• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نماز جمعہ کے بعدتعداد رکعات میں مسجد اور گھر کی تفریق

مقبول احمد سلفی

سینئر رکن
شمولیت
نومبر 30، 2013
پیغامات
1,391
ری ایکشن اسکور
452
پوائنٹ
209
نماز جمعہ کے بعدتعداد رکعات میں مسجد اور گھر کی تفریق

تحریر: مقبول احمد سلفی
جدہ دعوہ سنٹر، السلامہ -سعودی عرب


نماز جمعہ کے بعد سنت کی ادائیگی میں عموما اہل علم یہ فرق ذکر کرتے ہیں کہ اگر جمعہ کے بعد مسجد میں ہی سنت ادا کرنا چاہیں تو چار رکعت ادا کریں اور گھر میں سنت ادا کرنا چاہیں تو دو رکعت ادا کردیں ۔ اس تحریر میں جاننے کی کوشش کریں گے کہ مسجد میں چار رکعت سنت اور گھر میں دو رکعت سنت کی تفریق کی بنیاد کیا ہے اور کیا جمعہ کی سنت کی ادائیگی کے لئے اس تفریق کا برتنا ضروری ہے اور یہ تفریق کرنا کیسا ہے؟
پہلے ہم یہ جانتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے وضاحت کے ساتھ جمعہ بعد کتنی رکعت پڑھنے کا ثبوت ملتا ہے چنانچہ اس سلسلے میں دو رکعت فعلی سنت ملتی ہے اور چار رکعت قولی سنت ملتی ہے ۔
فعلی سنت کی دلیل:حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما سے روایت ہےوہ نبی ﷺ کے متعلق بیان کرتے ہیں:
وكان لا يُصلِّي بعدَ الجمُعةِ حتى يَنصَرِفَ، فيُصلِّي ركعتَينِ (صحيح البخاري:937)
ترجمہ: جمعہ کے بعد نماز نہیں پڑھتے تھے تاآنکہ گھر لوٹ آتے، واپس آ کر دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
قولی سنت کی دلیل : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إذا صلَّى أحدُكم الجمعةَ فليصلِّ بعدها أربعًا(صحيح مسلم؛881)
ترجمہ: جب تم میں سے کوئی جمعہ پڑھ چکے تو اس کے بعد چار رکعتیں پڑھے۔
یا اس طرح کے بھی الفاظ وارد ہیں ، نبی ﷺ فرماتے ہیں:
مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُصَلِّيًا بَعْدَ الْجُمُعَةِ، فَلْيُصَلِّ أَرْبَعًا(مسلم:881)
ترجمہ:تم میں سے جو شخص جمعے کے بعد نماز پڑھے توچار رکعتیں پڑھے۔
آپ ﷺ سے یہی دو قسم کی سنت صحیح احادیث سے معلوم ہوتی ہے ۔ اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو لوگ جمعہ کے بعد مسجد میں چار رکعت اور گھر میں دو رکعت پڑھنے کی تفریق کرتے ہیں اس کی بنیاد کیا ہے ؟
پہلی بنیاد یہی مذکورہ بالا دونوں احادیث ہیں جن کی روشنی میں یہ کہا جاتا ہے کہ چونکہ نبی ﷺنے گھر میں جمعہ کے بعد دو رکعت ادا فرمائی ہیں اس لئے کوئی گھر میں جمعہ کے بعد سنت پڑھے تو دو رکعت پڑھے اور جو چار رکعت والی حدیث ہے اس سے مراد یہ ہے کہ جو جمعہ کے بعد مسجد میں ہی نماز ادا کرنا چاہے وہ چار رکعت ادا کرے ۔
درحقیقت یہ تفریق قابل اعتماد نہیں ہے کیونکہ نبی ﷺ صرف جمعہ کے دن ہی نہیں بلکہ تمام نمازوں کی سنت گھر ادا فرماتے تھے اور اس لئے صرف جمعہ کے دن یہ تفریق کرنا محل نظر ہے ۔ آپ ﷺ کا مندرجہ ذیل حکم عام ہے جو تمام نمازوں کو شامل ہے ۔
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فَصَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ، فَإِنَّ أَفْضَلَ الصَّلَاةِ صَلَاةُ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ(صحیح البخاری:731)
