب ناکامی ملتی ھے تب جا کر کسی کو تکلیف دیتا ھوں. اب یہ الگ بات ھیکہ میں اس کا ثبوت نہیں پیش کر سکتا.
    کہی سنی معاف. وقت دینے کے لۓ شکر گزار ھوں.جزاک اللہ خیرا.
    ایک بار پھر معذرت چاہتا ھوں

    محترم جناب @محمد نعیم یونس صاحب.
    آپ سے مؤدبانہ التماس ھے کہ آپ براہ کرم اس تھریڈ کو حذف کر دیں.

    والسلام
     
  9. ‏مئی 09، 2016 #9
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    4,679
    موصول شکریہ جات:
    2,015
    تمغے کے پوائنٹ:
    650

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ :
    لڑکی والے شادی سے پہلے کچھ شرط رکھ سکتے ھیں،لیکن ایسی شرائط رکھ سکتے ہیں جو خلاف شرع نہ ہوں ،
    یہ حدیث دیکھئے :

    عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الجُهَنِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَحَقَّ الشُّرُوطِ أَنْ يُوفَى بِهَا مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الفُرُوجَ»
    سیدناعقبہ بن عامر جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے زیادہ پوری کیے جانے کی مستحق وہ شرطیں ہیں جن کے ذریعے تم نے شرمگاہیں حلال کی ہوں“۔
    تخریج : صحیح البخاری/الشروط ۶ (۲۷۲۱)، والنکاح ۵۳ (۵۱۵۱)، صحیح مسلم/النکاح ۸ (۱۴۱۸)، سنن ابی داود/ النکاح ۴۰ (۲۱۳۹)، سنن النسائی/النکاح ۴۲ (۳۲۸۱)، سنن ابن ماجہ/النکاح ۴۱ (۱۹۵۴)، (تحفة الأشراف : ۹۹۵۳)، مسند احمد (۴/۱۴۴، ۱۵۰، ۱۵۲)، سنن الدارمی/النکاح ۲۱ (۲۲۴۹)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    امام ترمذی اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں :
    وَالعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ: عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ قَالَ: «إِذَا تَزَوَّجَ رَجُلٌ امْرَأَةً وَشَرَطَ لَهَا أَنْ لَا يُخْرِجَهَا مِنْ مِصْرِهَا فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يُخْرِجَهَا»، وَهُوَ قَوْلُ بَعْضِ أَهْلِ العِلْمِ، وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاقُ، وَرُوِي عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ قَالَ: «شَرْطُ اللَّهِ قَبْلَ شَرْطِهَا كَأَنَّهُ رَأَى لِلزَّوْجِ أَنْ يُخْرِجَهَا وَإِنْ كَانَتْ اشْتَرَطَتْ عَلَى زَوْجِهَا أَنْ لَا يُخْرِجَهَا»، وَذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ إِلَى هَذَا، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَبَعْضِ أَهْلِ الكُوفَةِ
    امام ترمذی کہتے ہیں: - صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ انہیں میں جناب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی ہیں، وہ کہتے ہیں کہ جب کسی شخص نے کسی عورت سے شادی کی اور یہ شرط لگائی کہ وہ اسے اس کے شہر سے باہر نہیں لے جائے گا تو اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اسے باہر لے جائے، یہی بعض اہل علم کا قول ہے۔
    اور شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں،
    ۳- البتہ علی بن ابی طالب سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: اللہ کی شرط یعنی اللہ کا حکم عورت کی شرط پر مقدم ہے، گویا ان کی نظر میں شوہر کے لیے اسے اس کے شہر سے باہر لے جانا درست ہے اگرچہ اس نے اپنے شوہر سے اسے باہر نہ لے جانے کی شرط لگا رکھی ہو، اور بعض اہل علم اس جانب گئے ہیں اور یہی سفیان ثوری اور بعض اہل کوفہ کا بھی قول ہے۔

    امام عبد الرحمن مبارکپوری اس کی شرح میں لکھتے ہیں :
    قَالَ النَّوَوِيُّ قَالَ الشَّافِعِيُّ أَكْثَرُ الْعُلَمَاءِ عَلَى أَنَّ هَذَا مَحْمُولٌ عَلَى شَرْطٍ لَا يُنَافِي مُقْتَضَى النِّكَاحِ وَيَكُونُ مِنْ مَقَاصِدِهِ كَاشْتِرَاطِ الْعِشْرَةِ بِالْمَعْرُوفِ وَالْإِنْفَاقِ عَلَيْهَا وَكِسْوَتِهَا وَسُكْنَاهَا وَمِنْ جَانِبِ الْمَرْأَةِ أَنْ لَا تَخْرُجَ مِنْ بَيْتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ وَلَا تَتَصَرَّفُ فِي متاعه إلا برضاه ونحو ذلك
    وأما شرط يُخَالِفُ مُقْتَضَاهُ كَشَرْطِ أَنْ لَا يَقْسِمَ لَهَا وَلَا يَتَسَرَّى عَلَيْهَا وَلَا يُنْفِقَ وَلَا يُسَافِرَ بها ونحو ذلك
    فلا يجيب الْوَفَاءُ بِهِ بَلْ يَكُونُ لَغْوًا وَيَصِحُّ النِّكَاحُ بِمَهْرِ الْمِثْلِ
    وقَالَ أَحْمَدُ يَجِبُ الْوَفَاءُ بِكُلِّ شَرْطٍ

