1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

وادیٔ پرخار

'امر بالمعروف و نھی عن المنکر' میں موضوعات آغاز کردہ از محمدسمیرخان, ‏مئی 05، 2013۔

  1. ‏مئی 05، 2013 #1
    محمدسمیرخان

    محمدسمیرخان مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 07، 2013
    پیغامات:
    453
    موصول شکریہ جات:
    915
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    وادیٔ پرخار

    وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوجِ(١)وَالْيَوْمِ الْمَوْعُودِ(٢)وَشَاهِدٍ وَمَشْهُودٍ(٣)قُتِلَ أَصْحَابُ الأخْدُودِ(٤)النَّارِ ذَاتِ الْوَقُودِ(٥)إِذْ هُمْ عَلَيْهَا قُعُودٌ(٦)وَهُمْ عَلَى مَا يَفْعَلُونَ بِالْمُؤْمِنِينَ شُهُودٌ(٧)وَمَا نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلا أَنْ يُؤْمِنُوا بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ(٨)الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ(٩)إِنَّ الَّذِينَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوبُوا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيقِ (١٠)إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَهُمْ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأنْهَارُ ذَلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِيرُ(١١)إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ(١٢)إِنَّهُ هُوَ يُبْدِئُ وَيُعِيدُ(١٣)وَهُوَ الْغَفُورُ الْوَدُودُ(١٤)ذُو الْعَرْشِ الْمَجِيدُ(١٥)فَعَّالٌ لِمَا يُرِيدُ(١٦)هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْجُنُودِ(١٧)فِرْعَوْنَ وَثَمُودَ(١٨)بَلِ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي تَكْذِيبٍ (١٩). (البروج:۱تا۱۹)
    قسم ہے بُرجوں والے آسمان کی۔قسم ہے اُس دن کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے۔قسم ہے گواہی دینے والے کی اور اس کی جس کے مقابلے میں گواہی دی گئی۔کہ مارے گئے خندقوں والے ،آگ کی خندقیں جن میں انہوں نے بہت سا ایندھن جھونک رکھا تھا۔اور وہ خندقوں پر بیٹھے ہوئے تھے اور اہل ایمان کے ساتھ جو (ظلم وستم )وہ کررہے تھے اُ س کاتماشہ دیکھ رہے تھے ۔وہ اہلِ ایمان کی اس بات سے برافروختہ تھے کہ وہ اُس اللہ پر ایمان لے آئے تھے جو زبردست اور سزاوارحمد ہے۔اور اُس کی بادشاہت ہے آسمانوں اور زمینوں کی ،اور اللہ ہر چیز کے حال سے واقف ہے۔بے شک جن لوگوں نے مومن مرد وں اور مومن عورتوں کو ایذائیں دیں اور پھر توبہ نہ کی ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور ان کے لیے جلنے کا عذاب ہے۔البتہ جو لوگ ایمان لائے اورانہوں نے نیک عمل کیے اُن کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔بے شک تیرے رب کی گرفت بڑی سخت ہے ۔وہی ہے جو اوّل بار پیدا کرتا ہے اور وہی ہے جو (قیامت کے روز)دوبارہ پیدا کرے گا۔اور وہ بخشنے والا اورمحبت کرنے والا ہے۔عرش کامالک ہے اور عالی شان ہے ۔جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے۔

    امربالمعروف ونہی عن المنکر یہ وہ عظیم فریضہ جس کو ادا کرنے کے لئے انبیاء علیہم السلام پے درپے مبعوث ہوتے رہے۔اس عظیم مقصد کی خاطر انبیاء علیہم السلام نے بڑے نقوش اپنے اپنے امتیوں کے لئے چھوڑے ہیں تاکہ ان نفوس قدسیہ کے بعد آنے والے امتی ان نقوش پر چل کر اس عظیم مقصد کو کامیابی کے ساتھ ادا کرسکیں۔کیونکہ انبیاء کی اصل وراثت یہی ہے کہ ان کی لائی ہوئی تعلیمات کو انسانوں تک بلا کم وکاست پہنچادیا جائے۔اور اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی مداہنت یا سستی یا کوتاہی کو اختیار نہ کیا جائے۔کیونکہ یہ وہ عظیم فریضہ ہے جس کی خاطر انبیاء علیہم السلام نے کافی صعوبتیں اٹھائی ہیں۔حتی کہ مجرموں کے گروہوں نے ان معصوم انبیاء علیہم السلام کو قتل تک کرنے سے گریز نہ کیا۔اس بارے میں سارے کا سارا قرآن شاہد ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے جہاں انبیاء علیہم السلام پر ہونے والی صعوبتوں اور مصیبتوں کا ذکر کیا ہے وہی ساتھ ساتھ ان معصوم اور پاک باز انبیاء کے مخلص اور سچے پیروکاروں کا بھی ذکر کیا ہے جنہوں نے امربالمعروف ونہی عن المنکر کے اس عظیم فریضے کی ادائیگی کے سلسلے میں اپنی جانوں اور مالوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے لازوال قربانیوں کی داستان اس دنیا میں اپنے پیچھے آنے والوں کے لئے چھوڑی ہے۔امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی وہ وادی ہے جو کہ وادیٔ پرخار ہے۔ جس میں ایک داعی کو نہایت ہی سوچ سمجھ کر قدم رکھنا ہوگا۔کیونکہ امربالمعروف تو ہر شخص انجام دینے کے لئے تیار رہتا ہےلیکن نہی عن المنکر جو کہ امر بالمعروف کے ساتھ جڑا ہوا ہے کہ اس نہی عن المنکر کے فریضے کو انجام دیئے بغیر امر بالمعروف کا فریضہ مکمل طور پر ادانہیں کیا جاسکتا۔سورۃ البروج میں ایسے ہی ایک واقعے کی طرف اللہ رب العزت نے اہل ایمان کی ان لازوال قربانیوں کا ذکر کیا ہے جو کہ اہل ایمان کا شاندار مستقبل ہے۔ہر داعی کو اس وادیٔ پرخار میں قدم رکھنے سے پہلے میں سمجھتا ہوں کہ سورۃ البروج میں پیش کردہ واقعے کو پوری تفصیل اور اس کی پوری جزئیات کے ساتھ سمجھنا ضروری ہے۔کیونکہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو خطرہ ہے کہ کوئی بھی داعی امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے زمرے میں آنے والی صعوبتوں اور مشکلات سے گھبراکر کہیں اس سے فرار حاصل نہ کرلے۔ اس وادیٔ پرخار میں کسی جلد باز کے لئے بھی کوئی جگہ نہیں ہے۔ کیونکہ اہل ایمان کو جو اس سورت میں اصل بات سمجھائی گئی ہے اس کا سمجھنا نہایت ہی اہم ہے۔استاذ سید قطب رحمہ اللہ نے اس عظیم واقعہ سے جو اسباق حاصل کئے ہیں جسے میں قارئین کی خدمت میں پیش کررہا ہوں تاکہ ہرشخص ان اسباق کو اچھی طرح ذہن نشین کرلے اور اس کے بعد اس وادیٔ پرخار میں قدم رکھے تاکہ اس کو بعد میں کسی قسم کی پریشانی اور مداہنت کا سامنا کرنا نہ پڑے ۔
    اخوکم فی اللہ محمد سمیرخان
     
  2. ‏مئی 05، 2013 #2
    محمدسمیرخان

    محمدسمیرخان مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 07، 2013
    پیغامات:
    453
    موصول شکریہ جات:
    915
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    قصہ اصحاب الاخدود کے اسباق

    اصحاب الاخدودکا قصہ جو سورۃ البروج میں بیا ن ہوا ہے ،اِس لائق ہے کہ اس پروہ تمام اہلِ ایمان غور وتدبر کریں جو دنیا کے کسی بھی خطے میں اور تاریخ کے کسی بھی عہد میں دعوت اِلی اﷲکا کام کررہے ہوں ۔قرآن نے اس قصہ کو جس طرح بیان کیا ہے ،جس انداز سے اس کی تمہید قائم کی ہے اور پھر اس پر جو تبصرے کیے ہیں اور ساتھ ساتھ جو تعلیمات اور فیصلے بیان کیے ہیں ان سب باتوں کے ذریعہ قرآن نے درحقیقت وہ بنیادی خطوط اجاگر کیے ہیں جو دعوت الی اﷲکی فطرت ،اس دعوت کے بارے میں انسانوں کے رویے اور ان امکانی حالات کی نشان دہی کرتے ہیں جو اس کی وسیع دنیا میں جس کا رقبہ کرہ ارضی سے زیادہ وسیع اور جس کا عرصہ دنیاوی زندگی سے زیادہ طویل ہے ۔پیش آسکتے ہیں ۔قرآن نے اس قصہ میں اہلِ ایمان کے سامنے اُن کے راستے کے نمایاں نقوش بھی واضح کردئیے ہیں ،اور انہیں اس بات پر آمادہ کیا ہے کہ وہ اس راہ میں پیش آنے والی ہر امکانی مصیبت کا خندہ پیشانی سے خیر مقدم کریں جو پردۂ غیب میں مستور وپنہاں ‘حکمت الٰہی کے تحت تقدیر کی طرف سے صادر ہو۔
     
  3. ‏مئی 05، 2013 #3
    محمدسمیرخان

    محمدسمیرخان مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 07، 2013
    پیغامات:
    453
    موصول شکریہ جات:
    915
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    اہل ایمان کی فتح

    یہ ایک ایسی جماعت کا قصہ ہے جو اپنے پروردگار پر ایمان لے آئی تھی اور اُس نے اپنے سچے ایمان کا صاف صاف اظہار کرنا چاہا ۔مگر اُسے جابر اور سخت گیردشمنوں کے ہاتھوں شدید مصائب کا نشانہ بننا پڑا جو انسان کے اس بنیادی حق کو پامال کرنے پر تُلے تھے جو اُسے عقیدۂ حق اختیار کرنے اور خدائے عزیز وحمید پر ایمان رکھنے کے لیے حاصل ہے ۔اور انسانوں کے اُس شرف کی دھجیاں اُڑارہے تھے جس سے اﷲ نے انسان کو خاص طور پر نوازرکھا ہے تاکہ وہ دنیا میں ایک کھلونا بن کر نہ رہ جائے کہ ظالم وسنگدل حکام اُس کو عذاب دے دے کر اُس کی آہوں اور چیخوں سے اپنا دل بہلائیں ،اُسے آگ میں بھونیں اور اپنے لیے تفریح اور لطف اندوزی کا سامان پیدا کریں ۔یہ نفوس قدسیہ ایمان وعقیدہ کے جس جذبہ سے سرشار تھے اُس کی بدولت وہ اس آزمائش میں پورے اُترے اور جس امتحان میں انہیں ڈالا گیا اُس میں بالآخر فانی زندگی نے عقیدے کے ہاتھوں شکست کھائی ۔چنانچہ یہ لوگ ان جباروں اور ظالموں کی کسی دہمکی اور دباؤ سے مرعوب ومتأثر نہیں ہوئے ۔آگ کے عذاب میں جل کر موت کی آغوش میں چلے گئے مگر اپنے دین سے سرموہٹنے کے لیے بھی تیار نہ ہوئے ۔در حقیقت یہ پاکیزہ نفوس دُنیاکی حیات مستعار کی محبت وپرستش سے آزاد ہوچکے تھے ۔اسی لیے بہیمانہ موت کا بچشم سرمشاہدہ کرنے کے باوجود زندہ رہنے کی خواہش انہیں ترک عقیدہ کی ذلت قبول کرنے پر آمادہ نہ کرسکی ۔وہ عالم سفلی کی بندشوں اور اسباب کشش سے نجات پاکر عالم علوی کی طرف پرواز کرگئے ۔یہ فانی زندگی پرابدی عقیدہ کی فتح کا کرشمہ تھا۔
     
  4. ‏مئی 05، 2013 #4
    محمدسمیرخان

    محمدسمیرخان مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 07، 2013
    پیغامات:
    453
    موصول شکریہ جات:
    915
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    اصحاب الاخدود کا جانوروں سے بدتر گروہ

    ان ایمان سے معمور بلند فطرت ،صالح اور پیکر شرافت نفوس کے بالمقابل باغی،سرکش ،لئیم اور مجرم انسانوں کی منڈلی تھی جو آگ کے الاؤ کے پاس بیٹھ کر ان کے جلنے کا تماشہ دیکھ رہی تھی کہ اہلِ ایمان کیسے تڑپتے اور کیسے دکھ سہتے ہیں۔وہ اس منظر سے لُطف اندوز ہورہے تھے کہ آگ جیتے جاگتے انسانوں کو کس طرح چاٹتی ہے اورا س طرح یہ گروہ شرفاء چشم زدن میں راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوتا ہے۔
    جب کسی نوجوان یا دوشیزہ ،بچی یا بوڑھی ،کمسن یا سال خوردہ مومن کو آگ میں لاکر جھونکا جاتا تو ان درندوں کی بدمستی بڑھ جاتی اور خون کے فواروں اور گوشت کے ٹکڑوں کو دیکھ کر وہ پاگلوں کی طرح ناچتے اور شور مچاتے۔یہ انسانیت سوز واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ ان بدبخت ظالموں کی جبلت اس حد تک مسخ اور خاک آلودہ ہوچکی تھی کہ ان کے لیے یہ بہیمانہ اور خوفناک عذاب سامان لطف ووجۂ لذت تھا۔گراوٹ کی یہ وہ انتہاء ہے کہ جنگل کا کوئی درندہ بھی اب تک اس حد تک نہیں پہنچ سکا۔اس لیے کہ وہ درندہ اگر شکار کرتا ہے تو خوراک حاصل کرنے کے لیے کرتا ہے نہ کہ اپنے نیم جان نخچیرکو پھڑ پھڑاتادیکھ کرلذت حاصل کرنے کے لیے۔اور ساتھ ہی یہ واقعہ اس امر کا پتہ بھی دیتا ہے کہ اﷲپرست اہلِ ایمان کی رُوحوں نے اس آزمائش میں کس طرح اس اوج کمال تک کو جاچھوا اور ہرزمانے میں انسانیت کا نقطۂ عروج سمجھا گیا ہے۔
     
  5. ‏مئی 05، 2013 #5
    محمدسمیرخان

    محمدسمیرخان مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 07، 2013
    پیغامات:
    453
    موصول شکریہ جات:
    915
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    اس معرکے کس کو فتح نصیب ہوئی

    دنیا کے پیمانے سے دیکھا جائے تومعلوم ہوگا کہ ظلم نے عقیدہ پر فتح پائی اور صالح وصابر اور اﷲپرست گروہ کی ایمانی قوت جو بلاشبہ نقطۂ کمال تک پہنچ چکی تھی اس ظلم وایمان کے معرکے میں بے وزن وبے وقعت ثابت ہوئی۔نہ ہی قرآن یہ بتاتا ہے اور نہ وہ روایات ہی یہ بتاتی ہیں جو اس واقعہ کے بارے میں وارد ہوئی ہیں کہ اﷲتعالیٰ نے ان ظالموں کو بھی ان کے جرم شدید کی اسی طرح سزا دی ہو ،جس طرح قوم نوح علیہ السلام،قوم ہود علیہ السلام ،قوم صالح علیہ السلام،قوم شعیب علیہ السلام اور قوم لوط علیہ السلام کو دی ہے یا جس طرح فرعون اور اس کے لشکریوں کو پوری قاہرانہ ومقتدرانہ شان کے ساتھ پکڑا تھا۔گویا دنیا پرست کے نقطۂ نظر سے اس واقعہ کا اختتام بڑا افسوس ناک اور الم انگیز ہے۔
    مگر کیا بات صرف یہیں پر ختم ہوجا تی ہے ؟کیا ایمان کی انتہائی بلندیوں تک پہنچ جانے والی اﷲپرست جماعت ان زہر ہ گداز آلام کے نتیجے میں آگ کی خندقوں میں راکھ بن کر ملیا میٹ ہوگئی اور گروہ مجرمین جورذالت اور کمینگی کی آخری حد کو پھلانگ چکا تھا ،وہ دنیا میں سزا سے صاف بچ گیا۔جہاں تک دنیاوی حساب کا تعلق ہے اس افسوس ناک خاتمے کے بارے میں دل میں کچھ خلش سی اُٹھتی ہے۔مگر قرآن اہلِ ایمان کو ایک دوسری نوعیت کی تعلیم دیتا ہے اور ان کے سامنے ایک اور ہی حقیقت کی پردہ کُشائی کرتا ہے ۔وہ ان کو ایک نیا پیمانہ دیتا ہے جس سے وہ اشیاء کاصحیح وزن جانچ سکیں اور حق وباطل کے جن معرکوں سے دوچار ہوتے ہیں ان کی اصل حقیقت اور اصل میدان سے آگاہ ہوسکیں ۔
     
  6. ‏مئی 05، 2013 #6
    محمدسمیرخان

    محمدسمیرخان مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 07، 2013
    پیغامات:
    453
    موصول شکریہ جات:
    915
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    کامیابی کااصل معیار

    دنیا کی زندگی اور اس کی آسائشیں اور تکلیفیں ،کامرانیاں اور محرومیاں ہی کارزار حیات میں فیصلہ کن نہیںہیں ۔یہی وہ مال نہیں ہے جو نفع اور نقصان کاحساب بتاسکے ۔نصرت صرف ظاہری غلبہ کانام نہیں ہے بلکہ یہ نصرت کی بے شمار صورتوں میں سے محض ایک صورت ہے ۔اﷲتعالیٰ کی میزان فیصلہ میں اصل وزن عقیدہ کا ہے ۔اور اﷲکی منڈی میں جس مال کی کھپت ہے وہ صرف ایمان کی متاع ہے ۔نصرت کی اعلیٰ ترین شکل یہ ہے کہ روح مادہ پر غالب آجائے،عقیدہ کو رنج ومحن پر کامیابی حاصل ہو اور آزمائش کے مقابلے میں ایمان فتح یاب ہوجائے۔چنانچہ اصحاب الاخدود کے واقعہ میں اہلِ ایمان کی روح نے خوف وکرب پر دنیا کی ترغیبات پر زندگی کی محبت پر اور کڑی آزمائش پر وہ عظیم فتح پائی ہے کہ رہتی دنیا تک وہ بنی نوع انسان کے لیے طرۂ افتخار رہے گی یہی ہے اصل کامیابی۔
     
  7. ‏مئی 05، 2013 #7
    محمدسمیرخان

    محمدسمیرخان مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 07، 2013
    پیغامات:
    453
    موصول شکریہ جات:
    915
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    مومن کی موت بجائے خود اعزاز ہے

    سب انسان موت کی آغوش میں جاتے ہیں۔مگر اسباب موت مختلف ہوتے ہیں،لیکن سب انسانوں کوکامیابی نصیب نہیں ہوتی،نہ سب اتنااونچا معیار ایمان پیش کرسکتے ہیں،نہ ہی اس حد تک کامل آزادی حاصل کرسکتے ہیں ،اور نہ وہ اتنے اُونچے اُفق تک پرواز کرسکتے ہیں۔یہ اﷲ کافضل ہوتا ہے کہ وہ ایک مبار ک گروہ کو اپنے بندوں میں سے چھانٹ لیتا ہے جو مرنے میں تو دوسرے انسانوں کے ساتھ شریک ہوتا ہے مگر ایسا شرف واعزاز اس کو نصیب ہوتا ہے جو دوسرے لوگوں کو نصیب نہیں ہوتا۔یہ شرف واعزاز اُسے ملاء اعلیٰ میں ملتا ہے۔بلکہ اگر پے درپے آنے والی نسلوں کے نقطۂ نظر کو بھی حساب میں شامل کرلیں تو خود دنیا کے اندر بھی ایسا مبارک گروہ شرف واعزاز کا مرتبۂ بلند حاصل کرلیتا ہے ۔
     
  8. ‏مئی 05، 2013 #8
    محمدسمیرخان

    محمدسمیرخان مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 07، 2013
    پیغامات:
    453
    موصول شکریہ جات:
    915
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    ان مومنین نے انسانی نسل کی لاج رکھی ہے

    مؤمنین ایمان ہار کر اپنی جانوں کو بچا سکتے تھے۔لیکن اس میں خود ان کا اپنا کتنا خسارہ ہوتا اور پُوری انسانیت کو کس قدر خسارہ پہنچتا ،یہ کتنا بڑا خسارہ تھا کہ اگر وہ اس روشن حقیقت کو پامال کردیتے کہ زندگی ایمان سے خالی ہو تو وہ ایک کوڑی کی بھی نہیں رہتی ،نعمتِ آزادی سے تہی ہو تو قابل نفرین ہے اور اگر ظالم ونافرمان لوگ اس حد تک جری ہوجائیں کہ جسموں پر تسلط حاصل کرنے کے بعد دلوں اور رُوحوں پر بھی حکمرانی کرنے لگیں تو یہ زندگی انتہائی گراوٹ ہے!!یہ وہ پاکیزہ حقیقت ہے جسے اہلِ ایمان نے اسی وقت پالیا تھا جب کہ وہ ابھی دنیا میں موجود تھے ،جب آگ ان کے جسموں کو چُھورہی تھی تو وہ اس عظیم حقیقت اور پاکیزہ اصول پر کاربند تھے ۔ان کے فانی جسم آگ سے جل رہے تھے اور یہ عظیم اور پاکیزہ اصول کامیابی کا لوہا منوا رہا تھا بلکہ آگ اسے مزید نکھار کر کُندن بنارہی تھی۔
     
  9. ‏مئی 05، 2013 #9
    محمدسمیرخان

    محمدسمیرخان مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 07، 2013
    پیغامات:
    453
    موصول شکریہ جات:
    915
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    حق وباطل کی کشمکش کا فریق اور میدان

    حق وباطل کے معرکہ کا میدان صرف اس دنیا کا اسٹیج نہیں ہے ۔اور زندگی صرف اسی دنیاوی ز ندگی کا نام نہیں ہے ۔شرکائے معرکہ صرف وہ لوگ ہی نہیں ہیں جو اس نسل سے تعلق رکھتے ہوں جس میں معرکہ برپا ہو ۔دنیا کے تمام واقعات میں خود ملاء اعلیٰ شریک ہوتے ہیں ،ان کامشاہدہ کرتے ہیں اور ان پر گواہ رہتے ہیں ،انہیں اسی میزان میں تولتے ہیں جوکسی خاص وقت اور نسل کی دنیاوی میزان سے مختلف ہوتی ہے ،بلکہ پوری انسانی نسل کی میزانوں سے وہ مختلف ہے ۔ایک وقت میں دنیا میں زمین پر جتنے انسان پائے جاتے ہیں ملاء اعلیٰ اُس سے کئی گناہ زیادہ مبار ک ارواح پر مشتمل ہیں۔پس بلاشبہ لشکر حق پر ملاء اعلیٰ کی ستائش وتکریم اہلِ دنیا کے فیصلوں ،اندازوں اور عزت افزائیوں سے کہیں زیادہ عظیم اور وزنی ہوتی ہے۔
    ان تمام مراحل کے بعد آخرت بھی ہے یہ اصل اور فیصلہ کُن میدان ہے۔دنیا کا اسٹیج اسی میدان سے متصل ہے ،منفصل نہیں ہے ،امر واقع کے اعتبار سے بھی اورمومن کے احساس وشعور کے لحاظ سے بھی ۔پس معرکۂ حق وباطل دنیا کے اسٹیج پر ہی تمام نہیں ہوجاتا،اس کے حقیقی خاتمہ کا مرحلہ تو ابھی آیا ہی نہیں ۔دنیا کے اس اسٹیج پر اس معرکے کا جو حصہ پیش کیا گیا ہے صرف اُس پر حکم لگانا صحیح اور منصفانہ نہیں ہے ۔اس لیے کہ اس کا اطلاق معرکے کے صرف چند معمولی ادوار پر ہوگا۔
     
  10. ‏مئی 05، 2013 #10
    محمدسمیرخان

    محمدسمیرخان مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 07، 2013
    پیغامات:
    453
    موصول شکریہ جات:
    915
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    اہلِ ایمان کے اِنعامات

    پہلی قسم کی نگاہ (جس کے نزدیک ہر چیز کا فیصلہ دنیا کے اسٹیج پر ہی ہوتا ہے )کوتاہ ،سطح بین اورمحدود ہے۔یہ عجلت پسند انسان کی نگاہ ہے۔دوسری قسم کی نگاہ دُوراندیش ِحقیقت شناس ،جامع اور وسیع تر ہے ،قرآن اہلِ ایمان کے اندر یہی نگاہ پیدا کرتا ہے۔یہی نگاہ اس حقیقت کی صحیح ترجمان ہے جس پر صحیح ایمانی تصور کی عمارت قائم ہے ۔اسی بناپر اﷲتعالیٰ نے اہلِ ایمان سے ایمان واطاعت میں ثابت قدم رہنے ‘آزمائش وامتحان میں کامیاب اُترنے اور زندگی کی فتنہ پردازیوں پر فتح پانے پر جس صلہ اورایمان کا وعدہ فرمارکھا ہے ،وہ اہلِ ایمان کے لیے طمانیت قلب کا سامان فراہم کرتا ہے ۔ارشادہوتا ہے:
    اَلَّذِینَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَئِنُّ قُلُوْبُھُمْ بِذِکْرِ اﷲِ ، اَلاَ بِذِکْرِاﷲِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ.(الرعد)
    ’’جولوگ ایمان لائے اور ان کے دلوں کو اﷲکی یاد سے اطمینان نصیب ہوتا ہے ۔آگاہ رہو ،اﷲکی یاد ہی وہ چیز ہے جس سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوا کرتا ہے‘‘۔
    وہ صلہ رحمان کی خوشنودی اور محبت کے وعدہ پر مشتمل ہے:
    اِنَّ الَّذِینَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصَّلِحٰتِ سَیجْعَلُ لَھُمْ الرَّحْمٰنُ وُدّاً. (مریم:۹۶)
    ’’جولوگ ایمان لے آئے اور انہوں نے عمل صالح کیے عنقریب رحمان اُن کے لیے دلوں میں محبت پیدا کردے گا ‘‘۔
    وہ ملاء اعلیٰ کے اندر ذکر خیر کا وعدہ ہے۔رسول اﷲ ﷺنے فرمایا :’’جس کسی بندے کا بچہ مرجاتا ہے ،تو اﷲتعالیٰ اپنے فرشتوں سے دریافت فرماتا ہے کہ تم نے میرے فلاں بندے کے بچے کی روح قبض کرلی ہے ؟وہ عرض کرتے ہیں :’’ہاں ‘‘اﷲتعالیٰ فرماتا ہے :تم نے میرے بندے کے لختِ جگر کی روح قبض کرلی ہے ؟وہ عرض کرتے ہیں :’’ہاں اے پروردگار‘‘اﷲتعالیٰ اُن سے پوچھتا ہے کہ :’’اس موت پر میرے بندے نے کیا کہا ؟فرشتے کہتے ہیں:اُس نے آپ کی حمد فرمائی اور ’’اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیہِ رَاجِعُوْن‘‘کہا ۔یہ سن کر اﷲتعالیٰ حکم دیتا ہے کہ میرے اس بندے کے لیے جنت میں ایک گھر بنادو اور اس کانام بیت الحمد رکھو۔(ترمذی)
    نیز رسول اﷲ ﷺ سے مروی ہے کہ اﷲ عزوجل فرماتا ہے ۔میں اپنے بندے کے لئے وہی کچھ ہوں جو میرے بارے میں وہ گمان رکھتا ہے۔جب وہ میرا ذکر کرتا ہے تومیں اُس کے ساتھ ہوتا ہوں ،اگر وہ اپنے دل میں مجھے یاد کرتا ہوں تو میں بھی دل میں اُسے یاد کرتا ہوں ،اور اگر وہ لوگوں کے اندر میرا ذکر کرتا ہے تو میں اُن سے بہتر گروہ میں اُس کا ذکر کرتا ہوں ۔اگر وہ ایک بالشت میرے قریب ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ اُس کے قریب ہوتا ہوں ،اگر وہ ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے تو میں اُس کی طرف ایک قدم بڑھتا ہوں۔اور اگر وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اُس کی طرف دوڑ کر جاتا ہوں۔ (بخاری ومسلم)
    یہ وعدہ ہے اس بات کا کہ ملاء اعلیٰ اہلِ ایمان کے لیے دعا گو ہیں اور اُن کے ساتھ گہری دلچسپی اور ہمدردی رکھتے ہیں۔
    الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِينَ تَابُوا وَاتَّبَعُوا سَبِيلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ. (المؤمن:۷)
    ’’عرش الٰہی کے حامل فرشتے ،اور وہ جو عرش کے گردوپیش حاضر رہتے ہیں ،سب اپنے ربّ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں۔وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان لانے والوں کے حق میں دعائیں مغفرت کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں :اے ہمارے رب،تو اپنی رحمت اور اپنے علم کے ساتھ ہر چیزپر چھایا ہوا ہے ،پس معاف کردے اور عذاب دوزخ سے بچالے ان لوگوں کو جنہوں نے توبہ کی اور تیرا راستہ اختیار کرلیا ہے‘‘۔
    یہ وعدہ ہے اس بات کا کہ شہداءکے لئے اﷲکے پاس زندگی جاوید ہے ۔
    وَلا ﺗَﺤۡﺴَﺒَﻦَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ(١٦٩)فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ أَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ (١٧٠)يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّهَ لا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ (آل عمران)
    ’’جو لوگ اﷲکی راہ میں قتل ہوئے ہیں انہیں مُردہ نہ سمجھو ،وہ توحقیقت میں زندہ ہیں ۔اپنے رب کے پاس رزق پارہے ہیں۔جو کچھ اﷲنے اپنے فضل سے انہیں دیا ہے اُس پر خوش وخرم ہیں ۔اورمطمئن ہیں۔کہ جو اہلِ ایمان ان کے پیچھے دنیا میں رہ گئے ہیں اور ابھی وہاں نہیں پہنچے ہیں ان کے لیے بھی کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے
    ۔وہ اﷲکے انعام اور اس کے فضل پر شاداں وفرحاں ہیں اور ان کو معلوم ہوچکا ہے کہ اﷲمومنوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا ‘‘۔
     

اس صفحے کو مشتہر کریں