• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اہل کفر سے نفرت و برأت کا زبانی اعلان

شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
654
ری ایکشن اسکور
198
پوائنٹ
77
اہل کفر سے نفرت و برأت کا زبانی اعلان

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

قرآن کریم میں کفار سے ترک موالات اور قلبی نفرت کا اعلان عام کرنے کا حکم ہے تاکہ کفار تمہارے قلب و قالب سے کوئی طمع نہ رکھ سکیں، جیسا کہ اللہ نے اپنے رسول کی کفار سے برأت بھی علی الاعلان پکار دی تھی:

إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ [الأنعام: ۱۵۹]
بیشک جن لوگوں نے اپنے دین کو جدا جدا کر دیا اور گروہ بن گئے آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔

یہ تفریق بالکل صفائی سے واضح کر دی گئی کہ لست منهم (تم ان میں سے نہیں ہو) یعنی تیری اور ان کی بات ایک نہیں۔ تیرا اور ان کا معاملہ ایک نہیں تو اور وہ بالکل الگ الگ ہیں تو کسی چیز کے اعتبار سے کفار میں سے نہیں، ان کا شریک نہیں، ان کے ساتھ متحد نہیں۔ اسی لئے سورہ کافرون میں اس برأت و علیحدگی کو مزید واضح کر دیا گیا:

قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ
کہہ دے اے کافرو!

لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ
میں اس کی عبادت نہیں کرتا جس کی تم عبادت کرتے ہو۔

وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ
اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔

وَلَا أَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدتُّمْ

اور نہ میں اس کی عبادت کرنے والا ہوں جس کی عبادت تم نے کی۔

وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ
اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں۔

لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ
تمھارے لیے تمھارا دین اور میرے لیے میرا دین ہے۔


[الكافرون]

کفار سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اظہار برأت و بیزاری ایسا ہی ہے جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام نے اپنی کافر قوم اور اپنے کافر باپ سے اعلان برأت کیا تھا :

وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ إِنَّنِي بَرَاءٌ مِّمَّا تَعْبُدُونَ [الزخرف : ٢٦]

اور اس وقت کو یاد کرو جبکہ ابراہیم نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے فرمایا کہ میں اس چیز سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو۔

اور ایسا ہی ہے جیسا کہ قوم ابراہیم نے مشرکین سے یہ کہہ کر اظہار برأت کیا تھا کہ :

إِنَّا بُرَآءُ مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ [الممتحنۃ: ۴]
ہم تم سے اور جس کو تم اللہ کے سوا معبود سمجھتے ہو ان سے بیزار ہیں۔

پس جب انبیاء علیہم السلام کا طریقہ کفار سے نفرت و بیزاری کا اعلان کرنا ہے، تو ان کے پیرو اور حلقہ بگوش کیوں اسی طریقے کی رہروی پر مجبور نہ کئے جائیں گے؟ آخر وہ سب طریقہ رسول کی پیروی ہی کے تو مدعی ہیں! بہر حال ایک مومن کے قلب اور لسان دونوں کا تعلق کفار سے کاٹ دیا گیا، اور یہی دو اعضاء انسان میں اصل ہیں۔

لسان الفتى نصف و نصف فؤاده
فلم يبق الاصرد اللحم والدم
 
Top