1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ویڈیو اور عام کیمرہ سے لی جانے والی تصویر کا حکم !

'جدید فقہی مسائل' میں موضوعات آغاز کردہ از رفیق طاھر, ‏مارچ 16، 2012۔

  1. ‏مارچ 16، 2012 #1
    رفیق طاھر

    رفیق طاھر رکن مجلس شوریٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    ارض اللہ
    شمولیت:
    ‏مارچ 04، 2011
    پیغامات:
    790
    موصول شکریہ جات:
    3,974
    تمغے کے پوائنٹ:
    323

    تصوير کشي اللہ رب العالمين نے حرام کر رکھي ہے , رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم فرماتے ہيں کہ اللہ تعالى نے فرمايا : [/FONT][FONT=&amp]وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَهَبَ يَخْلُقُ كَخَلْقِي فَلْيَخْلُقُوا حَبَّةً وَلْيَخْلُقُوا ذَرَّةً [/FONT][FONT=&amp][ صحيح بخاري كتاب اللباس باب نقض الصور (5953)][/FONT]
    [FONT=&amp]اس شخص سے بڑا ظالم کون ہے جو ميري مخلوق جيسي تخليق کرنا چاہتا ہے , يہ کوئي دانہ يا ذرہ بنا کر دکھائيں ۔[/FONT]
    [FONT=&amp]نيز فرمايا :[/FONT][FONT=&amp]إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُصَوِّرُونَ [/FONT][FONT=&amp][ صحيح بخاري كتاب اللباس باب عذاب المصورين يوم القيامة (5950)][/FONT]
    [FONT=&amp]الله [/FONT][FONT=&amp]کے ہاں قيامت کے دن سب سے سخت عذاب تصويريں بنانے والوں کو ہوگا۔[/FONT]
    [FONT=&amp]مزيد فرمايا : [/FONT][FONT=&amp]أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُضَاهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ [/FONT][FONT=&amp][ صحيح بخاري كتاب اللباس باب ما وطئ من التصاوير (5954)][/FONT]
    [FONT=&amp]قيامت کے دن سب سے زيادہ سخت عذاب ان لوگوں کو ہوگا جو اللہ کي تخليق کي نقالي کرتے ہيں ۔[/FONT]
    [FONT=&amp]مندرجہ بالا احاديث اور ديگر بہت سے دلائل تصوير کي حرمت پر دلالت کرتے ہيں , اور يہ ايسا مسئلہ ہے کہ جس پر امت کا اتفاق ہے ۔[/FONT]
    [FONT=&amp]اور جو اختلاف ہے وہ اس بات ميں واقع ہوا ہے کہ تصوير بنانے کے جديد ذرائع فوٹوگرافي , مووي ميکنگ وغيرہ کيا حکم رکھتي ہے ؟[/FONT]
    [FONT=&amp]کچھ اہل علم کي رائے يہ ہے کہ يہ تصاوير نہيں ہيں بلکہ يہ عکس ہے , اور عکس کے جواز ميں کوئي شک نہيں ہے , لہذا فوٹو گرافي اور مووي بنانا جائز اور مشروع عمل ہے ۔[/FONT]
    [FONT=&amp]جبکہ اہل علم کا دوسرا گروہ اسے بھي تصوير ہي سمجھتا ہے اور کہتا ہے کہ يہ تصوير کي جديد شکل ہے , چونکہ تصوير کي حرمت ميں کوئي شبہہ نہيں ہے , لہذا فوٹو گرافي اور ويڈيو ناجائز اور حرام ہے ۔[/FONT]
    [FONT=&amp]اہل علم کا ايک تيسرا گروہ يہ رائے رکھتا ہےکہ يہ تصوير ہي ہے , ليکن بامر مجبوري ہم دين کي دعوت و تبليغ کي غرض سے ويڈيو کو استعمال کرسکتے ہيں ۔ يہ رائے اکثر اہل علم کي ہے جن ميں عرب وعجم کے بہت سے علماء شامل ہيں ۔[/FONT]
    [FONT=&amp]يعني اس تيسري رائے کے حاملين نے ويڈيو کو اصلا مباح اور حلال قرار نہيں ديا ہے , ليکن ديني اصول " [/FONT][FONT=&amp]اضطرار[/FONT][FONT=&amp]" کو ملحوظ رکھ کر قاعدہ فقہيہ " [/FONT][FONT=&amp]الضرورات تبيح المحظورات[/FONT][FONT=&amp] " (کہ ضرورتيں ناجائز کاموں کو جائز بنا ديتي ہيں ) پر عمل پيرا ہوتے ہوئے اليکٹرانک ميڈيا کے اس تيز ترين دور ميں ويڈيو کو تبليغ دين کے مقاصد ميں بامر مجبوري استعمال کرنا مباح قرار ديا ہے , يعني دعوت و تبليغ کے علاوہ , يہ گروہ بھي اسے ناجائز ہي سمجھتا ہے , اور بلا امر مجبوري اسے جائز قرار نہيں ديتا ہے ۔ اس اعتبار سے اس گروہ کي رائے مقدم الذکر دونوں گروہوں کي رائے کے مابين ہے ۔[/FONT]
    [FONT=&amp]ليکن مسئلہ چونکہ اجتہادي ہے اس ميں خطأ کا امکان بھي بہر حا ل موجود ہي ہے , لہذا ديکھنا يہ ہے کہ ان تينوں فريقوں کے کيا دلائل ہيں اور ان تينوں ميں سے مضبوط دلائل کس گروہ کے پاس ہيں کيونکہ اجتہادي مسئلہ ميں بھي جب مجتہدين کي آراء مختلف ہو جائيں تو حق اور صواب کسي ايک ہي گروہ کے پاس ہوتا ہے۔[/FONT]
    [FONT=&amp]اور ہماري تحقيق کے مطابق دوسرے گروہ کي بات مبني برحق ہے ۔اور پہلا گروہ اسے عکس قرار ديکر غلطي پر ہے اور تيسرا گروہ " اضطرار" کا لفظ بول کر "حيلہ" کا مرتکب ہے۔[/FONT]
    [FONT=&amp]اس اجما ل کي تفصيل ہم ذيل ميں پيش کرتے ہيں :[/FONT]
    [FONT=&amp]سب سے پہلے تو يہ بات سمجھ ليں کہ عکس اور تصوير ميں کيا فرق ہے ؟[/FONT]
    [FONT=&amp]عکس اسوقت تک باقي رہتا ہے جبتک معکوس سامنے موجود ہو , اور جونہي معکوس سامنے سے غائب ہو جائے عکس بھي غائب ہو جاتا ہے ۔ اور پھر جس پاني يا آئينہ پر عکس ديکھا گيا ہے دوبارہ اس آئينہ پر وہ عکس کبھي نہيں ديکھا جاسکتا جبتک معکوس کو دوبارہ آئينہ کے روبرو نہ کيا جائے ۔[/FONT]
    [FONT=&amp]اور تصوير در اصل اسي عکس کو محفوظ کرلينے سے بنتي ہے ۔!!![/FONT]
    [FONT=&amp]کيونکہ مصور کسي بھي چيز کو ديکھتا ہے تو اس چيز کا عکس اسکي آنکھيں اسکے دماغ ميں دکھاتي ہيں پھر اسکے ہاتھ اس عکس کو کسي کاغذ , چمڑے , لکڑي يا پتھر , وغيرہ پر محفوظ کر ديتے ہيں تو اسکا نام تصوير ہو جاتا ہے جسکي حرمت پر احاديث دلالت کرتي ہيں اور تمام امت جنکي حرمت پر متفق ہے ۔[/FONT]
    [FONT=&amp]اختلاف صرف واقع ہوا ہے تو جديد آلات سے بنائي جانے والي تصاوير پر , ليکن اگر بنظر غائر ديکھا جائے تو يہي بات سمجھ آتي ہے کہ ان آلات يعني کيمرہ وغيرہ سے بنائي جانے والي تصاوير بھي تصاوير ہي ہيں عکس نہيں ہيں !!! , کيونکہ اس دور جديد جسطرح اور بہت سے کام مشينوں سے ليے جانے لگے ہيں اسي طرح تصوير کشي کا کام بھي جديد آلات کے سپرد ہوگيا ہے ۔ ان کيمروں سے تصوير کھينچنے والا اپنے ہاتھ سے صرف اس مشين کا بٹن دباتا ہے جسکے بعد وہ سارا کام جو پہلے پہلے ہاتھ سے ہوتا تھا اس سے کہيں بہتر انداز ميں وہ مشين سر انجام دے ديتي ہے ۔[/FONT]
    [FONT=&amp]اور ويڈيو کيمرے کے بارہ ميں يہ غلط فہمي بھي پائي جاتي ہے کہ يہ متحرک تصوير بناتا ہے , حالانکہ امر واقع يہ ہے کہ ويڈيو کميرہ بھي متحرک تصوير نہيں بناتا بلکہ ساکن تصاوير ہي بناتا ہے ليکن اسکي تصوير کشي کي رفتار بہت تيز ترين ہوتي ہے , ايک ويڈيو کيمرہ ايک سيکنڈ ميں تقريبا نو صد (900) سے زائد تصاوير کھينچتا ہے , اور پھر جب اس ويڈيو کو چلايا جاتا ہے تو اسي تيزي کے ساتھ انکي سلائيڈ شو کرتاہے ۔ جسے اس فن سے نا آشنا لوگ متحرک تصوير سمجھ ليتے ہيں حالانکہ وہ متحرک نہيں ہوتي بلکہ ساکن تصاوير کا ہي ايک تسلسل ہوتا ہے کہ انساني آنکھ جسکا ادراک نہيں کرسکتي ۔ آپ ديکھتے ہيں جب پنکھا اپني پوري رفتا ر سے چل رہا ہو تو اسکي جانب ديکھنے والے کو پنکھے کے پر نظر نہيں آتے بلکہ اسے پنکھے کي موٹر کے گرد ايک ہالہ سا بنا دکھائي ديتا ہے اور يوں محسوس ہوتا ہے کہ شايد اسکے پر نہيں ہيں بلکہ ايک شيشہ سا ہے جو اسکے گرد تنا ہوا ہے ۔ جبکہ ذي شعور اور صاحب علم افراد يہ سب اپني آنکھوں سے ديکھنے کے بعد يقين رکھتے ہيں کہ يہ ہماري آنکھوں کا دھوکہ ہے , پنکھے کے پر يقينا موجود ہيں اور وہي گھوم کر ہميں ہوا دے رہے ہيں , ليکن جس شخص نے پنکھے کو ساکن حالت ميں نہ ديکھا ہو گا شايد وہ اس بات پر يقين نہ کرسکے ۔ يہ تو ايک پنکھے کي مثال ہے جسکي رفتار ويڈيو کيمرے سے کم ازکم پانچ گنا کم ہوتي ہے ۔ہماري اس بات کو وہ لوگ بخوبي سمجھتے ہيں جو" مووي ميکنگ اور ايڈيٹنگ" کے فن سے آشنا ہيں يا "کمپيوٹر کے سافٹ وير " ايڈوب فوٹو شاپ" کو اچھي طرح سے سمجھتے ہيں ۔[/FONT]
    [FONT=&amp]الغرض ويڈيو کيمرہ بھي متحرک تصوير نہيں بناتا ہے بلکہ وہ بھي ساکن تصاوير ہي کھينچتا ہے اور انہي کي " سلائيڈ " "شو" کرتا ہے ۔[/FONT]
    [FONT=&amp]اور ان کيمروں سے لي جانے والي تصاوير ميں عکس کا پہلو ہر گز نہيں پايا جاتا ہے کيونکہ يہ تصاوير عکس کے بر عکس کسي بھي وقت ديکھي جاسکتي ہيں , خواہ وہ شخص جسکي تصاوير لي گئي ہيں دنيا سے ہي کيوں نہ چل بسا ہو۔[/FONT]
    [FONT=&amp]رہي تيسرے گروہ کي اضطرار والي بات تووہ بھي بلکل غلط ہے !!![/FONT]
    [FONT=&amp]کيونکہ [/FONT]
    [FONT=&amp]اضطرار ميں ممنوعہ کاموں کو سرانجام دينے کي جو رخصت اللہ نے دي ہے اس ميں بھي قيد لگا ئي ہے کہ "[/FONT][FONT=&amp]غَيْرَ بَاغٍ وَلاَ عَادٍ[/FONT][FONT=&amp] "[البقرة : 173] نيز فرمايا "[/FONT][FONT=&amp]غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِّإِثْمٍ[/FONT][FONT=&amp]" [المائدة : 3] , يعني بوقت اضطرار , بقدر اضطرار ممنوع وحرام کي رخصت ہے , وقت اضطرار کے بعد يا قدر اضطرار سے زائد نہيں !!![/FONT]
    [FONT=&amp]اور پھر شريعت نے لفظ " ضرورۃ " نہيں بلکہ " اضطرار" بولا ہے۔ اور فقہي قاعدہ " الضرورات تبيح المحظورات" انہي آيات سے مستفاد ہے اور اس ميں بھي لفظ ضرورت کا معنى اضطرار ہي ہے ۔[/FONT]
    [FONT=&amp]اضطرا ہوتا کيا ہے ؟ يہ سمجھنے کے ليے ہم انہي آيات پر غور کريں جن ميں يہ لفظ استعمال ہوا ہے تو بات بہت واضح ہو جاتي ہے ۔[/FONT]
    [FONT=&amp]اللہ تعالى فرماتے ہيں : " [/FONT][FONT=&amp]إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللّهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلاَ عَادٍ فَلا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ [/FONT][FONT=&amp]" [البقرة : 173] يقينا تم پر صرف اور صرف مردار , خون , خنزير کا گوشت اور غير اللہ کے ليے پکارا گيا (ذبيحہ وغيرہ) حرام کيا گيا ہے , تو جو شخص مجبور ہو جائے ,حدسے بڑھنے والا اور دوبارہ ايسا کرنے والا نہ ہو تو اس پر کوئي گنا ہ نہيں ہے يقينا اللہ تعالى بہت زياد ہ مغفرت کرنيوالا اور نہايت رحم کرنيوالا ہے ۔[/FONT]
    [FONT=&amp] اس آيت سے يہ بات واضح ہو جاتي ہے کہ بھوک کي وجہ سے اگر کوئي شخص مجبور ہو جائے اور اسکي دسترس ميں کوئي حلال چيز نہ ہو , اور بھوک کي بناء پر اسکي زندگي کو خطرہ لاحق ہو اور حرام کھانے سے اسکي جان بچ سکتي ہو تو اسکے ليے رخصت ہے کہ جسقدر حرام کھانے سے اسکي جان بچ سکتي ہے صرف اسقدر حرام کھالے اس سے زائد نہ کھائے , پيٹ بھرنا شروع نہ کردے اور پھر دوبارہ اس حرام کي طرف نگا ہ اٹھا کر بھي نہ ديکھے ۔[/FONT]
    [FONT=&amp]جبکہ دين کي دعوت و تبليغ کے ليے يہ کوئي مجبوري نہيں ہے کہ ويڈيو بنائي جائے , اور دعوت دين ويڈيو کے ذريعہ نہيں آڈيو کے ذريعہ ہي ہوتي ہے حتى کہ ويڈيو ميں نظر آنے والے عالم دين کي تصوير لوگوں کو راہ ہدايت پرلانے کا باعث نہيں بني ہے بلکہ اسکي آواز ميں جو دلائل کتاب وسنت کے مذکور ہوتے ہيں وہ کسي بھي شخص کے راہ ہدايت اختيار کرنے يا حق بات پر عمل کرنے کا باعث بنتے ہيں ۔[/FONT]
    [FONT=&amp]يادر ہے کہ ہم مطلقا ويڈيو يا تصاوير کے خلاف نہيں ہيں اور نہ ہي کوئي صاحب علم مطلقا تصوير يا ويڈيو کو ناجائز کہہ سکتا ہے , کيونکہ ممنوع صرف ذي روح جانداروں کي تصاوير ہيں , بس ويڈيو ميں ذي روح کي تصاوير نہ ہوں تو اسکي حلت ميں کسي قسم کا کوئي اشکال باقي نہيں رہتا ہے ۔[/FONT]
    [FONT=&amp]مذکورہ بالا دلائل کي رو سےيہ بات روز روشن کي طرح عياں ہوجاتي ہے کہ تصوير کي جديد ترين تمام تر صورتيں ناجائز ہيں ان صورتوں ميں سے کسي کوبھي اپنا کر ذي روح کي تصوير کشي نہيں جاسکتي ہے اور يہ تصا وير ہي ہيں عکس نہيں , اور دعوت دين کے بہانے انہيں اضطرار قرار دينا فہم کا سہو ہے ۔ [/FONT]
    [FONT=&amp]ھذا , واللہ تعالى أعلم , وعلمہ أکمل وأتم , ورد العلم إليہ أسلم , والشکر والدعاء لمن نبہ وأرشد وقوم[/FONT]
     
    • شکریہ شکریہ x 13
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  2. ‏مارچ 16، 2012 #2
    Muhammad Waqas

    Muhammad Waqas مشہور رکن
    جگہ:
    فیصل آباد
    شمولیت:
    ‏مارچ 12، 2011
    پیغامات:
    356
    موصول شکریہ جات:
    1,595
    تمغے کے پوائنٹ:
    139

    ماشاءاللہ ! رفیق بھائی نے بہت ہی خوب دلائل دے کر بات سمجھا دی اور تمام شکوک رفع کر دئیے۔
     
  3. ‏مارچ 16، 2012 #3
    Muhammad Waqas

    Muhammad Waqas مشہور رکن
    جگہ:
    فیصل آباد
    شمولیت:
    ‏مارچ 12، 2011
    پیغامات:
    356
    موصول شکریہ جات:
    1,595
    تمغے کے پوائنٹ:
    139

    شراب حرام ہے چاہے بھٹی میں بنے یا جدید ترین مشینری کے ذریعے۔اب اگر کوئی شخص یہ کہے کہ بھٹی والی شراب حرام ہے اور جدید مشینری میں بنی حلال کیونکہ جب شراب حرام ہوئی تھی تو اس وقت بھٹی والی شراب ہی ہوا کرتی تھی !!!
    یہی مثال تصویر پر بھی فٹ کر لیں نتیجہ برابر ہو گا۔
    اسی طرح کے اصول جاوید احمد غامدی صاحب وضع کرتے ہیں اور لوگوں کے لئے سب حلال قرار دے دیتے ہیں۔
     
  4. ‏مارچ 16، 2012 #4
    muslim

    muslim رکن
    جگہ:
    کراچی پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 29، 2011
    پیغامات:
    467
    موصول شکریہ جات:
    567
    تمغے کے پوائنٹ:
    86

    السلام علیکم۔

    نيز فرمايا :إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُصَوِّرُونَ [ صحيح بخاري كتاب اللباس باب عذاب المصورين يوم القيامة (5950)]
    الله کے ہاں قيامت کے دن سب سے سخت عذاب تصويريں بنانے والوں کو ہوگا۔


    مندرجہ بالا حدیث، درج زیل قرانی آیت سے متصادم نظر آرہی ھے۔
    اہل علم وضاحت فرمایئں۔



    يَعْمَلُونَ لَهُ مَا يَشَاءُ مِن مَّحَارِيبَ وَتَمَاثِيلَ وَجِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَقُدُورٍ رَّاسِيَاتٍ ۚ اعْمَلُوا آلَ دَاوُودَ شُكْرًا ۚ وَقَلِيلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ ﴿٣٤-١٣﴾

    جو کچھ سلیمان چاہتے وه جنات تیار کردیتے مثلا قلعے اور مجسمے اور حوضوں کے برابر لگن اور چولہوں پر جمی ہوئی مضبوط دیگیں، اے آل داؤد اس کے شکریہ میں نیک عمل کرو، میرے بندوں میں سے شکرگزار بندے کم ہی ہوتے ہیں -


    کئی علماء نے تَمَاثِيلَ کا ترجہ تصویریں بھی کیا ھے۔
     
  5. ‏مارچ 16، 2012 #5
    muslim

    muslim رکن
    جگہ:
    کراچی پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 29، 2011
    پیغامات:
    467
    موصول شکریہ جات:
    567
    تمغے کے پوائنٹ:
    86



    اگر یہ ترجمہ درست ھے تو تصویریں بنوانا نبی کی سنت ھے۔
     
  6. ‏مارچ 16، 2012 #6
    Muhammad Waqas

    Muhammad Waqas مشہور رکن
    جگہ:
    فیصل آباد
    شمولیت:
    ‏مارچ 12، 2011
    پیغامات:
    356
    موصول شکریہ جات:
    1,595
    تمغے کے پوائنٹ:
    139

    مندرجہ ذیل آیت پر غور فرمائیں
    وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَخَرُّوا لَهُ سُجَّدًا وَقَالَ يَا أَبَتِ هَذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَايَ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّي حَقًّا وَقَدْ أَحْسَنَ بِي إِذْ أَخْرَجَنِي مِنَ السِّجْنِ وَجَاءَ بِكُمْ مِنَ الْبَدْوِ مِنْ بَعْدِ أَنْ نَزَغَ الشَّيْطَانُ بَيْنِي وَبَيْنَ إِخْوَتِي إِنَّ رَبِّي لَطِيفٌ لِمَا يَشَاءُ إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ ١٠٠-١٢

    ہماری شریعت میں غیر اللہ کو سجدہ حرام ہے جبکہ اس آیت سے واضح ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی شریعت میں سجدہ تعظیمی جائز تھا۔
    اسی طرح پہلی شریعتوں میں دو سگی بہنیں ایک ہی شخص کے نکاح میں ایک ہی وقت میں رہ سکتی تھیں مگر اب جائز نہیں۔اسی طرح کے اور بہت سے امور ہیں جو پہلے جائز تھے مگر اب نہیں۔
    لہذا آپ کی بیان کردہ آیت اور حدیث میں ایک تطبیق تو یہ ہو سکتی ہے کہ ہو سکتا ہے پہلے یہ عمل جائز ہو۔
    دوسری بات یہ ہے کہ اس آیت میں وضاحت نہیں کہ وہ مجسمے یا تصویریں جاندار اشیاء کے تھے یا بے جان اشیاء کے۔۔۔
    تیسری بات یہ ہے کہ اگر بظاہر کسی قرآنی آیت اور صحیح حدیث میں تعارض یا تصادم نظر آ بھی جائے تو یہ حقیقت میں ممکن نہیں کیونکہ دونوں وحی الہی ہیں اگر ہمیں سمجھنے میں غلطی لگ جائے تو یہ ہماری عقل کی کمزوری ہے۔
    مزید وضاحت علماء کرام ہی فرمائیں گے۔
     
  7. ‏مارچ 16، 2012 #7
    رفیق طاھر

    رفیق طاھر رکن مجلس شوریٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    ارض اللہ
    شمولیت:
    ‏مارچ 04، 2011
    پیغامات:
    790
    موصول شکریہ جات:
    3,974
    تمغے کے پوائنٹ:
    323

    اولا : ثماثیل کا لفظ تمثال کی جمع ہے اور تمثال ہر اس چیز کو کہا جاتا ہے جو کسی اصل کی نقل کی جائے ۔ تماثیل کا معنى مورتیاں کرنا غلط ہے ۔
    ثانیا : سلیمان علیہ السلام کے لیے کچھ کام جائز تھے جو بنی آدم میں سے اور کسی کے لیے جائز نہیں ! کہ انہوں نے کہا تھا " هَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي "
    ثالثا : اگر بفرض محال تمثال کا معنى مورتی یا مجسمہ مان بھی لیا جائے تو بھی یہ حرام کیونکہ یہ ان شرائع میں سے جنہیں اسلام نے منسوخ کر دیا ہے ۔
     
  8. ‏مارچ 17، 2012 #8
    احمد طلال

    احمد طلال مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2012
    پیغامات:
    26
    موصول شکریہ جات:
    78
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    اللہ کی تخلیق کی نقل سے مراد 'کلوننگ' ہے جو حرام ہے خصوصا انسانوں اور جانوروں کی کلوننگ ۔ جہاں تک تصویر کا معاملہ ہے تو اس میں سب کچھ حرام نہیں۔ حرام تصویر کشی سے مراد جانوروں اورانسانوں کی پینٹنگ بنانا ہے۔ یا پوجا کی خاطر تصویریں یا مورتیاں بنانا ہے خواہ وہ کیمرے سے بنی ہوں یا پینٹنگ ہوں۔ کیمرے سے جائزکاموں کے لئے انسانوں یا جانوروں کی تصویر بنانے میں کوئ حرج نہیں کیونکہ اس بارے میں منع کرنے والی کوئ آیت یا حدیث نہیں۔ کیمرہ جدید زمانے کی ایجاد ہے۔ جس طرح شیشے میں انسان کا عارضی عکس بنتاہے بالکل اسی طرح کیمرے میں عکس بنتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کیمرے میں بننےوالا عکس ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو جاتا ہے۔ اگر کیمرے کا استعمال حرام ہوتا تو اللہ اس ایجاد کو واضح الفاظ میں حرام کر دیتا۔ اس لئے جدید ایجادات کو اپنے اوپرحرام کر لینا کوئ عقل مندی نہیں۔ اسی کیمرے سے ریکارڈ شدہ لیکچرز دیکھ کر سینکڑوں غیر مسلم اسلام قبول کر چکے ہیں-
     
  9. ‏مارچ 17، 2012 #9
    رفیق طاھر

    رفیق طاھر رکن مجلس شوریٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    ارض اللہ
    شمولیت:
    ‏مارچ 04، 2011
    پیغامات:
    790
    موصول شکریہ جات:
    3,974
    تمغے کے پوائنٹ:
    323

    احمد طلال صاحب نے میری ساری بحث کو بغور نہیں پڑھا ہے ۔
    کیونکہ اگر پڑھا ہوتا تو وہ ایسی کوئی بات نہ کرتے جو کہ انہوں نے اب کی ہیں ۔ انکے تمام تر اشکالات کا جواب میری تحریر میں موجود ہے ۔
    بہر حال ہم انکی تشفی کے لیے صحیح بخاری سے اس باب میں نہایت ہی واضح الفاظ والی حدیث نقل کیے دیتے ہیں ملاحظہ فرمائیں :
    حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ أَخْبَرَنَا عَوْفٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا أَبَا عَبَّاسٍ إِنِّي إِنْسَانٌ إِنَّمَا مَعِيشَتِي مِنْ صَنْعَةِ يَدِي وَإِنِّي أَصْنَعُ هَذِهِ التَّصَاوِيرَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَا أُحَدِّثُكَ إِلَّا مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ سَمِعْتُهُ يَقُولُ مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فَإِنَّ اللَّهَ مُعَذِّبُهُ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ وَلَيْسَ بِنَافِخٍ فِيهَا أَبَدًا فَرَبَا الرَّجُلُ رَبْوَةً شَدِيدَةً وَاصْفَرَّ وَجْهُهُ فَقَالَ وَيْحَكَ إِنْ أَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تَصْنَعَ فَعَلَيْكَ بِهَذَا الشَّجَرِ كُلِّ شَيْءٍ لَيْسَ فِيهِ رُوحٌ
    صحیح بخاری کتاب البیوع باب بیع التصاویر التی لیس فیہا روح ۔۔۔۔ ح۲۲۲۵
    امام بخاری فرماتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی عبد اللہ بن وہب نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث سنائی یزید بن زریع نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی عوف نے وہ روایت کرتے ہیں سعید بن ابی سعید الحسن سے وہ کہتے ہیں کہ میں عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا کہ ایک شخص آیا اور کہنے لگا اے ابو عباس (یہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی کنیت تھی ) میں انسان ہوں اور میری معیشت میرے ہاتھ کی کاریگری میں ہے اور میں یہ تصاویر بناتا ہوں تو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تجھے صرف اور صرف وہی بات سناؤں گا جو میں نے رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی ۔ میں نے آپ صلى اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ جس نے بھی کوئی بھی تصویر بنائی تو اللہ تعالى اسے اسوقت تک عذاب دے گا جب تک وہ اس میں روح نہ پھونک لے اور وہ اس میں کبھی بھی روح نہ پھونک سکے گا ۔ (یہ سن کر) آدمی بہت زیادہ خوف زدہ ہوگیا اور اسکا چہرہ زرد ہوگیا ۔ تو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر تو نے لازما تصاویر ہی بنانی ہیں تو تو ان درختوں اور ہر غیر ذی روح چیز کی تصویر بنالے ۔

    اس حدیث سے انسانوں اور جانوروں کی پینٹنگ بنانا - اور دیگر جتنے بھی الفاظ بول لیے جائیں ان تصاویر پر - حرام ثابت ہو رہا ہے ۔
    خوب سمجھ لیں ۔
     
  10. ‏مارچ 17، 2012 #10
    محمد شاہد

    محمد شاہد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 18، 2011
    پیغامات:
    2,506
    موصول شکریہ جات:
    6,012
    تمغے کے پوائنٹ:
    447

    شیخ محترم رفیق طاہر صاحب آپ نے بہت اچہے دلائل دیئے ہیں جزاک اللہ مگر آج کے دور میں حج جیسی عظیم سعادت بہی تصویر کے بغیر کرنا ممکن نہیں کچہ اس کے بارے میں فرمائیں.
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں