1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نیٹ ورٹ مارکیٹنگ

'ملٹی نیشنل کمپنیاں' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد فیض الابرار, ‏نومبر 06، 2014۔

  1. ‏نومبر 06، 2014 #1
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    ملٹی نیشنل کمپنیاں کس طرح ممالک اسلامیہ کو کس طرح دھوکہ کے جال میں پھنسا رہی ہیں اس کا اندازہ اس مختصر مضمون سے ہو سکتا ہے جو ایک ساتھی نے مجھے میل کیا ہے کہ لوگوں کو بتائیں کہ یہ ایک دھوکہ ہے جو اسلام میں جائز نہیں ہے
    اقتصادی اور اسلامی نقطئہ نظر
    آج کے ترقی یافتہ دور میں ایجادات و اختراعات کی کمی نہیں، مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نت نئی تبدیلیاں ہورہی ہیں، تجارت و معیشت کے فروغ کی بے شمار صورتیں وجود میں آگئی ہیں، جب کوئی نئی شکل سامنے آتی ہے تو اسے اختیار کرنے، یا نہ کرنے کے لیے ہر مسلمان جواز اور عدمِ جواز سے متعلق معلومات چاہتاہے؛ کیوں کہ ان کی تعیین کے بغیر عملی زندگی میں ایک قدم چلنا بھی مشکل ہے، اہلِ فقہ وفتاویٰ کے لیے ان احکام کابتانا تو مشکل نہیں ہوتا، جو قرآن، حدیث اور فقہ میں صراحت کے ساتھ لکھے ہوئے ہیں، لیکن تغیر زمانہ کی وجہ سے جو نئی صورتیں پیدا ہوتی ہیں، ان کا شرعی حکم بتانا، ذرا مشکل ہوتا ہے؛ اس لیے کہ حلت و حرمت کی تعیین کے لیے پہلے علت معلوم کرنی ہوتی ہے، یا نظائرِ فقہیہ کو دیکھ کر علتِ مشترکہ کی بنیاد پر حکم لگایا جاتاہے، یہ بہت ہی نازک مرحلہ ہے؛ اس لیے کہ جس طرح کسی حرام کوحلال کہنا جائز نہیں، اسی طرح کسی حلال کو حرام کہنا بھی درست نہیں ہے، اس موڑ پر مسئلہ بتانے والا واقعتا اپنے کو جنت اورجہنم کے درمیان محسوس کرنے لگتا ہے۔
    معیشت کے انھیں جدید طریقوں میں نیٹ ورکنگ (Net working) طریقہ آج کل بہت عام ہورہاہے، پہلے تو کمپنیاں کم تھیں، لیکن آج کل مختلف کمپنیاں اپنے کاروبار کو اس انداز پر پھیلارہی ہیں، دارالافتاء میں اس طرح کے سوالات کثرت سے آرہے ہیں کہ ان کمپنیوں کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ آیا ان میں شرکت جائز ہے یا ناجائز؟ زیرِ قلم مقالہ میں اسی سے متعلق تفصیلی بحث پیش کی جارہی ہے، اس کی شرعی عقلی اور معیشتی حیثیت پر بحث کرنے سے پہلے اس طریقہٴ تجارت کا تعارف پیش کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔
     
  2. ‏نومبر 06، 2014 #2
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    تعارف:
    ”نیٹ ورک مارکیٹنگ“ یہ انگریزی تعبیر ہے، اس کا اردو ترجمہ ”بچھے ہوئے جال نما تجارت“ سے کرسکتے ہیں، اس تجارت میں ایک آدمی کمپنی کا ممبر بنتا ہے، پھر چند دوسروں کو ممبر بناتا ہے، پھر یہ سب بہت سارے لوگوں کو اپنے تحت ممبر بناتے ہیں تو ایک دوسرے سے سلسلہ وار ملی ہوئی تجارت کی یہ صورت ”جال“ کے مشابہ ہوجاتی ہے،اسے ملٹی لیول مارکیٹنگ (Multi Level Marketing) بھی کہتے ہیں، اس کو اردو میں ”مختلف السطح تجارت“ کہہ سکتے ہیں؛ اس لیے کہ اس میں ہر ممبر کی سطح اور اس کی حیثیت برابر نہیں ہوتی؛ بلکہ جو پہلے شامل ہوتے ہیں، ان کی اونچی، زیادہ نفع بخش اور بعد والے کی اس سے نیچی اور کم نفع والی سطح ہوتی ہے،اس میں پڑامیڈ اسکیم (Pyramid scheme) کے نظریہ کے مطابق کام ہوتا ہے، پرامیڈ ”مخروطی“ اور ”اہرامی“ شکل کو کہتے ہیں، یعنی گاجر و مولی کو اُلٹ کر جو صورت بنتی ہے، وہی شکل اس کی ہوتی ہے، یعنی پہلے ایک ممبر ہوتا ہے، پھر اس سے متصل ممبران بڑھتے اورپھیلتے چلے جاتے ہیں۔ اس کا طریقہٴ کار یہ ہے کہ کمپنی کی مصنوعات کھلی مارکیٹ میں فروخت نہیں ہوتیں؛ بلکہ جو شخص کمپنی کا ممبر بنتا ہے،اسی کو کمپنی کی مصنوعات فراہم کی جاتی ہیں، خریدار کو خریدی ہوئی اشیاء تو ملتی ہیں، ساتھ ہی کمپنی اس کو ترغیب دیتی ہے کہ آپ اپنے تحت مزید ممبر بنائیے، کمپنی کا سامان فروخت کرنے میں تعاون کیجئے، لہٰذا خریدار جن لوگوں کو ممبر بناتا ہے، اور کمپنی سے سامان خریدنے کے لیے آمادہ کرتاہے،اس پر کمپنی کمیشن (Commission) دیتی ہے، پھر یہ کمیشن صرف ان خریداروں تک محدود نہیں رہتا، جن کو اس نے خریدار بنایا ہے؛ بلکہ اس کے ذریعہ بنے ہوئے خریداروں سے آگے جتنے خریدار تیار ہوئے ہیں، ان کی خریداری پر بھی پہلے شخص کو کمیشن ملتا رہتا ہے، اور مرحلہ وار یہ سلسلہ بہت آگے تک چلاجاتا ہے، مثال کے طورپر اگر پہلے مرحلہ میں دو ممبر بنے، پھر ہر ایک نے دو دو لوگوں کو ممبر بنایا تو دوسرے مرحلہ میں چارہوگئے، پھر ہر ایک نے دو دو ممبر بنائے تو تیسرے مرحلہ میں آٹھ ہوگئے، پھر ہر ایک نے دو دو ممبر بنائے تو چوتھے مرحلہ میں ممبروں کی تعداد سولہ تک پہنچ گئی، پہلے ممبر نے صرف دو ممبر خود بنائے تھے لیکن اس کو دوسرے تیسرے اور چوتھے مراحل میں بنے ہوئے سولہ ممبروں کی خریداری تک کا کمیشن ملتا رہے گا اوریہ سلسلہ آگے بھی بڑھے گا،
     
  3. ‏نومبر 06، 2014 #3
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    وضاحت کے لیے ذیل کا نقشہ ملاحظہ ہو:
    درج بالا نقشہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر مرحلہ میں ممبران کی تعداد اس سے اوپر کے مرحلہ کے مقابلہ میں دوگنی ہوتی ہے، اور آخری مرحلہ کے ممبران کی تعداد اوپر کے تمام مرحلوں کے ممبران کی مجموعی تعداد سے بھی کچھ بڑھی ہوئی ہوتی ہے، جیسا کہ مذکورہ نقشہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ چوتھے مرحلہ میں ممبران کی تعداد سولہ ہے جب کہ اوپر کے سارے ممبران کی تعداد چودہ ہی ہے، اس طرح مجموعی تعداد تیس ہوگئی، اگر یہ سلسلہ جاری رہے تو دسویں مرحلہ میں ممبروں کی تعداد ایک ہزار چوبیس (۱۰۲۴) اور کل ممبران کی تعداد دو ہزار چھیالیس (۲۰۴۶) ہوجائے گی۔
    اس طرح نیچے کے ممبروں کی خریداری کاکميشن اوپر والے کو ملتا رہے گا، کمپنی کی ماہانہ خریداری جس طرح بڑھتی ہے، اسی طرح ممبروں کو دیے جانے والے کمیشن میں بھی ضابطہ کے مطابق فی صدی اضافہ ہوتا رہتا ہے۔
    اوراس اضافہ کی حد بعض کمپنیوں میں متعین ہوتی ہے، مثلاً ایموے (Amway) میں اکیس فی صد (21%) تک ہی کمیشن پہنچتی ہے؛ البتہ غیرمعمولی کارکردگی ظاہر ہونے اور خریداری کی ایک مخصوص اونچی سطح پر پہنچنے کی صورت میں کمپنی متعینہ کمیشن پر کچھ رقم اعزازی طورپر رائلٹی (Royalty) کے نام سے دیتی ہے۔
    پنے تحت مطلق ممبر بنانا ہی کمیشن پانے کے لیے کافی نہیں؛ بلکہ مخصوص تعداد کی شرط ہوتی ہے، مثلاً افراد کی مجموعی تعداد کم از کم نو اس طور پر ہونا کہ ہر مرحلہ میں کم از کم تین ممبر ہوں تب ہی کمپنی کمیشن جاری کرے گی، ایک بار کمیشن پالینے کے بعد پھر نو ممبران کی زیادتی شرط ہوتی ہے۔ (سہ ماہی بحث ونظر ص:۱۶۵،۱۶۶) البتہ ہر کمپنی کے ضابطہ میں تعداد کا تفاوت ہونا بعید از قیاس نہیں ہے۔
    اگر کوئی آدمی راست ممبر بننا چاہے تو بعض کمپنیوں میں اس کی اجازت نہیں ہوتی، اس کو بھی کسی کے تحت ہی ممبر بننا پڑتا ہے، اس طرح کی کمپنیوں میں اکثر ایسی ہی ہیں، جن کی مصنوعات ممبر ہی کے توسط سے خریدی جاسکتی ہیں، البتہ بعض کمپنیاں بغیر ممبر بنے بھی اپنی مصنوعات کے خریدے جانے کی سہولت دیتی ہیں، مگر رعایت ممبر ہی کے ساتھ خاص ہوتی ہے، ان کے یہاں بھی اوپر والے ممبران کو نیچے اور کافی نیچے والے ممبران کا کمیشن دینا اصول میں داخل ہوتا ہے۔
    ممبر بننے کے وقت کمپنی کچھ سامان (ان کے بقول) رعایتی قیمت پر دیتی ہے، اور کچھ متعین روپے ممبری فیس، اور لٹریچر وغیرہ کا معاوضہ بتاکر لے لیتی ہے، رعایت کے نام پر جن پیسوں کو واپس کرنا چاہیے، درحقیقت انہیں کو فیس وغیرہ کے نام سے وصول کرلیتی ہے، گویا ضابطہ میں کمپنی کے پاس ممبر کا ایک روپیہ بھی نہیں رہتا جس کا وہ مطالبہ کرسکے۔
    کمپنی میں ممبر شپ (Member ship) کی برقراری کے لیے سالانہ کچھ متعین رقم تجدیدی فیس کے طور پر ادا کرنی پڑتی ہے، اور بعض میں ہر مہینہ کم از کم سورپے کا مال خریدناشرط ہے؛ مثلاً R.C.M کمپنی۔
    اس تجارت سے وابستہ لوگوں کا نقطئہ نظر یہ ہے کہ عام طور پر مصنوعات کی تشہیر (Advertise) پر کافی اخراجات آتے ہیں، اس لیے کمپنی کی کوشش ہے، کہ جو رقم تشہیر پر خرچ ہوتی ہے، وہ اس کے بجائے خود گاہکوں (ممبروں) کو دی جائے، اس لیے ممبران کو کمیشن دیا جاتا ہے۔
    حالانکہ یہ سفید جھوٹ ہے، اس لیے کہ یہ کمپنیاں تشہیر کے لیے لٹریچر چھاپتی اور تقریباً ہر ماہ ممبران کو بھیجتی ہیں، کیسٹ، اور سی ڈی بھی فراہم کرتی ہیں، ان کے علاوہ مختلف اوقات میں سیمینار کرواتی ہیں، کیا ان سب میں کچھ خرچ نہیں ہوتا؟ اگر مان لیا جائے کہ خرچ نہیں ہوتا تو ان کمپنیوں کے سامان نہایت سستے کیوں نہیں ملتے؟ یہ لوگ عام طور سے ٹھنڈے مشروب (Cold drink) کی مثال دیتے ہیں کہ اس میں ایک روپیہ صرفہ آتا ہے اور وہ دس روپے کے ملتے ہیں، اگر یہ صحیح ہے تو یہ کمپنیاں اپنے سامان کی قیمت بازاری بھاؤ سے دس گنی کم کیوں نہیں رکھتیں؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب ممبر سازی کے ذریعہ روپے بٹورنے کے ڈھکوسلے ہیں، باقی کچھ نہیں۔
     
  4. ‏نومبر 06، 2014 #4
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    پاکستان میں بھی ملٹی لیول مارکیٹنگ کی دھوکہ بازی، غیراخلاقی اور ناجائز لین دین پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شرکت سے گریز کرنے کی تلقین کی گئی ہے، تفصیل (SECP) کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ (بحوالہ سہ ماہی بحث ونظرص:۳۶۱)
    امریکہ میں اسی طرز کی ایک کمپنی اسکائی بزکوم (Skybiz.com) ہے،اس کمپنی کی شاخیں متعدد ممالک میں پھیلی ہوئی ہیں، مگر خود امریکی حکومت نے مذکورہ کمپنی پر عوام کے ساتھ دھوکہ دہی اور چال بازی (Fraud) کا الزام عائد کیا ہے، اسی کے پیش نظر ”اوکلاہومااسٹیٹ“ کی عدالت نے کمپنی کی سرگرمیاں روک دینے،اور کمپنی کے کارکنوں اورایجنٹ حضرات کا سرمایہ اوراجرت انھیں واپس کیے جانے کے پیش نظر اس کمپنی کے اثاثے منجمد کردینے کا فیصلہ کیاہے۔ (دیکھئے امریکی وزارتِ تجارت کی ویب سائٹ: http://www.Ftc.gov/opa/2001/06sky.htm بحوالہ بحث ونظر شمارہ ۶۸، ۶۹ جنوری - جون ۲۰۰۵/ص:۱۶۳)
    جاپان اور چین میں ۱۹۹۸/ میں ایموے (Amway) اوراس طرز کی کمپنیوں پر پابندی لگ چکی ہے۔ (اخبار منصف: مینارئہ نور ۲۴/۳/۱۴۲۸ھ)
     
  5. ‏نومبر 06، 2014 #5
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    مصنوعات محض بطورِ حیلہ:
    جب بھی اس کمپنی کے تعارفی پروگراموں میں سمجھنے کی نیت سے شرکت کا اتفاق ہوا، یا اس کمپنی کے ممبران کو نئے ممبر کی تشکیل کرتے ہوئے دیکھا تو ایک خاص چیز محسوس ہوئی کہ وہ نئے افراد کی شمولیت سے حاصل ہونے والے کمیشن کا لالچ خوب خوب دلاتے ہیں، اور حقیقت میں بھی نیٹ ورکنگ سسٹم میں کمیشن کی حیثیت ریڑھ کی ہڈی کی سی ہے،اور مصنوعات ثانوی درجہ رکھتی ہیں، نئے ممبر کو شمولیت پر راضی کرنے کے لیے خیالی کمیشن کا ذکر ہی کافی سمجھاجاتا ہے، اس کے بغیرمصنوعات کی مارکیٹنگ ناممکن ہے۔
     
  6. ‏نومبر 06، 2014 #6
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    (۱) مصنوعات کے ثانوی درجہ میں ہونے کی ایک واضح مثال یہ ہے کہ ”ایموے کمپنی“ جب شروع ہوئی تھی تو اس کی مصنوعات بہت تھوڑی تھیں اکثر دھونے پونچھنے کے سیال (Liquid) مواد ہی تھے، مثلاً شیمپو(Shampoo) کپڑا فرش اور کار دھونے کا سیال مادہ، ٹوتھ پیسٹ (Tooth paste)، کریم (Cream) وغیرہ اور ساری چیزیں نہایت مہنگی اورگراں قیمت تھیں، اکثر چیزیں بازاری قیمت سے تین، چار بلکہ چھ گنا مہنگی تھیں، اگرچہ یہ دعویٰ تھا کہ یہ چیزیں معیار میں اعلیٰ و ارفع ہیں، لیکن وہ شامل ہونے والے ممبران کی معاشی حیثیت سے بھی نہایت ہی وراء الوراء اور بلند تھیں۔ وہ ممبران ایسی بھی چیز لائے تھے، جن کی انھیں کبھی ضرورت پیش نہ آئی، وہ ساری چیزیں دھری کی دھری رہ گئیں، مثلاً کار اور فرش دھونے والے قیمتی مواد وغیرہ یہ صورتِ حال اس بات کی واضح دلیل ہے کہ انھوں نے کمیشن حاصل کرنے ہی کے لیے شمولیت اختیار کی تھی، آج بھی یہ صورتِ حال باقی ہے کہ شامل ہونے والے محض کمیشن کی نیت سے شامل ہوتے ہیں، اگر انھیں لوگوں سے بالفرض یہ کہاجائے کہ بلاممبر بنے محض مصنوعات استعمال کرنے کے لیے مذکورہ کمپنی کی اشیاء خریدیں تو وہ ہرگز نہیں خریدیں گے، بلکہ اس کے بالمقابل اسی جنس کی اشیاء دوسری کمپنی کی خریدیں گے،جو بہ نسبت معیاری اورمعتدل قیمت کی ہوں گی، انھیں کو اپنے لیے مناسب حال سمجھیں گے، اسی طرح اگران کو یہ معلوم ہوجائے کہ ان کے ممبر بن جانے کے بعد کمپنی بند ہوجائے گی اور ان کو کمیشن ملنے کی نوبت نہیں آئے گی، تو بھی ایسی صورت میں وہ ہرگز ہرگز مذکورہ کمپنی کی مصنوعات نہیں خریدیں گے، یہ صورت بھی ببانگِ دُہَل یہ پکاررہی ہے کہ ان کمپنیوں میں شامل ہونے والے کمیشن کو ہدف اور مقصدِ اصلی بناتے ہیں، مصنوعات محض بہانہ ہوتی ہیں۔
     
  7. ‏نومبر 06، 2014 #7
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    (۲) اور بالفرض مصنوعات اگر سستی بھی ہوں تو بھی ممبران کی نیت اور ان کا قصد وارادہ نئے ممبران بناکر کمیشن حاصل کرنا ہی ہوتا ہے، اس لیے کہ معاشرہ میں کوئی بے عقل ہی ہوگا، جو ابتدائی مرحلہ میں ہی (بقول ان کے) رعایتی قیمت پر سامان حاصل کرلینے پر اکتفاء کرے اور کمیشن بلکہ بے تحاشا کمیشن حاصل کرنے کی نیت نہ کرے، یہاں یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ اشیاء کی محض جودت وعمدگی اور رعایت بتاکر ایک ممبر تیار کرنا بھی مشکل بلکہ محال ہوگا، اس لیے کہ دنیا کی ساری کمپنیاں اپنی مصنوعات کی عمدگی اورارزانی ہی بتاکر اشتہار دیتی ہیں، ایسی صورت میں نیٹ ورک مارکیٹنگ کی سرے سے کوئی خصوصیت باقی نہیں رہ جائے گی۔
     
  8. ‏نومبر 06، 2014 #8
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    (۳) مصنوعات کی حیثیت ثانوی اور کمیشن کی اوّلی ہونے کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ اس طرح کی کمپنیوں کے اصول و ضوابط کااکثر حصہ کمپنیوں میں شرکت اور اسی سے متعلق شرائط واحکام پر مشتمل ہوتا ہے، ان کے تعارف ناموں میں خریداری اور سامان کا ذکر چند فقرات میں ہی ہوتا ہے، اس جگہ یہ بات قابلِ غور ہے کہ کیا اس طرزِ عمل کا مقصد صرف مصنوعات کی خرید و فروخت ہے؟ اور شرکت و ممبرسازی ضمنی ہے؟ یا معاملہ اس کے برعکس ہے؟
    (۴) جیسا کہ ”تعارف“ میں یہ بتایاگیا تھا کہ اپنی ممبری باقی رکھنے کے لیے سالانہ متعین رقم جمع کرنی پڑتی ہے اور بعض میں ماہانہ متعین خریداری شرط ہے، یہ اس طرح کی کمپنیوں کے شرائط میں داخل ہے، ظاہر ہے کہ ادائیگی، مارکیٹنگ میں تسلسل باقی رکھنے کا عوض ہی ہے، یہ کوئی اور چیز نہیں ہے، اس لیے کہ مصنوعات کی خریداری اوراس کا معاوضہ تو ابتداء میں ہی پورا ہوچکا ہے، اگر مصنوعات کی فروخت مقصود ہوتی تو یہ رقم بلا سامان نہ لی جاتی۔
     
  9. ‏نومبر 06، 2014 #9
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    (۵) یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ یہ کمپنیاں ممبرسازی کے لیے پورا تعاون فراہم کرتی ہیں، لیکن مصنوعات کی فروخت میں ان کا کوئی کردار نہیں ہوتا، بلکہ کھلی مارکیٹ میں لاکر فروخت کرنا ضابطہ کے خلاف بتاتی ہیں، ظاہر ہے کہ جہاں کھلی مارکیٹ میں مصنوعات آئیں گی تو سارا بھانڈا پھوٹ جائے گا، لوگ جب دوسری کمپنیوں کی مصنوعات سے موازنہ کریں گے، تو ان کی حیثیت گھٹ جائے گی اور حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی۔
    (۶) ملٹی لیول کی بعض کمپنیاں خواہش مند حضرات کو مصنوعات خریدے بغیر بھی شرکت کی اجازت دیتی ہے،اگر مصنوعات کی فروخت ہی مقصود ہوتی تو ایسی اجازت ہرگز نہ دیتیں۔ (دیکھئے بحث ونظر، ص:۱۷۴، ۱۷۵)
    اوپر بیان کردہ ساری تفصیل کا حاصل یہ نکلا کہ اس طرح کی کمپنیوں کا مصنوعات فروخت کرنا درحقیقت پروگرام میں شریک ہونے کا حیلہ اور بہانہ ہے، اصل مقصد ممبرسازی کے ذریعہ کمیشن حاصل کرنا ہے۔
     
  10. ‏نومبر 06، 2014 #10
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    بنیادی خرابی:
    بنیادی خرابی جس کی وجہ سے عالمی پیمانے پر اس کمپنی کو مسترد کیا جارہا ہے، وہ یہ ہے کہ اس نظام میں دوام و استمرار کی صلاحیت نہیں ہے، اس کے ابتدائی مراحل میں تو ممکن ہے کہ آسانی سے کچھ ممبر بن جائیں، لیکن چند مرحلوں کے بعد ممبربنانا دشوار ہوجائے گا، اور ایک ایسا مرحلہ آئے گا کہ اس کے بعد مزید ممبربنانے کی گنجائش باقی نہ رہے گی، مثال کے طور پر کسی شہر میں کمپنی ایسے کاروبار کا آغاز کرے اور مختلف گاہکوں کے ذریعہ پہلے مرحلہ کے خریدار ساڑھے چھ ہزار ہوجائیں، اور ہر ممبر کے ذمہ نو ممبر بنانے کی ذمہ داری ہو، جیسا کہ بعض کمپنیوں میں ہے تو چوتھے ہی مرحلہ میں ان کی تعداد چوہتر لاکھ اڑتیس ہزار پانچ سو (۷۴۳۸۵۰۰) ہوجاتی ہے، یہ اتنی بڑی تعداد ہے کہ ہندوستان کے چھ سات بڑے شہروں کو چھوڑ کر پورے شہر کا احاطہ کرتی ہے، ظاہر ہے کہ یہ بات عملاً ممکن نہیں کہ کوئی شہر پورا کا پورا اس اسکیم سے جڑ جائے۔ (مولانا خالد سیف اللہ رحمانی مدظلہ روزنامہ منصف حیدرآباد ۲۴/ربیع الاول ۱۴۲۸ھ ”مینارئہ نور“ ص:۱) تو نتیجہ یہ ہوگا کہ ایسی صورت میں اوپر کے لوگوں کو تو کثیر نفع حاصل ہوگا، لیکن آخری مرحلہ کے ممبران بلاکمیشن حاصل کیے گھاٹے میں رہ جائیں گے، حالانکہ اخیر کے مرحلہ میں اوپر کی بہ نسبت زیادہ ممبران ہوتے ہیں، یہ خرابی ایسی ہے کہ اسے ہر آدمی آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔
    لیکن غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ اس طرح کی کمپنیوں میں کمیشن پانے کے لیے ممبروں کی تعداد اور مراحل کا آگے بڑھانا شرط ہوتا ہے، اس لیے جن کمپنیوں میں مثلاً تین مراحل میں نوممبران کی شرط ہے، ان میں نیچے سے تین مرحلوں کے لوگ بلاکمیشن رہ جائیں گے، اور یہ خرابی ایسی ہے کہ جس وقت بھی کمپنی موقوف ہوگی، اس سے نیچے کے چند مراحل کے لوگ محروم رہ جائیں گے اور چونکہ نیچے کے مراحل میں ممبروں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے، اس لیے ہر لمحہ اکثر ممبران گھاٹے میں رہتے ہیں، تجزیہ نگاروں کے مطابق اس کمپنی کے پانچ چھ فی صد لوگ تو بہت سارا نفع حاصل کرتے ہیں، بقیہ چورانوے فی صد لوگ امید و بیم میں رہ کر نقصان اٹھاتے ہیں یا یہ کہ اپنی اصل رقم سے بھی ہاتھ دھولیتے ہیں۔ حاصل یہ کہ چند ممبران کے منافع کی خاطر اکثر ممبران کا نقصان برداشت کرنا، اس نظام کی سب سے بڑی بنیادی خرابی ہے۔
    اس نظام کی تائید کرنے کا مطلب یہی ہوگا کہ کمپنی کے ذمہ داران اور چند دیگر لوگوں کے مفاد کی خاطر عوام کو دھوکہ میں مبتلا ہونے کی تائید کی جائے۔
    نیٹ ورک مارکیٹنگ کامدار ہی ”پھنسنے پھنسانے“ پر ہے، جہاں ایک آدمی ممبر بنتا ہے اور ممبری فیس کی ادئیگی کے ساتھ کچھ اور روپے سامان کی خریداری کے نام پرہاتھ سے چلے جاتے ہیں؛ بس اُسے اپنے پیسے کی بازیابی اور مزید کی ہوس سوار ہوجاتی ہے، چونکہ کمپنی سے محض سامان حاصل کرنا مقصد نہیں ہوتا؛ بلکہ منافع اور کمیشن حاصل کرنا ہوتا ہے؛ اس لیے دوسروں کو مختلف انداز میں سچ اور جھوٹ بول کر پھانسنے کی کوشش کرنے لگتاہے، پھر اگلا آدمی بھی اسی مرض کا شکار ہوجاتا ہے، کمپنی کی خرابیاں سامنے آنے کے باوجود منافع کے لالچ میں اپنی زبان مہر بند رکھتا ہے، تنقید کا ایک لفظ نہ تو بولتا ہے اور نہ ہی بولنے دیتا ہے، اگر مصنوعات کی خریداری ہی مقصود ہوتی تو بات یہاں تک نہ پہنچتی۔
    بہت سے لوگ ممبر بن تو جاتے ہیں مگر چرب زبان اور لسّان نہیں ہوتے، یا جھوٹ سچ ملاکر بولنے کی عادت نہیں ہوتی، وہ ممبر بنانے سے یا تو بالکل عاجز رہتے ہیں یا ممبر کی مطلوبہ تعداد مہیا نہ کرنے کی صورت میں وہ کمیشن اور منافع سے محروم رہتے ہیں۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں