1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ہمسائیوں کے بارے میں

'تہذیب' میں موضوعات آغاز کردہ از عبد الرشید, ‏اپریل 05، 2011۔

  1. ‏اپریل 05، 2011 #1
    عبد الرشید

    عبد الرشید رکن ادارہ محدث
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    5,178
    موصول شکریہ جات:
    9,941
    تمغے کے پوائنٹ:
    667

    حضرت انس رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ’’مجھے اس ذات اقدس کی قسم،جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے ہمسایہ یا اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند نہ کرے۔جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ (بخاری ومسلم)
    حاصل کلام:اس حدیث میں تکمیل ایمان کے لیے ایک شرط بیان ہوئی ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان جو چیز اپنے لیے پسند اور محبوب رکھے اپنے ہمسائے یا اپنے بھائی کے لیے بھی وہی چیز پسند کرے ۔اگر اس کی خواہش ہے کہ اس کی عزت و توقیر کی جائے تو اس کی اپنے ہمسایہ اور بھائی کے لیے بھی یہی سوچ ہونی چاہیے اگر اس کے دل میں یہ تمنا ہو کہ وہ امن و امان اور سلامتی سے رہے ۔تو اپنے بھائی کے لیے بھی یہی سوچ ہی ہونی چاہیے ۔
    اللہ ہمیں ان باتوں کا خیال رکھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین
     
  2. ‏اپریل 06، 2011 #2
    راجا

    راجا سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 19، 2011
    پیغامات:
    734
    موصول شکریہ جات:
    2,555
    تمغے کے پوائنٹ:
    211

    جزاک اللہ بھائی
     
  3. ‏اپریل 06، 2011 #3
    عمران اسلم

    عمران اسلم مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    318
    موصول شکریہ جات:
    1,604
    تمغے کے پوائنٹ:
    150

    رشید بھائی حدیث کی عربی عبارت اور رقم الحدیث ضرور لکھا کریں۔ جزاک اللہ خیراً
     
  4. ‏اپریل 06، 2011 #4
    عبد الرشید

    عبد الرشید رکن ادارہ محدث
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    5,178
    موصول شکریہ جات:
    9,941
    تمغے کے پوائنٹ:
    667

    بھائی جان آئندہ کوشش کروں گا دراصل ٹائم کی کمی کی وجہ سے نہیں کر پاتا لیکن حدیث کا نمبر ضرور لکھ دیا کروں گا۔
     
  5. ‏اپریل 06، 2011 #5
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    جزاکم اللہ خیرا عبد الرشید بھائی! بہت ہی اچھی نصیحت شیئر کی آپ نے!

    لیکن! معذرت کے ساتھ!!
    مجھے اس ذاتِ اقدس کی قسم! جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے کہ یہ اردو کلام جس کے متعلق آپ نے کہا کہ
    یہ میرے محبوب نبیﷺ کا کلام نہیں، بلکہ آپ کا کلام ہے، یا اس کا جس نے ترجمہ کیا ہے، اور ترجمہ ’تفسیر بالرائے‘ کی ایک قسم ہے، جس میں صحت وضعف دونوں کا امکان ہوتا ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ لازماً غلط ہی ہے، لیکن یہ حتمی ہے کہ یہ اردو کلام وحی نہیں، وحی تو قرآن کریم میں اللہ رب العٰلمین کا عربی کلام اور نبی کریمﷺ کا احادیث مبارکہ میں عربی فرمان ہے، تو اس بارے میں انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ ترجمہ میں ذاتی بات شامل ہو جائے تو پھر ہم اللہ تعالیٰ یا نبی کریمﷺ پر افتراء کے مجرم ٹھہریں، اور اللہ تعالیٰ اور نبی کریمﷺ پر افتراء عام لوگوں پر افتراء جیسا نہیں بلکہ سب سے بڑا ظلم ہے، فرمان باری ہے: ﴿ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللهِ كَذِبًا ﴾ فرمانِ نبویﷺ ہے: « إن كذبا علي ليس ككذب على أحد ، من كذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار»

    اگر اس طرح ترجموں کو اللہ تعالیٰ یا نبی کریمﷺ کا فرمان قرار دیا جانے لگے تو بد باطن حضرات اپنے تحریف معنوی یا ظن وتخمین پر مبنی ترجموں (جن میں شریعت کے مقصد کے علاوہ سب کچھ ہوتا ہے۔) کو وحی باور کرا کے اپنا اُلّو سیدھا کرتے رہیں گے، اور یہی ترجمے اصل بن جائیں گے، اور قرآن وسنت پیچھے رہ جائیں گے، اسی لئے علمائے کرام نے عربی متن کے بغیر قرآن وحدیث کے صرف ترجموں پر مبنی کتب چھاپنے سے سختی سے منع کیا ہے، کہ یہ فتنے کا دروازہ کھولنے والی بات ہے، اگر کوئی شخص قرآن وحدیث کا عربی متن پیش کرکے ترجمہ غلط بھی کرے گا تو تھوڑا بہت علم رکھنے والے لوگ بھی جان لیں گے کہ حق کیا ہے اور باطل کیا؟

    البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ یہ کہہ کر کہ نبی کریمﷺ کے کلام کا مفہوم یہ ہے ترجمہ ذکر کر دیا جائے، لیکن پھر اس وہ حیثیت نہیں ہوگی تو اصل حدیث مبارکہ کی ہوگی۔
    واللہ اعلم!

    علاوہ ازیں! میرے بھائی! میں نے پہلے بھی ذکر کیا تھا کہ ریفرنس مکمل دیں، صرف بخاری ومسلم کہنا کافی نہیں، بلکہ کتاب اور باب کا نام دیں یا کم از کم رقم الحدیث تو بیان کر دیں۔

    تو ازراہِ کرام اس حدیث مبارکہ کا عربی متن (جو در حقیقت نبی کریمﷺ کا فرمان ہے) بمعہ ترجمہ دوبارہ شیئر کر کے دنیا وآخرت میں اللہ کے انعامات کے مستحق بنیں!
     
  6. ‏فروری 16، 2012 #6
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,763
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    قرآن وسنت کی نصوص کو ترجمہ کرکے بغیر وضاحت کے پیش کر دینے کا ایک نقصان اسی حدیث کے ترجمہ سے واضح ہو رہا ہے ۔
    اصل عربی عبارت یوں ہے :
    والذی نفسی بیدہ ۔۔۔
    اور اس طرح کی نصوص سے اللہ کی صفات میں سے ایک صفت ( الید ) جس کا اردو ترجمہ ( ہاتھ ) ہے ثابت ہور ہی ہے ۔
    حدیث کا اردو ترجمہ یوں ہے :
    اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔۔۔

    جبکہ بعض بلکہ اکثر ترجمہ کرنے والے اس کا ترجمہ یوں کر دیتے ہیں :
    مجھے اس ذات اقدس کی قسم،جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ۔
    ا ب مؤخر الذکر ترجمہ سے لفظ ( الید ) کا ترجمہ ( ہاتھ ) کی جگہ ( قبضہ قدرت ) ہو گیا ہے ۔ اور یہی کام اللہ کی صفات کا انکار کرنے والے باطل گروہ کرتےہیں ۔
    اس کی مثال بالکل یوں ہے کہ
    وجاء ربک ۔۔۔۔
    کا ترجمہ : اور تیرا رب آئے گا
    کی بجائے یوں کردیا جائے کہ :
    اور تیرے رب کا حکم یا امر آئے گا ۔
    یہاں بھی اللہ کی صفت ( المجیء ) ( آنا ) کا انکار کرنے کےلیے یہ حرکت کی جاتی ہے ۔

    واللہ اعلم ۔
     
  7. ‏فروری 16، 2012 #7
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    السلام علیکم
    نہیں بلکہ
    اس بارے میں بھی ہمارے علمائے کرام(انس نضر،ابوالحسن علوی،خضر حیات،ابن بشیر الحسینوی،رفیق طاھر) روشنی ڈالیں
     
  8. ‏فروری 16، 2012 #8
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    کہو ان شاءاللہ
     
  9. ‏فروری 16، 2012 #9
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا
    اللہ تعالیٰ آپ کو جنت الفردوس عطا فرمائے آمین۔
    بہت پیارے انداز میں نصیحت کی ہے انس بھائی جان۔
     
  10. ‏فروری 16، 2012 #10
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں