ابو داؤد
رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 654
- ری ایکشن اسکور
- 198
- پوائنٹ
- 77
تمام اعمال میں کفار کی پیروی سے اجتناب
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
قلب و زبان کی طرح عام افعال و جوارح میں بھی مسلموں کو کفار سے الگ اور ممتاز رکھا گیا ہے۔ تاکہ مسلمان نہ ان کے کسی لائحہ عمل اور طریقہ کار کے پابند بنیں، نہ ہی کسی آواز پر ان کے پیچھے پیچھے ہو لیں۔
چنانچہ حضرت موسی او ہارون علیہما السلام کو فرمایا گیا تھا کہ جب تمہیں علم و ہدایت کی دولت دے دی گئی ہے تو پھر تم کج راہوں اور جاہلوں کے پیچھے مت ہو لینا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ و ہارون علیہما السلام کو خطاب کر کے فرمایا:
فَاسْتَقِيمَا وَلَا تَتَّبِعَانِّ سَبِيلَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ (يونس: ۸۹)
تم ثابت قدم رہو اور ان لوگوں کی راہ نہ چلنا جن کو علم نہیں۔
یہی وصیت موسیٰ علیہ السلام نے کوہ طور پر جاتے ہوئے ہارون علیہ السلام کو کی تھی کہ تم اپنی صلاح اور دوسروں کی اصلاح کی راہ پر قائم رہنا اور مفسدوں کی پیروی مت کرنا:
وَقَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ (الاعراف: ۱۴۲)
اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا میری قوم میں تو میرا جانشین رہ اور اصلاح کرنا اور مفسدوں کے راستے پر نہ چلنا۔
پس جب انبیاء علیہم السلام کا راستہ ایک صراط مستقیم ہے جس پر وہ علم وصلاح اور استقامت کے ساتھ قائم ہیں، تو پھر کفار کے جہل و فساد والی متفرق راہوں پر چلنے کی حاجت ہی کیا ہے؟ مسلمانوں کو تو یہ زریں اصول دے دیا گیا ہے کہ :
وَأَنَّ هَٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (الأنعام: ۱۵۳)
اور یہ کہ بے شک یہی میرا راستہ ہے سیدھا، پس اس پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ تمھیں اس کے راستے سے جدا کردیں گے۔ یہ ہے جس کا تاکیدی حکم اس نے تمھیں دیا ہے، تاکہ تم بچ جاؤ۔