1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

۱۲ربیع الاول میلاد کے دن کو میلاد کے دشمنوں نے تردد کا شکار کر ڈالا

'بدعی اعمال' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏جولائی 31، 2014۔

  1. ‏جولائی 31، 2014 #11
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,340
    موصول شکریہ جات:
    6,589
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    احمد رضا کی یہ آن کتنی لمبی تھی

    اس کی وضاحت خود اعلی حضرت احمد رضا بریلوی سے سنئے۔ بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ بعد موت آپ (حضرت ادریس علیہ السلام) آسمان پر تشریف لے گئے ، ایک روایت میں ہے کہ ایک بار دھوپ کی شدت میں تشریف لئے جا رہے تھے دوپہر کا وقت تھا ، آپ کو سخت تکلیف ہوئی خیال فرمایا کہ جو فرشتہ آفتاب پر موکل ہے اس کو کس قدر تکلیف ہوتی ہو گی۔ عرض کی اے اللہ! اس فرشتہ پر تخفیف فرما۔ فوراً دعا قبول کی، اور اس پر تخفیف ہو گئی، اس فرشتہ نے عرض کیا یا اللہ مجھ پر تخفیف کس طرف سے آئی ہے ارشاد ہوا میرے بندے ادریس نے تیری تخفیف کے واسطے دعا کی، میں نے اس کی دعا قبول کی۔عرض کی مجھے اجازت دے میں اس کی خدمت میں حاضر ہوں۔ اجازت ملنے پر حاضر ہوا، تمام واقعہ بیان کیا اور عرض کیا حضرت کا کوئی مطلب تو ارشاد فرمائیں ، فرمایا ایک مرتبہ جنت میں لے چلو۔ عرض کی کہ یہ تو میرے قبضے سے باہر ہے لیکن عزرائیل علیہ السلام ملک الموت سے میرا دوستانہ ہے ان کو لاتا ہوں، شاید کوئی تدبیر چل جائے۔ غرض عزرائیل علیہ السلام آئے آپ نے ان سے فرمایا: انہوں نے عرض کیا حضور بغیر موت کے تو جنت میں جانا نہیں ہو سکتا۔ فرمایا روح قبض کر لو۔ انہوں نے بحکم خدا ایک آن کیلئے روح قبض کی اور فوراً جسم میں ڈال دی الخ ۔(ملفوظات احمد رضا بریلوی حصہ چہارم ص:۳۸۱طبع فرید بک سٹال لاہور)

    اس واقعہ کی وضاحت ایک دوسرے مولوی نعیم الدین صاحب بریلوی یوں کرتے ہیں: حضرت کعب احبار وغیرہ سے مروی ہے کہ حضرت ادریس علیہ السلام نے ملک الموت سے فرمایا کہ میں موت کا مزہ چکھنا چاہتا ہوں کیسا ہوتا ہے تم میری روح قبض کر کے دکھائو، انہوں نے حکم کی تعمیل کی اور روح قبض کر کے اسی وقت آپ کی طرف لوٹا دی۔ آپ زندہ ہو گئے، فرمایا اب مجھے جہنم دکھائو تا کہ خوف الٰہی زیادہ ہو چنانچہ یہ بھی کیا گیا، جہنم دیکھ کر آپ نے مالک داروغہ جہنم سے فرمایا کہ دروازہ کھولو میں اس پر گزرنا چاہتا ہوں چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور آپ اس پر گزرے پھر آپ نے ملک الموت سے فرمایا کہ مجھے جنت دکھائو وہ آپ کو جنت میں لے گئے۔ آپ دروازہ کھلوا کر جنت میں داخل ہو گئے تھوڑی انتظار کر کے ملک الموت نے کہا کہ آپ اب اپنے مقام پر تشریف لے چلئے فرمایا اب میں یہاں سے کہیں نہیں جائوں گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: کل نفسٍ ذائقۃ الموت۔ وہ میں چکھ چکا ہوں اور یہ فرمایا: وان منکم الا واردھا کہ ہر شخص کو جہنم پر گزرنا ہے تو میں گزر چکا۔ اب میں جنت میں پہنچ گیا اور جنت میں پہنچنے والوں کیلئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: وما ہم بمخرجین کہ جنت سے نکالے نہ جائیں گے۔ اب مجھے جنت سے نکلنے کیلئے کیوں کہتے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ملک الموت کو وحی فرمائی کہ حضرت ادریس علیہ السلام نے جو کچھ کیا ہے میرے اذن سے کیا ہے اور وہ میرے اذن سے جنت میں داخل ہوئے۔ انہیں چھوڑ دو۔ وہ جنت میں رہیں گے چنانچہ اب وہاں زندہ ہیں۔(تفسیر خزائن العرفان ص:۴۴۴، ہمراہ ترجمہ احمد رضا تحت آیت ورفعناہ مکانا علیا ۔تختی خورد)

