• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

روزہ

محمد زاہد بن فیض

سینئر رکن
شمولیت
جون 01، 2011
پیغامات
1,957
ری ایکشن اسکور
5,787
پوائنٹ
354
روزہ
مولانا عبد السلام کیلانی فاضل مدینہ یونیورسٹی ترتیب و اضافہ: ادارہ
لغوی معنی:
قرآن مجید، حدیث نبوی اور عربی لغت میں روزے کے لئے لفظ صوم استعمال ہوا ہے۔ عربی زبان کی یہ خصوصیت ہے کہ کسی چیز کا نام رکھتے وقت اس کے اصلی وصف کا پورا لحاظ ہوتا ہے۔ یہی حال صوم کا ہے جس کے اصلی معنی رکنے کے ہیں۔ چنانچہ امام لغت ابو عبیدہؒ فرماتے ہیں:
کُلُّ مُمْسِکٍ عَنْ طَعَامٍ اَوْ کَلَامٍ اَوْ سَیْرٍ فَھُوَ صَائِمٌ
کھانے، بولنے اور چلنے سے رکنے والے کو صائم کہتے ہیں۔
چند عربی محاورات بطور مثال ملاحظہ فرمائیں۔
صَامَ الْفَرَسُ۔ گھوڑا چارہ کھانے سے رُک گیا، صَامَ النَّھَارُ۔ دوپہر ہونے کی وجہ سے (مسافر سفر سے) رک گیا۔ مَاءٌ صَائِمٌ بہنے سے رکا ہوا پانی، صَامَ الرِّیَاحُ ہوائیں رک گئیں۔
قرآن مجید میں ہے۔ ’’اِنِّیْ نَذَرْتُ لِلرَّحمٰنِ صَومًا فَلَنْ اُکَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّا‘‘ میں نے رحمان کے لئے (چپ رہنے کی) نذر مانی ہے اس لئے آجمیں کسی انسان سے کلام نہیں کروں گی۔ (مختار الصحاح وغیرہ)
شرعی معنی:
شرع میں روزہ اللہ کی رضا کے لئے پیٹ اور شرم گاہ کی خواہشات سے رکنے کا نام ہے۔ حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ (متوفی ۷۷۴ھ) فرماتے ہیں:
ھُوَ الْاِمْسَاکُ عَنِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ وَالوِقَاعِ بِنِیَّۃٍ خَالِصَۃٍ لِلہِ عَزَّوَجَلَّ لِمَا فِیْہِ مِنْ زَکٰوۃٍ النُّفُوْسِ وَطَھَارَتِھَا وَتَنْقِیَتِھَا مِنَ الْاَخْلَاطِ الرَّدِیَّۃِ وَالْاَخْلَاقِ الرَّذِیْلَۃِ
خالص رضائے الٰہی کی نیت سے کھانے پینے اور مجامعت سے رک جانے کا نام روزہ ہے جس سے تزکیہ نفس، تنقیہ سوء مزاج اور بری عادات سے درستگی حاصل ہوتی ہے۔ مصنف ہدایہ کے فاضل استاذ عبد الرحمن بخاری (متوفی ۴۵۶ھ) فرماتے ہیں:
روزہ سے مراد پیٹ اور شرم گاہ کی خواہشات سے رُک جانا ہے۔ علامہ ابن حزمؒ (متوفی ۴۵۶ھ) نے مراتب الاجماع میں ان چیزوں (کھانا، پینا اور جماع) کو متفق علیہ شمار کیا ہے۔ سیاق قرآن مجید کا بھی یہی حاصل ہے۔
روزے کا مدعا:
جب روزے دار کے لئے غروب آفتاب سے لے کر طلوعِ فجر تک حلال چیزیں بھی روزہ کے وقت (طلوعِ فجر سے غروبِ آفتاب تک) حرام ہو جاتی ہیں تو جو چیزیں ہمیشہ سے حرام تھیں ان سے پرہیز کرنا کس قدر ضروری ہے؟ اس طرح روزہ کی ظاہری صورت سے مقصد اس کی حقیقت (حرام سے تقویٰ) کی تربیت دینا ہے۔ چنانچہ انسان کو جب بھوک ستاتی ہے، پیاس بے حال کرتی ہے تو جذبات کا جنون ختم ہو جاتا ہے۔ ادھر نفسانی خواہشات کے دبانے سے نفس زیر ہوا ہے اُدھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے کبار شیاطین رمضان میں قید ہو جاتے ہیں۔ اس طرح حق کی تابعداری آسان ہو جاتی ہے۔ نفس کے زیر ہونے پر ضمیر جاگ اُٹھتا ہے۔ احکام، ربانی کی وقعت اس کے دل و دماغ میں گھر کر جاتی ہے۔ ضمیر کہتا ہے خواہ تجھے پیاس ستائے پانی پینے کی اجازت نہیں کہ تمہارا خالق تمہیں دیکھ رہا ہے۔ وقت سے پہلے پی لیا تو ناراض ہو ا۔ کھانا بھی چھوڑنا ہو ا۔ کہیں حکم عدولی نہ ہو۔ زبان سے بری باتیں اور اعضائے جسمانی سے برے کام صادر ہوئے تو نہ صرف بھوک پیاس کا ثواب جاتا رہے گا بلکہ گناہ ہو گا۔
یَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ تَزَوَّجُوْا فَاِنَّہ اَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَاَغَضُّ لِلْبَصَرِ فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَعَلَیْہِ بِالصَّوْمِ فَاِنَّہ لَہ دِجَاءٌ۔
نوجوانو! شادی کرو کیونکہ یہ شرم گاہ کی حفاظت اور بد نظر سے بچاؤ کی بہت ممد و معاون ہے۔ اگر نکاح کی طاقت نہ ہو تو روزے رکھو کہ یہ خصی ہونے کے مترادف ہے (کیونکہ اس سے شہوت بہ کم ہو جاتی ہے)۔
یعنی روزے کا اصل مدعا یہ ہے کہ انسان برائی سے بچنے کی مشق کرے۔ اور یہی وہ چیز ہے جس سے تقویٰ پیدا ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں یوں ذکر ہے ’’یَآ اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ۔‘‘
ایمان دارو! تم پر پہلی امتوں کی طرح روزے فرض ہیں تاکہ تم متقی بن جاؤ۔
متقی اور پرہیز گار وہی ہوتا ہے جو ممنوعات سے پرہیز کرتا ہے۔ مسنون اعمال کرتا ہے۔ مسنون اعمال کو حرز جاں بناتا ہے اور یہ وہ رنگ و بو ہے جو صرف روزہ سے ہی پیدا ہوتے ہیں۔
روزہ کی عالمگیر حیثیت:
مذکورہ بالا آیات میں کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ کے الفاظ سے روزے کی عالمگیر حیثیت ظاہر ہوتی ہے۔ یعنی روزہ پہلی اُمتوں پر بھی فرض رہا ہے اور تاقیامت امت محمدیہ ﷺ پر فرض کر دیا گیا ہے۔ تاریخ عالم کے مطالعہ سے بھی اس بات کی تصدیق ہوتی ہے۔ ایک مورخ کا کہنا ہے، دنیا میں آج تک جتنے بھی مذاہب گزرے ہیں روزہ کسی نہ کسی صورت میں سب میں موجود رہا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تورات اترنے سے پہلے (چالیس) روزے رکھے۔ حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ ابتدائے وحی سے قبل غارِ حرا میں روزے رکھا کرتے تھے اور پہلی وحی کے وقت بھی آپ روزہ سے تھے۔ بدھ مت کے بانی گوتم بدھ کو جب گیان (روشنی) نصیب ہوا تو وہ روزہ سے تھا۔
علامہ فرید وجدی نے دائرۃ المعارف الاسلامیہ میں افریقی جنگلات کے باسیوں میں بھی روزے کا ہونا ذِکر کیا ہے۔
احادیث میں بھی پہلی امتوں اور پیغمبروں کے روزوں کا ثبوت ملتا ہے۔ مذکورہ بالا بیان سے روزے کی عالمگیر اور بین الاقوامی حیثیت کا پتہ چلتا ہے۔
روزہ امت محمدیہ ﷺ میں:
امت محمدیہ کے لئے روزہ دو قسم کا ہے۔ (۱) نفلی (۲) فرضی۔ نفلی روزہ رمضان اور عیدین کے علاوہ کسی بھی موقع پر رکھا جا سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں ہدایات اور شرائط کتبِ مسائل و احکام میں موجود ہیں۔ فرضی روزہ بھی کئی طرح کا ہے۔ رمضان کا روزہ اور کفارے وغیرہ کا روزہ۔
یہاں میرا مقصد ماہِ رمضان کی مناسبت سے رمضان کے روزے کا بیان کرنا ہے۔ اس کی فرضیت کتاب اللہ، سنت رسول اللہ اور اجماع سے ثابت ہے۔
روزہ کی فرضیت:
ابتدائے اسلام میں سال بھر میں صرف ایک روزہ تھا۔ پھر بتدریج رمضان کے روزے فرض ہوئے۔ چنانچہ بخاری شریف کتاب الصوم میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ثابت ہے کہ عرب عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے۔ حضور ﷺ نے بھی اس کا حکم دیا۔ جب رمضان فرض ہوا تو جو عاشورے کے دِن چاہتا روزہ رکھ لیتا اور جو چاہتا افطار کر لیتا۔ عاشورہ کی فضیلت عرب میں معروف تھی، چنانچہ بقول علامہ شبلی نعمانیؒ عرب ۱۰ محترم کو جسے عاشورہ کہتے ہیں روزہ رکھتے تھے۔ اسی روز خانہ کعبہ پر غلاف بھی چڑھاتے تھے۔ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے بھی فتح الباری ج ۳ ص ۳۶۷ بحوالہ زرقی ذکر کیا ہے کہ حضرت امیر معاویہ نے عاشورہ کے روز خانہ کعبہ کو غلاف چڑھایا۔
جب ہجرت کا حکم ہوا تو معلوم ہوا کہ یہودی بھی یہ روزہ رکھتےتھے۔ رسول اکرم ﷺ نے استفسار فرمایا کہ یہ کیا؟ انہوں نے جواب دیا کہ اس روز اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو دشمن (فرعون) سے نجات دی تھی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے (ازراہِ تشکر) یہ روزہ رکھا۔ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام سے میرا تعلق تم سے بڑھ کر ہے اس لئے مسلمانوں کو روزہ رکھنے کی زیادہ تاکید فرما دی بعد ازاں اس کے ساتھ ۹ محرم یا ۱۱ محرم کے روزے کا بھی ارادہ ظاہر فرمایا۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر ماہ کے تین روزے رکھنے کی ترغیب دلائی۔ اس طرح بتدریج (قبلہ کی تبدیلی کے ایک ماہ بعد) ہجرت کے اٹھارویں ماہ یعنی ماہ شعبان ۲ھ میں رمضان کی فرضیت نازل ہوئی۔
شبہ:
بعض لوگوں کو وہم ہے کہ چونکہ ابتدائے اسلام میں غربت تھی اس لئے روزے کا سبق دیا گیا چنانچہ کمیونسٹ اسی بات کا دھوکہ دے کر مسلمانوں کو ورغلاتے ہیں۔
ازالہ شبہ:
یہ واقعات کے بالکل خلاف ہے۔ کیونکہ جنگ بدر ماہ رمضان ۲ھ میں ہوئی اور اسی سال روزے فرض ہوئے جیسا کہ ابھی ابھی بیان ہوا ہے، اور جنگ بدر کے بعد مسلمان روز افزوں ترقی پذیر تھے۔ تنگی کے دِن گزرتے گئے۔ فراخی کے دِن آنے لگے۔ اگر روزے صرف غربت کی بناء پر رکھے جاتے تو روزے ہجرت سے کافی دیر پہلے فرض ہو جاتے۔
روزہ اور قمری مہینہ:
جس طرح اسلامی حساب و کتاب بحر روزینہ (موّقت) اعمال کے اور تقریبات قمری مہینوں پر منحصر ہیں۔ اسی طرح دیگر آسمانی مذاہب کے تمام تہوار اور اوقات بھی قمری مہینوں کے تابع ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
اِنَّ عِدَّۃَ الشُّھُوْرِ عِنْدَ اللہِ اثْنَا عَشَرَ شَھْرًا فِی کِتٰبِ اللہِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ مِنْھَا اَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ۔ اللہ کے نزدیک مہینوں کی گنتی بارہ ہے جن سے چار حرمت کے ہیں اور یہ چیز بالکل واضح ہے کہ حرمت کے چار ماہ صرف قمری ہیں شمسی نہیں۔
’’تاریخ عالم‘‘ میں ہے کہ پرانے کھنڈرات سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام ملکوں کی سابقہ تاریخ قمری مہینوں کے ماتحت ہے۔ عیسائی مورخ بھی اقرار کرتے ہیں کہ ہمارے تمام مذہبی تہوار دراصل قمری مہینوں سے متعلق تھے جن کو شمسی مہینوں کے تابع کر دیا گیا ہے۔
شمسی مہینوں کا حساب خود ساختہ ہے۔ اس کا سب سے پہلے حساب یونانی نجومی عالم ہرگوس نے ۲۰۰ ق م میں لگایا لیکن اس سے چھ منٹ کی غلطی رہ گئی جسے بعد میں لیپ کے سالوں میں فروری کا ایک دن بڑھا کر پرا کیا گیا۔
ایسا مشکل حساب کسی عالم گیر مذہب کے ساتھ کیسے چل سکتا ہے؟ شہروں میں انسان ڈائریاں لکھتا پھرتا ہے۔ دیہاتوں، جنگلوں، پہاڑوں اور جزیرں میں آباد مخلوقِ خدا کیا کرے گی؟ ہاں چاند کو دکھ کر ہر ایک شخص تاریخ کا اندازہ لگا سکتا ہے۔ اس لئے بھی عین مناسب تھا کہ روزے کسی قمری مہینے میں فرض ہوں۔ نیز مہینوں میں موسمی تغیر و تبدل ہوتا رہتا ہے۔ مثلاً ہمارے ہاں نومبر دسمبر ہمیشہ سردی میں لپٹے آتے ہیں۔ جون جولائی چھتریاں لے کر نمودار ہوتے ہیں۔ اگر شمسی مہینوں میں روزہ رکھنے کا حکم ملتا تو بعض علاقے ہمیشہ سردیوں میں روزہ رکھتے اور باقی علاقے گرمیوں میں روزہ رکھتے۔ کیونکہ جب ہمارے ہاں براعظم ایشیا میں سردی ہوتی ہے تو جنوبی امریکہ اور آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے ملکوں میں سخت گرمی ہوتی ہے۔ ان کے لئے تکلیف مالا یطاق ہوتی۔
اس لئے مناسب تھا کہ قمری مہینے مقرر کئے جاتے تاکہ مساوات قائم رہے۔
روزہ اور رویت ہلال:
بعض ریاضی دانوں نے چاند کی منازل اور دوائر کے حساب سے ایک تقویم تیار کی ہے جس کا فی حد تک مکمل نقشہ آج سے تقریباً ایک ہزار سال قبل مصر کے علامہ مؤید شیرازی نے اپنے خطبات میں پیش کیا تھا۔ مصر میں فاطمیین (باطنیہ، اسماعیلہ) رویت ہلال کی بجائے اسی کے قائل تھے۔ چنانچہ کچھ عرصہ قبل ’’نظام الصوم عند الفاطمیین‘‘ کے نام سے ایک کتاب بھی شائع ہو چکی ہے۔
اس کے متعلق عرض ہے کہ تقویم کا خود ساختہ حساب جسے مختلف ملکوں میں اسلامی تقریبات کے لئے وحدتِ اوقات کا سبب سمجھ لیا گیا ہے۔ اسلام جیسے عالم گیر مذہب کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا۔ کیونکہ اسلامی احکامات اپنی عمومیت اور ابدیت کے ساتھ اتنے آسان بھی ہیں کہ ہر خاص و عام، عالم و جاہل، خواہ وہ دنیا کے کسی بھی حصہ کا مکین کیوں نہ ہو، ان پر آسانی سے عمل پیرا ہو سکتا ہے۔
اس کے برعکس اگر اسلام شمسی یا قمری تقویموں کا عملی حساب پیش کرتا ہے تو اس سے صرف علم ریاضی سے واقف لوگ اور مخصوص زمان و مکان کے لوگ ہی مستفید ہو سکتے۔ اور یہ بات اسلام کی اپنی ہی روح کے خلاف ہے، کیونکہ اسلام، جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ’’اَلدِّیْنُ یُسْرٌ‘‘ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں، مسائل میں عالم سے زیادہ جاہل اور طاقت ور سے زیادہ کمزور کا لحاظ رکھتا ہے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ گھڑیوں اور ڈائریوں کے اتنا عام ہونے کے باوجود ہمارے دیہات کے رہنے والے لوگوں اور بڑے بوڑھوں کو ستاروں سے وقت اور چاند سے تاریخیں معلوم کرنے میں زیادہ آسانی ہے ۔ اسلام جس کے مخاطبِ اولین ہی امی لوگ تھے۔ ایسا مشکل حساب و کتاب کیسے پیش کر سکتا ہے؟ اسی لئے اس نے رویت ہلال (بصری) کا اعتبار کیا ہے۔
روزہ اور رمضان:
ہر سال ماہ رمضان میں روزے رکھنا فرض ہے۔ روزے اور رمضان کی مناسبت بھی خوب ہے۔ چنانچہ رمضان کے دوسرے لغوی معنوں میں ایک معنی یہ بھی ہے کہ سان پر تیر کے پھالے کو رکھ کر دوسرے لوہے سے کوٹنا تاکہ پتلا، تیز اور سیدھا ہو جائے۔ اسی طرح نفس انسانی کو رمضان کے سان پر رکھ کر روزے کے ہتھوڑے سے کوٹا جاتا ہے تاکہ یہ جذباتی نہ ہو بلکہ عقل و حکمت میں تیز ہو۔ سیدھی راہ چلنا اور اس کے لئے آسان ہو اور اس کا دل نرم پڑ جائے تاکہ فکر خاوندی اثر کرے۔ چونکہ ایسے پر مغز معانی کسی اور ماہ میں نہیں پائے جاتے اور عربی نعمت میں ہر چیز کو اس کی اصلیت سے خصوصی مناسبت ہوتی ہے۔ اس لئے عین مناسب تھا کہ روزے جیسی ریاضتِ نفس، ماہِ رمضان میں ہوتی۔
قرآن مجید اسی ماہ رمضان میں نازل ہوا۔ اور یہ ایک ایسی بابرکت اور ابدی نعمت ہے جس کے لئے اگر امت مسلمہ کو ساری عمر شکر گزاری کا موقع ملتا جائے تو بھی شکر ادا ہونا نا ممکن ہے لیکن چونکہ نبی اکرم ﷺ شکر بجا آوری کا اظہار اکثر روزہ سے کرتے جیسا کہ یوم عاشورہ اور پیر کے روزوں سے ثابت ہوتا ہے اس لئے بھی عین مناسب تھا کہ ماہِ رمضان میں روزے رکھے جاتے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے واشگاف طورپر فرما دیا ہے۔ ’’شَھْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُراٰنُ ھُدًی لِّلنّاسِ َبَیِّنٰتٍ مِّنَ الْھُدٰی وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَھِدَ مِنْکُمُ الشَّھْرَ فَلْیَصُمْہُ‘‘ کہ رمضان ایسا مہینہ ہے جس میں قرآن مجید اترا جس میں لوگوں کیلئے ہدایت اور ظاہر دلائل اور معجزے ہیں۔
گویا کہ اللہ تعالیٰ رمضان کے فضائل اور اہمیت جتلا کر یہ حکم دے رہے ہیں کہ اتنی بڑی نعمت کا شکر اسی صورت میں ادا ہو سکتا ہے کہ تم روزے رکھو۔
پھر حضرت ابراہیم علی نبینا وعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے صحیفے بھی اسی ماہ کی یکم تاریخ کو عطا ہوئے۔ حضر ت داؤد علیہ السلام کو زبور ۱۸ یا ۱۲ رمضان کو ملی۔ حضت موسیٰ علیہ السلام کو تورات ۶ رمضان کو عطا ہوئی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو انجیل ۱۲ یا ۱۳ رمضان کو ملی۔ (ملاحظہ ابن کثیر)
جب رمضان میں ہر کلامِ الٰہی کو خصوصی مناسبت ہوئی جو کہ ہر قسم کی فلاح و بہبود کی ضامن ہے تو اتنی بڑی نعمتوں کا شکر ادا کرنا بھی ضروری تھا جس کا اظہار روزے سے بڑھ کر اور کسی عبادت میں نہیں پایا جاتا۔
نوٹ:
روزوں کی تعداد میں حکمتِ عملی حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ بعض اصفیاء سے یہ بیان ہیں کہ جب آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے درخت کھایا پھر توبہ کی تو جب تک درخت کا اثر پیٹ میں رہا توبہ قبول نہیں ہوئی۔ جب تیس روز کے بعد ان کا پیٹ صاف ہوا تو توبہ قبول ہوئی جس کی بناء پر ان کی اولاد نے تیس روزے رکھے۔ اس کے بعد حافظ صاحب بیان کرتے ہیں کہ یہ بات بلا سند نہیں کرنی چاہئے اور اس کی سند ملنا بھی بہت ہی دور کی بات ہے۔
وقت کی تعیین:
عرب میں دستور تھا کہ روزہ غروب آفتاب پر کھول لیتے۔ جب تک نیند نہ آتی کھاتے رہتے اور جب سو جاتے تو اگلی شام تک کھانا پینا بند ہو جاتا۔ یہی رواج عیسائیوں میں تھا جسے آج کل انہوں نے بدل ڈالا ہے۔ چنانچہ آج کل وہ روزہ آدھی رات سے دوپہر تک رکھتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے شروع میں اس کے بارے میں کوئی واضح حکم نہیں فرمایا۔ مسلمان مروجہ دستور کے مطابق روزہ رکھتے رہے حتیٰ کہ مدینہ منورہ کے ایک کسان صحابی قیسؓ بن حرمہ انصاری کا واقعہ پیش آیا۔ روزہ رکھ کر دن بھر زمین میں کام کرتے کرتے پہلے ہی تھک گئے تھے۔ افطاری کے وقت گھر پہنچے۔ کھانے کی تیاری میں دیر تھی۔ انتظار کے لئے لیٹے لیکن نیند نے غلبہ پا لیا، جس کا مطلب یہ تھا کہ پہلا روزہ ابھی ختم نہیں ہوا اور دوسرا شروع ہو گیا۔ دوسرے روز پھر اپنے کاروبار کو چلے گئے۔ لیکن دوپہر سے پہلے طاقت جواب دے گئی اور غشیاں پڑنے لگیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کے لئے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تخفیف فرما دی اور حکم ہوا:
وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ اَتِمُّ الصِیَّامَ اِلَی الَّیْلِ۔
’’صبح کا سپید دھاگہ رات کے سیاہ دھاگے سے جدا ہونے تک کھاؤ اور پیو۔ پھر رات تک روزہ مکمل کرو۔‘‘
اور رات کا آغاز چونکہ غروب آفتاب سے ہی شروع ہو جاتا ہے اس لئے یہی افطار کا وقت مقرر ہوا۔
فضیلت روزہ:
رسول اکرم ﷺ سے احادیث نبویہ میں روزے کے بہت سے فضائل ملتے ہیں۔ یہ ایک مستقل باب ہے جسے مکمل بیان کرنا اس مقالے کے پیش نظر ناممکن ہے۔ لیکن پھر بھی بطور مثال چند احادیث ملاحظہ ہوں۔
صحیحین میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے۔
من صام رمضان ایمانا واحتسابا غفرلہ ما تقدم من ذنبہ (الحدیث)
’’کہ جو شخص رمضان میں بحالت ایمان نیکی کے شوق سے روزہ رکھے اس کے پہلے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔‘‘
اور حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔
فِی الْجَنّۃِ ثَمَانِیَۃُ اَبْوَابٍ مِّنْھَا بَابٌ یُّسَمّٰی الرَّیَّانُ لَا یَدْخُلُہ اِلَّا الصَّائِمُوْنَ۔
’’جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔ ان میں سے ایک کا نام ’’ریان‘‘ ہے جس سے صرف روزے دار ہی داخل ہوں گے۔‘‘
صحیحین میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ مرفوعاً فرماتے ہیں:
ابن آدم کے تمام عمل دس گنا سے سات سو گنا تک شمار ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں مگر روزہ، کہ وہ میرا ہے اور میں ہی اس کی جزا دیتا ہوں۔ اس نے میری خاطر اپنی شہوت اور کھانا پینا چھوڑا! روزے دار کو وہ خوشیاں نصیب ہوتی ہیں ایک افطاری کے وقت اور دوسری خداوند کریم سے ملاقات کے وقت، روزے دار کے منہ کی بوخدا کے ہاں کستوری سے زیادہ عمدہ ہے۔ اور روزہ ڈھال ہے تو جب کسی کا روزہ ہو تو نہ عورتوں سے میل ملاپ کرے اور نہ ہی شور مچائے۔ اگر کوئی گالی دے یا جھگڑے تو کہہ دے کہ میں روزے دار ہوں۔
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما رسول اللہ ﷺ سے ذکر کرتے ہیں۔
’’روزہ دار قرآن دونوں بندے کی سفارش کرتے ہیں۔ روزہ کہتا ہے کہ میں نے اسے کھانے اور شہوت سے روکا ہے۔ میری سفارش قبول فرمائیں۔ قرآن مجید کہتا ہے میں نے اسے رات کو نیند سے روکا ہے میری سفارش مان لیں۔ اللہ تعالیٰ دونوں کی سفارش قبول فرماتے ہیں۔‘‘ (بیہقی، شعب الایمان)
روزہ صحت کے لئے ضروری ہے:
روزہ صرف روحانی بیماریوں کا علاج نہیں بلکہ جسمانی روگوں کی بھی دوا ہے۔ امام طبرانی علیہ الرحمۃ نے معجم اوسط میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک حدیث مرفوعاً بیان کی ہے۔
’’جہاد کرو غنیمتیں حاصل ہوں گی، روزہ رکھو صحت حاصل ہو گی۔ سفر کرو تونگری ہو گی۔‘‘ امام منذری رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں اس کے راوی ثقہ ہیں۔
تمام ڈاکٹر اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ تمام یا اکثر بیماریوں کی بنیاد معدہ ہے۔ مشہور عربی طبیب حارث بن کلوۃ کا کہنا ہے:
اَلْمِعْدَۃُ بَیْتُ الدَّاءِ وَالْحَمْیَۃُ رَاسُ الدَّوَاءِ۔
’’معدہ بیماری کا گھر ہے اور (کھانے پینے کی) پرہیز دوا کی بنیاد ہے۔‘‘
اگر کھانے پینے میں بھوک رکھ کر کھائے تو اکثر بیماریوں سے نجات مل جاتی ہے۔ جتنا بھوکا رہے اتنا ہی طاقت ور ہو گا اور معدے کی طاقت بحال رکھنا حت کا پیش خیمہ ہے اس لئے ضروری ہے کہ روزہ رکھا جائے تاکہ جسمانی صحت برقرار رہے۔
ہمارے استاذ (مدینہ منورہ یونیورسٹی کے سابق شیخ الحدیث) جناب شیخ ناصر الدین البانی ناشاء اللہ قابلِ ر شک صحت اور تنومند جسم کے مالک ہیں۔ ان سے استفسار کیا کہ آپ کچھ اپنے متعلق بیان کیجئے کہ ماشاء اللہ آپ کی صحت کیسے اچھی رہی؟ معلوم ہوتا ہے کہ آپ کھانے پینے میں نہایت محتاط واقع ہوئے ہیں۔ تو فرمانے لگے کہ میں نے چالیس روز تک متواتر بھوکا رہنے کی ریاضت کی ہے کہ دن بھر میں صرف ایک کھجور کھا لیتا۔ جس سے میری بگڑی ہوئی صحت ماشاء اللہ صرف درست ہی نہیں بلکہ کافی اچھی ہو گئی ہے۔
روزے سے دماغی قوتیں بڑھتی ہیں:
جب صحت درست ہو تو دماغ بھی صحیح کام کرتا ہے اور جب روزے سے صحت حاصل ہو جائے گی تو پھر دماغی قوتیں بھی بڑھ جائیں گی۔ مزید برآں حکماء کا کہنا ہے کہ جب معدہ پُر ہو جائے تو دماغی قوتیں کام نہیں کرتیں اور جب معدہ خالی ہو تو تمام جسمانی قویٰ اپنا اپنا کام شروع کر دیتے ہیں۔ چنانچہ حضرت لقمان حکیمؒ نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا۔
یَا بُنَیَّ اِذَا امْتَلَأَتِ الْمِدْدَۃُ نَامَتِ الْفِکْرَۃُ وَخَرِسَتِ الْحِکْمَۃُ وَقَعَدَتِ الْاَعْضَاءُ عَنِ الْعِبَادَۃِ۔
’’اے میرے بیٹے جب معدہ بھر جاتا ہے تو عقل و فکر اور سوچ بچار کا مادہ سو جاتا ہے حکمت گونگی ہو جاتی ہے۔ اعضاء عبادت سے کترانے لگتے ہیں۔‘‘
علامہ محمد بن عبد الرحمن بخاریؒ کہتے ہیں۔
اِنَّہ بِجُوْعِ بَطْنِہ یَنْدَفِعُ جُوْعٌ کَثِیْرٌ مِّنْ حَوَاسِّہ فَاِذَا اَشْبَعَ بَطْنُہ جَاعَ عَیْنُہ وَلِسَانُہْ وَیَدُہ وَفَرْجُہ فَکَانَ تَشْبِیْعُ النَّفْسِ تَجْوِیْعَھَا وَفِیْ تَجْوِیْعِھَا تَشْبِیْعُھَا فَکَانَ ھٰذَا التَّجْوِیْعُ اَوْلٰی۔
’’پیٹ کے (مناسب) بھوکا رہنے سے کئی قسم کے حواس کی بھوک زائل ہو جاتی ہے اور اس کے سیر ہونے سے آنکھ، زبان، ہاتھ، شرمگاہ (یعنی تمام حواس) بھوکے ہو جاتے ہیں (ان کی قوت ماند پڑ جاتی ہے) چونکہ پیٹ کو (مناسب طور پر) بھوکا رکھنا ہی ان حواس کو سیر کرنا ہے اس لئے اس (معدہ) کو ہی (مناسب) بھوکا رکھنا بہتر ہے۔‘‘
روزے سے معرفتِ الٰہی پیدا ہوتی ہے:
روزے کی تین سٹیجیں ہیں۔ پہلی سٹیج یہ ہے کہ انسان کھانے پینے سے پرہیز کرے۔ دوسری سٹیج یہ ہے کہ روزے دار ہر قسم کے گناہوں سے بچے۔ تیسری اور آخری سٹیج یہ ہے کہ دنیاوی پراگندہ خیالات سے منہ موڑ کر خدا کی طرف متوجہ ہو جائے۔
چنانچہ علامہ محمد بن احمد المحلی المتوفی ۸۵۰ھ کہتے ہیں۔
روزے کی عمومی حیثیت یہ ہے کہ انسان پیٹ، شرمگاہ اور ہر عضو کی خواہش دبائے۔ اس کی خصوصی صورت یہ ہے کہ کان، آنکھ، ہاتھ، پاؤں بلکہ تمام اعضاء کو گناہوں سے روکے لیکن اس کی آخری سٹیج یہ ہے کہ روزے دار خداوند تعالیٰ سے ہر غافل کرنے والی شے سے بے نیاز ہو کر اللہ تعالیٰ کی طرف رخ کر لے۔ بس اسی پیدا شدہ صورت سے معرفتِ الٰہی پیدا ہوتی ہے۔ اور یہ سب کچھ (خدا کے لئے) بھوکا رہنے سے حاصل ہوتا ہے۔
شیخ سعدی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:
اندرون از طعام خالی دار تادروں نور معرفت بینی
تہی از حکمت بعدت آن کہ پری از طعام تابینی
اگر تو اپنے لئے نور معرفت اپنانا چاہتا ہے تو اپنے پیٹ کو طعام سے (مناسب طور پر) خالی رکھ۔ حکمت سے تو اس لئے خالی ہے کہ تو ناک تک بھرا ہوا ہے۔
لیکن یہ تمام چیزیں اسی وقت پیدا ہوں گی جب کہ روزے دار خداوند تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کی خاطر روزہ رکھے۔ ورنہ صرف دنیاوی مفاد اور جسم کی بحالی صحت کے لئے روزہ رکھے گا تو آخرت میں اس کا کوئی ثواب نہیں۔ اور اگر ثواب کی نیت سے روزہ رکھے تو مندرجہ بالا تمام مفاد بھی اسے میسر ہوں گے اور پھر اللہ تعالیٰ کی رضا مندی بھی حاصل ہو گی جس سے آخرت بھی سنور جائے گی۔
روزہ ایک دوسرے سے ہمدردی سکھاتا ہے:
جب بھوک ستاتی ہے تو ان لوگوں کا خیال پیدا ہوتا ہے جو اکثر بھوکے رہتے ہیں۔ اس سے اس کے دِل میں مسلمانوں بھائیوں کے لئے ہمدردی کا جذبہ ابھر آتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے بھی مروی ہے کہ ماہ رمضان ہمدردی کا مہینہ ہے۔ مشکوٰۃ شریف میں بحوالہ بیہقی حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک طویل حدیث موجود ہے جس میں ذِکر ہے۔
وَھُوَ شَھْرُ الصَّبْرِ وَالصَّبْرُ ثَوَابُہ الْجَنَّۃُ وَشَھْرُ الْمُوَاسَاۃِ وَشَھْرٌ یُّزَادُ فِیْہِ رِزْقُ الْمُوْمِنِ۔ الحدیث
یہ صبر کا مہینہ ہے جس کا ثواب جنت ہے۔ یہ ہمدردی کا مہینہ ہے اس میں ایمان دار کا رزق بڑھ جاتا ہے۔
خلاصہ کلام:
یہ ہوا کہ روزہ رکھنے سے انسان کی ذاتی قوتیں بھی بڑھتی ہیں اور اجتماعی بیداری بھی حاصل ہوتی ہے۔ جذبات پر کنٹرول کرنا بھی آجاتا ہے اور قادر مطلق سے تعلق بھی کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ نفس امارہ کی بجائے روح ایمانی کو قوت حاصل ہو جاتی ہے۔ خدا کرے کہ ہم سب مسلمان ماہ رمضان میں روزے کے ابدی اور وقتی ہر قسم کے فوائد سے فیض یاب ہوں۔ آمین یا رب العالمین۔

بشکریہ ماہنامہ محدث
 
Top