• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کفار سے قلبی تعلق کا خاتمہ

شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
654
ری ایکشن اسکور
198
پوائنٹ
77
کفار سے قلبی تعلق کا خاتمہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

قرآن نے حکم دیا کہ کوئی مسلمان کسی کافر کے ساتھ موالات و مودت اور قلبی محبت کا تعلق نہ رکھے، کیونکہ قلب اقلیم تن یعنی جسم کا بادشاہ ہے، لہذا قلبی تعلقات ہی آخر کار انسان کے نبیت وارادے اور تمام افعال پر چھا جائیں گے۔ نتیجتا ایک مسلمان قلباً و قالباً ( ظاہراً و باطناً ) کفار سے مشابہ ہو جائے گا، حالانکہ کفار سے مشابہت قرآنی تعلیمات کے صراحتاً خلاف ہے۔ پس ایک جگہ تو اس نے یہود و نصاری سے ترک موالات کا حکم دیا:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَىٰ أَوْلِيَاءَ [المائدة: ۵۱]
اے ایمان والو! تم یہود و نصاریٰ کو دوست مت بناؤ۔

پھر اہل کتاب اور عام اہل کفر سے حتی کہ ان لوگوں سے بھی رشتہ موالات منقطع کرنے کا حکم دیا جو مسائل دین کے ساتھ تمسخر اور استہزاء سے پیش آتے ہیں:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَكُمْ هُزُوًا وَلَعِبًا مِّنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ وَالْكُفَّارَ أَوْلِيَاءَ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ [المائدة: ۵۷]

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ان لوگوں کو جنھوں نے تمھارے دین کو مذاق اور کھیل بنا لیا، ان لوگوں میں سے جنھیں تم سے پہلے کتاب دی گئی ہے اور کفار کو دوست نہ بناؤ اور اللہ سے ڈرو، اگر تم ایمان والے ہو۔

پھر ایک جگہ فرمایا کہ کافر تو کافر، ایک مسلمان تو کسی ایسے آدمی سے بھی رتی بھر محبت نہیں رکھ سکتا جو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے برخلاف ہو، خواہ کفر کر کے ہو یا علانیہ فسق اور بدعت کا ارتکاب کرکے:

لَّا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ ۚ أُولَٰئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ وَأَيَّدَهُم بِرُوحٍ مِّنْهُ [المجادلۃ : ۲۲]

تو ان لوگوں کو جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، نہیں پائے گا کہ وہ ان لوگوں سے دوستی رکھتے ہوں جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی، خواہ وہ ان کے باپ ہوں، یا ان کے بیٹے، یا ان کے بھائی، یا ان کا خاندان۔ یہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اس نے ایمان لکھ دیا ہے اور انھیں اپنی طرف سے ایک روح کے ساتھ قوت بخشی ہے۔

حقیقت یہی ہے کہ اگر کسی مسلمان کے دل میں موالات کفار اور محبت منکرین کا کوئی شائبہ تک موجود ہے تو ماننا پڑے گا کہ اسی درجہ میں اسلام کی عظمت و محبت کی کمی بھی اس قلب میں جاگزیں ہے، ورنہ پھر اسلام و کفر کا تضاد ہی باقی نہیں رہ سکتا۔

اسی حقیقت کو سمجھ کر ارباب حقیقت نے دعوی کیا ہے کہ کفار سے محبت رکھنے سے ایمان میں فساد آجاتا ہے۔ بلکہ سہل بن عبداللہ تستری رحمۃ اللہ علیہ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ جس کا ایمان و توحید خالص ہے وہ کسی بدعتی سے بھی انس نہیں رکھ سکتا چہ جائیکہ کفار سے ؛ اور وہ بھی مودت و محبت کی شکل میں !

اگر مسلم قلوب میں سے کفار کے لیے یہ شدت و سختی نکل جائے تو ان کی ولایت و محبت ضرور اس کی جگہ لے گی۔ اور کفار سے قلبی محبت قائم کرنے کے بعد وہ دن دور نہیں رہتا جب یہ مسلم فرد انجام کار اسی گروہ کفر میں جاملے اور صورت وسیرت میں ان کا ہم آہنگ بن جائے۔

قرآن کریم نے موالات کے اس نتیجے کا صاف صاف ذکر کر دیا ہے:

وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [المائدة: ۵۱]
اور جو شخص تم میں سے ان سے دوستی کرے گا بے شک وہ انہی میں سے ہوگا ۔

پس ترک محبت و قطع موالات کے سلسلے میں ایک مسلمان کا اولین فرض یہ ہے کہ وہ سب سے پہلے آیات مذکورہ کے تحت اہل کفر سے اپنے قلبی تعلقات کا رشتہ کلیتا کاٹ دے۔ بالکل اسی طرح جیسے ان آیات کے ماتحت ابو عبيدة بن الجراح رضی اللہ عنہ نے اپنے کافر باپ سے قلبی تعلقات منقطع کر لئے تھے کہ بالآخر بدر میں خود ہی ان کے قاتل بھی بنے۔

اور جس طرح اسی تعلیم ( أشداء على الكفار) کے ماتحت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی عبید بن عمیر سے محبت ختم کر کے خود ہی اُحد میں اسے قتل کیا۔ حضرت عمر نے اپنے ماموں عاص بن ہشام کو بدر میں قتل کیا، حضرت علی و حمزہ اور عبید بن الحارث رضی اللہ عنہم نے عتبہ، ولید بن عتبہ اور شیبہ بن ربیعہ کو بدر میں قتل کیا جو ان حضرات کے قریبی رشتہ دار تھے، اور ایسا کر کے اسلامی غیرت اور صلابت فی الدین کی ایک ایسی زبر دست مثال قائم فرمادی جو ہمیشہ امت کو غیرت وحمیت کی دعوت دیتی رہے گی۔
 
Top