1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کیا کفر اور شرک کا مرتکب کافر اور مشرک نہیں ہوتا؟

'بدعی عقائد' میں موضوعات آغاز کردہ از شاہد نذیر, ‏مارچ 13، 2013۔

  1. ‏مارچ 16، 2013 #21
    تلمیذ

    تلمیذ مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 12، 2011
    پیغامات:
    765
    موصول شکریہ جات:
    1,503
    تمغے کے پوائنٹ:
    191

    میرا اور شاہد نذیر صاحب کا اتفاق اس فورم پر شاہد ہی کسی موضوع پر ہوا لیکن یہ واحد موضوع جس پر میرا اور شاہد نذیر صاحب کا اتفاق ہے ۔
    تکفیر معین کے معاملہ میں میرا نظریہ بھی یہ ہے کہ اگر ایک شخص شرکیہ عقائد کا حامل ہے تو وہ مشرک ہی ہے ۔ البتہ اس میں اتنی احتیاط کی ضرورت ہے صرف اس کے کلام کے الفاظ پر شرک کا فیصلہ نہ کیا جائے بلکہ اس سے کچھ وضاحت مانگی جائے۔ مثلا بریلوی حضرات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عالم الغیب مانتے ہیں ۔ لیکن اگر ان سے وضاحت طلب کی جائے تو مختلف جواب ملتے ہیں
    بعض بریلوی کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اتنا علم ہی تھا جتنا اللہ تبارک و تعالی نے دیا لیکن چوں وہ علم غیب کے خزانے سے دیا اس لئيے ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عالم الغیب کہتے ہیں
    بعض کہتے ہیں کہ نہیں ان کے پاس ہر چیز کا علم ہے ۔ میری ایک بریلوی سے بات ہوئی تو اس نے یہی بات کہی اور جب میں نے اس سے کہا اس طرح تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ تبارک و تعالی برابر ہوگئے تو کا اس کہنا تھا کہ شاگرد کبی بھی استاد کے برابر نہیں ہو سکتا ۔ اس کا عقیدہ یہ تھا اللہ تبارک و تعالی ما کان و ما یکون کا علم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کردیا تھا ۔ میرے نذدیک یہ عقیدہ شرکیہ ہے اور ایسے شرکیہ عقیدہ کا حامل شخص مشرک ہے ۔
    اب یہاں تکفیر معین کے حوالہ کچھ موانع گنوائے جاتے ہیں
    مثلا ایک مانع ہے جہالت ،
    میرا نظریہ ہے کہ اگر جہالت کی وجہ سے کسی کلمہ گو مسلمان کی تکفیر معین نہیں کی جائے گی تو پھر کئي عیسائیوں اور یہودیوں کی بھی تکفیر نہیں کی جاسکتی ۔ جہالت کا مانع تو وہاں بھی آسکتا ہے

    یہاں شاہد نذیر صاحب نے جس طرح علماء پر تنقید کی ہے وہ غلط ہے ۔ میرا ذاتی طرز عمل اس طرح کا ہے میں بریلوی اور شیعہ حضرات کے ساتھ تعامل مشرکین کا سا رکھتا ہوں مثلا ہمارے ہاں ایک مرغی والا ہے اس نے اپنی دکان پر یا غوث الاعظم المدد لکھ رکھا ہے ۔ میں اس کے ذبیحہ کو جائز نہیں سمجھتا اور وہاں سے مرغی کا گوشت نہیں خریدتا ۔
    اسی طرح شرکیہ عقائد کے حامل افراد کے پیچھے نماز نہیں پڑھتا۔
    اسی طرح بریلوی اور شیعہ حضرات کے ساتھ قربانی کے حصوں میں شامل نہیں ہوتا
    میرا ذاتی عمل صرف احتیاط کی وجہ سے ہے
    اب جہاں تک تکفیر معین کے سلسے میں علماء کرام کا موقف ہے تو مجھے اس سے اختلاف ضرور ہے لیکن نہ میں ان پر تنقید کرتا ہوں اور نہ اس مسئلہ کو عوامی جگہ پر اچھالتا ہوں۔
    میں سمجتھا ہوں کہ یہ ممکن نہیں علماء کی کثیر تعداد کوئی علطی کر رہی ہو اور ایک مسئلہ کو سمجھ نہ سکی اور میں اس مسئلہ کو سمجھ گيا ہوں ۔ اس لئیے میں تکفیر معین کے مسئلہ پر علماء کرام سے تعارض کیے بغیر احتیاطا اپنے نظریہ پر عمل کرتا ہوں
    اور میری شاہد نذیر صاحب سے گذارش ہے آپ اپنا تعامل شرکیہ عقائد کے حامل کے کے ساتھ مشرکوں والا معاملہ احتیاطا ضرور رکھیں لیکن علماء کرام پر تنقید سے گریز کریں
     
    • شکریہ شکریہ x 7
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  2. ‏مارچ 17، 2013 #22
    شاہد نذیر

    شاہد نذیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2011
    پیغامات:
    1,940
    موصول شکریہ جات:
    6,202
    تمغے کے پوائنٹ:
    412

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!

    آپ شاید وہی محترم شخصیت ہیں جنھوں نے شیخ عبدالمنعم مصطفیٰ حلیمہ حفظہ اللہ کی کتاب عقیدہ طائفہ منصورہ کو اردو قالب میں ڈھالا ہے؟

    [​IMG]

    مجھے افسوس ہے کہ آپ سمیت کسی بھی بھائی نے میرے مکمل مضمون کا مطالعہ ہی نہیں کیا کسی نے کچھ مقامات سے سرسری دیکھ کر، کچھ نے آغاز مضمون کا کچھ حصہ پڑھ کر، کسی نے عنوان دیکھ کر اور کسی نے کچھ بھی پڑھے بغیر صرف دیگر بھائیوں کے مضمون کے بارے میں خیالات پڑھ کر ہی من چاہا تبصرہ کردیا ہے اور اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔

    میرے مضمون کا اصل موضوع تو ایک بدعی اصول (کسی شخص کا عمل اور عقیدہ تو کفر اور شرک ہو سکتا ہے لیکن اپنے اس شرکیہ و کفریہ عقیدہ اور عمل کی بنا پر خود وہ شخص کافر اور مشرک نہیں ہوتا) کا رد ہے جس میں تکفیر معین کا موضوع بھی مختصرا زیر بحث آگیا ہے۔
    بہرحال آپ محترم کا یہ خیال صحیح نہیں ہے کیونکہ میں تکفیر معین اور تکفیر مطلق کے مابین فرق پر بحث نہیں کررہا بلکہ ایک ایسے کلمہ گو کے کافر اور مشرک ہونے پر بحث کررہا ہوں جس کے کفر پر دلائل موجود ہیں اور جس کا کفر کسی عام مسئلہ میں نہیں بلکہ دین اسلام کے بنیادی مسئلہ توحید میں ہے۔

    دیکھئے یہی ہے اصل مسئلہ کہ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا یہ کلام شرک اکبر اور کفر اکبر کے مرتکب کے بارے میں ہرگز نہیں بلکہ یہ کلام تو ان لوگوں کے بارے میں ہے جن کا کفر اور شرک اسلام کی بنیاد توحید اور ضروریات دین کے علاوہ ہے۔ ایسے شخص کی تکفیر کے ہم بھی اس وقت تک قائل نہیں جب تک کہ اس پر اتمام حجت نہ کردی جائے۔ تفصیل کے لئے مکمل مضمون کا مطالعہ فرمائیں۔

    معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ اکثر علماء کرام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی ایسی ہی عبارات کو کسی وضاحت کے بغیر مطلق ذکر کرتے ہیں جس سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ کسی بھی کلمہ گو کی کسی بھی صورت میں تکفیر معین نہیں کی جاسکتی حالانکہ یہ بات بذات خود مردود ہے اور علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ پر بہتان عظیم بھی۔ شیخ الاسلام فرماتے ہیں: مخالفین اہلسنت میں گمراہ مشرکین بھی ہیں جن سے شرک ظاہر ہونے پر توبہ کا مطالبہ کیا جانا چاہیے کہ اس شرک سے تائب ہوجائیں اور اگر نہ کریں تو کفار اور مرتد ہونے کی بنا پر ان کی گردن اڑائی جانی چاہیے۔(مشرک اور بے نمازی شخص کے ذبیحہ کے بارے میں شرعی حکم، صفحہ ٥٦)

    ظاہر ہے ان کلمہ گو مشرکین کی گردن اسی وقت اڑائی جانا ممکن ہے جب انکی تکفیر معین کردی جائے۔

    ابو عبداللہ عبدالرحمنٰ بن عبدالحمید المصری ان لوگوں کا رد کرتے ہیں جو علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے بارے میں یہ بارور کروانے کی کوشش کرتے ہیں کہ علامہ موصوف تکفیر معین کے قائل نہیں تھے۔چناچہ فرماتے ہیں:
    یہ وہ کلام ہے جس کے بارے میں دین کے دشمن یہ کہتے ہیں کہ آپ تکفیر معین کے قائل نہ تھے۔ آپ دیکھئے کہ اس امت میں جو لوگ غیر اللہ کے لئے ذبح کرتے ہیں شیخ الاسلام ان کی بھی تکفیر کر رہے ہیں۔
    اور بیان فرماتے ہیں کہ ایسا منافق شخص مرتد بن جاتا ہے۔ کسی کو مرتد کہنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا جب تک کسی کو مخصوص کرکے مرتد نہ کہا جائے۔
    (توحید سے جاہل شخص کے بارے میں شرعی حکم، صفحہ ٨٢)

    مزید فرماتے ہیں: کسی متعین کی تکفیر مطلقاً جائز نہیں صرف یہ کہا جاسکتا ہے جو شخص ایسا عمل کرے یا ایسی بات کہے وہ کافر ہے یا یہ قول یا عمل کفریہ ہے۔
    لیکن ایسا کام کرنے یا کہنے والے کی تکفیر نہیں کی جاسکتی ۔ ۔ ۔ ۔ حق بات تو یہ ہے کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ اس جھوٹ سے بری الذمہ ہیں۔ کیونکہ ایسی رائے اختیار کرنے سے تو اللہ تعالیٰ کے احکامات اور حدود معطل ہوجائیں گے۔
    (توحید سے جاہل شخص کے بارے میں شرعی حکم، صفحہ ٨٢)

    لوگوں نے اپنے مخصوص نظریات کی تائید کے لئے امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی مخصوص عبارات (جن سے شیخ الاسلام کا مکمل موقف واضح نہیں ہوتا) اس کثرت سے استعمال کیں کہ امام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ کو اس پر ایک مستقل رسالہ تصنیف کرنا پڑ گیا۔ ابو عبداللہ عبدالرحمنٰ لکھتے ہیں: امام محمد بن عبدالوہاب نے شیخ الاسلام ابن تیمیہ پر منسوب کردہ جھوٹ کے خلاف ایک مستقل رسالہ قلمبند فرمایا ہے جس میں امام شیخ الاسلام ابن تیمیہ کے اقوال کا مکمل جائزہ لے کر یہ وضاحت کی گئی ہے کہ امام موصوف کا تکفیر معین کو ناجائز کہنا حجت قائم کرنے سے قبل کے بارے میں ہے اور یہ دلیل اور حجت صرف مخفی اور غیر ظاہر امور میں ہے۔(توحید سے جاہل شخص کے بارے میں شرعی حکم، صفحہ ٨١)

    مطلب یہ کہ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے نزدیک بھی جس شخص کا کفر ظاہری امور میں ہو تو اس پر اتمام حجت کے بغیر ہی اس کی تکفیر معین جائے گی کیونکہ ظاہری امور میں اتمام حجت کی ضرورت نہیں ہوتی۔

    علماء کرام کا علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی صرف ایسی عبارات کا انتخاب کرنا جو ایک مخصوص موقف کی تائید کرتی ہیں اور اسکی مخالف عبارات کو مکمل نظر انداز کردینا ہی عوام الناس پر حق و باطل کو خلط ملط کرنے کا سبب بنتا ہے۔اور عوام الناس ثابت شدہ کافر اور مشرک کو بھی صرف اس وجہ سے کافر کہنے سے رک جاتے ہیں کہ اس نے مسلمانوں کا کلمہ پڑھ رکھا ہے۔جبکہ بہت سے معاملات ایسے ہیں جن میں ایک مسلمان کا کلمہ بھی قابل اعتبار نہیں رہتا۔

    پس الحمداللہ ہمارا موقف بھی یہی ہے جو علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ سمیت جمہور علماء کا ہے۔

    یہی موقف حق ہے کیونکہ قرآن و حدیث کی نصوص اور سلف صالحین کا نظریہ اسی موقف کے حق و تائید میں ہیں۔

    باوجود کوشش کہ مجھے اس موقف کے دلائل دستیاب نہیں ہوسکے۔ کیا آپ بتانا پسند فرمائینگے کہ متقدمین میں کون کون سے علماء اس موقف کے حامل رہے ہیں اور کتاب و سنت میں اسکے دلائل کیا ہیں؟ کیونکہ اہل باطل تو ہر زمانے میں رہے ہیں اور شبہات اور مغالطے تو اہل باطل کا تحفہ ہے جس سے کسی دور کے مسلمان محفوظ نہیں رہے۔اور فی زمانہ اگر شبہات اور مغالطوں کی کثرت ہے تو علم بھی ماضی کے مقابلے میں اتنی ہی آسانی اور کثرت سے دستیاب ہے۔

    میں نے اس کا پورا پورا لحاظ رکھا ہے اور وضاحت کی ہے کہ ہر قسم کے کفر کے مرتکب کی تکفیر نہیں کی جاسکتی جب تک اسے علم نہ پہنچا دیا جائے اور اسکے شبہات (جن کی وجہ سے وہ کفر میں مبتلا ہے) دور نہ کردیئے جائیں۔

    جہاں تک عنوان کا تعلق ہے تو
    اول: چونکہ کفر اور شرک سے عام طور پر کفر اکبر اور شرک اکبر مراد لیا جاتا ہے اس لئے اسے مطلق ذکر کیا گیا ہے۔
    دوم: جس اصول کے رد میں مضمون لکھا گیا ہے چونکہ اس اصول کو لوگ مطلقاً پیش کرتے ہیں اس لئے اس اصول کا رد کرتے ہوئے عنوان کو بھی مطلقاً پیش کیا گیا ہے۔
    سوم: چونکہ عنوان کو اثباتی انداز کے بجائے سوالیہ انداز میں لکھا گیا ہے اس لئے اس سے مطلق معنی لینا درست نہیں۔
     
  3. ‏مارچ 17، 2013 #23
    محمدسمیرخان

    محمدسمیرخان مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 07، 2013
    پیغامات:
    453
    موصول شکریہ جات:
    915
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    شاہد نذیر بھائی نے جن کتابوں کے حوالے دیے ہیں ان کو موحدین ویب سائٹ نے پبلش کیا ہے۔یہ ان کی اچھی کاوش ہے۔
     
  4. ‏مارچ 18، 2013 #24
    طالب نور

    طالب نور رکن مجلس شوریٰ
    جگہ:
    سیالکوٹ، پاکستان۔
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2011
    پیغامات:
    361
    موصول شکریہ جات:
    2,303
    تمغے کے پوائنٹ:
    220

    شاہد بھائی اگر آپ صرف اصولی طور پر ایک بات کا ذکر کر رہے تھے جس سے آپ کا مقصد صرف یہ تھا کہ لوگوں پر یہ واضح کر دیا جائے کہ شرک و کفر میں مبتلا کافر و مشرک ہوتا ہے اور اس سے صرف اصول مراد ہے اس کا اطلاق نہیں تو پھر علماء پر نکتہ چینی کس معنی میں؟ میرا نہین خیال کے اہل حدیث میں کوئی بھی ثقہ عالم اصولی طور پر اس بات سے ناواقف ہو ہا اس سے اکتلاف کرتا ہو کہ تکفیر معین ہو ہی نہیں سکتی۔ مسئلہ تو اطلاق کا ہی ہے کہ کس کے پاس یہ حق ہے کہ وہ تکفیر معین کرے اور جاہل پر حجت کا اتمام کرے یا دیگر شروطِ تکفیر و موانع کا لحاظ کرے۔
    بہرحال آپ کی یہ وضاحت ہمارے لئے قابل قدر ہے، اللہ تعالیٰ مزید سمجھنے کی توفیق دے، آمین۔
     
  5. ‏مارچ 18، 2013 #25
    محمدسمیرخان

    محمدسمیرخان مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 07، 2013
    پیغامات:
    453
    موصول شکریہ جات:
    915
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    شاہد نذیر بھائی یہ شیخ ابو عبداللہ عبدالرحمنٰ بن عبدالحمید المصری زندہ ہیں اگر آپ ان سے ملاقات کے متمنی ہیں تو میں ان کا ایڈریس آپ کو بتاسکتا ہوں۔ باقاعدہ کلاسسز لیتے ہیں ۔

     
  6. ‏مارچ 19، 2013 #26
    طالب علم

    طالب علم مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 15، 2011
    پیغامات:
    226
    موصول شکریہ جات:
    570
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    اگر کوئی بھائی یا بہین طاغوت کے متعلق جامع اور شرعی نصوص پر مبنی موقف جاننا چاہتا ہے تو شیخ عبداللہ ناصر رحمانی کا خطاب جو کہ دو حصوں میں مندرجہ ذیل لنک پر موجود ہے او سنے، جزاک اللہ
    Ahlulhadeeth - Downloads

    خطاب میں سے مختصر اقتباس

    مَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِن بِاللّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىَ لاَ انفِصَامَ لَهَا وَاللّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (البقرۃ: 256)

    الم تر إلى الذین یزعمون أنّهم آمنوا بما أنزل إلیک وما أنزل من قبلک یریدون أن یتحاکموا إلى الطاغوت وقد أُمروا أن یکفروا به ویرید الشیطان أن یُضلَّهم ضلالا بعیداً (النساء: ۶۰).
    طاغوت اورفتنہ طاغوت ہمارا موضوع ہے
    پہلے یہ سمجھنا ہے کہ طاغوت کیا ہے؟
    اس کا مادہ ط-غ-ی، یہ تین حروف ہیں طغیٰ، اس کا معنی ہے سرکشی اختیار کرنا، اپنی حد سے بڑھ جانا
    جو حد کسی بھی چیز کی شریعت نے مقرر کی ہے، اس حد سے بڑھ جانا، یا اس حد سے کسی کو بڑھا دینا
    اگر وہ خود بڑھتا ہے تو وہ خود طاغوت بن گیا
    اور اگر کسی نے اسے اس کی حد سے بڑھایا ہے تو اسے اس طاغوت بنا دیا ، شریعت نے ہر چیز کے لیے ایک میزان مقرر کی ہے، ایک حد مقرر کی ہے اس حد سے اسے بڑھاو گے اسے طاغوت بنا دو گے، اس میں اس کا کوئی قصور نہیں ہوگا الا یہ کہ اس میں اس کی اپنی رضا ہو اپنی رغبت ہو
    جیسے عیسائیوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو رب بنا دیا اس میں ان کا کوئی قصور نہیں ہے
    کوئی عمل دخل نہیں
    لیکن عیسائیوں نے انہیں طاغوت بنا دیا، وہ طاغوت نہیں بنے، وہ بے قصور ہیں، بری الزمہ ہیں
    تو طاغوت کیا ہے، کسی چیز کا شریعت کی مقرر کردہ حد سے بڑھ جانا یا اس کو بڑھا دینا
    یہ لفظ آپ استعمال کرتے ہیں طغیانی، جب دریا میں مقررہ حد سے زیادہ پانی آ جائے آپ کہتے ہیں دریا میں طغیانی آ گئی، مقررہ حد سے بڑھ گیا اور وہ طغیانی سیلاب کا سبب بن جاتی ہے
    ہر چیز کو برباد کر دیتی ہے،
    ----------------------------
    ----------------------------------------

    اب شریعت نے ہر چیز کی ایک حد مقرر کی
    لا الہ الا اللہ
    اس کے معنی اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں
    اس حد کا تعین اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہو سکتا، کوئی انسان، کوئی جن، کوئی فرشتہ، کوئی نبی، کوئی ولی، حجر کوئی شجر معبود نہیں‌ہو سکتا
    اب آپ اس ایک مخلوق کو معبود مان لیں تو آپ نے اسے اس کی حد سے بڑھا دیا
    معنی یہ کہ اسے طاغوت بنا دیا
    یا کوئی شخص، کوئی بہروہپہ یا شعبدہ باز اگر لوگوں سے سجدہ کرواتا ہے کہ مجھے سجدہ کرو، یہ اس کی حد نہیں ہے
    مسجود صرف خالق کائنات ہے، تو وہ طاغوت بن گیا
    اگر آپ اللہ کے علاوہ کسی کو سجدہ کریں گے، کسی کی عبادت کریں گے، اسے آپ نے طاغوت بنا دیا
    کیونکہ جو اس کی شرعی حد ہے اس حد سے آپ نے بڑھا دیا
    ابھی آپ نے سنا کہ اطاعت صرف محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا حق ہے وہ بھی اس لیے کہ محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کبھی اپنی بات نہیں کرتےجب بھی اس دین کے بارہے میں بولتے ہیں تو اللہ کی بات کرتے ہیں
    و ما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی
    -----------------------------------
    -------------------------------------


    دوسرا اقتباس

    سیدنا عمرابن خطاب رضی اللہ عنہ سے طاغوت کا ایک معنی منقول ہے، آپ نے تفسیر کی
    اللہ تعالیٰ کے فرمان: يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ کی
    اس کی تشریح آپ نے کی ،اس کی تفسیر آپ نے کی
    کہ: جو مشرکین ہیں وہ جبت اور طاغوت پر ایمان لاتے ہیں
    فرماتے ہیں:
    --------
    الطاغوت :‌الشیطان
    حافظ ابن کثیر نے امام بغوی سے معنی نقل کیا ہے
    اور پھر تبصرہ کیا ہے: فرماتے ہیں کہ امیر عمر کا طاغوت کا معنی شیطان بیان کرنا بڑا صیح اور مکمل معنی ہے
    کیونکہ ہر برائی کا منبع اور مصدر شیطان ہے
    اللہ کے سوا دوسروں‌کی عبادت ہو رہی ہے، دوسروں کی اطاعت ہو رہی ہے
    اس کا بڑا جو محرک ہے اور جو داعی ہے وہ شیطان ہے
    ان برائیوں کا مصدر جو ہے وہ شیطان ہے
    اس لیے یہ بڑا جامع معنیٰ ہے
    جو حضرت عمررض نے بیان کیا
    اب میرے بھائیو! اگر کوئی طاغوت بنا یا کسی کو طاغوت کہا گیا
    تو اس کا معنی یہ ہے :
    اسے آپ نے شیطان کہا
    اس کا معنی یہ ہے کہ:
    اسے آپ نے کافر قرار دیا
    اس کا معنی یہ ہے کہ:
    اسے آپ نے مرتد قرار دیا

    ---------


    الحمدللہ، شیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ کی یہ تقریر اتنی جامع ہے کہ اس تھریڈ میں چلنے والی تمام بحثوں کا تسلی بخش جواب اس میں موجود ہے۔
    تقریر کا لنک:Ahlulhadeeth - Downloads
    اقتباس از: 20 تا 21 منٹ
     
  7. ‏مارچ 20، 2013 #27
    شاہد نذیر

    شاہد نذیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2011
    پیغامات:
    1,940
    موصول شکریہ جات:
    6,202
    تمغے کے پوائنٹ:
    412

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ!

    بلا شک شیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ جماعت اہل حدیث کا قابل فخر سرمایہ ہیں۔ میں نجی محفلوں میں بارہا اس بات کا اقرار و اعتراف کرچکا ہوں کہ میں نے صرف دو شخصیات ایسی سنی ہیں جن کے بیان سے ایمان میں اضافہ ہوجاتا ہے جس میں سے سرفہرست شخصیت عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ کی ہے۔ ماہنامہ دعوت اہل حدث میں، میں نے کچھ تجاویز بھیجیں تھیں اس میں بھی اس بات کا اظہار تھا جو دعوت اہل حدیث میں خطوط کے زمرہ میں شائع بھی ہوئیں تھیں۔اسکے باوجود شیخ سے مجھے کچھ اختلافات بھی ہیں۔ ایک مرتبہ جمعہ کے خطبہ میں، میں نے انہیں سوال بھیجا کہ چونکہ بریلوی مشرک ہیں اور مشرک کا ذبیحہ حرام ہے تو بریلویوں کے ذبیحہ کا کیا حکم ہے؟ اس کے جواب میں انہوں نے بھرے مجمع میں فرمایا کہ پاکستان میں سب مسلمان ہیں اس لئے مسلمان کا ذبیحہ کھانا جائز ہے۔
    میرے نزدیک بلا تخصیص تمام بریلویوں کو مسلمان کہہ دینا بھی کسی طور درست بات نہیں۔ اسکے علاوہ سب سے پہلے میں نے انہیں کے منہ سے یہ اصول سنا تھا کہ ہم کسی کے عمل اور عقیدہ کو تو کفریہ اور شرکیہ کہہ سکتے ہیں لیکن اس کفریہ اور شرکیہ عقیدہ و عمل کی بنیاد پر اس شخص کا کافر اور مشرک نہیں کہہ سکتے۔ شیخ اپنی تقریروں میں بارہا اس اصول کا ذکر کرتے ہیں۔ جس طرح اس اصول کو مطلقا ذکر کیا جاتا ہے اس طرح یہ اصول سراسر باطل ہے۔ اس کے دلائل آپ کو ہمارے اسی مضمون میں ملیں گے یوں سمجھیں کہ کئی لوگوں کے ساتھ شیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ کے اسی اصول کے رد میں میں نے یہ مضمون لکھا ہے۔ اس لئے طالب علم کا یہ سمجھنا غلط فہمی ہے کہ ہمارے مضمون کا جواب پروفیسر عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ کی تقریر میں موجود ہے بلکہ یہ حقیقت ہے کہ ان کے اصول کا رد ہمارے مضمون میں موجود ہے۔والسلام
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  8. ‏مارچ 20، 2013 #28
    طالب علم

    طالب علم مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 15، 2011
    پیغامات:
    226
    موصول شکریہ جات:
    570
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    معزز قارئین کے لیے یہ اضافہ کرتا چلوں کہ شیخ عبداللہ ناصر رحمانی کا موقف اس ضمن میں محترم شاہد نزیر بھائی سے مختلف ہے
    1۔ تکفیر معین صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا حق ہے
    2۔ جس کو طاغوت کہہ دیا جائے اس کو شیطان کا ہم معنی بنا دیا جاتا ہے
    3۔ کسی کے ظاہر عقائد کو دیکھ کر کفر کا فتویٰ نہ لگائیں ہو سکتا ہے کہ وہ توبہ کر لے اور اس کی توبہ آپ کو معلوم نہ ہو
    4۔ کسی کا گناہ کتنا بھی شدید ہو جیسا کہ اصحاب الاخدود کا گناہ تھا لیکن توبہ کرنے پر وہ معاف ہو جائے گا
    5۔ حکمرانوں کو نصیحت کی جائے گی نہ کہ ان کی تکفیر
    6۔کلمہ گو پر لعنت سے پرہیز
    7۔نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی احادیث میں موجود 'ہرج' کا لفظ اور موجودہ حالات اس پیشنگوئی کے مصداق
    8۔کسی مشرکانہ عقائد رکھنے والے کی انا کو بھی ٹھیس نہ پہنچائیں اگر اس کو مشرک کہہ دیا تو اس کی انانیت کو ٹھیس پہنچے گی اور اس کی اصلاح نہیں ہو سکے گی

    یہ خطاب اہل الحدیث۔نیٹ پر موجود ہیں
     
  9. ‏مارچ 21، 2013 #29
    باربروسا

    باربروسا مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 15، 2011
    پیغامات:
    311
    موصول شکریہ جات:
    1,016
    تمغے کے پوائنٹ:
    106

    السلام علیکم !

    صآحب تھریڈ اور دیگر بھائی ایک اور نکتہ بھی سامنے رکھیں جو موضوع زیر بحث میں کافی کام کا ثابت ہو سکتا ہے، اور وہ ہے علماء کے ہاں ان گروہوں کے بارے میں "اصل کا اعتبار اور ا سمیں اختلاف۔

    ایک طرف وہ علماء ہیں جو مسلم معاشرے میں ان گروہوں کو اصلا مسلمان سمجھتے ہیں ، اسی بنا پر وہ پورے قواعد التکفیر کو مد نظر رکھتے ہیں جب بھی ان میں سے کسی کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے ، اطلاق یا تعیین دونوں صورتوں میں وہ موانع کا لحاظ کرتے ہیں بالکل ویسے ہی جیسے کسی صحیح العقیدہ بارے کیا جاتاہے۔ آج ہمارے برسغیر کے الثر علماء اسی کے قائل نظر آتے ہیں۔

    دوسری طرف علماء کا وہ طبقہ ہے جن کے نزدیک ایسے گروہوں کی اصل شرک ہے ۔ مثلا قبوری شرک والے گروہ وغیرہ۔ شیعہ کو بھی شامل کیا جاتا ہے کچھ کے ہاں۔ اس کی رو سے ان فرقوں کی بنیاد کفر و شرک ہے بالکل قادیانیوں یا بہائیوں وغیرہ کی طرح ۔ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ ، علماءے نجد کی اکثریت اسی کی قائل ہے۔ اس سلسلے میں الدرر السنیہ ، رسائل الشخصیہ اور بالخصوص کشف الشبہات میں اجمال اور تفصیل دونوں طرح سے کھل کر بات کی گئ ہے۔

    میرا خیال اگر ہمیں کسی نقطے پر پہنچنا ہی ہے تو علماء کے دونوں طبقات کے دلائل کو سامنے لانا ہو گا۔ کیونکہ کفر و شرک میں مبتلا ہونے پر ان سب کا اتفاق ہے صرف ان کے حکم میں اختلاف ہے جس کی بنیاد اپنے ناقص علم کی حد تک میں نے بیان کی ہے۔

    والسلام
     
    • شکریہ شکریہ x 7
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  10. ‏اپریل 21، 2013 #30
    محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2011
    پیغامات:
    1,955
    موصول شکریہ جات:
    5,774
    تمغے کے پوائنٹ:
    354

    جزاک اللہ خیرا شاہد بھائی آپ کا یہ تھریڈ قرآن وسنت کے دلائل سے بھر پور ہے.جزاک اللہ خیرا.ا
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں