1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

》》رمضان المبارك كى ابتدا اور انتہاء ميں رؤيت كا اعتبار ہو گا《《

'رویت ہلال' میں موضوعات آغاز کردہ از Adnani Salafi, ‏جون 04، 2016۔

  1. ‏جون 04، 2016 #1
    Adnani Salafi

    Adnani Salafi رکن
    جگہ:
    مدينة الرسول
    شمولیت:
    ‏دسمبر 18، 2015
    پیغامات:
    47
    موصول شکریہ جات:
    15
    تمغے کے پوائنٹ:
    32

    رمضان المبارك كى ابتدا اور انتہاء ميں رؤيت كا اعتبار ہو گا

    رمضان المبارك كى ابتداء كے ليے قابل اعتماد چيز رؤيت ہلال ہے، يا پھر اگر چاند نظر نہيں آتا تو شعبان كے تيس يوم پورے ہونا، صحيح احاديث اسى پر دلالت كرتى ہيں،اور اہل علم بھى اسى پر متفق ہيں.
    امام بخارى اور مسلم نے ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے روايت كيا ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

    " تم چاند ديكھ كر روزے ركھو، اور چاند ديكھ كر ہى عيد كرو، اور اگر چاند نظر نہ آئے تو پھر تم شعبان كے تيس يوم پورے كرو "
    اور ايك روايت ميں ہے:
    " اگر تم پر آسمان ابر آلود ہو جائے "
    صحيح بخارى حديث نمبر ( 1909 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1081 )
    اس ميں فلكى حساب پر اعتماد نہيں كيا جائيگا، كيونكہ رؤيت ميں اصل يہى ہے كہ اسے آنكھ كے ساتھ ديكھا جائے، ليكن اگر جديد آلات كے ساتھ چاند ديكھا جائے تو پھر اس رؤيت پر عمل كيا جائيگا
    ليكن يہ كہ: صرف آنكھ كے ساتھ چاند كيسے نظر آ گيا اور فلكيات والے جديد آلات كے ساتھ بھى اسے نہ ديكھ سكے ؟

    يہ چيز جگہ اور وقت ميں اختلاف ہونے پر منحصر ہے كہ جہاں فلكيات والے تھے وہاں نظر نہيں آيا ليكن دوسرى جگہ اور مقام پر نظر آ گيا.

    بہر حال حكم رؤيت ہلال پر معلق ہے، جب ثقہ اور باعتماد ايك يا دو مسلمانوں نے چاند ديكھا ہے تو اس رؤيت پر عمل كرنا واجب ہے.
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں