• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سودی مال سے چھٹکارے کا طریقہ کار

شمولیت
مارچ 02، 2023
پیغامات
569
ری ایکشن اسکور
15
پوائنٹ
47
بنک یا کسی اور ذریعے سے سود وصول کرنا قطعی طور پر جائز نہیں ہے بلکہ کبیرہ گناہ ہے۔ بہت سی قرآنی آیات اور احادیث میں سود لینے سے منع کیا گیا ہے بلکہ سود لینے کو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ اعلان جنگ قرار دیا گیا ہے۔

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُؤُوسُ أَمْوَالِكُمْ لا تَظْلِمُونَ وَلا تُظْلَمُونَ. (البقرة: 278-279).

’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور سودمیں سے جو باقی ہے چھوڑ دو، اگر تم مؤمن ہو۔ پھر اگر تم نے یہ نہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے بڑی جنگ کے اعلان سے آگاہ ہو جاؤ، اور اگر توبہ کر لو تو تمہارےلیے تمہارے اصل مال ہیں، نہ تم ظلم کرو گے او رنہ تم پر ظلم کیا جائے گا‘‘۔

سیدنا جابر رضى اللہ عنہ بیان کرتےہیں کہ :

((لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا، وَمُؤْكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ، وَشَاهِدَيْهِ»، وَقَالَ: «هُمْ سَوَاءٌ)). (صحيح مسلم، المساقاة: 1598).

’’رسول كريم صلى اللہ علیہ وسلم نے سود كھانے والے، سود كھلانے والے ، سود لكھنے والے، اور سود كے گواہ بننے والوں پر لعنت فرمائى ہے ، اور فرمایا: يہ سب (گناہ میں) برابر ہيں ‘‘۔

اس لیےانسان پر واجب ہے کہ وہ اس گناہ سے فوری توبہ کرے، جو كچھ ہو چكا اس پر ندامت کا اظہار کر ے، اور پختہ عزم كرے كہ آئندہ ایسے عظيم گناہ اور جرم كا ارتكاب نہيں كر ے گے، جس سے قرآن و احادیث میں منع کیا گیا ہے۔

جو بنک وغیرہ سے انٹرسٹ (سود) لیا گیا ہے وہ بنک کو واپس نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی انسان کے لیے خود اسے کھانا جائز ہے۔ بلکہ اسے مسکینوں، فقیروں میں تقسیم کر دے، اگر کوئی مقروض شخص اپنا قرض ادا نہیں کر سکتا اس کی معاونت بھی اس مال سے کی جا سکتی ہے، سڑکیں، ہسپتال وغیرہ بھی بنائے جا سکتے ہیں، یتیموں اور بیواؤں پر بھی ایسا مال خرچ کیا جا سکتا ہے۔

لیکن یاد رہے! کہ جب یہ مال فقیروں، مسکینوں وغیرہ میں تقسیم کیا جائے گا تو صدقے کی نیت نہیں کی جائے گی؛ کیوں کہ اللہ تعالی حرام مال قبول نہیں کرتا۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

((أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا)). (صحيح مسلم، الزكاة: 1015).

’’اے لوگو! بلاشبہ اللہ تعالی پاک ہے، اور پاکیزہ مال ہی قبول کرتا ہے‘‘۔

لہذا انسان مال خرچ کرتے وقت یہ نیت کرے گے کہ وہ گناہ سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا ہے اور اپنے مال کو سود سے پاک کرنا چاہتا ہے۔

والله أعلم بالصواب.​
 
Top