کنعان
فعال رکن
- شمولیت
- جون 29، 2011
- پیغامات
- 3,564
- ری ایکشن اسکور
- 4,425
- پوائنٹ
- 521
حافظ سعید کا سیاسی و غیر سیاسی اجتماع
کالم: مزمل سہروردی، 04 دسمبر 2014
جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ سعید صاحب کی خاص بات یہی ہے کہ وہ صاف چھپتے بھی نہیں اور سامنے آتے بھی نہیں۔
وہ سیاست کرتے بھی ہیں اور مانتے بھی نہیں۔
وہ انتخابی سیاست میں حصہ نہیں لیتے اور انتخابی سیاست میں حصہ لینے والی سیاسی جماعتوں کی طرح سیاسی سرگرمیاں بھی کرتے ہیں۔
یہ درست ہے کہ وہ انتخابات میں حصہ نہیں لیتے۔ لیکن خود کو غیر سیاسی جماعتوں کی طرح بے اثر بھی نہیں ہونے دیتے۔
اس طرح وہ نہ تو این جی او ہیں اور نہ ہی مکمل سیاسی جماعت ہیں۔
وہ حکومت کی اپوزیشن میں بھی نہیں کرتے۔ لیکن کسی حکومت کے حلیف بھی نہیں بنتے۔
ان کی سرگرمیوں کا اگر جائزہ لیا جائے تو ان کی سرگرمیاں اقبال کے اس شعر پر پورا اترتی ہیں۔
جھپٹنا، پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ
اسی طرح وہ اپنی جماعت کو کسی بھی لمحہ پر جمود کا شکار نہیں ہونے دیتے۔ غیر سیاسی ہونے کے باوجود ہر وقت اپنی جماعت کے کارکنوں کو سیاسی طور پر متحرک رکھتے ہیں۔
اس وقت ملک میں سیاسی جماعتوں کو جلسے اور عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے کا بخار چڑھا ہوا ہے۔ تحریک انصاف اور عوامی تحریک نے جلسے کرنے کی ایسی رسم شروع کی ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت خود کو اس سے الگ نہیں رکھ پا رہی۔ ایسا لگ رہا ہے کہ سب سیاسی جماعتیں ان جلسوں اور عوامی اجتماعات کو اپنی سیاسی بقا کے لئے نا گزیر سمجھ رہی ہیں۔ تحریک انصاف کی تو سمجھ آتی ہے کہ وہ ایک سیاسی دلدل میں پھنس چکی ہے اس لئے جب تک اسے اس دلدل میں سے نکالا نہیں جائے گا وہ اپنی بقا کے لئے عوامی اجتماعات کرتی رہے گی۔ ویسے بھی لوگ اس کے جلسوں میں آ رہے ہیں ۔ اس لئے جب تک لوگ آ رہے ہیں شوء جاری رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔
دوسری طرف حکومت نے کچھ عوامی اجتماعات اس لئے کئے ہیں تاکہ اس تاثر کو ختم کیا جا سکے کہ ان کی مقبولیت میں کمی ہوئی ہے۔ عوامی تحریک نے تحریک انصاف کے مقابلے میں جلسے کئے ہیں وہ تو اللہ خیر کرے ڈاکٹر طاہر القادری بیمار ہو گئے اور ان کی جماعت کے جلسے ختم ہو گئے ۔
جماعت اسلامی نے بھی لاہور مینار پاکستان پر اپنا اجتماع کر کے یہ ثابت کیا کہ وہ کوئی چھوٹی جماعت نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی نے بھی ایک بڑا جلسہ کیا۔ پنجاب میں بھی یوم تاسیس جوش و خروش سے منا یا گیا۔ آصف زرداری کپتان عمران خان پر خوب برسے۔
ان سب جماعتوں کی تو سیاسی ضرورت تھی۔ بات پھر سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ حافظ سعید صاحب کو کیا ضرورت پیش آئی کہ انہوں نے اس موسم میں جماعت الدعوۃ کے اجتماع کا اعلان کر دیا۔ پہلے تو ان کا اجتماع تحریک انصاف کے ساتھ تنازعہ کا شکار ہو گیا ۔ حافظ سعید نے پہلے اپنے اجتماع کا اعلان 4 دسمبر کے لئے کیا تھا اور بعد میں عمران خان نے 4 دسمبر کو لاہور کو بند کرنے کا اعلان کر دیا۔ لیکن بعد میں عمران خان کو سمجھایا گیا کہ حافظ سعید سے نہیں لڑنا۔ ان کی جماعت مسلم لیگ (ن) نہیں ہے اور عمران خان نے اپنے شیڈول میں تبدیلی کر دی۔ یہ حافظ سعید کے اجتماع کی پہلی کامیابی تھی۔
حافظ سعید ملکی و بین الاقوامی معاملات کا ایک ایسا نقشہ کھینچتے ہیں کہ دل و دماغ پریشان ہو جاتا ہے۔ ہر طرف نا امیدی کے سائے منڈلانے لگتے ہیں۔ انہیں پاکستان میں ہر مسئلہ کی وجہ بھارت نظر آتا ہے۔ ان کی بات بے وزن بھی نہیں ہے۔ پاکستان کے بہت سے مسائل کی وجہ بھارت ہی ہے۔ تاہم وہ مسئلہ کشمیر پر میاں نواز شریف کے حالیہ بیانات پر کچھ مطمئن نظر آئے۔ ملک کے اندر افرا تفری میں بھی انہیں دشمن کی سازش نظر آ رہی ہے۔ اس پر انہیں جب سوال کیا گیا کہ فی الحال تو ملک میں عمران خان اور میاں نواز شریف کے درمیان ہی تنازعہ جاری ہے ان دونوں میں سے دشمن کی گیم کون کھیل رہا ہے تو حافظ سعید نے کہا کہ میں اس تنازعہ کی بات نہیں کر رہا بلکہ دیگر تنازعوں کی بات کر رہا ہوں۔ تاہم وہ ان فریقین کے درمیان سیز فائر کے حق میں نظر آئے اور انہوں نے کہا کہ اس کے لئے وہ کردار ادا کرنے کے لئے بھی تیار ہیں۔
حافظ سعید نے اپنے اجتماع کا عنوان نظریہ پاکستان پر رکھا ہے۔ وہ اس وقت اتحاد اور نظریہ پاکستان کے تحفظ کی بات کر رہے ہیں۔ جس سے بہر حال اختلاف نہیں کیا جا سکتا۔ مملکت کو جوڑنے کے لئے حافظ سعید جتنی بھی کوششیں کریں ان کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے ۔
ح