محمد اسد حبیب
مبتدی
- شمولیت
- اگست 25، 2011
- پیغامات
- 38
- ری ایکشن اسکور
- 217
- پوائنٹ
- 0
مندرجہ ذیل روایت کی سند کیسی ہے؟
1225- أَخْبَرَكُمْ أَبُو عُمَرَ بْنُ حَيَوَيْهِ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ الرَّبِيعِ الزِّيَادِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّمَيْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ [ص:436]، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ قَالَ: أَمَرَ عَلِيٌّ بِالسِّوَاكِ، وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا تَسَوَّكَ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، قَامَ الْمَلَكُ خَلْفَهُ يَسْتَمِعُ الْقُرْآنَ، فَلَا يَزَالُ عَجَبُهُ بِالْقُرْآنِ يُدْنِيهِ مِنْهُ، حَتَّى يَضَعَ فَاهُ عَلَى فِيهِ، فَمَا يَخْرُجُ مِنْ فِيهِ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ إِلَّا صَارَ فِي جَوْفِ الْمَلَكِ، فَطَهِّرُوا أَفْوَاهَكُمْ»
(کتاب الزہد للامام عبداللہ بن مبارک ۱؍۴۳۵،ح:۱۲۲۵)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مسواک کا حکم دیتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمانِ گرامی بیان کیا کہ جب کوئی بندہ مسواک کر کے نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو ایک فرشتہ اس کے پیچھے قرآن سننے کے لیے کھڑا ہو جاتا ہے۔قرآنِ پاک کی محبت اس فرشتے کو مسلسل نمازی کے قریب لاتی رہتی ہے ،حتیٰ کہ وہ اپنا منہ اس کے منہ پر رکھ دیتا ہے۔پھر نمازی کے منہ سے قرآنِ کریم کا جوبھی لفظ نکلتا ہے ،وہ فرشتے کے پیٹ میں چلا جاتا ہے ۔لہٰذا تم اپنے منہ صاف رکھا کرو۔
1225- أَخْبَرَكُمْ أَبُو عُمَرَ بْنُ حَيَوَيْهِ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ الرَّبِيعِ الزِّيَادِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّمَيْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ [ص:436]، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ قَالَ: أَمَرَ عَلِيٌّ بِالسِّوَاكِ، وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا تَسَوَّكَ ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، قَامَ الْمَلَكُ خَلْفَهُ يَسْتَمِعُ الْقُرْآنَ، فَلَا يَزَالُ عَجَبُهُ بِالْقُرْآنِ يُدْنِيهِ مِنْهُ، حَتَّى يَضَعَ فَاهُ عَلَى فِيهِ، فَمَا يَخْرُجُ مِنْ فِيهِ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ إِلَّا صَارَ فِي جَوْفِ الْمَلَكِ، فَطَهِّرُوا أَفْوَاهَكُمْ»
(کتاب الزہد للامام عبداللہ بن مبارک ۱؍۴۳۵،ح:۱۲۲۵)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مسواک کا حکم دیتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمانِ گرامی بیان کیا کہ جب کوئی بندہ مسواک کر کے نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو ایک فرشتہ اس کے پیچھے قرآن سننے کے لیے کھڑا ہو جاتا ہے۔قرآنِ پاک کی محبت اس فرشتے کو مسلسل نمازی کے قریب لاتی رہتی ہے ،حتیٰ کہ وہ اپنا منہ اس کے منہ پر رکھ دیتا ہے۔پھر نمازی کے منہ سے قرآنِ کریم کا جوبھی لفظ نکلتا ہے ،وہ فرشتے کے پیٹ میں چلا جاتا ہے ۔لہٰذا تم اپنے منہ صاف رکھا کرو۔