• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

"کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی" ایک سوال کا جواب چاہئے

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,859
ری ایکشن اسکور
41,092
پوائنٹ
1,155
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم @اسحاق سلفی بھائی! فیس بک پر ایک سوال آیا ہے جس کا مجھے جواب نہیں آتا، اور اس موضوع پر معلومات بھی نہیں ہیں، آپ اس سوال کا جواب دیجئے۔ جزاک اللہ خیرا
ایک بہن نے سوال پوچھا ہے کہ ایک حدیث میں ہیں کہ کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی اور عام زندگی میں ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے بیماریاں ایک انسان سے دوسرے کو لگتی ہیں اس حدیث مبارکہ کے بارے میں اپ کے پاس کچھ معلومات ہیں کہ اس حدیث کا کیا مطلب ہے جزاکم اللہ خیرا
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,859
ری ایکشن اسکور
41,092
پوائنٹ
1,155

میرب فاطمہ

مشہور رکن
شمولیت
جون 06، 2012
پیغامات
195
ری ایکشن اسکور
218
پوائنٹ
107
مطلب کہ بیماری کسی سے نہیں لگتی بلکہ بیمار شخص کے ارد گرد یا پھر فضا میں موجود جرثوموں سے لگتی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ اونٹوں کو خارش پڑی تھی تو رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ کوئی بیماری متعدی نہیں تو ایک اعرابی آیا، اور اس نے کہا کہ آپ نے دیکھا ہو گا کہ ایک اونٹ ریگستان میں ہرن جیسا صاف رہتا ہے لیکن جب وہی ایک خارش والے اونٹ کے پاس آ جاتا ہے تو اسے بھی خارش ہو جاتی ہے ۔رسول اللہﷺ نے فرمایا لیکن پہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی تھی ۔۔۔بخاری کی ہے
 

میرب فاطمہ

مشہور رکن
شمولیت
جون 06، 2012
پیغامات
195
ری ایکشن اسکور
218
پوائنٹ
107
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مریض اونٹوں والا اپنے اونٹ تندرست اونٹوں والے کے اونٹ میں نہ چھوڑے ۔بخاری

یہ اسلئے ہے کہ وہ جراثیم جو اس کے ارد گرد ہیں۔ ان سے بچ سکے۔اور کہیں میں نے یہ بھی پڑھا تھا کہ ایسا اسلیئے کرے کہ کہیں وہ بیماری لگ جانے کے بعد یہ نہ اعتقاد کر بیٹھے کہ بیماری متعدی ہوتی ہے۔۔مطلب کہ بدعقیدگی سے بچنے کے لئے۔
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,859
ری ایکشن اسکور
41,092
پوائنٹ
1,155
مطلب کہ بیماری کسی سے نہیں لگتی بلکہ بیمار شخص کے ارد گرد یا پھر فضا میں موجود جرثوموں سے لگتی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ اونٹوں کو خارش پڑی تھی تو رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ کوئی بیماری متعدی نہیں تو ایک اعرابی آیا، اور اس نے کہا کہ آپ نے دیکھا ہو گا کہ ایک اونٹ ریگستان میں ہرن جیسا صاف رہتا ہے لیکن جب وہی ایک خارش والے اونٹ کے پاس آ جاتا ہے تو اسے بھی خارش ہو جاتی ہے ۔رسول اللہﷺ نے فرمایا لیکن پہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی تھی ۔۔۔بخاری کی ہے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مریض اونٹوں والا اپنے اونٹ تندرست اونٹوں والے کے اونٹ میں نہ چھوڑے ۔بخاری

یہ اسلئے ہے کہ وہ جراثیم جو اس کے ارد گرد ہیں۔ ان سے بچ سکے۔اور کہیں میں نے یہ بھی پڑھا تھا کہ ایسا اسلیئے کرے کہ کہیں وہ بیماری لگ جانے کے بعد یہ نہ اعتقاد کر بیٹھے کہ بیماری متعدی ہوتی ہے۔۔مطلب کہ بدعقیدگی سے بچنے کے لئے۔
جزاک اللہ خیرا
 
Top