ترجمہ: لوگو! تم اپنے گھروں میں نماز پڑھتے رہو کیونکہ بہتر نماز آدمی کی وہی ہے جو اس کے گھر میں ہو سوائے فرض نمازکے۔
گویا ہمیں معلوم یہ ہوتا ہے کہ جمعہ کی نماز کی سنت ہو یا پنچ وقتہ نمازوں کی سنت ہو افضل وبہتر یہ ہے کہ اسے گھر میں ادا کیا جائے تاہم مسجد میں بھی ادا کرنا چائز ہے اور نبی ﷺ نے کہیں ہمیں یہ فرق کرکے نہیں بتایا کہ جب نمازجمعہ کے بعد مسجد میں سنت ادا کرو تو چار پڑھو اور گھر میں پڑھو تو چار پڑھو بلکہ آپ سے دوقسم کی سنت ثابت ہے ، ایک قولی ہے اور دوسری فعلی ۔ ان دونوں سنتوں میں قول کو ترجیح دیا جائے گا اور یہ کہاجائے گا کہ جمعہ کے بعد دو رکعت بھی پڑھنا جائز ہے تاہم چار پڑھنا افضل ہے ۔
مسجد و گھر میں عددرکعات میں تفریق کی بڑی بنیاد ابن عمر رضی اللہ عنہما کا عمل ہے چنانچہ اس سلسلے میں جو حدیث ابوداؤد میں ہے اسے دیکھیں ۔
عنِ ابنِ عمرَ قالَ : كانَ إذا كانَ بمَكةَ فصلَّى الجمعةَ تقدَّمَ فصلَّى رَكعتَينِ ثمَّ تقدَّمَ فصلَّى أربعًا وإذا كانَ بالمدينةِ صلَّى الجمعةَ ثمَّ رجعَ إلى بيتِه فصلَّى رَكعتَينِ ولم يصلِّ في المسجدِ فقيلَ لَه فقالَ كانَ رسولُ اللَّهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ يفعلُ ذلِك(صحيح أبي داود:1130)
ترجمہ: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے متعلق عطاء کہتے ہیں کہ وہ جب مکہ میں ہوتے اور جمعہ پڑھتے تو آگے بڑھ کر دو رکعتیں پڑھتے ، پھر آگے بڑھتے اور چار رکعتیں پڑھتے اور جب مدینہ میں ہوتے اور جمعہ پڑھتے تو اس کے بعد گھر لوٹ جاتے اور دو رکعتیں ادا کرتے اور مسجد میں نہ پڑھتے ۔ آپ سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو کہا کہ رسول اللہ ﷺ ایسے ہی کیا کرتے تھے ۔
تفریق کی اصل وجہ یہی حدیث ہے جس کی بنیاد پر بعض اہم علم کہتے ہیں کہ جمعہ کے بعد مسجد میں چار رکعت اور گھر میں دو رکعت ادا کی جائے حالانکہ اس حدیث کو ابن عمر رضی اللہ عنہما سے متعلق دیگر احادیث سے ایک ساتھ ملاکر دیکھتے ہیں تو اس تفریق کی کوئی حقیقت نہیں رہ جاتی ہے ۔
(1)پہلی بات یہ ہے کہ ابن عمررضی اللہ عنہما کی مذکورہ حدیث میں چار نہیں چھ رکعت کی بات ہے یعنی وہ جمعہ کے بعد پہلے دو رکعت پڑھتے پھر چار رکعت پڑھتے ۔ ابوداؤد کی (1133) نمبر کی حدیث میں بھی اسی طرح آپ سے چھ رکعات پڑھنے کا ذکر ہے اور جب ابن عمررضی اللہ عنہما کے اس چھ رکعت والے عمل سے متعلق ابن جریج نے عطاء سے پوچھا کہ آپ نے ابن عمر کو کتنی بار ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ تو انہوں نے کہا: بارہا۔گویا اس میں چار رکعت کی کوئی دلیل نہیں ہے، یہ تو چھ رکعت سے متعلق حدیث ہے اوراس حدیث کی روشنی میں جمعہ کے بعد چھ رکعات ادا کرنے کا جواز نکلتا ہے۔
(2)ودسری بات یہ ہے کہ ابن عمررضی اللہ عنہماسنت پر عمل کرنے میں نبی ﷺ کی ہوبہو مشابہت اختیار کرتے یعنی عبادت کی ادائیگی میں اس جگہ کا بھی بہت خیال کرتے جہاں آپ ﷺ نے عبادت کی ہوچنانچہ بہت مشہور حدیث ہے کہ آپ سفر کے دوران ان مقامات پر نماز پڑھتے جہاں رسول اللہ ﷺ نماز پڑھے ہوتے ۔ موسیٰ بن عقبہ نے کہا:
رَأَيْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَتَحَرَّى أَمَاكِنَ مِنَ الطَّرِيقِ فَيُصَلِّي فِيهَا، وَيُحَدِّثُ أَنَّ أَبَاهُ كَانَ يُصَلِّي فِيهَا، وَأَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي تِلْكَ الْأَمْكِنَةِ(صحیح البخاری:483)
ترجمہ:میں نے سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ (مدینہ سے مکہ تک) راستے میں کئی جگہوں کو ڈھونڈھ کر وہاں نماز پڑھتے اور کہتے کہ ان کے باپ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ان مقامات پر نماز پڑھا کرتے تھے۔ اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان مقامات پر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور موسیٰ بن عقبہ نے کہا کہ مجھ سے نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے متعلق بیان کیا کہ وہ ان مقامات پر نماز پڑھا کرتے تھے۔
اس حدیث کو سامنے رکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ چونکہ نبی ﷺ جمعہ کے بعد کی سنت مسجد میں نہیں ادا کرتے تھے بلکہ گھر میں ادا فرماتے تھے اور وہ روایت ان ہی سے مروی ہے کہ" جمعہ کے بعد نماز نہیں پڑھتے تھے تاآنکہ گھر لوٹ آتے، واپس آ کر دو رکعتیں پڑھتے تھے"۔اس وجہ سے نبی ﷺ کی سنت کی پیروی میں وہ نماز جمعہ کے بعد کی سنت مسجد کی بجائے گھر میں ادا فرماتے ۔ دراصل ابوداؤد (1130) میں ابن عمر سے متعلق یہی بات کہی جارہی ہے کہ وہ مدینہ میں نماز جمعہ کے بعد مسجد میں سنت نہیں ادا کرتے بلکہ نبی ﷺ کی طرح گھر جاکر دو رکعت ادا کرتے اور جب ابن عمر سے اس عمل کے بارے میں پوچھا جاتا تو وہ کہتے کہ رسول اللہ ﷺایسا ہی کرتے یعنی آپ ﷺ بھی نماز جمعہ کے بعد والی سنت مسجد میں نہیں ادا کرتے بلکہ گھر میں ادا کرتے ۔ اس بات کی تائید ابن عمر سے منقول اس حدیث سے پوری طرح ہوتی ہے۔
نافع کہتے ہیں:أنَّ ابنَ عمرَ رأى رجلًا يصلِّي رَكعتينِ يومَ الجمعةِ في مقامِهِ فدفعَهُ وقالَ أتصلِّي الجمعةَ أربعًا وَكانَ عبدُ اللَّهِ يصلِّي يومَ الجمعةِ رَكعتينِ في بيتِهِ ويقولُ هَكذا فعلَ رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ(صحيح أبي داود:1127)
ترجمہ: ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جمعہ کے دن ایک شخص کو اپنی اسی جگہ پر دو رکعت نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا، (جہاں اس نے جمعہ کی نماز ادا کی تھی) تو انہوں نے اس شخص کو اس کی جگہ سے ہٹا دیا اور کہا: کیا تم جمعہ چار رکعت پڑھتے ہو؟ اور عبداللہ بن عمر جمعہ کے دن دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھا کرتے تھے اور کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی کیا ہے۔
اس حدیث میں بالکل صراحت ہے کہ نبی ﷺ جمعہ کے بعد کی سنت مسجد میں نہیں پڑھتے تھے اس لئے ابن عمر بھی مسجد کی بجائے گھر میں سنت پڑھتے اور دوسرے کوبھی مسجدکی بجائے گھر میں سنت ادا کرنے کی ترغیب دیتے ۔ٹھیک یہی بات اس حدیث سےبھی معلوم ہوتی ہے ۔
نافع کہتے ہیں:كانَ ابنُ عمرَ يطيلُ الصَّلاةَ قبلَ الجمعةِ ويصلِّي بعدَها رَكعتينِ في بيتِهِ ويحدِّثُ أنَّ رسولَ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ عليْهِ وسلَّمَ كانَ يفعلُ ذلِكَ(صحيح أبي داود:1128)
ترجمہ:ابن عمر رضی اللہ عنہما جمعہ سے پہلے نماز لمبی کرتے اور جمعہ کے بعد دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھتے تھے اور بیان کرتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پڑھتے تھے۔
اس جگہ ایک اور حدیث دیکھیں جس میں پنچ وقتہ نمازوں کے ساتھ نماز جمعہ کے بعد کی سنت کا ذکر کرتے ہوئے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ رَكْعَتَيْنِ وَبَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ، وَبَعْدَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ، وَبَعْدَ الْعِشَاءِ رَكْعَتَيْنِ وَكَانَ لَا يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ حَتَّى يَنْصَرِفَ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ(صحيح البخاري:937)
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر سے پہلے دو رکعت، اس کے بعد دو رکعت اور مغرب کے بعد دو رکعت اپنے گھر میں پڑھتے اور عشاء کے بعد دو رکعتیں پڑھتے اور جمعہ کے بعد دو رکعتیں جب گھر واپس ہوتے تب پڑھا کرتے تھے۔
اس حدیث سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ دیگر نمازوں کی سنتوں کی طرح نماز جمعہ کے بعد والی سنت بھی گھر میں ادا کی جائے ، دراصل ابن عمر اسی سنت کی تطبیق کے لئے نماز جمعہ کے بعد گھر میں سنت پڑھنے کو توجیح دیتے تھے ۔
(3)ابن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ بھی خیال تھا کہ نمازجمعہ کے بعد کی سنت مسجد میں پڑھی جاسکتی ہے تاہم آدمی اس جگہ سے ذرا ہٹ جائے جس جگہ نمازجمعہ ادا کیا ہو چنانچہ یہ روایت دیکھیں ۔
عطاء بن ابی رباح سے روایت ہے :أنَّهُ رأى ابنَ عمرَ يصلِّي بعدَ الجمعةِ فينمازُ عن مصلَّاهُ الَّذي صلَّى فيهِ الجمعةَ قليلًا غيرَ كثيرٍ قالَ فيركعُ رَكعتَينِ قالَ ثمَّ يمشي أنفسَ من ذلِك فيركعُ أربعَ رَكعاتٍ(صحيح أبي داود:1133)
ترجمہ: انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ جمعہ کے بعد نفل پڑھتے تو اپنی اس جگہ سے جہاں انہوں نے جمعہ پڑھا تھا، تھوڑا سا ہٹ جاتے زیادہ نہیں، پھر دو رکعتیں پڑھتے پھر پہلے سے کچھ اور دور چل کر چار رکعتیں پڑھتے۔
یہ وہی چھ رکعات والی بات ہے جس کا ذکر اوپر ہوا ہے یعنی ابن عمر جمعہ کے بعد کی سنت مسجد میں پڑھنا جائز سمجھتے تاہم اس جگہ سے ذرا ہٹ جاتے جس جگہ نماز جمعہ پڑھتے اور یہ تو مسنون عمل ہے جو صحیح احادیث سے ثابت ہےکہ جہاں نمازی نے فرض نماز پڑھی ہو اس سے ہٹ کر سنت ادا کرے اور یہ حکم نماز جمعہ کے ساتھ تمام فرض نمازوں سے متعلق ہے ۔اس بابت امام مسلم نے اپنی صحیح میں ایک حدیث ذکر فرمائی ہے وہ ملاحظہ فرمائیں جو خاص جمعہ کی سنت کے سلسلے میں ہے ۔
عن عمرَ بنِ عطاءِ بنِ أَبي الْخُوَارِ: أَنَّ نافعَ بنَ جُبَيْرٍ أَرسلَهُ إِلَى السَّائبِ ابنِ أُختِ نَمِرٍ، يسأَلُه عن شيءٍ رآه منه معاويةُ في الصَّلَاةِ، فقال: نعم، صلَّيْتُ معه الْجُمُعَةَ في الْمَقْصُورةِ، فلَمَّا سَلَّمَ الْإِمامُ، قُمْتُ في مقَامِي فَصَلَّيْتُ، فَلَمَّا دخل أَرْسلَ إِلَيَّ فقال: لا تَعُدْ لِمَا فعلْتَ، إِذا صَلَّيْتَ الْجُمُعَةَ، فلا تَصِلْهَا بصلاةٍ، حتَّى تَكَلَّمَ أَو تَخْرُجَ، فإِنَّ رسولَ اللَّه صلى الله عليه وسلم أَمَرَنَا بذلك: أَنْ لَا تُوصَلَ صَلَاةٌ بِصَلَاةٍ، حَتَّى نَتَكَلَّمَ أَوْ نَخْرُجَ.(صحيح مسلم:883)
ترجمہ : عمر بن عطاء بن ابی خوارکہتے ہیں کہ نافع بن جبیر رضی اللہ عنہ نے انہیں سائب بن اخت نمر کی طرف کچھ ایسی باتوں کے بارے میں پوچھنے کے لئے بھیجا جو انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے نماز میں دیکھیں، سائب نے کہا کہ ہاں میں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مقصوره میں جمعہ پڑھا ہے، جب امام نے سلام پھیرا تو میں نے اپنی جگہ پر کھڑے ہو کر نماز پڑھی تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے مجھے بلا کر فرمایا کہ تم دوبارہ ایسے نہ کرنا، جب جمعہ کی نماز پڑھ لو تو اس کے ساتھ کوئی نماز نہ پڑھو جب تک کہ کوئی بات نہیں کرلو یا اس جگہ سے جب تک ہٹ نہ جاؤکیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ایک نماز کے ساتھ دوسری نماز کو نہ ملائیں جب تک کہ ہم درمیان میں کوئی بات نہ کرلیں یا کوئی جگہ بدل نہ لیں۔
امام نووی ؒ صحیح مسلم کی شرح میں اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں کہ اس میں ہمارے اصحاب فقہائے شافعیہ کے لئے دلیل ہے کہ سنن رواتب وغیرہ کے لئے مستحب ہے کہ فرض نماز پڑھی ہوئی جگہ سے دوسری جگہ بدل لے اور جگہ بدلنے کا سب سے افضل طریقہ گھر ہے ورنہ مسجد کی کسی جگہ یا اس کے علاوہ کوئی جگہ تاکہ سجدہ کی جگہ کی کثرت ہو اور فرض نماز کی شکل سے نفل نماز کی شکل میں فرق ہوسکے۔
اس حدیث یہ معلوم ہوا کہ جس طرح فرض نماز کی سنت مسجد میں ادا کرسکتے ہیں اسی طرح نماز جمعہ کے بعد والی سنت بھی مسجد میں ادا کرسکتے ہیں اور جمعہ کی سنت ادا کرنے میں اسی طرح سنت کی رعایت کی جائے جس طرح فرض نماز کی سنت میں کرتے ہیں یعنی فرض نماز پڑھنے کی جگہ سے ہٹ کر سنت ادا کرنا جیساکہ صراحت کے ساتھ یہ بات منقول ہے ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أيعجِزُ أحدُكم إذا صلَّى أن يتقدَّمَ أو يتأخَّرَ أو عن يمينِهِ أو عن شمالِهِ يعني السُّبحةَ(صحيح ابن ماجه:1182)
ترجمہ:کیا تم میں سے ایک آدمی اس بات سے قاصر ہے کہ فرض نماز کے بعد جب نفل نماز شروع کرے تو ذرا آگے پیچھے یا دائیں بائیں ہولیا کرے۔
اب جاکر یہ مسئلہ پوری طرح واضح ہوگیا کہ نماز جمعہ اور پنچ وقتہ نمازوں کی سنتوں کی ادائیگی گھر میں افضل ہے تاہم مسجد میں بھی سنت ادا کرسکتے ہیں اور مسجد میں سنت ادا کرتے وقت فرض نماز کی جگہ سے ہٹ کر سنت ادا کریں گے نیز ہمیں یہ بھی معلوم ہوگیا کہ جمعہ کے بعد مسجد میں چار رکعت اور گھر میں دورکعت کی تفریق پہ کوئی دلیل نہیں ہے اس لئے یہ تفریق کرنا بالکل درست نہیں ہے ۔ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نماز جمعہ کے بعد کتنی رکعات ادا کرنا بہتر وافضل ہے ؟
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ نماز جمعہ کے بعد چار رکعت سنت ادا کرنا افضل وبہتر ہے ، اس کی دو وجوہات ہیں ۔ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ چار رکعت ادا کرنے والی حدیث ،قولی ہے بلکہ آپ ﷺ نے حکم دیا ہے کہ چار رکعت پڑھولہذااس امراور قولی سنت کو فعلی سنت پر ترجیح حاصل ہے ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ عدد کے اعتبار سے بھی چار رکعت ، دو رکعت کے مقابلہ میں زیادہ ہے اس لئے چار رکعت پڑھنا بلاشبہ اولی وافضل ہے ۔ اس سلسلے میں دو آثار بھی پیش کرتا ہوں جن سے اس ترجیح کو تقویت ملتی ہے ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے کہاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِذَا صَلَّيْتُمْ بَعْدَ الْجُمُعَةِ، فَصَلُّوا أَرْبَعًا ". زَادَ عَمْرٌو فِي رِوَايَتِهِ، قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ : قَالَ سُهَيْلٌ : " فَإِنْ عَجِلَ بِكَ شَيْءٌ، فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ فِي الْمَسْجِدِ، وَرَكْعَتَيْنِ إِذَا رَجَعْتَ (صحیح مسلم:881)
ترجمہ:جب تم جمعہ کے بعد نماز پڑھو تو چار رکعتیں پڑھو۔عمرو نے اپنی روایت میں اضافہ کیا، ابن ادریس نے کہا سہیل نے کہا: اگر تمھیں کسی چیز کی وجہ سے جلدی ہو تو دو رکعتیں مسجد میں پڑھ لو اور دو رکعتیں و اپس جا کر (گھر میں) پڑ ھ لو۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
قال ابن الصباح: قال:" من كان مصليا بعد الجمعة فليصل اربعا وتم حديثه"، وقال ابن يونس: إذا صليتم الجمعة فصلوا بعدها اربعا، قال: فقال لي ابي: يا بني، فإن صليت في المسجد ركعتين، ثم اتيت المنزل او البيت فصل ركعتين.(سنن ابی داؤد:1131، صححہ البانی)
ترجمہ:(محمد بن صباح کی روایت میں ہے) جو شخص جمعہ کے بعد پڑھنا چاہے تو وہ چار رکعتیں پڑھے، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ اور احمد بن یونس کی روایت میں یہ ہے کہ جب تم نماز جمعہ پڑھ چکو تو اس کے بعد چار رکعتیں پڑھو۔ سہیل کہتے ہیں: میرے والد ابوصالح نے مجھ سے کہا: میرے بیٹے! اگر تم نے مسجد میں دو رکعت پڑھ لی ہے پھر گھر آئے ہو تو (گھر پر) دو رکعت اور پڑھو۔
ان دونوں آثار سے معلوم ہوا کہ جمعہ بعد چار رکعت پڑھنا چاہئے اور اگر کوئی عجلت ہو تو کم ازکم مسجدمیں دو رکعت پڑھ لیں پھر گھر آکر مزید دو رکعت پڑھ لیں ۔
یہی رائے شیخ ابن باز رحمہ اللہ کی ہے کہ "جمعہ کے بعددوسلام سے چار رکعت پڑھی جائے خواہ مسجد میں ہو یا گھر میں ہوکیونکہ چار کعت پڑھنے کا آپ ﷺ نے حکم دیا ہے" ۔اور یہی رائے علامہ البانی رحمہ اللہ کی بھی ہے کہ" جمعہ کے بعد اختیار ہے چاہے دو پڑھیں یا چار لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ چار پڑھنادو رکعت سے افضل ہے مزید یہ بھی کہتے ہیں کہ دورکعت پڑھیں یا چار دونوں طرح مسجد میں پڑھنا جائز ہے اور یہ گھر میں پڑھنا افضل ہے اور بہرحال یہ تفصیل کہ دو رکعت گھر میں اور چار رکعت مسجد میں اس کی کوئی دلیل نہیں ہے "۔
اس پورے کلام کا خلاصہ یہ نکلا کہ نماز جمعہ کے بعدتعداد رکعات میں مسجد اور گھر کی جو تفریق کی جاتی ہے اس کی کوئی دلیل نہیں ملتی ہے اس لئے اس تفریق کا اعتبار نہیں ہے ، جہاں تک جمعہ بعد سنت کی تعداد کا مسئلہ ہے وہ یہ ہے کہ خواہ مسجد میں پڑھیں یا گھر میں دو رکعت پڑھنا جائز ہے اور چار رکعت پڑھنا اولی وافضل ہے تاہم سنت گھر ادا کرتے ہیں جس کی ترغیب نبی ﷺ نے فرمائی ہے تو یہ مسجد میں ادا کرنے سے بہتر ہے ۔
 
Top