• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اسلام اور ہندودھرم میں پردہ اور ہمارا آئین

شمولیت
اگست 28، 2019
پیغامات
27
ری ایکشن اسکور
4
پوائنٹ
24
بسم اللہ الرحمن الرحیم


اسلام اور ہندودھرم میں پردہ

اور ہمارا آئین​



ابو معاویہ شارب بن شاکرالسلفی


الحمدللہ الذی خلق السمٰوات والارض والصلاۃ والسلام علی رسولہ الکریم اما بعد:


محترم قارئین!!



ہم اور آپ اس بات سے اچھی طرح سے واقف ہیں کہ اس کائنات کا خالق رب العالمین ہے،اسی اللہ نے اس کائنات میں اپنی علم وحکمت سے تمام مخلوق کے لئے وافر مقدار میں ضرورت کی تمام اشیاء رکھ دی ہیں،وہ اللہ علیم بھی ہے اور حکیم بھی ہے وہ جانتا ہے کہ اس روئے زمین پر بسنے والی مخلوقوں کے لئے کون سی چیز مفید ہے اور کون سی چیز مضر،اس کا ہرحکم وفیصلہ بنی نوع انسانیت کے لئے مفید سے مفید تر ہوتا ہے،اس کے کسی بھی فیصلے کے اندر کوئی نقص وعیب نہیں ہوسکتی ہے،جیسا کہ خود رب العالمین نے اپنے کلام پاک کے اندر اس بات کی جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ : ’’ إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ ‘‘ بيشك هم نے ہر چیز کو ایک اندازے پر پیدا کیا ہے۔(القمر:49)الغرض اس کا ہرقانون اور ہر حکم فطرت کے عین موافق ہے اور اسی کے بنائے قانون کےمطابق زندگی گذارنے میں ہی انسانیت کی سلامتی اور بقاہے،یہی وجہ ہے کہ ا س رب العالمین نے نبیوں اور رسولوں کا بدل اپنا فرمان قرآن مجید کی شکل میں بنی نوع آدم کوتا قیامت تک کے لیے دے دیا ہے،اس کا ہر فرمان اور ہرحکم ہرزمانے پر محیط ہے ،لاکھ زمانہ بدلے،سائنس وٹکنالوجی ترقی کرجائے مگر اس کے فرمان میں کوئی کمی وبیشی نہیں ہوسکتی ہے،اس رب العالمین نے بنی نوع آدم کی بھلائی کےلئے جو کتاب اتاری اس کتاب کے اندر مردوعورت کو پاکیزہ زندگی گذارنے کےلیے ،سماج ومعاشرے سے بے حیائی کا خاتمہ کرنے کے لیے،ہرطرح کی بدکاری سے بچانے کے لیےاور ہربدکاری سے جنم لینے والی بیماریوں سے بچانے کے لیے ،قلق واضطراب سے بچاکرچین وسکون کی زندگی گذارنے کے لیےیہ حکم دیا کہ مرد اپنی نگاہوں کی حفاظت کرے،پرائی عورتوں کو نہ گھورےاور عورتوں کو یہ حکم دیا کہ وہ اپنے حسن کی نمائش نہ کرے،بغیرپردے کے ہرایک کے سامنے میں آیااور جایا نہ کریں،ہرایک سے لچک دارآواز سے باتیں نہ کیاکرے،مٹک مٹک کرنہ چلاکریں،شمع محفل نہ بنے بلکہ عزت وشان کے ساتھ اپنے اپنے گھروں میں ملکہ بن کرزندگی گذاریں۔

جب اسلام کا ایسا پاکیزہ حکم دنیا کے سامنے آیااور ظاہرہوا تو وہ لوگ جو نفس پرست ہیں اور نفسانی خواہشات کے غلام بنے ہوئے ہیں آگ بگولہ ہوگئے اور سیخ پاہوکر اسلام کے قانون پر ہی اعتراض کرنے لگے کیونکہ انہیں یہ محسوس ہونے لگا کہ اگر اسلام کےاحکام کو لوگوں نے اپنانا شروع کردیا تو پھر ان کی خواہشیں پوری نہ ہوسکیں گی،یہی وجہ ہے کہ وہ وقتافوقتا اسلام کے قوانین کے اوپر انگلی اٹھاتے رہتے ہیں او ر اسی کی ایک کڑی آج کل میں وقوع پذیرہونے والا وہ واقعہ ہے جو صوبہ کرناٹک کے اڈپی ضلع کے ایک کالج میں ہوا کہ حجاب کو نشانہ بنایا گیااور حجاب پر پابندی لگانے کی بات کہی گئی جب کہ ایسا کہنا اور سوچنا اور ایسا ڈیمانڈکرنا اور ایسا قانون لگانا ہمارے آئین ومنشورکے بھی خلاف ہے، آئیے سب سے پہلے مختصر طور پرہم یہ جانتے ہیں کہ پردہ کرنا کن کا شعار ہے اورپردہ کرنے کے کیا کیا فائدے ہیں۔

(1) پردہ کرنابا ایمان ہونے کی علامت ہے:

پردے کے بارے میں سب سے پہلے آپ یہ جان لیں کہ پردہ کرنا یہ مومن عورتوں کا شعار ہے اور پردہ کرنا یہ ایک عورت کے باایمان ہونے کی دلیل ہے کیونکہ رب العزت نے جہاں پر پردے کے احکام بیان کیے ہیں وہاں پر خطاب مومن عورتوں سے کیا گیا ہے مثلا سورہ النور آیت نمبر 30 کے اندر رب العزت نے فرمایا کہ ’’ وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ ‘‘ اے نبیﷺ آپ مومن عورتوں سے کہہ دیں کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھے ،اسی طرح سے سورہ احزاب آیت نمبر 59 کے اندر بھی رب العزت نے مومن عورتوں کو پردہ کرنے کاحکم دیتے ہوئے کہا کہ اے نبیﷺ آپ مومنہ عورتوں سے کہہ دیں کہ وہ پردہ کیا کریں ،ان دونوں آیتوں کے انداز تخاطب سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ پردہ کرنا یا پھر کرانا با ایمان ہونےکی دلیل ہے اسی لیے ایمان والیوں سے خطاب کیا گیا ہے عام عورتوں سے نہیں ،اسی بات کی وضاحت اماں عائشہؓ کے ایک قول سے بھی ہوتی ہے کہ ان کے پاس ایک مرتبہ بنو تمیم کی کچھ عورتیں باریک لباس پہن کر آئیں تو اماں عائشہؓ نے ان سب عورتوں سے کہا کہ ’’ إِنْ كُنْتُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلَيْسَ هَذَا بِلِبَاسِ الْمُؤْمِنَاتِ ‘‘ اگر تم مومن عورتیں ہو تو پھر یہ مومن عورتوں کا لباس نہیں ہے ہاں اگر ’’وَإِنْ كُنْتُنَّ غَيْرَ مؤمنات فتمتعن به ‘‘ تم مومن عورتیں نہیں ہو تو پھر ایسا لباس پہنو۔(تفسیر قرطبی:14/244) ان تمام باتوں سے یہ بات واضح ہوگئی کہ پردہ کرنا مؤمنہ عورتوں کا کام ہے۔

(2) پردہ دلوں کی پاکیزگی کا سبب ہے:

؁5 ھ کی بات ہے کہ سیدنا عمربن خطابؓ آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ اے اللہ کے نبیﷺ ’’ يَدْخُلُ عَلَيْكَ البَرُّ وَالفَاجِرُ ‘‘ آپ کے پاس ہرطرح کے لوگ آتے ہیں جس میں اچھے بھی ہوتے ہیں اور برے لوگ بھی ہوتے ہیں اسی لیے ’’ فَلَوْ أَمَرْتَ أُمَّهَاتِ المُؤْمِنِينَ بِالحِجَابِ ‘‘ آپ ام المؤمنین والمؤمنات سے پردہ کرنے اور حجاب لگانے کا حکم دے دیں ۔(بخاری:4790) ادھر سیدنا عمرؓ نے ایسا مشورہ دیا اورادھر جبرئیل امین وحی لے کر حاضر ہوگئے کہ :’’ وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ ‘‘ اور جب تم ان سے کوئی چیز طلب کرو تو پردے کے پیچھے سے طلب کرو اور ایسا کرنا ہی تمہارے اور ان کے دلوں کے لیے کامل پاکیزگی کا سبب ہے۔(الاحزاب:53)رب کے فرمان پر ذرا غور کریں کہ الہ العالمین جو اپنے بندوں کے دلوں کے احوال وکیفیت سے بخوبی واقف ہے پردے کا فائدہ ذکرکرتے ہوئے یہ کہا کہ پردہ مردوعورت دونوں کے دلوں کے لئے پاکیزگی کا سبب ہے،رب العالمین نے اپنے اس فرمان کے ذریعے ان نام نہاد مسلمانوں ، بدباطن اور ہوس پرستوں کے منہ پر ایک زوردارطمانچہ مارا ہے جن کا یہ کہنا اور ماننا ہے کہ لباس کا پردہ تھوڑی ہے اصل پردہ تو دل کا پردہ ہوتا ہے،ہم کسی بھی بے پردہ عورت کو دیکھ کر ایسا ویسا کچھ نہیں سمجھتے ،بہت سارے مسلم گھرانے کے والدین اور ذمہ داران بھی ایسا کہتے نظر آتے ہیں کہ ہماری بچی برقعہ نہیں پہن رہی ہے تو کیا ہوا ہماری بچی کا دل صاف ہے،ہم کو ہماری بچی پر بھروسہ ہے ،جو لوگ ایسا کہتے ہیں اور جب ان کی بچی اس طرح کی باتوں کی آڑ میں کوئی گُل کھلادیتی ہے تب انہیں عقل آتی ہے مگر تب تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے،سچ فرمایا ہے میرے رب نے اور رب کا فرمان کبھی جھوٹا نہیں ہوسکتا ہے ،جھوٹے تو وہ لوگ ہیں جو اس طرح کے حیلوں اور بہانوں سے عورتوں کو بے پردہ کرکےعورتوں کے جسم وحسن سے فائدہ اٹھاکر اپنی لذت اورہوس پرستی کی آگ کو بجھانا چاہتے ہیں۔

برادران اسلام! مذکورہ بالا آیت کے ترجمے کو ایک بار آپ بغور پڑھیں اور دیکھیں کہ اللہ رب العزت نے سب سے پہلے پردے کا حکم کن لوگوں کو دیا تھا اوراس آیت کے مخاطب سب سے پہلےکون لوگ تھے،ظاہرسی بات ہے کہ اس آیت کے سب سے پہلے مخاطبین ومخاطبات صحابہ وصحابیات تھے اور یہ ایسے لوگ تھے جن کے اخلاق وکردار،قلب وبصر،اذہان واجسام کی پاکیزگی کی گواہی خود رب العزت نے دی ہے تو جب ایسے مقدس لوگوں کو یہ حکم دیا جارہا ہے کہ پردے کا اہتمام کریں تو پھر آج کل کے دور میں جہاں ہرطرف بے حیائی وعرنیات اورجنسی انارکی ہے اوردلوں میں فتوررکھنے والے لوگ موجود ہیں توپھرایک عورت کوپردے کی کتنی سخت حاجت وضرورت ہے سوچ لیں!!

(3) پردہ ایک عورت کو بدمعاشوں سے بچاتی ہے:

پردہ ایک ایسی چیز ہے جو ایک عورت کوگلی ومحلوں کے اوباشوں وبدمعاشوں، رہزنوں و قاتلوں ،چوراور اچکوں سے بچاتی بھی ہے اور یہ باورکراتی ہے کہ یہ باپردہ خاتون شریف زادی اور باحیا خاتون ہے گویا کہ پردہ ایک عورت کی عفت وعصمت بچانے کی علامت اور شعار ہےجیسا کہ فرمان باری تعالی ہے: ’’ يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا ‘‘ اے نبیﷺ آپ اپنی بیویوں اور اپنی صاحبزادیوں سے اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنے اوپر چادریں لٹکالیا کریں،اس سے فائدہ یہ ہوگا کہ وہ بہت جلد پہچان لی جائیں گی اور پھر انہیں ستایا نہ جائے گا۔(الاحزاب:59)

برادران وخواتین اسلام!

مختصر طور پر پردے کے فوائد کو جاننے کے بعد آئیے اس بات کو جانتے ہیں کہ کیا عورتوں کو پردہ کرنے کا حکم صرف اسلام ہی دیتا ہے ؟ جی نہیں ایسی بات نہیں ہے بلکہ دنیا کے جتنے بھی مذاہب ہیں وہ سب کے سب اپنی اپنی تعلیمات اور اپنے اپنے گرنتھ میں عورتوں کو مردوں سے چھپنے اور پردہ کرنے کا حکم دیتے ہیں مثال کے طور پریہودی وعیسائی مذہب میں بھی پردہ کرنے کاحکم موجود ہے آپ نے دیکھاہوگا کہ عیسائی مذہب کی جونن وراہبہ ہوتی ہیں وہ سب راہبات سوائے چہرہ کے پورے جسم کو چھپانے والا ڈھیلا ڈھالا لباس پہنتی ہیں،اور تو اور ہے خود ہندو مذہب میں بھی پردہ کرنے کا رواج پہلے سے ہی موجود رہا ہے،آپ سب نے یہ مشاہدہ ضرور کیا ہوگا کہ آج بھی ہندوستان کے کئی علاقوں میں ہندوعورتیں اپنا چہرہ گھونگھٹ میں چھپا کررکھتی ہیں اور گھونگھٹ میں ہی وہ سب بازار بھی جاتی ہیں اور کھیت وکھلیان میں کام بھی کرتی ہیں اور وہ ہندوعورتیں اپنے خاندان کے بڑوں جیسے کہ جیٹھ اور سسر وغیرہ سے گھونگھٹ لٹکا کر کے ہی ہمکلام ہوتی ہیں ،تقریبا ہندومذہب کی تمام کتابوں اور ویدوں کے اندر یہ بات مذکور ہے کہ جب شری رام جی کے بھائی لکچھمن کو یہ کہا گیا کہ وہ اپنی بھابھی سیتا جی کا چہرہ دیکھ کر ان کو پہچانیں تو انہوں نے کہا کہ میں نے تو کبھی بھی اپنی بھابھی کو نہیں دیکھا کیونکہ میں نے کبھی اپنی بھاوج کے قدموں سے اوپر نگاہ نہیں اٹھائی چنانچہ انہوں نے سیتا جی کو پازیب کو دیکھ کر پہچانا،اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ سیتاجی اپنےدیور سے پردہ کیا کرتی تھیں۔

(2) رگ وید کتاب نمبر 8 منتر نمبر19 میں خواتین کے بارے میں یہ بات لکھی ہوئی کہ ’’ ایشور نے تمہیں عورت بنایا ہے اسی لیے تم اپنی آنکھیں جھکی رکھو،پُرشو(مرد) کی طرف مت دیکھو،اپنے پیر ایک دوسرے سے سٹاکررکھو اوراپنے وستر(کپڑا) کو مت کھولواور خود کو گھونگھٹ میں چھپائے رکھو۔

(3) مہاویرا چَرِترا ایکٹ نمبر دو اور صفحہ نمبر 71 میں یہ بات لکھی ہوئی کہ جب رام جی نے پرشورام کو آتے دیکھا تو سیتا جی سے کہا کہ اے سیتا تم اپنے آپ کو گھونگھٹ میں چھپالو اور اپنی آنکھیں جھکالو۔

(4) مہابھارت،وشوپرب ادھیائے نمبر19 میں بھی عورتوں کے تعلق سے پردے کا ذکر ملتا ہے کہ سری کرشن کے ماموں کنشن متھرا کے راجہ نے جب کشتی کو دنگل قائم کیا تو عورتوں کے دیکھنے کے لیے بلندی پر ایک خاص مکانات بنوائے جس پر ایک باریک جالی لگائی گئی تھی نیزوہ مکانات اتنی بلندی پرتھے کہ راجہ ہنس اڑتے ہوئے نظر آتے تھے۔

(5) ہرش چریتم میں لکھا ہے کہ جب سے شریف عورتوں کے چہروں پر نقاب نہ رہی تو ان کی شرم وحیا جاتی رہی۔(ہرش اجھورس۔2)

محترم قارئین!

آج اسلام کے قانونِ حجاب پر پابندی لگائی جانے کی بات کی جارہی ہے جب کہ اسلام نے جو خواتین کو عزت وشرف عطا کی ہے اس کا عشرعشیر مثال بھی دنیا کےکسی مذہب میں نہیں ملتی ہے اورنہ کبھی ملے گی،تمام مذاہب میں اسلام ہی وہ دین ہے جس نے عورتوں کو تمام حقوق عطا کرکے اسے ہرطرح کی ذہنی الجھنوں اور کلفتوں سے دوررکھااب ذرا دیکھئے کہ سماج ومعاشرے میں اگرایک عورت ماں ہے تو اسلام نے سب سے زیادہ اس کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی تاکید کی ہے اور ایسی عورت کے پاؤں تلے جنت قراردیا ہے،اوراگر ایک عورت بیٹی ہے تو اسلام نے اسے باعث رحمت اور جنت میں جانے کا سبب وذریعہ قراردیا ہے،اور اگر ایک عورت بہن ہے تو اسلام نے اس کی اچھی تعلیم وتربیت پر جنت میں جانے کی بشارت سنائی ہے اور اگر ایک عورت بیوی ہے تو اسلام نے اسے باعث سکون ،آرام وراحت ملنے والی چیز قراردیتے ہوئے سب سے قیمتی سرمایہ قراردیا ہے،اتنی پاک اور صاف وشفاف دین کو جولوگ بدنام کرنے کی ناپاک کوشش کررہے ہیں اور اس پاکیزہ دین کے خلاف اول فول بک رہے ہیں انہیں اپنی پرانی تاریخ یادکرنی چاہیے کہ ان کے مذہب میں عورتوں کی کیا حیثیت تھی اورآج بھی کیا حیثیت ہے،خود ہندوستان کی سرزمین اس بات کی گواہ ہے کہ آزادی سے پہلےہندوسماج میں عورتوں کو سَتی(شوہرکے مرتے ہی اسی کے ساتھ آگ میں جل جانا) ہونے پر مجبور کردیا جاتا تھاگویاکہ ستی کے نام پرایک عورت کو زندہ جلادیا جاتا تھا،افسوس صد افسوس ایسے لوگ اسلام کے قانون فطرت کے خلاف ہرزہ سرائی کررہے ہیں جن کے یہاں بیٹی کاکوئی حق ہی نہیں ہے،آج بھی ہندو قوم میں بیٹی کو وراثت کا حق نہیں دیا جاتا ہے۔

برادران اسلام!!

ہم سب اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ یہ ہمارا ملک ایک جمہوری ملک ہے اور ہمارے ملک کا ایک ایسابہترین آئین ودستور ہے جس کے اندر ہندوستان کے تمام باشندوں کے حقوق کی حفاظت کی گئی ہے تو جب آج کل ہمارے اسلامی قانون کے خلاف آوازیں اٹھائی جارہی ہے تو ہم سب کو اس بات کی جانکاری ہونی چاہیے کہ ہمارادستور اور ہمارا آئین کیا کہتا ہے تو دیکھئےہمارے آئین ودستور دفعہ نمبر16 میں یہ بات لکھی ہوئی ہے کہ بھارت کا ہرشہری بلاامتیاز سرکاری دفتروں میں ملازمت کا مساوی حق رکھتا ہے،سرکاری نوکری میں نسل ،مذہب،ذات اورزبان کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں ہے۔

(2) ہمارے آئین کے دفعہ نمبر 25 میں یہ بات صاف لفظوں میں لکھی ہوئی ہے کہ بھارت میں ہر شخص کو مذہب کی آزادی کا حق حاصل ہے،بھارت کا ہرفرد اپنے اپنے مذہب کے مطابق چلنے کا حق رکھتا ہے۔

(3) ہمارے دستور کے دفعہ نمبر 29 میں یہ بات بھی لکھی ہوئی ہے کہ ایک ہندوستانی کو نسل،مذہب،ذات اور زبان کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں کی جاسکتی ہے۔

الغرض ہمارے ملک کا جو آئین ومنشور ہے اس میں بھارت کے ہرشہری اور ہرباشندے کو بنیادی طور پر پانچ حقوق دیتا ہے:

(1) برابری کا حق (2) آزادی کا حق (3) مذہبی آزادی کا حق

(4) تعلیمی وثقافتی حق (5) ظلم وزیادتی کے خلاف حق

برادران وطن!!

ذرا سوچئے کہ آج ہمارے ملک میں ہرآئے دن مرڈر ہورہے ہیں اس پر کوئی قانون نہیں۔

ریپ ہورہاہے اس پر کوئی قانون نہیں۔

لڑکیوں کو اغواکیاجارہاہے اس پر کوئی قانون نہیں۔

ہرطرف کرپشن ہے اس پر کوئی قانون نہیں۔

سرکاری خزانوں کو چٹ کیا جارہاہے اس پر کوئی قانون نہیں۔

سرکاری املاک کو بیچی جارہی ہے اس پر کوئی قانون نہیں۔

دن بدن مہنگائی بڑھتی جارہی ہے اس پر کوئی قانون نہیں۔

انصاف کا خون ہورہاہے اس پر کوئی قانون نہیں۔

دلتوں کی بیٹیوں کی عصمت دری کی جارہی ہے اس پر کوئی قانون نہیں۔

لال قلعہ کو بیچاجارہاہے اس پر کوئی قانون نہیں ۔

ہرطرف چوری اور ڈاکہ زنی ہورہی ہے اس پر کوئی قانون نہیں۔

غریب بھوکے مرررہا ہے اس پرکوئی قانون نہیں۔

کسان خودکشی کررہے ہیں اس پرکوئی قانون نہیں۔

الغرض مدعے بہت ہیں مگر امن وشانتی کے دشمنوں کو صرف حجاب نظر آرہاہےیہ دراصل ایک سوچی سمجھی پلاننگ اور منصوبے ہیں جس کے تحت ہمارے آئین کے دشمن ہمارے ملک کا ستیاناس کرکے اپنی کرسی کو بچانا چاہتے ہیں،اس بات پر غور کیجئے کہ آخر حجاب کے مسئلے کو اٹھانے کی ضرورت ہی کیا تھی تو دراصل بات یہ ہے اگلے کچھ مہینوں کے اندر ہمارے ملک کے تقریبا پانچ ریاستوں میں الکیشن ہونے والا ہے اور موجودہ حکومت اپنی کرسی کو بچانے کے لیے ہندومسلم کی مذہبی سیاست پر اپنی روٹی سینک کر پھر سے ایک بار برسراقتدار ہوناچاہتی ہے ،یہی وہ سب سے بڑی وجہ ہے جس کی بناپر حجاب پر سیاست کی جارہی ہے،ایسے وقت میں ہم تو اپنے برادران وطن سے یہی کہیں گے کہ :



سبھی ہندو،مسلمانوں کو سمجھادے کوئی جاکر

اگر نہ سمجھوگے تو پھر گندی سیاست مارڈالے گی​

ہمارے ملک کے ہندومسلم کو لڑاکر اپنی کرسی بچانے والوں کو راحت اندوری کا یہ پیغام یاد رکھنی چاہیے کہ :

جو آج صاحب مسند ہیں،کل نہیں ہوں گے

کرائے دار ہیں،ذاتی مکان تھوڑی ہے


آخر میں رب العالمین سے دعا ہے کہ اے اللہ تو ہم مسلمانوں کی جان ومال اور عزتوں کی حفاظت فرما ’’ اللَّهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُورِهِمْ وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ ‘‘ آمین یارب العالمین۔



کتبہ

ابومعاویہ شارب بن شاکرالسلفی​
 
Top