1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا خوارج کافر ہیں

'خوارج' میں موضوعات آغاز کردہ از سید طہ عارف, ‏اپریل 14، 2016۔

  1. ‏اپریل 23، 2016 #21
    طاہر اسلام

    طاہر اسلام سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 07، 2011
    پیغامات:
    843
    موصول شکریہ جات:
    725
    تمغے کے پوائنٹ:
    256

    خوارج کافر ہیں ، نہ منافق؛ایک گم راہ قوم ہیں:امیرالمومنین علی رضی اللہ عنہ
    خوارج انتہائی شریدہ سر لوگ تھے جنھوں نے صحابہ ٔ کرام رضی اللہ عنھم کی تکفیر کی اور ان سے برسرِ قتال ہوئے لیکن اس کے باوصف صحابہؓ نے انھیں کافر قرار نہیں دیا ۔یہ گروہ سیدنا علی ؓ کے عہد میں ظہور پذیر ہوا اور ان کے خلاف اعلان جنگ کر دیا؛نہروان کے مقام پر خوارج اور جناب امیر علیہ السلام کے مابین مشہور معرکہ لڑا گیا جس میں انھیں عبرت ناک شکست ہوئی تاہم ان کا مکمل خاتمہ نہ ہو سکا اور یہ لوگ اپنی ظالمانہ کاروائیوں میں مشغول رہے ؛یہاں تک کہ اسی ٹولے کے ایک بدبخت ملعون ابن ملجم کے ہاتھوں جناب علیؓ شہید ہوئے۔لیکن ان کی تمام تر ضلالت کے باوصف امیرلمومنین علیہ السلام نے انھیں کافر نہیں کہا؛چناں چہ جب ان سے دریافت کیا گیا:کیا یہ کافرہیں؟ انھوں نے جواب دیا:کفر ہی سے تو یہ بھاگ کر آئے ہیں! پھر سوال ہوا: کیا یہ منافق ہیں؟ فرمایا: منافق لوگ تو اللہ کا بہت ہی کم ذکر کرتے ہیں( جب کہ یہ کثرت سے ذکر الہٰی میں مگن رہتے ہیں)پو چھا گیا: پھر یہ کیا ہیں؟ جناب علی المرتضیٰ ؓ نے فرمایا:’’یہ ایسے لوگ ہیں جو فتنےمیں مبتلا ہو گئے اور اس میں اندھے بہرے ہو گئے۔ یہ ہمارے بھائی ہیں انھوں نے ہمارے خلاف بغاوت کی اور ہم سے بر سر پیکار ہو گئے ؛ سو ، ان کی سرکشی کی بنا پر پر ہم نے بھی ان سے جنگ کی۔‘‘ نیز سیدنا علی علیہ السلام خارجیوں سے فرمایا کرتے تھے:’’ تمھارے ہم پر تین حق ہیں: ایک یہ کہ ہم تمھیں مساجد میں آنے سے منع نہ کریں کہ تم یہاں ذکر الہٰی کر سکو؛ دوسرا یہ کہ ہم تم سے جنگ میں پہل نہ کریں؛ تیسرا یہ کہ جب تک تم ہمارا ساتھ دو ، ہم تمھیں مال فے سے محروم نہ کریں۔‘‘ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے ’’منھاج السنۃ ‘‘ لکھا ہے کہ حضرت علیؓ نے خوارج سے مسیلمہ کذاب اور دیگر مرتدوں والا معاملہ روا نہیں رکھا اور کسی صحابہؓ میں سے کسی نے ان سے اختلاف نہیں کیا جس سے معلوم ہوتا کہ صحابۂ کرام ر ضی اللہ عنھم اس امر پر متفق ہیں کہ خوارج دین اسلام سے مرتد نہ تھے۔واضح رہے کہ بعض محدثین نے ظاہر حدیث ( یَمْرُقُوْنَ مِنَ الدِّیْن ؛ وہ دین سے نکل جائیں گے)کی بنا پر خوارج کو کافر کہا ہے لیکن ان کا موقف کم زور ہے؛ اما م خطابیؒ نے کہا ہے کہ یہاں دین بہ معنی اطاعت ہے ؛ یعنی وہ حکام اسلام کے دائرۂ اطاعت سے نکل جائیں گے اور ان سے آمادۂ جنگ و قتال ہوں گے ؛ استاد گرامی محدث مبشر احمد ربانی حفظہ اللہ نے بھی اسی تاویل کو ترجیح دی ہے اور یہی قرین صحت ہے۔واللہ اعلم بالصواب( ۲۳ جمادی الاولیٰ ۱۴۳۷ھ)
     
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  2. ‏اپریل 23، 2016 #22
    طاہر اسلام

    طاہر اسلام سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 07، 2011
    پیغامات:
    843
    موصول شکریہ جات:
    725
    تمغے کے پوائنٹ:
    256

    خوارج کی اقتدا میں نماز اور صحابہؓ کا طرز ِعمل
    شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ لکھتے ہیں : ’’ صحابہؓ نے خوارج کو کافر نہیں کہا ؛ اس امر کی ایک دلیل یہ ہے کہ وہ ان کے پیچھے نمازیں پڑھتے تھے ؛ چناں چہ سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ اور دیگر صحابہؓ نے نجدہ الحروری [امام خوارج] کی اقتدا میں نمازیں ادا کی ہیں ۔ ‘‘
    وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الصَّحَابَةَ لَمْ يُكَفِّرُوا الْخَوَارِجَ أَنَّهُمْ كَانُوا يُصَلُّونَ خَلْفَهُمْ، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَغَيْرُهُ مِنَ الصَّحَابَةِ يُصَلُّونَ خَلَفَ نَجْدَةَ الْحَرُورِيِّ ۔ (منهاج السنة النبوية 5/ 247
     
    • علمی علمی x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏اپریل 23، 2016 #23
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,370
    موصول شکریہ جات:
    1,082
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    جزاك الله خيراً
    اللہ آپکے علم وعمل میں برکت عطا فرماۓ.
    آمین
     
  4. ‏اپریل 23، 2016 #24
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    735
    موصول شکریہ جات:
    135
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    جزاک اللہ خیرا
     
  5. ‏مئی 02، 2016 #25
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,339
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    خطابی وغیرہ نے جو تاویل کی ہے ، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کا صراحت سے رد کرتے ہوئے وہ احادیث پیش کی ہیں ، جو اس تاویل کے باطل ہونے پر دلالت کرتی ہیں ۔ و اللہ اعلم ۔
     
  6. ‏مئی 04، 2016 #26
    طاہر اسلام

    طاہر اسلام سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 07، 2011
    پیغامات:
    843
    موصول شکریہ جات:
    725
    تمغے کے پوائنٹ:
    256

    یہ تاویل ہر گز باطل نہیں ہے ؛ عمومی طور پر خوارج کو کافر نہیں کہا سلف یا صحابہؓ نے البتہ بعض نے معین طور پر کافر کہا ہو یہ ممکن ہے جیسا کہ ایک صحابیؓ کا قول ملتا ہے لیکن اسے بھی بعض غالی افراد یا گرہوں تک محمومل کیا جائے گا ؛ بہ حیثیت مجموعی سلف کا نقطۂ نظر میں نے امام ابن تیمیہؓ کے حوالے سے پیش کر دیا ہے ۔
     
    • پسند پسند x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  7. ‏مئی 05، 2016 #27
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,339
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی گفتگو سے تو یہی واضح ہوتا ہے کہ یہ تاویل درست نہیں ، جو اہل علم یہ تاویل کرتے ہیں ، انہوں نے حافظ ابن حجر کی بات اور ان کی طرف سے پیش کردہ احادیث کا کیا جواب دیا ہے ؟
     
  8. ‏مئی 06، 2016 #28
    طاہر اسلام

    طاہر اسلام سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 07، 2011
    پیغامات:
    843
    موصول شکریہ جات:
    725
    تمغے کے پوائنٹ:
    256

    میرے سامنے یہ اقتباس موجود نہ تھا تاہم اس سے بھی حافظ ابن حجر ؒ کا جو موقف سامنے آتا ہے وہ جمہور سے مختلف نہیں ہے ؛ توجیہ مختلف ہے ، نتیجہ ایک ہے ۔ علامہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ دین سے اطاعت کے بجاے مذہب اسلام ہی مراد ہے کیوں کہ دوسری حدیث میں لفظ اسلام بھی وارد ہوا لیکن اس کے باوجود انھوں نے اسے زجر و توبیخ پر محمول کیا ہے :
    وخرج الكلام مخرج الزجر
    اس سے پتا چلتا ہے کہ وہ بھی انھیں کافر نہیں کہتے ۔
    اگرچہ حافظ صاحب موصوف کی توجیہ کا یہ جواب بھی میرے ذہن میں آتا ہے کہ اسلام سے مراد بھی تو اطاعت ہی ہے یعنی دائرہ اطاعت سے نکلیں گے اور اس کی تائید صحابہ کرامؓ کے طرز عمل سے ہوتی ہے جیسا کہ اوپر ابن تیمیہ کے حوالے سے میں نے نقل کر دیا ہے ؛ واللہ اعلم
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں