1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا سلفیت فقہی مذاہب پڑھنے سے مانع ہے؟

'سلفیت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏نومبر 19، 2016۔

  1. ‏نومبر 19، 2016 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    کیا سلفیت فقہی مذاہب پڑھنے سے مانع ہے؟

    سوال: سلفیت کے بارے میں یہ باتیں اڑائی جا رہی ہیں کہ یہ فقہی مذاہب کو مسترد کرنے کا نام ہے، اس کے حاملین قرآن و سنت سے براہِ راست مسائل اخذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    Published Date: 2015-09-11

    الجواب :

    الحمد للہ:

    سلف صالحین کے منہج پر کار فرما اور کتاب و سنت کو دلیل بنانے کی دعوت دینے والے کسی بھی فقہی مذہب سے تعصب رکھنے کی دعوت نہیں دیتے، اور نہ ہی فقہی مذاہب کی کتب کو پڑھنے سے منع کرتے ہیں، اور نہ ہی اہل علم کی علمی آراء و اجتہادات کو عدم توجہ کا نشانہ بناتے ہیں۔

    حقیقت یہ ہے کہ ان کی دعوت کو سمجھنے کیلئے متعدد بنیادی باتیں ہیں جو کہ درج ذیل ہیں:

    1- فقہی مذاہب کے اہل علم اور ائمہ کرام بذاتہ خود دلیل نہیں ہیں، اور اس بات پر سب مسلمانوں کا اتفاق ہے۔

    چنانچہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    کتاب و سنت سے واقف تمام اہل علم اس بات پر متفق ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ ہر شخص کی بات قبول بھی کی جا سکتی ہے اور رد بھی کی جاسکتی ہے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی ہر خبر کی تصدیق، اور ہر حکم کی تعمیل کرنا ضروری ہے، کیونکہ آپ ہی وہ شخصیت ہیں کہ جو بھی آپ کی زبان سے لفظ نکلتا ہے وہ خواہش پرستی نہیں ہوتی بلکہ وہ وحی ہوتی ہے" انتہی
    " منهاج السنة " ( 6 / 190 – 191 )

    2- حق بات مذاہب اربعہ میں محصور نہیں ہے، بلکہ حق بات وہی ہے جس پر شرعی نصوص ہوں۔

    ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    "اہل سنت میں سے کوئی بھی اس بات کا قائل نہیں ہے کہ ائمہ اربعہ کا اجماع حجت اور غلطی سے پاک ہے، بلکہ کسی نے یہ بھی نہیں کہا کہ حق بات انہی چار مذاہب میں ہے، چنانچہ جو ان چاروں کی مخالفت کریگا وہ باطل ہے، لہذا اگر کوئی فقیہ جو ان چاروں ائمہ کرام کے پیرو کاروں میں سے نہیں ہے مثلاً: سفیان ثوری، اوزاعی، لیث بن سعد، یا ان سے پہلے اور بعد کا کوئی مجتہد ائمہ اربعہ کی مخالفت میں کوئی بات کہہ دے تو اس بات کو اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کی روشنی میں دیکھا جائے گا، اس لیے راجح صرف وہی بات ہوگی جو دلیل کی بنیاد پر کہی جائے گی" انتہی
    " منهاج السنة " (3 / 412)

    3- کسی بھی مسئلہ کے بارے میں دلیل کا مطالبہ کرنا کتاب و سنت کے دلائل سمجھنے کی استطاعت رکھنے والے کیلئے ضروری ہے، تاہم جو شخص کتاب و سنت کی نصوص کو خود بخود نہیں سمجھ سکتا تو وہ ان مذاہب میں سے کسی مذہب کے عالم کی بات کو دلیل مانگے بغیر قبول کر سکتا ہے، شرط یہ ہے کہ وہ اس عالم کے علم اور دینی حیثیت پر مکمل اعتماد کر سکتا ہو، لہذا عامی شخص کیلئے یہی واجب ہے، کیونکہ فرمانِ باری تعالی ہے:

    ( فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ )
    ترجمہ: حسب استطاعت اللہ تعالی سے ڈرو۔[التغابن:16]

    اسی طرح فرمایا:

    ( لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا )
    ترجمہ: اللہ تعالی کسی کو اس کی طاقت سے بڑھ کر کسی چیز کا مکلف نہیں بناتا۔[البقرة :286]

    شیخ محمد امین شنقیطی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    "اندھی تقلید کیلئے حقیقی طور پر مجبور شخص یعنی جو خود سے کوئی بات قرآن و سنت کی سمجھ نہیں سکتا، کیونکہ سمجھنے کیلئے اس کے پاس وسائل[عربی زبان وغیرہ] نہیں ہیں، یا سمجھ تو سکتا ہے لیکن سخت مجبوریوں کی وجہ سے شرعی علوم حاصل نہیں کر سکا، یا پھر ابھی ابتدائی تعلیمی مراحل بتدریج عبور کر رہا ہے، تو ایسا شخص مذکورہ تقلید کر سکتا ہے، کیونکہ کوئی بھی شخص بیک وقت سارا علم حاصل نہیں کر سکتا، چنانچہ ضرورت کی بنا پر اندھی تقلید کیلئے اسے معذور سمجھا جائے گا، کیونکہ اس کے بغیر کوئی چارہ ہی نہیں ہے۔

    لیکن علم حاصل کرنے کی استطاعت رکھنے ولا شخص اور امتی کے نظریے کو علم وحی پر فوقیت دینے والا شخص معذور نہیں ہے" انتہی
    " أضواء البيان " (7 / 588)

    4- اہل علم اور تشنگان علم کیلئے فقہی مذاہب کو بھی پڑھنا چاہیے، اس کی درج ذیل وجوہات ہیں:

    - فقہی مذاہب کے اقوال اور دلائل پر نظر نہ رکھنے سے متفقہ اور اختلافی نکات معلوم نہیں ہونگے، اور اس طرح ایسے مسائل میں اختلاف پیدا ہوگا جن کے بارے میں پہلے ہی مسلمانوں کا اتفاق ہے، جس کی وجہ سے سبیل المؤمنین کی اتباع بھی جاتی رہے گی۔

    سیوطی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    "اجتہاد کی شرط یہ ہے کہ : صحابہ اور بعد میں آنے والے اہل علم کے اقوال کا علم ہو، متفقہ اور اختلافی نکات سے آگہی ہو، تا کہ اپنا کوئی موقف اپناتے ہوئے سابقہ اجماع کی مخالفت نہ ہو" انتہی
    " صون المنطق " ( ص 47 )

    شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    "جو لوگ براہِ راست احادیث سے مسائل اخذ کرتے ہیں علمائے کرام کی شرعی مسائل سے متعلق گفتگو کو سامنے نہیں رکھتے۔۔۔ ان کے ہاں عجیب و غریب مسائل ہوتے ہیں، جن کے بارے میں آپ وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ اجماع کے خلاف ہیں، یا کم از کم آپ کے ذہن میں غالب گمان یہی رہے گا کہ یہ اجماع کے خلاف ہیں، اس لیے انسان کو چاہیے کہ اپنی فہم و فراست کو فقہائے کرام کی تحریروں کیساتھ منسلک کرے، لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ آپ فقہائے کرام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا درجہ دے دیں کہ صرف انہی کے موقف کو اپنایا جائے دوسروں کو رد کر دیا جائے" انتہی
    " مجموع فتاوى ابن عثیمین " (26 / 177)

    - تمام اہل علم کی رائے جاننا بہت ہی ضروری چیز ہے؛ تا کہ کسی مسئلے اور فہم نص کے متعلق کوئی انوکھا موقف نہ اپنا لے جو اس سے پہلے کسی نے نہ کہا ہو، اس طرح وہ سلف کے فہم کی مخالفت میں پڑ جائے گا۔

    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    "ہر ایسی بات جو کسی بعد میں آنے والے شخص نے کہی ہو جو پہلے کسی نے نہیں کہی، تو یہ غلط ہوگا، جیسے کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کہتے ہیں: "اپنے آپ کو کسی مسئلے کے بارے میں ایسا موقف اپنانے سے دور ہی رکھنا جس کے بارے میں آپ کو سلف کی تائید حاصل نہ ہو" انتہی
    " مجموع الفتاوى " (21 / 291)

    - فقہی مسائل میں بہت سے ایسے مسائل ہیں جن کے بارے میں کتاب و سنت سے واضح دلیل موجود ہے، تاہم کسی عالم کیلئے پورے ذخیرہ احادیث کو ازبر کرنا مشکل ہے، پھر بھی بفرض محال اگر کوئی یاد کر بھی لے تو پورے ذخیرہ حدیث کو کسی بھی مسئلہ کی تلاش کے دوران حاضر دماغ رکھنا بہت ہی مشکل ہے، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ احکام سے متعلقہ احادیث معتاد جگہوں سے ہٹ کر کسی اور جگہ بھی پائی جا سکتی ہیں ، اس لیے فقہی مذاہب کی کسی مسئلہ کے بارے میں آراء پر نظر دوڑانے سے ، اور ان کے دلائل کا مطالعہ اور ان کی محنتوں سے استفادہ کرنے پر ہزاروں سالوں کی محنت کا خلاصہ آپ کے سامنے آجائے گا، اور اس مسئلے سے متعلق تمام دلائل بھی یکجا جمع ہو جائیں گے، اسی طرح آپ کو آراء کے مابین مقارنہ ، موازنہ اور ترجیح دینے میں بھی آسانی ہوگی، اور اسی کو "فقہ المقارن" کہتے ہیں۔

    اور بہت سے فقہی جزوی مسائل ہیں جن کے بارے میں صریح نصوص موجود نہیں ہیں، چنانچہ ان کے لئے اجماع، قیاس، اور استصحاب کے ذریعے دلائل اخذ کیے جاتے ہیں، چنانچہ اگر کوئی انسان ذاتی رائے پر اکتفا کرے، اور فقہی مذاہب کی کتب سے استفادہ نہ کرے ، ان کے دلائل پر نظر نہ رکھے ، اور راجح موقف تلاش کرنے کیلئے جتنی بھی محنت کر لے پھر بھی ایک مجتہد معرفتِ حق کیلئے تگ و دو کا حق ادا نہیں کرسکتا۔

    شیخ محمد امین شنقیطی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    "ایسے مسائل جن کے بارے میں نص نہیں ہے تو درست بات یہی ہے کہ اس بارے میں فقہی مذاہب کے ائمہ کرام کے اجتہادات کو دیکھیں، اور یہ عین ممکن ہے کہ ان کا اجتہاد ہمارے اجتہاد سے بہتر ہو کیونکہ ان کے پاس ہم سے زیادہ علم اور تقوی تھا" انتہی
    " أضواء البيان " (7 / 589)

    واللہ اعلم.

    اسلام سوال و جواب

    https://islamqa.info/ur/230985
     
    • پسند پسند x 2
    • علمی علمی x 2
    • لسٹ
  2. ‏نومبر 19، 2016 #2
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    اوپر کے دونوں پیراگرافس کو ”بغور“ پڑھیں فرق صاف ظاہر ہے۔

    اللہ کرے یہ بات نام نہاد اہلحدیث ”مجتہدین“ کی سمجھ میں آجائے۔
     
    • ناپسند ناپسند x 4
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 2
    • لسٹ
  3. ‏نومبر 20، 2016 #3
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کو کیوں نہیں مانتے؟

    سنن الترمذي: أَبْوَابُ الصَّلَاةِ:
    حَدَّثَنَا هَنَّادٌ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ
    أَلَا أُصَلِّي بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ۔ [حكم الألباني] صحيح
    عبد اللہ ابنِ مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی نماز نہ پڑھ کر دکھاؤں؟ پس انہوں نے نماز پڑھی اور سوائے شروع کی رفع الیدین کے اور کہیں بھی رفع الیدین نہ کی۔
    سنن النسائي: كِتَابُ التَّطْبِيقِ:
    قَالَ الْبُخَارِي أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ الْمَرْوَزِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ
    أَلَا أُصَلِّي بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً۔ [حكم الألباني] صحيح
    عبد اللہ ابنِ مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی نماز نہ پڑھ کر دکھاؤں؟ پس انہوں نے نماز پڑھی اور سوائے شروع کی رفع الیدین کے اور کہیں بھی رفع الیدین نہ کی۔

    مسنون چونکہ یہی تھا کہ نماز میں رفع الیدین نہ کی جائے اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب صحابہ کرام کو غلطی سے رفع الیدین کرتے دیکھا تو شدید غصے ہوئے ملاحظہ فرمائیں؛
    صحيح مسلم: كِتَابُ الصَّلَاةِ: بَابُ الْأَمْرِ بِالسُّكُونِ فِي الصَّلَاةِ:
    جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ؟ اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ»۔
    رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو نماز میں رفع الیدین کرتے دیکھ کر فرمایا کہ یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں کہ شریر گھوڑوں کی دموں کی طرح تم لوگ نماز میں رفع الیدین کر رہے ہو؟ حکم فرمایا کہ نماز میں سکون سے رہو۔
     
  4. ‏نومبر 20، 2016 #4
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,357
    موصول شکریہ جات:
    1,079
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    کیا ہر جگہ وہی راگ الاپنا ضروری ہے؟؟
     
  5. ‏نومبر 20، 2016 #5
    تلمیذ

    تلمیذ مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 12، 2011
    پیغامات:
    765
    موصول شکریہ جات:
    1,503
    تمغے کے پوائنٹ:
    191

    استغفر اللہ
    حدیث دوبارہ بتانا راگ الاپنا ہے
    یہ وہ ہیں جو اپنے آپ کو اہل حدیث کہتے ہیں
    یہ جملہ کوئی حنفی کہتا تو آسمان سر پر اٹھالیتے
     
  6. ‏نومبر 20، 2016 #6
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    شکریہ۔ ان صاحب کو دین نہیں دنیا کی پڑی ہے۔
     
  7. ‏نومبر 20، 2016 #7
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    حدیث کو راگ الاپنا ، انہوں نے کب کہا ؟
    رفع الیدین ، فاتحہ خلف الامام ، تقلید ، عدم تقلید وغیرہ ہرجگہ پر بھٹی صاحب ایک ہی بات شروع کر لیتے ہیں ، اس پر اگر یہ جملہ بولا گیا ہے تو کوئی غیر مناسب بات نہیں ۔
    کوشش کرکے ہر تھریڈ میں اس کے مطابق بات کرنی چاہیے ، فقہی مذاہب کے تناسب والے تھریڈ میں وہی باتیں ، سلفیت کا فقہی مذاہب کے حوالے سے کیا رویہ ہے ، اس میں بھی وہی باتیں ، اتباع سنت کے نام سے شروع ہونے تھریڈز میں بھی وہی باتیں ، نماز کسی مسائل پر شروع کیے گئے تھریڈ میں بھی وہی ڈھاک کے تین پات ۔
    ایسے میں اگر کوئی تنقید کرکے تو اپنا رویہ درست کرنا چاہیے ، نہ کہ اسے حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف موڑ کر موضوع غلط کرنا چاہیے ۔
    اور اس میں یہ بھٹی صاحب ہی نہیں ، اور کئی اراکین اس طرز عمل کا اظہار کرتے ہیں ، بھٹی صاحب کی پوسٹیں چونکہ زیر نگرانی رہتی ہیں ، اس لیے نسبتا دیگر اراکین کے سامنے ذرا اچھی تصویر آتی ہے ، ورنہ دوسروں کی طرح ان کے پاس بھی کھلی چھٹی ہو تو منظر ذرا مختلف ہو ۔
     
    • متفق متفق x 5
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  8. ‏نومبر 20، 2016 #8
    تلمیذ

    تلمیذ مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 12، 2011
    پیغامات:
    765
    موصول شکریہ جات:
    1,503
    تمغے کے پوائنٹ:
    191

    اگر کسی نے حدیث کے حوالہ سے کوئی غیر متعلق بات مکرر کہی تو حدیث سے محبت کا تقاضہ ہے کہ اس کو راگ الاپنا جیسے الفاظ سے نہ تعبیر کیا جائے بلکہ مناسب انداز میں تکرار کرنے سے منع کیا جائے
    مزید اگر کوئی اور بھی اس زبان میں بات کر رہا ہے تو اس سے عمر اثری صاحب کے جملہ کو تقویت نہیں مل سکتی
     
  9. ‏نومبر 20، 2016 #9
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    آپ کی بات سے اتفاق ۔
    لیکن میں سمجھتا ہوں ، انہوں نے حدیث کے متعلق یہ کہا ہی نہیں ۔
    مزید خود ، ان کی وضاحت کا انتظار کرلیتے ہیں ۔
     
    • پسند پسند x 3
    • متفق متفق x 2
    • لسٹ
  10. ‏نومبر 21، 2016 #10
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,357
    موصول شکریہ جات:
    1,079
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    استغفر اللہ!
    محو حیرت ہوں کہ آپ بھی اس طرح سے عبارت کا غلط مطلب نکالنے لگے؟؟؟
    محترم بھٹی صاحب سے تو میں اس طرح کی باتوں کی امید رکھتا ہوں لیکن محترم آپ سے مجھے اس طرح کی بات کی امید قطعا نہیں تھی.
    افسوس ہوا. بہت زیادہ افسوس.
     
    • پسند پسند x 3
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں