• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بچے کی شرمگاہ کو ہاتھ لگنے سے وضو ٹوٹ جانے کا مسئلہ

مقبول احمد سلفی

سینئر رکن
شمولیت
نومبر 30، 2013
پیغامات
1,391
ری ایکشن اسکور
452
پوائنٹ
209
بچے کی شرمگاہ کو ہاتھ لگنے سے وضو ٹوٹ جانے کا مسئلہ

تحریر: مقبول احمد سلفی
جدہ دعوہ سنٹر-السلامہ -سعودی عرب


ایک مسئلہ اہل علم کے درمیان مختلف فیہ ہے کہ اگر بچے کی شرمگاہ کو ہاتھ لگ جائے تو کیا وضو ٹوٹ جاتا ہے یا وضونہیں ٹوٹتا ہے ؟ بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اس سے وضو ٹوٹ جائے گا۔
اس مسئلہ میں صحیح موقف یہ ہے کہ بچے کی شرمگاہ کو ہاتھ لگنے سے وضو ٹوٹ جائے گاکیونکہ یہ مسئلہ منصوص ہے اور اس میں چھوٹے و بڑے کا کوئی نہیں فرق ہے ۔ جس بات سے ناقض وضو ہونااز روئے شریعت ثابت ومتحقق ہو جائےاس کے خلاف کسی عالم کا قول قبول نہیں کیا جائے گا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا:
إذا أفضى أحدُكم بيدِه إلى فرجِه و ليس بينه و بينها حجابٌ و لا سِترٌ ، فقد وجب عليه الوضوءُ(صحيح الجامع:362)
ترجمہ: تم میں کسی کا ہاتھ اس کی شرم گاہ کو لگے اور (ہاتھ اور شرم گاہ کے ) درمیان میں کوئی ستر و حجاب نہ ہو یعنی ہاتھ براہ راست شرم گاہ کو مس کرے تو اس پر وضو لازم ہوگیا۔
یہ روایت صحیح ہونے کے ساتھ اپنے معنی ومفہوم میں بھی واضح و عام ہے اور دلیل بھی وجوب کا تقاضہ کرتی ہے لہذا شریعت نے یہ مسئلہ متعین کردیا کہ شرمگاہ سے ہاتھ لگنے پر وضو ٹوٹ جائے گا۔ اور ناقض وضو کا تعلق عبادت سے ہے جونص قطعی سے ثابت ہورہا ہے جیسے اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ، اس پہ نص ہے مگر اس پر قیاس کرکے اونٹ کے علاوہ دیگر حلال جانور کے گوشت کو ناقص وضو نہیں کہیں گے حتی کہ اونٹ کے ہی معاملہ میں اونٹنی کا دودھ پینے یا اونٹ کے گوشت کا مرق پینے سے وضو نہیں ٹوٹے گا کیونکہ اس بارے میں کوئی نص نہیں ہے ۔ جب ناقض وضو کا معاملہ ایسا ہے تو اس کو کسی قول سے کیسے ترک کیا جاسکتا ہے ۔
اب ان علماء کے وہ وجوہات دیکھتے ہیں جن کی وجہ سے انہوں نے یہ کہا کہ بچے کی شرمگاہ کو ہاتھ لگنے سے وضو نہیں ٹوٹے گا۔
(1) بعض علماء یہ توجیہ پیش کرتے ہیں کہ مائیں اپنے بچوں کی عموما نجاست صاف کرتی ہیں جس کی وجہ سے لامحالہ ہاتھ اس کی شرمگاہ سے مس ہوگا ، اگر اس کو ناقض وضو قرار دیا جائے تو اس میں ماؤں کے لئے مشقت وپریشانی ہے ۔ یہ توجیہ قابل قبول نہیں ہے کیونکہ یہ شرعی نص کے خلاف ہے جس میں یہ کہا گیا ہے بغیر پردہ کے شرمگاہ کو ہاتھ لگنے سے وضو ٹوٹ جائے گا، ایسی صورت میں ہم عالم کا قول چھوڑ سکتے ہیں مگر جو مسئلہ دلیل سے ثابت ہے اس کو نہیں چھوڑ سکتے ہیں ۔
ودسری بات یہ ہے کہ نبی ﷺ نے بچے کے تعلق سے جو آسانی شرع کی نظر میں تھی اسے بیان کردیا ہے حتی کہ آپ نے اس آسانی پر عمل کرکے بھی دکھایا ہے چنانچہ سنن ابن ماجہ میں ہے، لبابہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:
بالَ الحسينُ بنُ عليٍّ في حِجْرِ النبيِّ صلى الله عليه وسلم، فقلتُ: يا رسولَ اللهِ، أعطِني ثوبَك، والَبَسْ ثوبًا غيرَه. فقال: إنما يُنْضَحُ مِن بَوْلِ الذكرِ، ويُغْسَلُ مِن بَوْلِ الأنثى(صحيح ابن ماجه:427)
ترجمہ: حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں پیشاب کر دیا، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے اپنا کپڑا دے دیجئیے اور دوسرا کپڑا پہن لیجئیے (تاکہ میں اسے دھو دوں)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچے کے پیشاب پہ پانی چھڑکا جاتا ہے، اور بچی کے پیشاب کو دھویا جاتا ہے۔
اس حدیث سے اندازہ لگاسکتے ہیں کہ وہ مقام جس کے چھونے سے(بغیرحائل) وضو ٹوٹ جاتا ہے ، اس سے لڑکے کے پیشاب نکلنے پر نبی ﷺ نے کپڑے کو نہیں دھلا ،اس عمل نبوی میں امت کی ماؤں کےلئے آسانی ہے ، اگر اس بابت شریعت میں دوسری آسانی ہوتی تو رسول اللہ ﷺ ہمیں ضرور بتاتے ۔
تیسری بات یہ ہے کہ کسی عورت یا مرد کو پورے دن وضو میں رہنے کا حکم نہیں دیا گیا ہے ، وضو صرف نماز کے لئے اس کی ادائیگی کے وقت ضروری ہے، اس میں کوئی دقت ودشواری نہیں ہے کہ جس عورت نے بچے کی نجاست صاف کی ہو وہ نماز کے وقت وضو کرے ۔ بال بچے والی عورت کے حق میں جیسے نماز پڑھنا باعث مشقت نہیں گے ویسے نماز کے وقت وضو کرنے کو بھی باعث مشقت نہیں کہیں گے ۔بہت سی عورتوں کو استحاضہ کی شکایت ہوتی ہے، اسے ہرنماز کے وقت خون زدہ مقام اور کپڑے کو بھی دھوناہےپھر وضو کرناہے ، مشقت تو اس جگہ ہے مگر پھربھی مستحاضہ کو ہرنماز کے وقت صفائی اور نیا وضو کرنا ہے ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ ابوحبیش کی بیٹی فاطمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے کہا کہ میں ایک ایسی عورت ہوں جسے استحاضہ کی بیماری ہے۔ اس لیے میں پاک نہیں رہتی تو کیا میں نماز چھوڑ دوں تو آپ ﷺ نے فرمایا:
لَا، إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ وَلَيْسَ بِحَيْضٍ، فَإِذَا أَقْبَلَتْ حَيْضَتُكِ فَدَعِي الصَّلَاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ ثُمَّ صَلِّي(صحیح البخاری:228)
ترجمہ:نہیں، یہ ایک رگ (کا خون) ہے حیض نہیں ہے۔ تو جب تجھے حیض آئے تو نماز چھوڑ دے اور جب یہ دن گزر جائیں تو اپنے (بدن اور کپڑے) سے خون کو دھو ڈال پھر نماز پڑھ۔
اور اگر کوئی ایسی خاتون ہو جس کے لئے پانی کا استعمال مضر ہو اس کے لئے اسلام نے تیمم کی آسانی فراہم کی ہے۔
چوتھی بات یہ ہے کہ نماز رب کی بندگی اور مومن کی زندگی کا سب سے اہم معاملہ ہے ، نماز بغیر وضو کے قبول نہیں ہوتی ہے اس لئے جو بات شریعت سے ثابت ہے کہ مس ذکر سے وضو ٹوٹ جائے گا اس کو تسلیم کرنا شریعت کا تقاضہ ہے ہی ، احتیاط کا بھی تقاضہ ہے تاکہ دل میں یہ تردد نہ رہے کہ ہم نے بغیر وضو کے نماز ادا کرلی ہے۔
(2)اس مسئلہ میں بعض علماء جن میں شیخ ابن عثیمین ؒ ہیں وہ کہتے ہیں کہ بچے کی پیشاب وپاخانہ والی جگہ کو دھونے سے وضو نہیں ٹوٹے گا۔ بچے کے معاملہ میں شیخ کا مسئلہ اس لئے قبول نہیں کیا جائے گا کیونکہ شیخ صرف بچے کے بارے میں ہی یہ حکم نہیں لگاتے ہیں بلکہ بڑوں کے بارے میں بھی یہی حکم لگاتے ہیں ، شیخ کا کہنا ہے" کسی بالغ انسان کی شرمگاہ کو چھونے سے بھی اس وقت تک وضو نہیں ٹوٹے گاجب تک شہوت کے ساتھ ہاتھ نہ لگے"۔ شریعت نے شہوت کی کوئی قید نہیں لگائی ہے، حدیث میں ستر وحجاب کا ذکر آیا ہے کہ اگر بغیر ستر کے کوئی شرمگاہ کو چھوئے تو اس کو وضو کرنا پڑے گا۔ اس لئے جب شیخ کا مسئلہ بڑوں کے تعلق سے بھی دلیل کے خلاف ہے تو بچوں کے معاملہ میں شیخ کا قول ذکر کرنا اہمیت کا حامل نہیں ہے۔
(3) بعض علماء یہ توجیہ پیش کرتے ہیں کہ چھوٹے بچے کی شرمگاہ ، شرمگاہ کے حکم میں نہیں ہے اس کا دیکھنا جائز ہے اور اس کا چھونا جائز ہے اس لئے بچے کی شرمگاہ چھوجانے سے وضو نہیں ٹوٹے گا۔
اس توجیہ کا ایک جواب تو یہ ہے کہ وضونہ ٹوٹنے کے بارے میں ان علماء کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے مجرد رائے وقیاس کے جبکہ دوسری طرف ناقض وضو ہونا منصوص ہے تو ظاہر ہے کہ منصوص مسئلہ اخذ کیا جائے گا اور غیرمنصوص مسئلہ ترک کیا جائے گا۔
دوسری بات یہ ہے کہ چھوٹےبچے خود سے اپنی نجاست کی صفائی نہیں کرسکتا ہے اس وجہ سے جائز ہے کہ کوئی عورت یا مرد اس کی نجاست کو صاف کردے ، یہ معاملہ صرف صفائی کی حد تک ہے اور اس کے لئے عذر موجود ہے وہ یہ ہے کہ بچہ اپنی صفائی پر غیرقادر ہے ۔جیسے ایک مریض کو شرمگاہ کا علاج کرنے کی ضرورت ہو تو اسے ڈاکٹر کے پاس ننگا کرسکتا ہے اور ضرورت کے تحت ڈاکٹر اس کی شرمگاہ کو چھو بھی سکتا ہے ، اسی طرح بچے کا معاملہ ہے کہ وہ اپنی صفائی پر غیرقادر ہے اس لئے کوئی دوسرا اس کی صفائی کرسکتا ہے، اس کی شرمگاہ کو دیکھ سکتا اور چھو بھی سکتا ہے ۔ دراصل اسی عذر کو دھیان میں رکھتے ہوئے علماء یہ کہتے ہیں کہ بچے کی شرمگاہ ، شرمگاہ کے حکم میں نہیں ہے ۔ ورنہ شرمگاہ تو شرمگاہ ہی ہے اور لڑکا سے زیادہ لڑکی کا معاملہ حساس ہے اس لئے اس کے پردہ کا لڑکے سے زیادہ اہتمام کیا جاتا ہے ۔شرمگاہ ، چھوٹے بچے کی ہو یا بڑے کی ہو، وہ نجاست نکلنے کی وجہ ہے اس لئے اس کے چھوجانے سے وضو کا حکم ہے اور بچے بھی اس جگہ سے فضلات خارج کرتے ہیں ، بچوں کے فضلات بھی بڑوں کی طرح ناپاک ہیں ۔
اس وجہ سے علماء کی یہ تیسری توجیہ بھی صحیح معلوم نہیں ہوتی ہےجس کی علت میں نے اوپر بیان کردی ہے، اب اس کو ذرا واضح انداز میں سمجھاتا ہوں تاکہ معاملہ اور بھی نکھر جائے ۔ آپ کے سامنے شیخ ابن باز رحمہ اللہ کے دو فتاوے نقل کرتا ہوں ۔
(1)ایک فتوی یہ ہے کہ شیخ ابن باز رحمہ اللہ بچے کی نجاست سے متعلق یہ فتوی دیتے ہیں کہ سات سال سے نیچے کے بچے کے لئے شرمگاہ نہیں ہے ، چھوٹا بچہ ہو یا بچی ہو ان کی صفائی اور تعاون کرنے میں حرج نہیں ہے ۔
(2)شیخ رحمہ اللہ کا ایک دوسرا فتوی ہے کہ اگر بچے کی شرمگاہ کو ہاتھ لگ جائے تو اس سے وضو ٹوٹ جائے گا، جس طرح اپنی شرمگاہ کو ہاتھ لگانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اسی طرح بچے کی شرمگاہ کوہاتھ لگانے سے بھی وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
شیخ نے ایک طرف تسلیم کیا ہے کہ بچے کی شرمگاہ ، شرمگاہ کے حکم میں نہیں ہے پھربھی دوسری طرف یہ فتوی دیتے ہیں کہ بچے کی شرمگاہ کو ہاتھ لگ جانے سے وضو ٹوٹ جائے گا۔ اس کی علت وہی ہے جو میں نے اوپر بیان کی ہے کہ بچے کی شرمگاہ ، شرمگاہ کے حکم میں نہیں ہے اس کا تعلق محض صفائی کی حد تک ہےیعنی بچے کی شرمگاہ ، شرمگاہ نہیں ہے اس پہ کوئی شرعی دلیل نہیں ہے، یہ محض قول ہے اور اس قول کا مطلب یہ ہے کہ بچہ اپنی صفائی کی طاقت نہیں رکھتا اس لئے دوسرا آدمی اس کی صفائی کرتے وقت بچے کی شرمگاہ کو دیکھ سکتا ہے اور چھو سکتا ہے ۔ بس اتنی سی بات ہے۔
دائمی فتوی کمیٹی کا یہی جواب ہے کہ براہِ راست شرمگاہ کو ہاتھ لگنے سے وضو ٹوٹ جائے گا، چاہے کسی چھوٹے بچے کی شرمگاہ ہو یا بڑے کی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا: (جس شخص نے اپنی شرمگاہ پر ہاتھ لگایا تو وہ وضو کرے)اور اپنی یا کسی کی شرمگاہ دونوں ایک ہی حکم رکھتی ہیں۔ (فتاوى اللجنة الدائمة :5/ 265)
ایک شبہ کا ازالہ : ابوداؤد کی ایک حدیث ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مس ذکر سے وضو نہیں ٹوٹتا ہے جبکہ میں نے اوپر جو حدیث پیش کی ہے اس میں مذکور ہے کہ مس ذکر سے وضو ٹوٹ جاتا ہے تو دونوں میں تطبیق کی کیا صورت ہے؟ آئیے پہلے ابوداؤد کی حدیث دیکھتے ہیں پھر دونوں میں تطبیق کی صورت جانتے ہیں ۔طلق بن علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :
قدِمنا على نبيِّ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ فجاءَ رجُلٌ كأنَّهُ بدَويٌّ فقالَ يا نَبيَّ اللَّهِ ما تَرى في مَسِّ الرَّجلِ ذَكرَه بعدَ ما يتوضَّأُ فقالَ هَلْ هوَ إلَّا مُضغةٌ منه أو قالَ بَضعةٌ منهُ وفي روايةٍ في الصَّلاةِ(صحيح أبي داود:182، 183)
ترجمہ: ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اتنے میں ایک شخص آیا وہ دیہاتی لگ رہا تھا، اس نے کہا: اللہ کے نبی! وضو کر لینے کے بعد آدمی کے اپنے عضو تناسل چھونے کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تو اسی کا ایک لوتھڑا ہے“، یا کہا: ”ٹکڑا ہے“۔اور ایک دوسری روایت میں ہے نماز میں (ہاتھ لگ جائے)۔
ابوداؤد کی اس حدیث سے معلوم ہوتاہےکہ شرمگاہ کو ہاتھ لگنے سے وضو نہیں ٹوٹتا ہے تو دراصل اس حدیث کا مذکورہ بالا صحیح الجامع کی حدیث سے کوئی ٹکراؤ نہیں ہے ، دونوں احادیث اپنے معنی ومفہوم کے اعتبار سے واضح ہیں۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی صحیح الجامع کی اوپر والی حدیث میں یہ ذکر ہے کہ بغیر پردہ اور حجاب کے براہ راست شرمگاہ سے ہاتھ چھو جائے تو وضو ٹوٹ جائے گا۔ اور ابوداؤد کی اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کپڑے کے اوپر سے شرمگاہ کو ہاتھ لگ جائے تو وضو نہیں ٹوٹے گا کیونکہ ابوداؤد میں قیس بن طلق رضی اللہ عنہ والی حدیث جو 182 نمبر کی ہے ، یہ نماز سے متعلق ہے جس کا ذکر ابوداؤد میں ہی اگلی حدیث یعنی 183 میں ہے اور نماز میں شرمگاہ سے ہاتھ ٹکرانے کا مطلب ہے کہ کپڑے کے اوپر سے ہاتھ ٹکرانا ، بغیر ستر کے نماز میں شرمگاہ سے ہاتھ نہیں ٹکرائے گا۔ بنابریں دونوں احادیث کا خلاصہ یہ ہوا کہ بغیر پردہ کے شرمگاہ سے ہاتھ لگ جائے تو وضو ٹوٹ جائے گا اور کپڑا کے اوپر سے شرمگاہ کو ہاتھ لگ جائے تو وضو نہیں ٹوٹے گا۔
اس طرح پورے بحث کا نچوڑ یہ نکلتا ہےکہ اگر کوئی عورت وضو کی حالت میں تھی اور اس نے بچے کی نجاست صاف کی جس کے سبب اس کا ہاتھ بچے کی شرمگاہ کو چھو گیا تو اس سے وضو ٹوٹ جائےگا۔ یہی حکم بڑے کے لئے بھی ہے یعنی انسان کا ہاتھ خواہ مرد ہو یا عورت اس کی شرمگاہ سے بغیر پردہ کے چھو جائے تو وضو ٹوٹ جائے گا جبکہ پردہ کے اوپر سے شرمگاہ کو ہاتھ لگے تو ضو نہیں ٹوٹے گا۔
 
Top