1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

وتر رہ جائے تو ؟؟؟

'ترک نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از ام عبدالرحمٰن, ‏اگست 17، 2014۔

  1. ‏اگست 25، 2014 #11
    محمد بن محمد

    محمد بن محمد مشہور رکن
    جگہ:
    كراتشى
    شمولیت:
    ‏مئی 20، 2011
    پیغامات:
    106
    موصول شکریہ جات:
    223
    تمغے کے پوائنٹ:
    114

    سورج طلوع ہونے کے بعد آنکھ کھلے تو یا جنابت کی حالت میں صبح کرے تو سورج نکلنے کے تقریبا پندرہ منٹ کے بعد نماز پڑھ سکتا ہے اور فورا پڑھنے کی کوشش کرنی چاہئے زوال تک انتظار کیوں؟ جیسا کہ ایک دفعہ دوران سفر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی قافلے کے ساتھ تھے رات کے آخری حصے میں قیام کیا حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ نماز کے لئے اٹھائیں لیکن وہ بھی بیٹھے ہوئے اونٹ کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئے اور سو گئے۔ سورج طلوع ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے بیدار ہوئے ۔۔۔۔۔ اور پھر اس جگہ سے تھوڑا آگے جاکر اذان کہلوائی اور فجر کی نماز پڑھائی۔ صحیح مسلم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: من نسی صلوۃ او نام عنہا فکفارتہا ان یصلیہا اذا ذکرھا جو آدمی نماز بھول جائے یا اس سے سویا رہ جائے تو اس کا کفارہ یہی ہے کہ جب اسے یاد آجائے (یا نیند سے بیدار ہو جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل مبارک ہے) تو اسے پڑھ لے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏اگست 25، 2014 #12
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    بھائی زوال کے وقت نماز پڑھنے کی ممانعت ہے اس لئے۔
     
  3. ‏اگست 26، 2014 #13
    محمد بن محمد

    محمد بن محمد مشہور رکن
    جگہ:
    كراتشى
    شمولیت:
    ‏مئی 20، 2011
    پیغامات:
    106
    موصول شکریہ جات:
    223
    تمغے کے پوائنٹ:
    114

    بھائی میں نے تو زوال کے وقت پڑھنے کا تو نہیں کہا۔ فورا پڑھ لینی چاہئے۔ زوال کا وقت تو ممنوع اوقات میں سے ہے اور زوال کا وقت مختلف مہینوں میں مختلف ہوتا ہے اور یہ ہر شہر میں بھی مختلف ہو سکتا ہے۔ آپ نے بھی زوال کے وقت نماز پڑھنے کا تو نہیں پوچھا تھا زوال کے بعد کا پوچھا تھا اور میں نے عرض کیا تھا کہ زوال تک انتظار کرنے کی ضرورت نہیں فورا پڑھ لینی چاہئے اگر کسی وجہ سے زوال تک نہ پڑھی جاسکی تو یہ تو سب کو معلوم ہے کہ عین زوال کا وقت تو نماز کے لئے ممنوع ہے پھر زوال کے بعد ہی پڑھے گا۔ زوال کا وقت دیکھنے کے لئے اسلامک فائنڈر سے اپنے شہر کا وقت نکال لیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  4. ‏اگست 26، 2014 #14
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    بھائی کوئی ایسا سافٹ وئیر یا کلینڈر نہیں ہے جس سے سال کے دنوں میں ہماری گھڑیوں کے مطابق وقت کا پتہ چل سکے
    @ابوالحسن علوی
     
  5. ‏اگست 26، 2014 #15
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    نمازِ فجر اور زوال کے وقت کا آپس میں کیا تعلق ہے؟؟؟

    زوال یعنی جب سورج ڈھلنا شروع ہوجائے تو ظہر کا وقت شروع ہو جاتا ہے: أقم الصلاة لدلوك الشمس ...
    آج لاہور میں زوال کا وقت PM 12:05 ہے۔ لاہور میں اوقات نماز کی تفصیل کیلئے یہ لنک ملاحظہ کریں!

    اگرکسی نمازی شخص کی کسی دن فجر کی نماز کیلئے آنکھ نہ کھلے یا آنکھ کھلے اور وہ حالتِ جنابت میں ہو تو وہ طہارت حاصل کر کے فوری نمازِ پڑھ سکتا ہے خواہ سورج طلوع ہی کیوں نہ ہو رہا ہو۔ اور اس کی یہ نماز قضا نہیں ادا ہوگی، ان شاء اللہ! نبی کریمﷺ کا فرمان ہے:
    مَنْ نَسِيَ صَلاَةً أَوْ نَامَ عَنْهَا فَكَفَّارَتُهَا أَنْ يُصَلِّيَهَا إِذَا ذَكَرَهَا ‏۔۔۔ صحيح مسلم‏
    جو شخص نماز بھول جائے یا اس سے سویا رہے تو اسے جب یاد آئے اسی وقت نماز پڑھ لے۔

    فرض نماز پڑھنے کیلئے کوئی وقت بھی ممنوع نہیں ہے۔ فرمانِ نبویﷺ ہے:
    مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْعَصْرِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ وَمَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْفَجْرِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَكَ
    ’’جو شخص سورج غروب ہونے سے پہلے عصر کی ایک رکعت پا لے تو اس نے عصر پالی اور جو شخص سورج طلوع ہونے سے پہلے فجر کی ایک رکعت پالے تو اس نے فجر پالی۔‘‘

    گویا فجر یا عصر کی ایک رکعت پڑھنے کے ساتھ سورج طلوع یا غروب ہو جائے گا اور یہ شخص اپنی باقی نماز اسی حالت میں پڑھ رہا ہو گا۔ تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ فرض نماز کیلئے پانچوں اوقات ممنوعہ میں سے کوئی وقت بھی ممنوع نہیں ہے۔

    صبح کے اذکار کا وقت طلوع شمس تک ہے وسبح بحمد ربك قبل طلوع الشمس وقبل الغروب اوراگر کسی کے رہ جائیں اور وہ بعد میں بھی پڑھ لے تو بفضلہٖ تعالیٰ اسے اس کا اَجر ملے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم!
     
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  6. ‏اگست 26، 2014 #16
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا انس بھائی
    اصل میں میں ایک غلطی کر گیا ہوں، میں زوال کا لفظ لکھ بیٹھا، اصل میں سوال سورج نکلنے کا وہ وقت تھا جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کو ممنوع قرار دیا ہے اور جس کا مفہوم ہے کہ اس وقت شیطان اپنا سر سورج نکلنے کی جگہ پر رکھ دیتا ہے تاکہ آتش پرستوں کا سجدہ شیطان کو ہو جائے (او کما قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم)
    اب آپ اس کی وضاحت کر دیں۔

    اصل سوال یہ تھا لیکن میں غلطی سے "زوال" کا وقت لکھ بیٹھا، خیر اچھا ہوا کہ یہ مسئلہ بھی سامنے آ گیا۔ الحمدللہ
     
  7. ‏اگست 26، 2014 #17
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

     
  8. ‏اگست 26، 2014 #18
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا
    تو پھر جس نماز کی ممانعت حدیث میں آئی ہے اس سے کیا مراد ہے؟ کیا اس سے مراد نوافل نماز ہے؟
     
  9. ‏اگست 26، 2014 #19
    محمد بن محمد

    محمد بن محمد مشہور رکن
    جگہ:
    كراتشى
    شمولیت:
    ‏مئی 20، 2011
    پیغامات:
    106
    موصول شکریہ جات:
    223
    تمغے کے پوائنٹ:
    114

    نہیں انس بھائی طلوع آفتاب کے وقت نماز شروع کرنا درست نہیں ہے چاہے سویا رہ جانے والا اسی وقت اٹھا ہو اور جو حدیث من ادرک رکعۃ من الفجر۔۔۔۔۔۔۔ ہے یہ الگ حکم ہے اس میں مشروط ہے کہ ایک رکعت وہ طلوع یا غروب شروع ہونے سے پہلے پڑھ سکتا ہے تب وہ اپنی نماز طلوع و غروب کے درمیان بھی پوری کرلے لیکن جب سورج طلوع یا غروب ہو رہا ہو یا زوال کا وقت ہو تو اس میں نماز کی ابتدا کرنا درست نہیں ہے۔ واللہ اعلم و علمہ اتم۔
     
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  10. ‏اگست 26، 2014 #20
    123456789

    123456789 رکن
    جگہ:
    زمین
    شمولیت:
    ‏اپریل 17، 2014
    پیغامات:
    215
    موصول شکریہ جات:
    87
    تمغے کے پوائنٹ:
    43

    فرض سنت واجب کا مقام علماء کو واضح کرنا چاہئے ۔ ہم ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں نوافل اور آداب تک کا معاملہ لوگ فرائض کی طرح ڈیل کرتے ہیں۔ ان میں سستی پر براہ راست عام نمازی انہدام اسلام کا سرٹیفیکیٹ آپکو ہدیہ کرتے ہیں
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں