ابوالوفا محمد حماد اثری
مبتدی
- شمولیت
- جون 01، 2017
- پیغامات
- 61
- ری ایکشن اسکور
- 9
- پوائنٹ
- 20
ڈار صاحب کی ایک ۔۔۔۔۔ کا جواب
ابوالوفا محمد حماد اثری
فرمایا :
اگر امام مالک کے پاس امام شافعی کے سوالوں کا جواب ہوتا توفقہ شافعی ترتیب نہ پاتی، اگر امام شافعی امام احمد کی عقل کو مطمئن کر پاتے توحنابلہ کو نئی فقہ کبھی نہ ملتی، تو ثابت ہوا کہ امام وہی ہوئے جنہوں نے عقل کو تقدس کے ہاتھی کے قدموں تلے روندنے سے بچا لیا
عرض کیا :
لیکن یار امام شافعی امام مالک اور احمد بن حنبل تینوں مانتے کہ حدیث حجت ہے، تینوں انہیں راویوں سے روایات لیتے جنہیں آپ سانپ اژدھا کہتے، تینوں اپنے استدلال کا معیار حدیث کو بناتے، تینوں فرماتے کہ حدیث اور میری عقل ٹکرا جائیں تو عقل میری کو ٹھکرا دیجئے اور حدیث کو سینے سے لگا لیجئے
وہ امام بھی ان میں سے ایک ہیں جنہوں نے حدیث پر اعتراض کرنے والے کو محفل سے اٹھا دیا تھا
ایک ان میں سے وہ ہیں، جو حدیث کو عقل پہ پرکھنے والے ایک مخصوص گروہ بارے کہتا ہے کہ ان سے بغض رکھنا ایمان کا حصہ ہے
تو ثابت ہوا کہ امام وہی ہوئے جنہوں نے خوئے تسلیم ورضا اپنائی، یعنی فرامین مصطفوی کو عقل کے حضور پیش نہیں کیا ، بلکہ جناب صدیق کی طرح یہ رویہ اپنایا کہ
بس جو تم نے کہہ دیا دستور ہو گیا
ابوالوفا محمد حماد اثری
فرمایا :
اگر امام مالک کے پاس امام شافعی کے سوالوں کا جواب ہوتا توفقہ شافعی ترتیب نہ پاتی، اگر امام شافعی امام احمد کی عقل کو مطمئن کر پاتے توحنابلہ کو نئی فقہ کبھی نہ ملتی، تو ثابت ہوا کہ امام وہی ہوئے جنہوں نے عقل کو تقدس کے ہاتھی کے قدموں تلے روندنے سے بچا لیا
عرض کیا :
لیکن یار امام شافعی امام مالک اور احمد بن حنبل تینوں مانتے کہ حدیث حجت ہے، تینوں انہیں راویوں سے روایات لیتے جنہیں آپ سانپ اژدھا کہتے، تینوں اپنے استدلال کا معیار حدیث کو بناتے، تینوں فرماتے کہ حدیث اور میری عقل ٹکرا جائیں تو عقل میری کو ٹھکرا دیجئے اور حدیث کو سینے سے لگا لیجئے
وہ امام بھی ان میں سے ایک ہیں جنہوں نے حدیث پر اعتراض کرنے والے کو محفل سے اٹھا دیا تھا
ایک ان میں سے وہ ہیں، جو حدیث کو عقل پہ پرکھنے والے ایک مخصوص گروہ بارے کہتا ہے کہ ان سے بغض رکھنا ایمان کا حصہ ہے
تو ثابت ہوا کہ امام وہی ہوئے جنہوں نے خوئے تسلیم ورضا اپنائی، یعنی فرامین مصطفوی کو عقل کے حضور پیش نہیں کیا ، بلکہ جناب صدیق کی طرح یہ رویہ اپنایا کہ
بس جو تم نے کہہ دیا دستور ہو گیا