ابو داؤد
رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 650
- ری ایکشن اسکور
- 197
- پوائنٹ
- 77
حاملہ بیوہ کی عدت کب مکمل ہوتی ہے؟
فتاوى عبر الأثير (( 14 ))
– السؤال:- امرأة توفي عنها زوجها وهي حامل, وبعد وفاته باسبوع وضعت مولودها, فهل تكون قد انقضت عدتها بوضعها للمولود؟
سوال: ایک عورت جس کا شوہر وفات پا چکا ہو اور وہ حاملہ ہو، اور اس کے وفات پانے کے ایک ہفتے بعد اس کا بچہ پیدا ہو جائے، تو کیا وہ اپنی عدت سے فارغ ہو جائے گی؟
– الجواب:- عدة المتوفى عنها زوجها إن كانت حاملاً حتى تضع, فإذا وضعت حملها خرجت من عدتها, فعن سبيعة الأسلمية -رضي الله عنها- أن زوجها توفي فوضعت بعد موته بليال, قالت: (فأفتاني رسول الله -صلى الله عليه وسلم- بأني قد حللت حين وضعت حملي وأمرني بالتزويج إن بدى لي) متفق عليه… والله تعالى أعلم
جواب: شوہر کی وفات پر حاملہ عورت کی عدت وضعِ حمل تک ہوتی ہے۔ پس جب وہ بچہ جن دے، تو اس کی عدت پوری ہو جاتی ہے۔ سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ان کے شوہر کا انتقال ہو گیا تھا اور وہ چند راتوں بعد ماں بن گئیں۔ انہوں نے کہا: "پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فتویٰ دیا کہ میں جب اپنے حمل سے فارغ ہو گئی تو میری عدت مکمل ہو گئی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نکاح کرنے کا حکم دیا اگر میں چاہوں۔" (متفق علیہ) … واللہ تعالیٰ اعلم۔