    جس سے واضح ہوا کہ اعلیٰ حضرت کے نزدیک آن سے مراد بالکل تھوڑا سا وقت جس کو نعیم الدین نے ان لفظوں میں بیان کیا۔ ’’روح قبض کر کے اسی وقت آپ کی طرف لوٹا دی‘‘ ۔ اور خود احمد رضا نے ان لفظوں میں بیان کیا۔ ’’ایک آن کیلئے روح قبض کی اور فوراً جسم میں ڈال دی‘‘ ۔ تو گویا ایک دو منٹ میں روح مبارک کا جانا آنا مکمل ہو گیا۔
     
  2. ‏جولائی 31، 2014 #12
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,340
    موصول شکریہ جات:
    6,589
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    تو جیسے حضرت ادریس علیہ السلام کیلئے ایک آن کیلئے موت آئی اور کل نفس ذائقۃ الموت کا وعدہ الٰہی پوراہو گیا کہ روح نکالی پھر اسی وقت فوراً واپس لوٹ گئی تو اسی حساب سے بقول احمد رضا بریلوی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایک آن کیلئے موت آئی تا کہ وعدہ الٰہیہ پورا ہو پھر فوراً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حیات دنیوی حسی حقیقی لوٹا دی گئی۔

    تو جب سعیدی صاحب کو تسلیم ہے کہ وفات نبوی سوموار کے دن ہوئی سارا دن گیا، منگل کی رات گزر گئی، منگل کا سارا دن گزر گیا، بدھ کی رات گزری ، بدھ کے دن آپ کو دفن کیا گیا تو لازماً بریلوی احمد رضا کے ملفوظات اوربریلوی نعیم الدین بریلوی کی تفسیر کے مطابق جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن کیا گیا اس وقت ایک آن کا وقت گزر کر دوبارہ روح مبارک آپ کے جسم مبارک میں واپس لوٹ چکی تھی اور آپ حیات حسی حقیقی دنیوی کی حالت میں تھے کہ دفن کرنے والوں نے آپ کو دفن کر دیا۔ استغفر اللہ۔

    ورنہ سعیدی صاحب ایک آن کیلئے وفات پھر فوراً حیات کی بات کو بکواس تسلیم کرو۔ اعلی حضرت کی تحقیق کے مطابق شیعہ صاحبان رضاخانیوں سعیدیوں سے پوچھیں گے کہ ایک آن گزر جانے کے بعد زندہ نبی(صلی اللہ علیہ وسلم )کو قبر میں دفن کرنے والے یہ ابوبکر و عمر و عثمان و علی ، آپ کے سچے جان نثار اور سچے یار غار اور سچے پکے صحابی تھے؟۔ باقی رہی غلاموں کی یہ زندگی یعنی شہداء کی زندگی تو اس کے متعلق پہلے بیان کر آیا ہوں کہ اگر ان کی زندگی بحیاۃ دنیویہ جسمانیہ ہے تو پھر ان کی عورتیں تو بیوہ نہ ہوں کہ وہ بھی حیات جسمانیہ دنیاویہ والے اور ان کی بیویاں بھی حیات دنیاویہ جسمانیہ والیاں اور پھر ان کی عدت کیسے کہ وہ زندہ بحیات دنیویہ جسمانیہ اور ان کی عورتیں بھی زندہ بحیات دنیویہ جسمانیہ اور ان کو زندہ بحیات دنیاویہ جسمانیہ شوہروں کی موجودگی میں دوسری جگہ بعد از عدت شادی کرنے کی اجازت کیوں اور کیوں ان زندہ بحیات دنیویہ جسمانیہ شھداء کو اپنے دنیاوی گھروں اور ان کے اپنے زرخرید بستروں پلنگوں پر سونے اور آرام نہیں کرنے دیا جاتا اور کیوں ان کو قبرمیں لا کر دفن کر دیا جاتا ہے۔؟؟؟
     
  3. ‏جولائی 31، 2014 #13
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,340
    موصول شکریہ جات:
    6,589
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    حقیقت یہ ہے کہ وہ شہداء ہیں تو زندہ مگر احیائٌ فی الجنۃ ۔(مشکوٰۃ ص:۳۳۴) جنت میں زندہ ہیں تو ماننا پڑے گا کہ انبیاء ورسل علیہم السلام اور شہداء کرام کی موت کے بعد قبر میں برزخی زندگی شروع ہو گئی ہے جو ہم سے اوٹ میں ہے جس کی حقیقت ہم نہیں جان سکتے یہی وجہ ہے کہ ان کے وجودوں کو بھی ہم سے اوٹ میں رکھا گیا کیونکہ ان کا نظام زندگی ہم زندہ انسانوں کے نظام زندگی سے جدا ہے، ہم زندہ انسان اپنے مکانوں میں اپنے بستروں میں اپنی دنیاوی زندگی گزار سکتے ہیں مگر وہ برزخی زندگی والے اپنے دنیاوی مکانوں بستروں میں نہیں رہ سکتے۔ اب ان کیلئے ویرانہ قبرستان، زمین کی تہہ زیادہ بہتر ہے، جس کو شہر خاموشاں کہا جاتا ہے۔

    اور ان شہداء کو جو جو نعمتیں حاصل ہیں وہ سب برزخی ہیں، دنیاوی نعمتیں نہ ان کو کھانے کیلئے ملتی ہیں اور نہ وہ خود دنیاوی نعمتیں حاصل کرنے کیلئے آتے ہیں چنانچہ شہداء کے ارواح پرندوں کی شکلوں میں بہشتی اور جنتی پھلوں کے درختوں پر پھل کھانے کیلئے پرندوں کی طرح لٹکے رہتے ہیں(مشکوٰۃ ص:۳۳۴) اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بخاری شریف میں ہے:
    وانا جبرئیل وہذا میکائیل فارفع رأسک فرفعت راسی فاذا فوقی مثل السحاب قالا ذلک منزلک فقلت دعانی ادخل منزلی قالا انہ بقی لک عمر لم تستکملہ فلوا استکملت اتیت منزلک۔ (بخاری ج:۱، ص:۱۸۵)
    کہ میں جبرئیل ہوں اور یہ میکائیل ہے پس آپ اپنا سر مبارک اٹھائیے چنانچہ میں نے اپنا سر مبارک اونچا کیا تو اپنے سر کے اوپر ایک بادل کی طرح ایک منزل( محل )دیکھا تو دونوں نے کہا کہ حضرت یہ محل آپ کا بہشتی محل ہے تو میں نے ان کو کہا کہ مجھے اپنے محل میں داخل ہونے دو تو انہوں نے مجھے کہا کہ جناب ابھی آپ کی دنیاوی زندگی کے حساب سے کچھ حصہ گزارنا باقی ہے جو آپ نے پورا مکمل نہیں فرمایا پس جب آپ اپنی بقیہ زندگی کا حصہ پورا فرما لیں گے تو آپ اس محل میں تشریف لائیں گے۔ انتھی۔

    پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ربیع الاول ۱۱ھ سوموار کے دن کو اپنا دنیاوی زندگی کا بقایا زمانہ پورا فرما لیا تو فوراً اپنے اس بہشتی محل میں تشریف فرما ہو گئے۔
     
  4. ‏جولائی 31، 2014 #14
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,340
    موصول شکریہ جات:
    6,589
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    انبیاء علیہم السلام کیلئے ایک آن کی موت پھر دوبارہ دنیاوی زندگی کا نظریہ قرآن کے خلاف ہے

    ۱۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
    فاماتہ اللہ مأۃ عامٍ ثم بعثہ قال کم لبثت الخ۔(بقرہ پ:۳)
    تو اللہ نے اسے مردہ رکھا سو برس پھر زندہ کر دیا فرمایا تو یہاں کتنا ٹھہرا عرض کی دن بھر ٹھہرا ہوں گا یا کچھ کم فرمایا نہیں تجھے سو برس گزر گئے۔(ترجمہ احمد رضا بریلوی)نعیم الدین بریلوی اپنی تفسیر میں لکھتا ہے : بقول اکثریہ واقعہ عزیر علیہ السلام کا ہے… اور آپ نے اپنی سواری کو وہاں باندھ دیا اور آپ نے آرام فرمایا اسی حالت میں آپ کی روح قبض کر لی گئی اور گدھا بھی مر گیا یہ صبح کے وقت کا واقعہ ہے اس سے ستر برس بعد اللہ تعالیٰ نے شاہان فارس میں سے ایک بادشاہ کو مسلط کیا… جب آپ کی وفات کو سو برس گزر گئے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو زندہ کیا (خزائن العرفان ص:۶۲تختی خورد)

    احمد رضا اور نعیم الدین مراد آبادی بریلوی کے معنی اور تفسیر سے بھی یہی معلوم ہوا کہ حضرت عزیر علیہ السلام مکمل سو سال تک موت میں رہے اور آپ کی روح قبض رہی سو سالہ موت کے بعد پھر آپ کو زندہ کیا گیا ورنہ فاماتہ اللہ مأۃ عام۔( اللہ نے اسے سو سال تک مدت دی ہے ) غلط ہو گا یہی وجہ ہے کہ حضرت عزیر علیہ السلام سو سال تک فوت ہونے کے بعد جب دوبارہ زندہ ہو ئے تو چالیس سال کی عمر میں اٹھے جس عمر میں فوت ہوئے تھے اگر زمین پر سو سال کی موت کے دوران ایک آن گزر جانے کے بعد زندہ بحیات دنیاویہ جسمانیہ ہو چکے ہوتے جیسا کہ احمد رضا کا نظریہ ہے تو آپ کی عمر تو بڑھنی چاہئے تھی دوبارہ اٹھائے جانے اور زندہ کئے جانے کے وقت ایک سو چالیس سال کی عمر ہوتی حالانکہ تفاسیر میں لکھا ہوا ہے کہ جب یہ واقعہ ہوا اس وقت چالیس سال کے تھے اور جب دوبارہ زندہ ہوئے اس وقت بھی صرف چالیس سال کے تھے اور بدستور سر اور داڑھی کے بال سیاہ تھے مگر آپ کے بیٹے کی عمر اس وقت ایک سو اٹھارہ سال کی ہو چکی تھی اور اس بیٹے کی اولاد بھی بوڑھی ہو چکی تھی (تعلیقات جدیدہ من التفاسیر المعتبرہ لحل جلالین ص:۴۱) اور نعیم الدین مراد آبادی بھی لکھتا ہے… ایک مجلس میں آپ کے فرزند تھے جن کی عمر ایک سو اٹھارہ سال ہو چکی تھی اور آپ کے پوتے بھی تھے جو بوڑھے ہو چکے تھے (خزائن العرفان ص:۶۳)

    ۲۔ والذی یمیتنی ثم یحین۔(الشعراء آیت:۸۱) حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ وہ ہے جو مجھے مارے گا پھر زندہ کرے گا جس سے واضح ہے کہ اس زندگی سے مراد قبر سے جی اٹھنے کی زندگی مراد ہے ۔اگر ہم بقول احمد رضا یہ مان لیں کہ ہر نبی کو اپنی موت کے فوراً بعد زندگی حاصل ہو جاتی ہے اور بدن میں روح لوٹ آتی ہے تو پھر قبر سے جی اٹھنے کی زندگی کیسی۔

    ۳۔ فاحیاکم ثم یمیتکم ثم یحییکم۔(بقرہ :۲۸) پس اللہ تعالیٰ نے تم کو پیدا کیا پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں زندہ کرے گا۔ وہو الذی احیاکم ثم یمیتکم ثم یحییکم ۔(الحج:۶۶) اور وہی ہے جس نے تمہیں زندہ کیا پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں زندہ کرے گا ان دونوں آیات سے مراد دنیا کا مرنا اور قیامت کی زندگی مراد ہے جیسا کہ نعیم الدین صاحب ثم یحییکم پر حاشیہ لگا کر لکھتے ہیں : ’’ روز بعث ثواب و عذاب کیلئے اور یمیتکم سے مراد تمہاری عمریں پوری ہونے کا مرنا ہے‘‘۔ (خزائن العرفان ص:۴۸۷، تختی خورد)

    اگر احمد رضا بریلوی کا نظریہ مان لیا جائے تو یہ آیتیں اس نظریہ کو رد کرتی ہیں کیونکہ اگر نبیوں کو دنیاوی فوتگی کے فوراً بعد روح مبارک واپس لوٹا دی جاتی ہے تو پھر زندگی ان کو مل گئی، روز بعث کی زندگی کا کیا معنی۔
     
  5. ‏جولائی 31، 2014 #15
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,340
    موصول شکریہ جات:
    6,589
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    جشن عیدمیلادکے دشمن ڈنڈی مارتے ہیں

    سعیدی: مگر جشن عید میلاد کے دشمن ڈنڈی مارتے ہیں کہ ۱۲ربیع الاول آپ کی وفات کا دن ہے، اس دن بی بی فاطمہ شدت غم سے پکار اٹھیں: صبت علی مصائبٌ الخ اس دن صحابہ روئے تھے… اگر کوئی خوشی سے ناچتا ہو گا ملعون شیطان ہی ہو گا۔ اس دن تم عید مناتے ہو بلفظہ۔

    پہلا سوال: اس کی عبارت کے بعد اس سے یہ ہے کیا اس دن سوگ منایا جائے اگر جواب ہاں میں ہے تو اس دن ابلیس نے چیخ کر اور چلا کر سوگ منایا تھا تم بھی اس کے طریقے پر عمل کر لو…۔

    دوسرا سوال: یہ ہے کیا حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مزار انوار میں زندہ موجود ہیں؟ اگر ہیں تو کیا زندہ نبی کا سوگ منانا جائز ہے ۔ اگر آپ کے نزدیک زندہ نہیں تو آپ کے جن علماء نے ان کو زندہ مانا ہے وہ کذاب و مفتری ہوئے یا نہیں وہ سچے ہیں تو جناب والا کس کھاتے میں جائیں گے۔(ہم میلاد کیوں مناتے ہیں ص:۱۹)

    محمدی: میلاد نبوی کے دن سال بسال خوشی منانے کا ثبوت نہ کتاب و سنت سے ثابت ہے اور نہ کسی صحابی و تابعی نے اس دن کو روایتی خوشی منائی جیسا کہ پہلے بیان ہوا۔

    ہاں صحابہ کرام کے خوش ہونے کا تذکرہ احادیث میں اس وقت کے حساب سے موجود ہے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت فرما کر مدینہ شریف پہنچے تھے ، چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مدینہ شریف میں مکہ شریف سے ہجرت کر کے سب سے پہلے جو آیا وہ حضرت مصعب بن عمیر اور ابن اُم مکتوم تھے تو یہ دونوں ہم کو قرآنِ مجید کی تعلیم دیتے تھے پھر حضرت عمار ، بلال اور سعد تشریف لائے پھر عمر رضی اللہ عنہ بیس صحابہ کرام کی معیت میں تشریف لائے پھر حضرت نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ کی ہجرت اور تشریف آوری پر اہل مدینہ جتنا خوش ہوئے اتنا اور کسی چیز پر خوش نہ ہوئے۔ حتیٰ کہ میں نے چھوٹی لڑکیوں اور چھوٹے بچوں کو دیکھا جو کہہ رہے تھے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں… ۔(بخاری ، مشکوٰۃ ص:۵۴۶) دوسری روایت میں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے تو حبشی لوگ آپ کی تشریف آوری کی خوشی میں تیر اندای کر کے کھیلنے لگے (ابودائود ، مشکوٰۃ ص:۵۴۷) اور حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے اس دن سے زیادہ روشن دن اور بہترین اور خوبصورت دن اور کوئی دن نہیں دیکھا (مشکوٰۃ ص:۵۴۷) حضرت انس رضی اللہ عنہ کی دوسری روایت میں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو مدینہ کی ہر چیز چمک دمک اٹھی (ترمذی ، مشکوٰۃ ص:۵۴۷) یہ کیفیت ہجرت کے پہلے سال تھی، سال بہ سال ہجرت کے موقعہ پر ایسی کیفیت صحابہ کرام تابعین سے ثابت نہیں۔
     
  6. ‏جولائی 31، 2014 #16
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,340
    موصول شکریہ جات:
    6,589
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    اور صحابہ کرام پر غم کی کیفیت اس وقت طاری تھی جس وقت آپ نے وفات پائی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب صحابہ کرام کو اپنے منبر پر بیٹھ کر فرمایا کہ اللہ نے اپنے ایک بندے کو اختیار دے دیا ہے کہ چاہو تو دنیا کے حسن وجمال کو پسند فرما لو یا جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اس کو قبول فرما لو۔ اس بندہ نے اس کو قبول کیا ہے جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے بھرے مجمع میں اس گفتگو نبوی کو سن کر سیدنا ابوبکر صدیق رونے لگ گئے کہ وہ رمز شناس رسالت تھے، انہوں نے اس گفتگو نبوی سے یہ سمجھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لئے بطور کنایہ فرما رہے ہیں گویا آپ کی وفات کا وقت قریب آ چکا ہے (ماحاصل مشکوٰۃ ص:۵۴۶) جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ اپنے باپ کی جدائیگی کے غم میں ندبہ کے طور پر :
    یا ابتاہ اجاب ربًا دعاہ یا ابتاہ من جنت الفردوس ماواہ۔ یا ابتاہ الی جبرئیل ننعاہ۔
    (ائے ابا جان آپ نے اپنے رب کی دعوت پر لبیک کہدیا ، ائے ابا جان آپ کا ٹھکانہ تو جنت الفردوس ہے ۔ائے ابا جان ہم جبریل کو آپ کی وفات کی خبر دیتے ہیں)فرمانے لگیں (مشکوٰۃ ص:۵۴۷) اور حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی وہ سب دنوں سے زیادہ برا اور زیادہ اندھیرے والا دن تھا(مشکوٰۃ ص:۵۴۷) دوسری روایت میں ہے کہ جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی اس دن سب چیزوں پر اندھیرا چھاگیا تھا (ترمذی مشکوٰۃ ص:۵۴۷) حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے قریب ہونے کی خبر جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کو دی تو وہ رونے لگ گئی تو فرمایا کہ مت روئیے میرے خاندان میں سے سب سے پہلے تو ہی مجھے ملنے والی ہے تو پھر ہنس پڑی(مشکوٰۃ ص:۵۴۹)

    حضرت ابوسفیان مغیرہ بن حارث جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے موقعہ پر حسب ذیل اشعار کہے تھے جن کا معنی یہ ہے ’’ میں جاگ رہا ہوں ، رات ختم ہونے میں نہیں آ رہی، ہاں مصیبت زدہ کی رات لمبی ہی ہوا کرتی ہے، میں بے اختیار رو رہا ہوں، اور یہ تو اس مصیبت کے مقابلہ میں جو مسلمانوں پر آئی ہے بہت کم ہے اس روز ہماری مصیبتوں کی کچھ انتہا نہ رہ گئی، جب لوگ یہ کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے۔ معلوم ہوتا ہے کہ زمین پر بھونچال (زلزلہ) آ گیا اور زمین دھنس جائے گی جس وحی کو لے کر صبح و شام جبرئیل علیہ السلام ہم میں آیا کرتے تھے، آج ہم اس سے محروم ہو بیٹھے، یہ وہ مصیبت ہے کہ لوگوں کا مر جانا یا قریب المرگ ہو جانا بالکل ٹھیک ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس شان کے ساتھ تھے کہ دل سے شک کو صاف کر دیتے تھے، کبھی بذریعہ وحی اور کبھی بذریعہ ارشادات خود، وہ ہماری راہنمائی فرمایا کرتے تھے اور ہم کو کبھی بھی بھٹک جانے کا ڈر نہ ہوتا تھا کیونکہ ہم جانتے کہ اللہ تعالیٰ کا رسول ہمارا راہنما ہے۔ اے فاطمہ اگر تو روئے گی تو ہم تجھے معذور سمجھیں گے اور اگر تو صبر کرے گی تو بہتر ہے کیونکہ یہی بہتر طریق ہے۔ تیرے باپ کی قبر ہر ایک کی سید ہے اور اس قبر میں نوع انسان کا سردار اللہ کا رسول آسودہ ہے ‘‘ ۔(رحمة للعالمین صفحہ ۷۳۔۷۴جلد دوم قاضی سلیمان) اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ میں چچا زاد بھائی بھی ہیں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دیتے ہوئے فرما رہے تھے۔’’میرے ماں باپ آپ پر قربان ۔ آپ کی موت سے وہ چیز جاتی رہی جو کسی دوسرے کی موت سے نہ گئی تھی یعنی وحی آسمانی کا انقطاع ہو گیا آپ کی موت خاص صدمہ عظیم ہے کہ اب سب مصیبتوں سے دل سرد ہو گیا ہے اور ایسا عام حادثہ ہے کہ سب لوگ اس میں یکساں ہیں۔ اگر آپ نے صبر کا حکم نہ دیا ہوتا اور آہ و زاری سے منع نہ فرمایا ہوتا تو ہم آنسو آپ پر بہا دیتے۔ پھربھی یہ درد لا علاج اور یہ زخم لازوال ہی ہوتا اور ہماری یہ حالت بھی اس مصیبت کے مقابلہ میں کم ہوتی، اس مصیبت کا تو علاج ہی نہیں ہے اور یہ غم تو جانے والا ہی نہیں۔ میرے والدین حضور پر نثار، پروردگار کے ہاں ہمارا ذکر فرمانا اور ہم کو اپنے دل سے بھول نہ جانا‘‘۔ (نہج البلاعہ ص:۲۰۵، طبع قدیم طبع جدید ) رحمۃ للعالمین ج:اول ص:۲۵۲)

    اور یہ غم کی سی کیفیت بھی صرف وفات کے سال اول میں طاری ہوئی تھی۔ وفات کے موقعہ پر سال بہ سال ایسی کیفیت صحابہ کرام تابعین عظام میں ہرگز دیکھنے میں نہیں آئی تو جنہوں نے وفات نبوی کے موقعہ پر غم کا اظہار کیا ہے کیا وہ اس دن ابلیس کے طریق پر عمل کر رہے تھے؟باش ہرچہ خواہی کن۔ وہ بقول احمد رضا ۱۲ربیع الاول تھا نیز ابلیس اگر رویا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش پر بطور حسد رویا تھا، اور صحابہ کرام روئے تھے تو بطور سوگ آپ کی وفات کے غم میں روئے تھے تو فرق واضح ہے۔

    ہم میلاد کیوں نہیں مناتے؟
     
  7. ‏اکتوبر 07، 2015 #17
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    محترم پیدائش کا حساب لگانا تو بہت مشکل ہے اسی لئے اس میں اختلاف ہے مگر ایک بات حتمی اور یقینی ہے کہ آقا علیہ السلام کا وصال حسرت آیات 12 ربیع الاول کو نہیں ہؤا۔یہ اس لئے کہ صحیح روایات سے پتہ چلتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو حج کیا وہ 9 ذی الحجہ کو جمعہ تھا۔ روایات اس پر بھی دال ہیں کہ آقا علیہ السلام کا وصال سوموار کو ہؤا۔ان دو باتوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے دیکھ جاسکتا ہے کہ ربیع الاول کی بارہ تاریخ اور دن کیا اکٹھے ہو سکتے ہیں؟ ذی الحجہ کے بعد ربیع الاول تک تین چاند بنتے ہیں۔ تینوں کو 30 کا قرار دے لیں، 29 کا قرار دے لیں، دو 30 کے ایک 29 کا قرار دے لیں یا دو 29 کے اور ایک 30 کا (ان مہینوں کےیہی ممکنہ ایام ہوسکتے ہیں) کسی بھی طرح سوموار کا دن اور 12 تاریخ اکٹھی نہیں ہوتیں۔جدول بنا کر دیکھ لیں۔
    والسلام
     
  8. ‏اکتوبر 07، 2015 #18
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,977
    موصول شکریہ جات:
    1,494
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    وعلیکم السلام و رحمت الله -

    نبی کریم صل الله علیہ وآ له وسلم کی پیدائش کا حساب بھی کوئی مشکل نہیں - جدول اور عیسوی کیلنڈر کے حساب سے آپ صل الله علیہ وآ له وسلم کی پیدائش ١٩اپریل ٥٧١ یکم عام الفیل کو ہوئی تھی (اس سال اصحاب فیل والا واقعہ پیش آیا تھا)- ٩ تاریخ اور مہینہ ربیع الاول کا تھا - اور دن پیر کا تھا -

    ایک روایت کے مطابق نبی کریم صل الله علیہ و آ له وسلم پیر کے دن کا روزہ رکھتے تھے - پوچھنے پر آپ نے فرمایا کہ اس دن میں پیدا ہوا تھا -اس حساب سے نبی کریم کی پیدائش ١٢ ربیع الاول کسی بھی صورت نہیں بنتی-
     
  9. ‏اکتوبر 08، 2015 #19
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    محترم جدول یا کیلنڈر چاند کے حساب سے بنائے جاتے ہیں اور صاف ظاہر ہے کہ چاند کبھی 30 کا ہوتا ہے اور کبھی 29 کا۔ آقا علیہ السلام کی عمر 63 سال کی بتائی جاتی ہے۔ اتنے سالوں کا حتمی فیصلہ کہ یہ 9 تاریخ تھی یقینی نہیں۔ اسی طرح وصال کی حتمی تاریخ کوئی نہیں ہاں جو حتمی بات ہے وہ یہ کہ 12 ربیع الاول نہ تھی۔ میں نے اسی تھریڈ میں جو طریقہ بتایا اس سے ایک عام آدمی بھی دیکھ سکتا ہے۔
    والسلام
     
  10. ‏دسمبر 22، 2015 #20
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,340
    موصول شکریہ جات:
    6,589
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    یہاں پریہ بتانا مقصود تھا کہ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں