• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جمعیت اہل حدیث پر مدخلیت کے اثرات؛ زوالِ فکر و انحرافِ نظر

ابن انور

مبتدی
شمولیت
نومبر 01، 2022
پیغامات
3
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
17
جمعیت اہل حدیث پر مدخلیت کے اثرات؛ زوالِ فکر و انحرافِ نظر

برصغیر کی سرزمین پر جمعیت اہل حدیث وہ مینارِ نور تھی جہاں سے توحید و سنت کی جلوہ سامانی کی امیدیں وابستہ تھیں، مگر گردشِ دوراں کے صدمات نے اس شمع کو اس طرح ماند کر دیا کہ اب اس کی ضیاباریاں محض خواب و خیال معلوم ہوتی ہیں۔ یہ انجمن فکری انحطاط اور نظریاتی کجروی کی وادی میں اس حد تک بھٹک چکی ہے کہ اس کی راہیں اب سلفیت کی اصل شاہراہ سے یکسر جدا ہو چکی ہیں۔ ارجاء کی بدعت، سعودی حکومت کی بے چون و چرا پرستش، اور جمہوری و سیکولر نظام کی وکالت اس انجمن کے رگ و ریشے میں اس طرح سما چکی ہے کہ اب یہ اپنی اصلی شناخت سے کوسوں دور جا چکی ہے۔

یہ لوگ ایمان کو محض زبانی کلمات کا کھیل سمجھ بیٹھے ہیں، خواہ وہ شخص فرعونِ وقت ہی کیوں نہ ہو، جب تک زبان سے کلمہ ادا کرتا رہے، ان کی نظر میں اس کا ایمان سلامت رہے گا! یہ حضرات جابر سلطانوں کے قصیدہ خواں اور ظالم حکمرانوں کے وکیل بن چکے ہیں، اور جو کوئی اسلامی شریعت کی سربلندی کی بات کرے، اسے خارجیت کے طعنوں سے نوازا جاتا ہے۔

مدخلیت ایک ایسا مہیب فتنہ ہے جو درباری غلاموں کے حاشیہ برداروں کے دفاع میں تراشا گیا، اور افسوس کہ آج برصغیر کی جمعیت اہل حدیث نے اسے اپنا شعارِ زندگی بنا لیا ہے۔

یہ خود کو منہجی سلفی کہلاتے ہیں، مگر ان کا قبلہ و کعبہ آل سعود کا تخت و تاج ہے۔ وہ اس حد تک اندھے ہو چکے ہیں کہ اگر یہ طاغوتی قوتیں بیت اللہ میں بھی فسق و فجور کا بازار گرم کر دیں، تو یہ اہلِ فتویٰ اس کے جواز کے دلائل گھڑنے میں لمحہ بھر کو بھی نہ چوکیں گے۔

یہ جماعت مدخلیت کے فتنے میں تو مبتلا تھی ہی، مگر اب یہ سیکولرازم اور جمہوری شرک کے عمیق غار میں بھی جاگری ہے۔ ایسے حکمرانوں کے دست و بازو بنی ہوئی ہے جو اللہ کی حاکمیت کے بجائے جمہوریت کی بالادستی کے قائل ہیں اور قوانینِ شریعت پر طاغوتی دستوروں کو مقدم گردانتے ہیں۔ ان کے علما دربار کے خوانِ نعمت کے پروردہ ہیں اور اپنے فرمودات سے دینِ حق کی معنوی تحریف کر رہے ہیں۔

شیخ العرب والعجم سید بدیع الدین شاہ راشدی رحمہ اللہ نے کیا خوب فرمایا:

"اسی طرح ہمارے ہی بعض بھائیوں نے جمہوریت کو اسلام سمجھ کر اپنایا ہوا ہے۔ حیرانی ہے کہ انہوں نے اہل حدیث ہو کر اس مغربی نظام کو کیسے قبول کر لیا۔ کیا یہ نظام رسول اللہ ﷺ نے دیا تھا ؟ خلفاء راشدین نے دیا تھا ؟ کیا چاروں اماموں نے دیا تھا ؟ کس نے دیا تھا ؟ یورپ سے نظام آیا تو تم نے اپنا لیا۔ گویار سول اللہ ﷺ کے نظام کو تم نے ناقص مان لیا !!۔ " (اصلاح اہل حدیث، صفحہ ۱۲)

نیز، وہ مزید فرماتے ہیں:

"میری سمجھ میں یہ نہیں آرہا کہ اہل حدیثوں کو کیا ہو گیا ہے اور مجھے یہ بھی یاد ہے کہ کسی زمانے میں بعض اہل حدیث جو آج جمہوریت کے پجاری ہیں وہ وقت بھی تھا کہ جب جمہوریت کے خلاف پہلے اہل حدیث نے ہی آواز اٹھائی تھی۔ اور ڈٹ کر کہا کرتے تھے کہ جمہوریت کفر ہے، کفر ہے، تو آج یہ جمہوریت کیسے عین اسلام بن گئی !" (اصلاح اہل حدیث، صفحہ ۱۷)

یہ حضرات، جو کل تک جمہوریت کو طاغوتی سازش کہتے تھے، آج اسی کے حق میں کتاب و سنت کی من مانی تعبیرات کرنے پر تُلے بیٹھے ہیں۔ ان کا یہ طرزِ عمل فکری دیوالیہ پن اور دین کے ساتھ کھلواڑ کی واضح علامت ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ برصغیر کی جمعیت اہل حدیث اب وہ آزاد اور خودمختار جماعت نہیں رہی جو کسی زمانے میں حق کی علمبردار تھی۔ یہ اب ایک درباری انجمن میں تبدیل ہو چکی ہے، جس کا وجود چند علما کی خوشامدانہ فتاویٰ گری اور اہلِ زر کی عنایات کا مرہونِ منت ہے۔

محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے کیا خوب نصیحت فرمائی ہے:

"اہل حدیث کی جتنی جماعتیں و تنظیمیں موجود ہیں ان کی حیثیت تبلیغی، اجتہادی اور اشتہاری ہے۔ ان میں دخول کفر و اسلام کا مسئلہ نہیں ہے ان جماعتوں کی رکنیت اور بیعت تصوف میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ سب سے بہتر اور افضل یہی ہے کہ ان تمام جماعتوں اور حزبیت ( پارٹی اور بازی ) سے علیحدہ رہ کر کتاب وسنت کی دعوت عام کی جائے اور مسلک اہلحدیث کی غیر جانبدار بھر پور خدمت کی جائے۔ سلف صالحین سے ایسی کاغذی جماعتوں اور احزاب ( پارٹیوں ) میں شمولیت ثابت نہیں ہے۔" (ماہنامہ الحدیث حضرو، شمارہ نمبر ۱۹، حاشیہ صفحہ ۴۳)

اب وقت آ پہنچا ہے کہ ہم حقیقت کا ادراک کریں اور ان درباری تنظیموں کے پردے چاک کریں جو اہل حدیث کے مقدس نام کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کر رہے ہیں! ہر سچے سلفی کو چاہیے کہ وہ ہر قسم کی تنظیمی و جماعتی وابستگی سے بالاتر ہو کر محض قرآن و سنت کے اصولوں کو اپنا حرزِ جاں بنائے اور کسی بھی گروہ کے نام پر دین کے ساتھ سودا نہ کرے!
 
Top