ابو داؤد
رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 654
- ری ایکشن اسکور
- 198
- پوائنٹ
- 77
دیوبندی مفتی تقی عثمانی کی تقلید پرستی اور امام ابو حنیفہ و دیگر ائمہ کرام کا منہج
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
الحمد للّٰہ و الصلوٰۃ و السلام علیٰ رسول اللّٰہ، اما بعد!
ذیل میں ایک نہایت اہم مسئلہ کی وضاحت مقصود ہے جس میں فقہ حنفی کے جلیل القدر فقیہ، علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ کے بیان کردہ مذہب احناف کا اصول اور عصرِ حاضر کے دیوبندی مفتی تقی عثمانی کے بیان کردہ دیوبندی موقف میں صریح تضاد پایا جاتا ہے۔
علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ اپنی تصنیف "رد المحتار" میں رقم طراز ہیں:
ونصه: إذا صح الحديث وكان على خلاف المذهب عمل بالحديث، ويكون ذلك مذهبه ولا يخرج مقلده عن كونه حنفيا بالعمل به، فقد صح عنه أنه قال: إذا صح الحديث فهو مذهبي. وقد حكى ذلك ابن عبد البر عن أبي حنيفة وغيره من الأئمة. اهـ. ونقله أيضا الإمام الشعراني عن الأئمة الأربعة.
یہ نص صریح ہے کہ جب صحیح حدیث کسی مذہب کے خلاف واقع ہو تو حدیث پر عمل کیا جائے گا، اور یہی اس شخص کا مذہب شمار ہوگا۔ حدیث پر عمل کرنے سے اس کا اپنے حنفی ہونے سے خارج ہونا لازم نہیں آئے گا، کیونکہ یہ بات امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے صحیح طور پر ثابت ہے کہ انہوں نے فرمایا: جب حدیث صحیح ہو تو وہی میرا مذہب ہے۔ اسی بات کو امام ابن عبد البر رحمہ اللہ نے امام ابو حنیفہ اور دیگر ائمہ کرام سے نقل کیا ہے۔ نیز، امام شعرانی رحمہ اللہ نے بھی اسے چاروں ائمہ سے روایت کیا ہے۔
[رد المحتار على الدر المختار - حاشية ابن عابدين، ج : ١، ص : ١٦٧]
اب اس کے مقابلہ میں، چودہویں صدی کے ایک دیوبندی مفتی تقی عثمانی کا نظریہ دیکھیے۔ وہ اپنی کتاب "تقلید کی شرعی حیثیت" میں لکھتا ہے:
اگر اتفاقاً کوئی حدیث ایسی نظر آجائے جو بظاہر اس کے امام مجتہد کے مسلک کے خلاف معلوم ہوتی ہو تب بھی اس کا فریضہ یہ ہے کہ وہ اپنے امام و مجتہد کے مسلک پر عمل کرے، اور حدیث کے بارے میں یہ اعتقاد رکھے کہ اس کا صحیح مطلب میں نہیں سمجھ سکا، یا یہ کہ امام مجتہد کے پاس اُس کے معارض کوئی قوی دلیل ہوگی،
... اور اگر ایسے مقلد کو یہ اختیار دیدیا جائے کہ وہ کوئی حدیث اپنے امام کے مسلک کے خلاف پاکر امام کے مسلک کو چھوڑ سکتا ہے، تو اس کا نتیجہ شدید افرا تفری اور سنگین گمراہی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔
[تقلید کی شرعی حیثیت، صفحہ : ۸۷]
اب انصاف کیجیے کہ دونوں اقوال میں کس قدر تفاوت ہے! ایک طرف امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور دیگر ائمہ کرام کا مسلک ہے کہ صحیح حدیث ہی مدارِ عمل ہے اور اس پر عمل کرنے سے کوئی حنفی مذہب سے خارج نہیں ہوتا، جبکہ دوسری طرف دیوبند کے علماء کا موقف ہے کہ حدیث پر عمل کرنے کی اجازت نہیں، بلکہ امام کے قول کو بہرصورت مقدم رکھا جائے گا، خواہ حدیث اس کے خلاف ہی کیوں نہ ہو!
یہی وہ نظریہ ہے جس کے سبب تقلیدِ جامد کو فروغ ملا اور کتاب و سنت کی روشن تعلیمات پر پردہ ڈال دیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا نظریہ وہی ہے جو سلف صالحین، اہل سنت اور آج اہل حدیث حضرات کا ہے، یعنی "إذا صح الحديث فهو مذهبي" (جب حدیث صحیح ہو تو وہی میرا مذہب ہے)۔
برعکس اس کے، دیوبندیوں کا نظریہ بعینہٖ وہی ہے جو بدعتی فرقوں اور مشرکینِ مکہ کا تھا، جو اپنی کورانہ تقلید پر جمے رہتے اور کہتے تھے: "بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا" (ہم اسی راہ پر چلیں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا)۔ [سورة البقرة، آیت : ۱۷۰]
پس! جو لوگ کتاب و سنت کی واضح تعلیمات کے مقابلہ میں محض شخصیات کی اندھی تقلید کو ترجیح دیتے ہیں، انہیں اپنے ایمان و عقیدہ کا محاسبہ کرنا چاہیے۔ دین وہی ہے جو رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لے کر آئے، اور یہی معیارِ حق ہے۔
واللہ اعلم بالصواب۔