    یعنی امام شافعی فرماتے ہیں : کہ اکثر علماء اس حدیث میں وارد ایفائے شروط کے حکم کو ایسی شروط پر محمول کرتے ہیں جو نکاح کے تقاضوں کے منافی نہ ہوں ،بلکہ نکاح کے مقاصد سے متعلق ہوں ،جیسے حسن معاشرت ،اور حسب ضرورت خرچہ دینا ، ہر ممکن مناسب لباس اور رہائش کی فراہمی ،
    اور عورت کی جانب سے خاون کی شروط کی ادائیگی مثلاً اس کی اجازت کے بغیر گھر سے نہ نکلنا ، خاون کی ملکیت چیزوں میں اس کی اجازت کے بغیر تصرف نہ کرنا ،وغیر ذالک ۔
    لیکن نکاح کے مقتضی کے خلاف شرط پوری نہ کی جائے گی بلکہ لغو ہوگی ،اور ایسی شرط پر کیا گیا نکاح صحیح ہوگا، لیکن امام احمد فرماتے ہیں ہر شرط پوری کرنا ضروری ہوگا۔"
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اور جہاں تک حق مہر علاوہ مال کی ادائیگی کی بات ہے ، تو اگر شادی کرنے والے نے اپنے اختیار سے دینا قبول کیا ہے تو دینا لازم ہوگا ،
    اس ضمن میں درج ذیل فتوی دیکھئے :


    سؤال :
    زوج أب ابنته واشترط على زوجها أنه في حالة طلاقها يدفع مبلغ سبعين ألف ريال غير المهر المدفوع حال الزواج، فما حكم صحة هذا الشرط؟ أفيدونا أفادكم الله "
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ج:3 اشتراط المرأة أو وليها عند عقد الزواج مبلغا من المال يدفع في حالة تطليق زوجته شرط صحيح؛
    لأنه جزء من الصداق اتفق على تأخيره، فإذا وافق الطرفان عليه وجب الوفاء به في حالة حصول موجبه وهو الطلاق، ويدل لذلك ما رواه عقبة بن عامر رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أحق الشروط أن توفوا بها ما استحللتم به الفروج (1) »

    __________
    (1) أحمد 4 / 144، 150، 152، والبخاري 3 / 175، 6 / 138، ومسلم 2 / 1036 برقم (1418) ، وأبو داود 2 / 604 برقم (2139، والترمذي 3 / 434 برقم (1127) ، والنسائي 6 / 93 برقم (3281، 3282) ، وابن ماجه 1 / 628 برقم (1954) ، والدارمي 2 / 143، وأبو يعلى 3 / 292 برقم (1754، والطبراني 17 / 274، 275 برقم (752- 757) ، والبيهقي 7 / 248 )
    سوال : لڑکی کے والد نے عقد نکاح کے وقت یہ شرط رکھی کہ اگر خاوند اسے طلاق دے گا تو اس ستر ہزار ریال ،حق مہر کے علاوہ دینا ہونگے م کیا شرعا یہ شرط صحیح ہے ؟
    (فتاوى اللجنة الدائمة -
    اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جواب :
    عقد نکاح کے وقت شادی کرنے والی عورت یا اس کے ولی کی جانب طلاق کی صورت میں مال دینے کی شرط رکھنا صحیح ہے ،
    یہ بھی مہر کا ایک حصہ ہے جسے مؤخر کرنے پر فریقین کا اتفاق ہوا ہے ،
    تو طرفین کا اس شرط پر اتفاق ہے تو جب اس کا موجب پایا جائے گا تو اس پورا کرنا واجب ہوگا ۔
    اور اس پر وہ حدیث دلیل ہے جو :
    عقبہ بن عامر جہنی رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے زیادہ پوری کیے جانے کی مستحق وہ شرطیں ہیں جن کے ذریعے تم نے شرمگاہیں حلال کی ہوں“۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اب رہا دوسری شادی نہ کرنے کی شرط اس پر اگلی نشست میں ان شاء اللہ عرض کرتا ہوں ،
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    Last edited: ‏جنوری 25، 2017
  10. ‏مئی 09، 2016 #10
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    4,679
    موصول شکریہ جات:
    2,015
    تمغے کے پوائنٹ:
    650

    بڑی محنت سے جواب لکھ چکا ،تو دیکھا "انٹرویو کینسل " کا بورڈ آویزاں تھا ،
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں