1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

گمراہ فرقوں کا مختصر تعارف: خوارج

'خوارج' میں موضوعات آغاز کردہ از عبداللہ عبدل, ‏جنوری 22، 2012۔

  1. ‏جنوری 26، 2012 #11
    عبداللہ عبدل

    عبداللہ عبدل مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 23، 2011
    پیغامات:
    493
    موصول شکریہ جات:
    2,196
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

  2. ‏جنوری 30، 2012 #12
    طاہر

    طاہر مبتدی
    شمولیت:
    ‏جنوری 29، 2012
    پیغامات:
    56
    موصول شکریہ جات:
    271
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    عصرِ حاضر کے تناظر میں خروج، خوارج، اولی الامر اور اس کی اطاعت اور ان تمام اصطلاحات کا اطلاق، اس کی مخالفت اور موافقت کے بارے میں بیانات، تحاریر و دعاویٰ ایک معمہ بنا ہوا ہے۔ ہر فریق اپنی دانست میں خود کو اپنی جگہ برحق سمجھ رہا ہے۔ اگر ممکن ہو، تو برادران عبدل اور باربروسا سے درجِ ذیل سوال کا جواب یا آراء جاننا چاہوں گا۔ سوال قطعی فرضیت پر مبنی ہے مزید یہ کہ اگر کوئی اور بھائی اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہیں تو اور بھی بہتر ہو گا۔

    سوال
    کیا ایسے حکمران کی حکم عدولی یا ان کے خلاف خروج کسی مسلمان کے لیئے جائز ہے جو:
    1. غیر مسلوں کو اپنے ممالک کی سرزمین پر کسی مسلم ملک یا ممالک کے خلاف فوجی اڈے یا دیگر معاونت فراہم کرتے ہوں
    2. غیر مسلم اقوام کی ہدایات، مطالبے، حکم، یا دھانس دھوندلی تسلیم کرتے ہوئے مسلمان مردو زن اور معصوم بچوں کا قتل، پابندِ سلاسل کرنا، غیر مسلم کے حوالے کرنا، ان پر خود تعذیب کرنا یا غیر مسلم کے حوالے کر دینا جہاں ایک مسلمان پر تعذیب کا خطرہ ہو
    3. مسلم کش، اسلام دشمن غیر مسلم حکمرانوں کے گلے میں سونے کے ہار پہناتے ہوں یا ان کے ہمراہ رقص کرتے ہوں
    4. غیر مسلم مذہبی علماء کو شمشیرِ مسجع تحفہ کرتے ہوں، خصوصا(دو زبر) ایسے نصرانی مذہبی علماء جو اللہ کےآخری رسولِ برحق کے بارے میں تحفظات ظاہر کرتے ہوں
    5. ظاہری طور پر عیش و عشرت، لہو و لہب کا ارتکاب کرتے ہوں۔ وغیرہ وغیرہ
    یہ سب حقیقی سوالات ہیں جو نہ صرف مسلمان بلکہ اب با ضمیر غیر مسلم بھی اٹھا رہے ہیں کا جواب یا اس بارے میں آراء کا منتظر ہوں تاکہ اپنے عقیدے، سوچ اور نظریات کی اصلاح و تصحیح کر سکوں۔

    نوٹ: اگر ادارہ ایسے سوالات یا اس مراسلہ کو قابلِ اعتراض پائے تو بے شک حذف فرما دے اور بذریعہ پی ایم مجھے مشاورت اور رہنمائی فرما دی جائے۔ ممنونِ احسان ہو گا اور پابندی و پیروی کا اقرار کرتا ہوں۔

    بہت شکریہ والسلام و علیکم
     
  3. ‏جنوری 30، 2012 #13
    محمد شعبان

    محمد شعبان مبتدی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 03، 2011
    پیغامات:
    21
    موصول شکریہ جات:
    51
    تمغے کے پوائنٹ:
    19

    دخل اندازی معاف!
    محترم طاہر! آپ کے سارے سوالوں کا مختصر جواب۔۔۔۔۔
    نہیں۔۔۔۔۔یہ میرا خیال ہے۔۔۔۔۔۔کوئی اس سے اختلاف بھی کر سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔
    آپ کی خروج سے کیا مراد ہے؟؟؟؟؟؟
    کیا زرداری اور دیگر حکمرانوں کو عوام تختہ دار پر لٹکا دے کہ انہوں نے غیر شرعی کام کیے ہیں؟

    اگر ایسا کام آپ نے ہی کرناہے تو پھر عدالتوں کو ختم کر دیں اور ہر شخص خود ہی فیصلہ کر لے کہ کون شخص غیر شرعی کام کر رہا ہے اور کس شخص کو کیا سزا دینی ہے؟؟
    ایسا کام واقعی میں خوارج نے کیا اور آج کے دور میں بھی طالبان، القاعدہ اور اس قسم کی فکر رکھنے والے دیگر لوگ سر انجام دے رہے ہیں اور یہ لوگ خوارج کے گروہ ہی سے تعلق رکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اختلاف آپ کا حق ہے مگر سوچ سمجھ کر!!!!!!
     
  4. ‏فروری 02، 2012 #14
    عبداللہ عبدل

    عبداللہ عبدل مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 23، 2011
    پیغامات:
    493
    موصول شکریہ جات:
    2,196
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    اسلام علیکم

    طاہر بھائی آپ نے حکمران بارے جو بھی سوال رکھے انکا نتیجہ یا تو کفر اصغر یعنی کبیرہ گناہ کی صورت میں یا پھر کفر بواح ارتدادکی صورت میں نکلتا ہے اور ان دونوں صورتوں کا انحصار فاعل کی کیفیت و حالت پر ہے....

    چاہے کفر اصغر ہو یا کفر اکبر...... خروج کے مسئلے پر سلف صالحین کا موقف واضح ہے اور اس بارے ابو الحسن بھائی بہت اعلی کاوش کی ہے، میں آپ تمام اھباب سے اس کے مطالعے کی استدعا کروں گا..

    اس تحقیقی مضمون کا (یونیکوڈ اور پی ڈی ایف فارمیٹ)
     
  5. ‏فروری 03، 2012 #15
    باربروسا

    باربروسا مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 15، 2011
    پیغامات:
    311
    موصول شکریہ جات:
    1,016
    تمغے کے پوائنٹ:
    106

    طاہر ! میرے بھائی

    جو وجوہات آپ نے بیان کی ہیں ان میں کچھ تو کفر اکبر ہیں کہ جن کو نواقض الاسلام میں شمار کیا جاتا ہے، اور کچھ دوسری اقسام ایسی ہیں جو فسق و فجور میں اتی ہیں، مثلا جیسا کہ آپ نے لھو و لعب وغیرہ کی طرف اشارہ کیا.

    میرے بھائی ! مسئلہ صرف زرد آری یا کیانی رغیہ کا نہیں ہے، اور مسئلہ صرف ایک یا دو سورتوں کے ارتکاب کا بھی نہیں ہے، سادہ سا معاملہ یہ ہے کہ اس نظام نے رب العالمین کی شریعت کا اس زمین پر نافذ نہیں کیا ہوا ہے، اسلام کا نظام سیاست، نظام عدل، نظام معیشت و معاشرت، اجتماعی زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے جہاں اللہ کا قانون چلایا جاتا ہو.

    اور یہ ایسے حقائق ہیں کہ عقل کا کوئی اندھا ہی ان کا انکار کر سکتا ہے.

    ان حالات میں بات صرف زردآری ا کسی ایک دو کی نہیں رہ جاتی بات اس سارے نظام کی آجاتی ہے، جس میں اج یہ ہیں تو کل کوئی اور ہو گا... لیکن روش یہی رہے گی،،،،،، جہاں تک اصولی طور پر خروج کا معاملہ ہے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کا منکرین زکوۃ کے خلاف جہاد صرف اس بنا پر تھا کہ انہوں ننے شریعت اسلامی کے ایک رکن کے نفاذ کا انکار کیا تھا، تو یہاں تو ایک رکن بھی نافذ نہیں ہے.....

    ہمارے ہاں جو فنامنا پایا جاتا ہے وہ ایک ایس صورتحال پر مشتمل ہے جس نے لوگوں کی آنکھوں میں ایک طویل عرصہ سے دھول جھونکی ہوئی ہے، لیکن قرآن و سنت اور منہج سلف اس بارے میں جو راہنمائی دیتے ہیں اس سے بات بالکل نکھر کر سامنے اجاتی ہےاس کی ایک سے زیادہ جہات( dimensions(ہیں. چند ایک کی طرف اختصار کے ساتھ اشارہ کرتا ہوں::

    1::حکمران نام کے مسلمان ہیں اور شریعت کے ساتھ سلوک کفار سے بھی بدتر کر رہے ہیں، کچھ اپنے کے آئینوں پر قران و سنت کا لیبل لگا کر ، اور کہیں پر اتنی بھی زحمت گوارا نہ کرتے ہوئے، کفار سے بدتر اس لیے کہ وہ تو اسلام کے نام لیوا ہی نہیں ہیں.
    ((شریعت::LAW((

    2:: مملکتیں اسلامی ناموں سے موسوم ہیں ، حکمرانوں کی طرح لیکن مسلمانوں کے خلاف جنگ میں کردار کفار سے بھی بڑھ چرھ کر برا کر ادا کر رہی ہیں،ان کی ہر طرح مدد کر رہی ہیں، چاہے وہ دنیا کے کسی بھی خطے میں ہوں.

    3:: عدالتی سسٹم اس دوغلے پن سے فی الحال تک پاک ہے، کہ بتایا بھی یہی جاتا ہے کہ فیصلہ اللہ کے قانون سے نہیں ہو گا، اور کیا بھی ایمانداری سے یہی جاتا ہے !!!

    4:: اللہ کے حلال(WHAT YOU CAN DO ( کو حرام(WHAT YOU CAN NOT DO( کر دیا گیا ہے او حرام کو حلال کر دیا گیا ہے. ہمارے ہاں تو شاید کوئی تاویل کر لی جائے لیکن عرب ممالک میں جہاد کو یکسر حرام قرار دے کر اس کے نام لیواؤں کو لامحدود مدت کے لیے جیلوں میں ٹھونس دیا جانا روٹین ورک ہے، سود ہمارے ہاں حلال ہے، ملکی اور صوبائی سطح پر، اسی طرح مرد و خاتوں کا باہمی رضامندی کے ساتھ بلا نکاح میل جول کی اخری حدوں تک جانا بھی حلال ٹھہرا دیا گیا ہے جو کہ اللہ کی شریعت میں حرام ہے.


    اب تھوڑا سا تاریخ میں جھانکتے ہیں:: واقعہ یہ ہے کہ تاریخ اسلام میں یہ فنامنا جس کا اوپر ذکر اور نشانیاں بیان کی گئی ہیں، پہلی دفعہ تب معرض ظہور میں ایا ، جب چھٹی صدی ہجری میں تاتاریوں نے اسلام قبول کر لیا اور اس کے بعد ان میں سے ایسے گروہ نکلے جنہوں نے بعینہ وہی کام کیے جو اوپر کے چار نکات میں بیان کیے گئے ہیں.((ان میں اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے ،لیکن یہاں مقصود صرف سمجھانا ہے((

    ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ اس وقت علمائے امت نے قرآن و سنت کی روشنی میں ان نام کے مسلمانوں لیکن عمل کے کفار کے ساتھ کیا رویہ روا رکھا تھا.

    امام ابن کثیر رحمہ اللہ جو تفسیر قرآن میں سب سے معتبر مانے جاتے ہیں، اسی دور میں موجود تھے، اپنی شہرہ آفاق تفسیر "تفسیر القرآن العظیم" میں درج ذیل آیت کریمہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

    أَفَحُکْمُ الْجَاہِلِیَّۃِ یَبْغُونَ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللّٰہِ حُکْمًا لِّقَوْمٍ یُوقِنُونَ
    (اگر یہ اللہ کے نازل کردہ قانون سے منہ موڑتے ہیں تو ) کیا پھر جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں ،اور یقین رکھنے والوں کے لیے اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا کون ہے۔‘‘
    (المائدۃ:۵۰(
    یہاں اللہ تعالیٰ نے اس شخص پر گرفت فرمائی ہے جو دین کے محکم احکام (جو سراپا خیر اور شر کی قلعی کھولنے والے ہیں)سے رو گردانی اختیار کرنے والا ہے۔ جو احکام الٰہیہ کو چھوڑ کر انسانوں کی وضع کردہ ان آراء و خواہشات کی پیروی کرنے لگتا ہے جن کی شریعت مطہرہ میں کوئی دلیل نہیں۔

    یہ شخص بالکل دورِجاہلیّت کے ان لوگوں کی مانند ہے جو اپنی آراء و خواہشات پر مبنی گمراہیوں اور جہالتوں کی روشنی میں فیصلے کرتے تھے،یا ان تاتاریوں کی مثل ہے جو اپنے فرمانروا چنگیز خان کی وضع کردہ کتاب ’یاسق‘ کو فیصل کن مانتے ہیں۔’یاسق‘ مختلف شریعتوں مثلًا یہودیت ،عیسائیت ،اسلام اور خود اس کے ذاتی نظریات و خواہشات سے اخذ کردہ احکامات کا مجموعہ ہے۔ یہ مجموعہ اس کی اولاد کے نزدیک ایک ایسی لائق تقلید شریعت کی حیثیت اختیار کر چکا ہے جسے یہ کتابُ اللہ اور سنت رسول اللہﷺ پر بھی ترجیح دیتے ہیں۔پس ان میں سے جو شخص بھی ایسا کرے وہ کافر ہے اور اس سے اس وقت تک قتال کرنا واجب ہے کہ جب تک وہ اپنے ہر چھوٹے بڑے فیصلے میں اللہ اور اس کے رسول کو حاکم نہ مان لے۔‘‘


    یہی امام ابن کثیر اپنی تاریخ کی کتاب البدایہ والنھایہ میں تاتاریوں کے بارے میں تمام مسلمانوں کا اجماع بیان فرماتے ہیں::

    ""جس نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت چھوڑ کر کسی دوسری شریعت سے فیسلے کروانے شروع کر دیےتو اس نے کفر کیا، تو اس کے بارے میں کیا خیال ہے جو یاسق سے فیسلے کروائے اور انہیں کتاب و سنت پر ترجیح بھی دے؟ جس نے بھی یہ عمل کیا وہ اجماع امت کی رو سے کافر ہو گیا. اللہ فرماتے ہیں کہ:: َافَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللّهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ
    کیا یہ لوگ (زمانۂ) جاہلیت کا قانون چاہتے ہیں، اور یقین رکھنے والی قوم کے لئے حکم (دینے) میں اﷲ سے بہتر کون ہو سکتا ہے.
    (المائدۃ::50(
    فلاَ وَرَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لاَ يَجِدُواْ فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُواْ تَسْلِيمًا
    پس (اے حبیب!) آپ کے رب کی قسم یہ لوگ مسلمان نہیں ہوسکتے یہاں تک کہ وہ اپنے درمیان واقع ہونے والے ہر اختلاف میں آپ کو حاکم بنالیں پھر اس فیصلہ سے جو آپ صادر فرما دیں اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ پائیں اور (آپ کے حکم کو) بخوشی پوری فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں.
    (النساء::65(

    (البداية والنهاية) 13/ 119، ضمن أحداث عام 624هـ، عند ترجمته لجنكيز خان.

    اسی دور کے مشہور امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور ان کے بعد ابن قیم، تیرھویں صدی ہجری کے علامہ شوکانی اور دور حاضر میں مفسر شنقیطی، شیخ حمد بن عتیق اور علمائے عرب کی ایک کثیر جماعت ،شیخ احمد شاکر اور حامد الفقی وغیرہم نے ، جنہوں نے احوال المسلمین پر بحث کی ہے، یہی بات زور دے کر بیان کی ہے.

    طائفہ ممتنعہ::

    ایسے گروہ کو جس نے شریعت کے احکام کو نافذ ہونے سے روک رکھا ہو، طائفہ ممتنعہ کہا جاتا ہے، طائفہ عربی میں گروہ کو کہتے ہیں اور ممتنعہ کا مطلب ہے روکنے والا. نبی صلی اللہ علیہ و سلم کئ وفات کے فورا بعد جن لوگوں سے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جنگ فرمائی تھی انہیں مانعین زکوۃ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے یعنی زکوۃ دینے سے روکنے والے، ان کے نزدیک زکوۃ صرف نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی تک تھی اور بعد میں یہ کسی اور کو ادا نہیں کی جائیگی، ان کے خلاف اسی بنیاد پر جنگ کی گئی کہ وہ طائفہ ممتنعہ تھے. امام ابن تیمیہ تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ اگر ایک علاقے کے لوگ اجتماعی طور پر آذان یا اقامت ترک کر دیں تو پھر بھی ان سے اس حکم پر واپس آنے تک جنگ کی جائے گی، کیونکہ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ ::
    وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لاَ تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلّهِ فَإِنِ انتَهَوْاْ فَإِنَّ اللّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
    اور (اے اہلِ حق!) تم ان (کفر و طاغوت کے سرغنوں) کے ساتھ (انقلابی) جنگ کرتے رہو، یہاں تک کہ (دین دشمنی کا) کوئی فتنہ (باقی) نہ رہ جائے اور سب دین (یعنی نظامِ بندگی و زندگی) اللہ ہی کا ہو جائے، پھر اگر وہ باز آجائیں تو بیشک اللہ اس (عمل) کو جو وہ انجام دے رہے ہیں، خوب دیکھ رہا ہے
    (الانفال::39(
    جب نظام کچھ اللہ کے لیے ہو اور کچھ غیر اللہ کے لیے تو قتال واجب ہے اس وت تک تک قتال واجب ہے جب تک سارا نظام ہی اللہ کے لیے نہ ہو جائے (مجموع الفتاوى(28/510(


    خلاصہ:: موجودہ سسٹم کے خلاف جنگ کا اصولی جواز موجود ہے، کیوں کہ یہ نظام ، نظام کفر ہے، بھلے اس میں کام کرنے والے افراد کوئی بھی کیوں نہ ہوں.

    یہ تو ہوا پرنسپل یعنی اصول، اب اس اصول کی ایپلیکیشن کیسے ہو گی ،اس کی کیا شرائط ہیں اور کیا prerequsitesہیں ،یہ ایک الگ موضوع ہے، اس لیے فی الوقت اس ویڈیو پر ہی اکتفا کریں::

    ‫طائفہ ممتنعہ اور اس کے خلاف قتال | Facebook‬

    ﴿﴿جن احباب کا دل اس وقت مجھ پر فتاوی لگانے کے لیے مچل رہا ہو، وہ براہ کرم پہلے ویڈیو ضرور دیکھ لیں، پھر جو مزاج یار میں آئےإ﴾﴾

    وما توفیقی الا باللہ علیہ توکلت والیہ انیب
     
  6. ‏فروری 03، 2012 #16
    باربروسا

    باربروسا مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 15، 2011
    پیغامات:
    311
    موصول شکریہ جات:
    1,016
    تمغے کے پوائنٹ:
    106

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  7. ‏فروری 03، 2012 #17
    عبداللہ عبدل

    عبداللہ عبدل مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 23، 2011
    پیغامات:
    493
    موصول شکریہ جات:
    2,196
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    مسئلہ ہے کیا پھر؟ آپ نے جو جلیبیاں باٹنا شروع کر رکھی ہیں اس میں کیا سمجھ آئے کسی سادہ فہم کو!
    جناب ، آپ نے کمال بات کی کہ "مسئلہ ان دوصورتوں کا نہین".......... اس لگتا ہے کہ آپ کا علم سے تعقلق کم اور ضد بازی سے زیادہ ہے....
    ان معاملات میں آنکھیں بند کر کے حکم نہیں لگتااور جذباتی میسجز لکھ کر ، الفاظ کی ہیر پھیر کر کے .. آپ نے خوب سیکھا لوگوں کو الجھانے کا!!!

    بات صاف ہے اگر سب ہو رہا ہے اور کرنے والا کفر اصغر مین آتا ہے تو اس کا معاملہ مختلف اور اگر اس کا فعل کفر اکبر میں آتا ہے تو معاملہ مختلف.. آپ کس بنیاد پر کہ رہے ہیں کہ معاملہ ان دو اصولوں کا نہیں؟؟
    جناب خود دیکھ لیں شتر بے مہار اصولوں سے بے نیاز کیا کسوٹی بنا بنا کر پیش کرتے رہتے ہیں!
     
  8. ‏فروری 03، 2012 #18
    عبداللہ عبدل

    عبداللہ عبدل مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 23، 2011
    پیغامات:
    493
    موصول شکریہ جات:
    2,196
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    آپ کی اپنی عقل پتا نہیں کہاں ہوتی ہے جب آپ عجیب و غریب اصول و ضوابط اور اخلاقیات سے بے بہرہ پیغام لکھ رہے ہوتے ہیں!
     
  9. ‏فروری 03، 2012 #19
    عبداللہ عبدل

    عبداللہ عبدل مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 23، 2011
    پیغامات:
    493
    موصول شکریہ جات:
    2,196
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    اندھے کو اندھیرے میں بہت دور کی سوجھی!!! کاپی پیسٹ کے ماہر...بروسا صاحب.. نہ جانے کیا سوچ کر یہ پیسٹ کیا ؟؟؟
    چلیں اچھا کیا، بہت مفید ہے اس کا رد بھی ساتھ لیتے جایئے، تاکہ بعد میں یاد نہ رہا تو لوگوں کو علمی تلبیسات سے گمراہ کر کہ دین کا "حق "نہ ادا ہو جائے

    الشیخ ابو محمد السلفی حفظہ اللہ

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    سلف صالحین کے فیصلے کے مطابق اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلے نہ کرنے والے حاکم کا کفر،حقیقی اس صورت میں ہو گا جبکہ وہ اپنے اس فعل کو جائز سمجھتا ہو اور جو حاکم غیر اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلے کرے اور اس کو معصیت یا دین کی مخالفت سمجھے تو وہ حقیقی کافر نہیں ہے کیونکہ اس نے اپنے اس فعل کو حلال نہیں سمجھا۔ بعض اوقات کوئی حاکم خوف یا عجز یا اس قسم کی وجوہات کی وجہ سے بھی شریعت کے خلاف فیصلہ کر دیتا ہے،(لہذا اس صورت میں بھی اس پر کفر کا فتوی نہیں لگا یا جائے گا)۔''
    ما أنزل اللہ کے غیر کے مطابق فیصلہ کرنے کی تین قسمیں یعنی کفر، ظلم اور فسق و فجور قرآن میں بیان کی گئی ہیں اور ان قسموں کا اطلاق اس حکم کے اسباب کے اعتبار سے بدلتا رہے گا۔ پس اگر کسی شخص نے اپنی خواہش نفس کے تحت ما أنزل اللہ کے غیر کے مطابق فیصلہ کیا جبکہ اس کا عقیدہ یہ ہو کہ اللہ کا فیصلہ حق ہے تو ایسے شخص کی تکفیر نہ ہو گی اور یہ ظالم اور فاسق کے مابین کسی رتبے پر ہو گا۔ اور اگر کوئی حکمران ما أنزل اللہ کے غیر کو تشریع عام یعنی عمومی قانون کے طور پر نافذ کرتا ہے تا کہ امت مسلمہ اس پر عمل کرے اور ایسا وہ اس لیے کرتا ہے کہ اسے اس میں کوئی مصلحت دکھائی دیتی ہے، حالانکہ اصل حقیقت اس سے پوشیدہ ہوتی ہے تو ایسے حکمران کی بھی تکفیر نہ ہو گی کیونکہ اکثر حکمرانوں کا معاملہ یہ ہے کہ وہ شرعی احکام سے ناواقف ہوتے ہیں اور انہیں ایسے جہلاء کا قرب حاصل ہوتا ہے جنہیں وہ بہت بڑا عالم سمجھ رہے ہوتے ہیں ۔ پس اس طرح وہ شریعت کی مخالفت کرتے ہیں۔ اسی طرح اگر کوئی حکمران شریعت کو جانتا ہو لیکن اس نے کسی وضعی قانون کے مطابق فیصلہ کر دیا یا اسے بطور قانون اور دستور نافذ کر دیا تاکہ لوگ اس پر عمل کریں تو ایسے حکمران کے بارے بھی ہمارا عقیدہ یہی ہے کہ وہ اس مسئلے میں ظالم ہے اور حق بات کہ جس کے ساتھ کتاب و سنت وارد ہوئے ہیں' یہ ہے کہ اس حکمران کی بھی ہم تکفیر نہیں کر سکتے ہیں ۔ ہم تو صرف اسی حکمران کی تکفیر کریں گے جو ما أنزل اللہ کے غیر کے مطابق اس عقیدے کے ساتھ فیصلہ کرے کہ لوگوں کاما أنزل اللہ کے غیر پر چلنا اللہ کے حکم پر چلنے سے بہتر ہے یا وہ اللہ کے حکم کے برابر ہے ۔ ایسا حکمران بلاشبہ کافر ہے کیونکہ وہ اللہ تعالی کے حکم:
    ’’ کیا اللہ تعالی سب حاکموں سے بڑھ کر حاکم نہیں ہے ‘‘ (سورۃ التین :۸) اور
    ’’ کیا وہ جاہلیت کے فیصلہ سے فیصلہ چاہتے ہیں اور اللہ سے بہتر کس کا فیصلہ ہوسکتا ہے ایسی قوم کے لیے جو کہ یقین رکھتے ہیں' کا انکار کر تا ہے۔‘‘(سورہ مائدہ:۵۰)

    تاتاری قانون الیاسق اور موجودہ وضعی قوانین :
    ہمارے ہاں عمومی طورپر تکفیر کرنے والے حضرات تا تاری قانون ’’ الیاسق‘‘ نامی مجموعہ قوانین کو بنیاد بناتے ہیںاور معاصر حکمرانوں اور اس سے متعلقہ اداروں کو کافر مرتد قرار دیتے ہیں نیز بطور دلیل امام ابن کثیر اور ابن تیمیہ علیھما الرحمہ کا حوالہ ذکر کرتے ہیں ۔
    اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ امام ابن کثیراورامام ابن تیمیہ رحمہما اللہ نے 'الیاسق' نامی مجموعہ قوانین کے مطابق فیصلہ کرنے والے تاتاریوں کو کافر قرار دیا ہے لیکن ان کی تکفیر کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے مجموعہ قوانین کو شرعی قوانین کے برابر حیثیت دیتے تھے اور یہ اعتقادی کفر ہے اور کسی بھی انسانی قانون کو شرعی قانون کے برابر قرار دیناصریح کفر ہے ۔
    امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اسلام قبول کرنے والے تاتاریوں کے عقائد کا تعارف کرواتے ہوئے فرماتے ہیں:
    ’’ان اسلام کے مدعی تاتاریوں میں سے جو لوگ شام آئے ۔ ان میں سب سے بڑے تارتاری نے مسلمانوں کے پیامبروں سے خطاب کرتے ہوئے اور اپنے آپ کو مسلمان اور ان کے قریب ثابت کرتے ہوئے کہا: یہ دو عظیم نشانیاں ہیں جو اللہ کی طرف سے آئی ہیں۔ ان میں سے ایک محمد عربی ہیں اور دوسرا چنگیز خان ہے۔ پس یہ ان کا وہ انتہائی عقیدہ ہے جس کے ذریعے وہ مسلمانوں کا قرب تلاش کرتے ہیں کہ انہوں نے اللہ کے رسول ،جو مخلوق میں سے سب سے بزرگ ، اولاد آدم کے سردار اور نبیوں کی مہر ہیں، انہیں اور ایک کافر اور مشرکین میں سب سے بڑھ کر مشرک ،فسادی، ظالم اور بخت نصر کی نسل کو برابر قرار دیا؟ ۔ ان تاتاریوں کا چنگیز خان کے بارے عقیدہ بہت ہی گمراہ کن تھا۔ ان نام نہاد مسلمان تاتاریوں کا تو یہ عقیدہ تھا کہ چنگیز خان اللہ کا بیٹاہے اور یہ عقیدہ ایسا ہی ہے جیسا کہ عیسائیوں کا حضرت مسیح کے بارے عقیدہ تھا۔ یہ تاتاری کہتے ہیں کہ چنگیز خان کی ماں سورج سے حاملہ ہوئی تھی ۔ وہ ایک خیمہ میں تھی جب سورج خیمہ کے روشندان سے داخل ہوا اور اس کی ماں میں گھس گیا۔ پس اس طرح اس کی ماں حاملہ ہو گئی ۔ ہر صاحب علم یہ بات جانتا ہے کہ یہ جھوٹ ہے...اس کے ساتھ ان تاتاریوں کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ وہ چنگیز خان کو اللہ کا عظیم ترین رسول قرار دیتے ہیں کیونکہ چنگیز خان نے اپنے گمان سے ان کے لیے جو قوانین جاری کیے ہیں یا مقرر کیے ہیں یہ ان قوانین کی تعظیم کرتے ہیں اور ان کا معاملہ تو یہ ہے کہ جو ان کے پاس مال ہے ' اس کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ یہ چنگیز خان کا دیا ہوا رزق ہے اور اپنے کھانے اور پینے کے بعد(اللہ کی بجائے) چنگیز خان کا شکر اداکرتے ہیں اور یہ لوگ اس مسلمان کے قتل کو حلال سمجھتے ہیں جو ان کے ان قوانین کی مخالفت کرتا ہے جو اس کافر ملعون' اللہ ' انبیاء و رسل ' محمد عربی اور اللہ کے بندوں کے دشمن نے ان کے لیے مقرر کیے ہیں۔ پس یہ ان تاتاریوں اور ان کے بڑوں کے عقائدہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ اسلام لانے کے بعد محمد عربی کو چنگیز خان ملعون کے برابر قرار دیتے ہیں۔''

    شیخ الاسلام ابن تیمیہ علیہ الرحمہ کے ’مجموعہ الفتاوی‘ کی عبارت پر غور کیجئے ۔
    1- تاتاریوں کا پہلا کفر کہ وہ چنگیز خان کو رسول اللہ ﷺ کے برابر سمجھتے تھے۔
    2- وہ چنگیز خان کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے تھے ۔
    3- اور اس کے دیے گئے قوانین کی تعظیم کرتے تھے۔
    4- مجموعہ قوانین ’’الیاسق‘‘ کا انکار کرنے والے مسلمانوں کے خون کو حلال سمجھتے تھے۔
    5- کھانے پینے کے بعد چنگیز کا شکر اداکرتے تھے۔
    یہ تمام امور ایسے صریح کفر یہ عقائد ہیں جن کے کفر اکبر ہونے میں دو بندوں کا بھی اختلاف ممکن نہیں لہذا’’الیاسق‘‘کے مجموعہ قوانین کے بارے تاتاریوں کاجو رویہ اورعقیدہ تھا علماء قائل ہیں۔
    پس آج بھی کوئی حکمران وضعی مجموعہ قوانین کومنجانب اللہ سمجھے یا اس کو خلاف اسلام کہنے والوں کے خون کو حلال سمجھے یااس قانون کے واضعین کو اللہ کے رسول ﷺ کے برابر کا درجہ دے تو ان کے کفر میں بھی کوئی شک نہ ہوگا ۔ لیکن یہ بات تو روز روشن کی طرح واضح ہے کہ اگرچہ ہمارے حکمران عرصہ دراز سے وضعی قوانین کے مرتکب ضرور ہیں یہ یقینا ایک بہت بڑا گناہ ہے ، حرام ہے لیکن وہ اس کو منجانب اللہ یاخلاف شریعت سمجھنے والوں کے خون کوحلال یا قانون سازوں کو نبی کریم ﷺ کے برابر کادرجہ نہیں دیتے لہذا بغیر کسی کفریہ عقیدہ کے مطلق ان وضعی قوانین کے مطابق فیصلہ کرنےوالا کفر اکبر قرار دینے کی کوئی شرعی عقلی ، نقلی ، یا تاریخی دلیل موجود نہیں ہے ۔
    ہاں ایسا عمل کفر اصغریامجازی کفر(کفر دون کفر) کہلانے کا مستحق ضرور ہے جیسا کہ ابن عباس ؓ،تابعین ، تبع تابعین اور آئمہ سلف کا بیان ہے۔

    واللہ اعلم

    بشکریہ: ٹرو منہج ڈاٹ کام

    اللہ ہی رحم کرے اور سمجھ دے اور شیطان کی تلبیسات سے مجھے اور آپ کو محفوظ رکھے.... آمین
     
  10. ‏فروری 03، 2012 #20
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    ازراہ کرم گفتگو اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے کیجئے، اور اختلاف برداشت کرنے کا حوصلہ رکھئے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں