1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا جھگڑا لڑائی کرکے دو رکعت نماز پڑھنے سے گناہ معاف ہوجاتا ہے ؟

'حدیث وعلومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از مقبول احمد سلفی, ‏جون 13، 2018۔

  1. ‏جون 13، 2018 #1
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,033
    موصول شکریہ جات:
    313
    تمغے کے پوائنٹ:
    177

    کیا جھگڑا لڑائی کرکے دو رکعت نماز پڑھنے سے گناہ معاف ہوجاتا ہے ؟
    مقبول احمد سلفی

    ایک بھائی نے سوال کیا ہے کہ
    کیا جھگڑا لڑائی کرکے دو رکعت نماز پڑھنے سے گناہ معاف ہوجاتا ہےکیونکہ میں نے یہ حدیث پڑھی ہے جسے شیخ البانی نے سلسلہ احادیث صحیحہ میں درج فرمایا ہے :
    عَنْ أَبِي هُرَيْرَة مَرْفُوعًا : تَكْفِيْر كُل لِحَاء رَكْعَتَان.(السلسلۃ الصحیحۃ:3689)
    ترجمہ: ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے: ہر جھگڑے (یا گالی ) کاكفارہ دو ركعتیں ہیں۔
    اس حدیث کی روشنی میں مجھے الجھن ہورہی ہے کہ کسی سے جھگڑا لڑائی کرنا حقوق العباد میں داخل ہے پھر کسی کا دل دکھاکر، کسی سے جھگڑا لڑائی کرکے ، کسی کو گندی گندی گالی دے کر ، کسی کو مارپیٹ کر دو رکعت نماز پڑھنے سے کیسے گناہ معاف ہوگا جبکہ بہت ساری احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ صرف نیکی کرنے سے حقوق العباد معاف نہیں ہوتے ،بندے کا حق واپس کرنا پڑتا ہے ۔ ذرا اس حدیث کی وضاحت کرکے میری الجھن دور کریں ، اللہ آپ کو اس کا بہتر بدلہ دے گا۔

    جواب : اس روایت کو شیخ البانی نے حسن قرار دیا ہے لیکن حقیقت میں یہاں شیخ البانی سے چوک ہوئی ہے ،اس روایت کو عبدالواحد بن قیس حضرت ابوہریرہ رضی اللہ سے روایت کرتےہیں اور عبدالوحد نے ابوھریرہ کو پایا ہی نہیں ہے ۔ خود شیخ البانی ؒ نے سلسلہ ضعیفہ میں انہیں مختلف فیہ قرار دیا ہے اور ان کی ایک روایت کوجسے عبادہ بن صامت سے روایت کرتے ہیں انقطاع کے سبب ضعیف قرار دیا ہے ۔ صالح بن محمد بغدادی کا قول نقل کرتے ہیں کہ عبدالواحد کی ابوھریرہ سے روایت آتی ہے جبکہ عبدالواحد کا ان سے سماع ثابت نہیں ہے اور ذہبی کا قول نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے ابوھریرہ کو نہیں پایا اس لئے ان کی روایت مرسل ہے ،انہوں نے عروہ اور نافع کو پایا ہے ۔ پھر آخر میں شیخ البانی کہتے ہیں کہ اس بنیاد پر کہ انہوں نے عبادہ بن صامت کو نہیں پایا ہےسند ااپنے ضعف کی وجہ سے منقطع ہوگی ۔ تفصیل کے لئے دیکھیں :
    سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرها السيئ في الأمة [2 /340]
    وہی عبدالواحد یہاں بھی اس روایت میں ابوھریرہ سے روایت ہیں تو شیخ البانی کے اصول سے ہی یہ روایت منطقع ہوجاتی ہے ۔ لہذا اس روایت سے دلیل نہیں پکڑی جائے گی ۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں