محدث میڈیا
رکن
- شمولیت
- مارچ 02، 2023
- پیغامات
- 918
- ری ایکشن اسکور
- 30
- پوائنٹ
- 77
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
نماز عيد ادا كرنا ہر مسلمان پر ضروری ہے، بالغ انسان كے ليے اسے چھوڑنا قطعا جائز نہيں ہے؛ كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے عورتوں كو بھی نماز عید کے لیے حاضر ہونے كا حكم ديا ہے، بلكہ وه عورتیں جن کے خاص ایام چل رہے ہوں انہیں بھى نماز عيد كے ليے جانےكا حكم ديا، ليكن فرمايا : ایسی عورتیں عيد گاہ سے الگ بیٹھیں گى۔
جیسا کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں :
((أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُخْرِجَهُنَّ فِي الْفِطْرِ وَالأَضْحَى الْعَوَاتِقَ وَالْحُيَّضَ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ ، فَأَمَّا الْحُيَّضُ فَيَعْتَزِلْنَ الصَّلاةَ وَيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِحْدَانَا لا يَكُونُ لَهَا جِلْبَابٌ . قَالَ : لِتُلْبِسْهَا أُخْتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا)) . (صحيح البخاري، الحيض: 324، صحيح مسلم، صلاة العيدين: 890).
’’ ہمیں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم قريب البلوغ، حائضہ اور كنوارى عورتيں سب كو، عيد الفطر اور عيد الاضحى كے موقع پر ( عيد گاہ ) لے کر جائیں، ليكن حائضہ عورتيں نماز سے عليحدہ رہيں، وہ خير اور مسلمانوں كے ساتھ دعا ميں شريك ہوں, ميں نے عرض كيا: اے اللہ كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم! اگر ہم ميں سے كسى كے پاس اوڑھنى نہ ہو تو (وه كيا كرے) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اس كى بہن اپنى اوڑھنى دے دے۔‘‘
اس لیے انسان کو چاہیے کو وہ ہر صورت نماز عید کےلیے حاضر ہو، لیکن اگر بیماری یا کسی معقول عذر کی بنا پر وہ باجماعت عید کی نماز نہیں پڑھ سکا، تو اسے چاہیے کہ گھر میں ہی اس كی قضائی دے۔ اس کا طریقہ معروف عید نماز والا ہی ہو گا، کہ دو رکعت ادا کرے گا ، پہلی رکعت میں سات اور دوسری رکعت میں پانچ اضافی تکبیرات کہے گا۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((إذا أُقيمَتِ الصَّلاةُ فلا تأتوها تَسعَوْنَ، وأتُوها تَمشُونَ وعليكم السَّكينةُ، فما أدركتُم فصَلُّوا، وما فاتكم فأتِمُّوا)). (سنن أبي داود، الصلاة: 572، سنن ابن ماجه، المساجد والجماعات: 775) (صحيح).
’’جب نماز کی اقامت کہہ دی جائے تو بھاگتے ہوئے نماز میں شامل ہونے کی کوشش نہ کرو، بلکہ وقار اور سكون سے آؤ، جو (نماز) تمہيں مل جائے اسے ادا كرو، اور جو رہ جائے اس كى قضائی دے دو‘‘۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالےسے بیان کیا ہے کہ انہوں نے اپنے غلام ابن ابی عتبہ کو حکم دیا، اپنے اہل و عیال کو بھی جمع کیا، پھر سب کو ویسے ہی نماز عید پڑھائی جیسےامام لوگوں کو نماز عید پڑھاتا ہے، اور تکبیرات بھی کہیں۔ ( صحيح البخاري: بَابٌ: إِذَا فَاتَهُ العِيدُ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَذَلِكَ النِّسَاءُ، وَمَنْ كَانَ فِي البُيُوتِ وَالقُرَى (2/23)، تغليق التعليق: 2/386).
والله أعلم بالصواب.
نماز عيد ادا كرنا ہر مسلمان پر ضروری ہے، بالغ انسان كے ليے اسے چھوڑنا قطعا جائز نہيں ہے؛ كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے عورتوں كو بھی نماز عید کے لیے حاضر ہونے كا حكم ديا ہے، بلكہ وه عورتیں جن کے خاص ایام چل رہے ہوں انہیں بھى نماز عيد كے ليے جانےكا حكم ديا، ليكن فرمايا : ایسی عورتیں عيد گاہ سے الگ بیٹھیں گى۔
جیسا کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں :
((أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُخْرِجَهُنَّ فِي الْفِطْرِ وَالأَضْحَى الْعَوَاتِقَ وَالْحُيَّضَ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ ، فَأَمَّا الْحُيَّضُ فَيَعْتَزِلْنَ الصَّلاةَ وَيَشْهَدْنَ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِحْدَانَا لا يَكُونُ لَهَا جِلْبَابٌ . قَالَ : لِتُلْبِسْهَا أُخْتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا)) . (صحيح البخاري، الحيض: 324، صحيح مسلم، صلاة العيدين: 890).
’’ ہمیں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم قريب البلوغ، حائضہ اور كنوارى عورتيں سب كو، عيد الفطر اور عيد الاضحى كے موقع پر ( عيد گاہ ) لے کر جائیں، ليكن حائضہ عورتيں نماز سے عليحدہ رہيں، وہ خير اور مسلمانوں كے ساتھ دعا ميں شريك ہوں, ميں نے عرض كيا: اے اللہ كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم! اگر ہم ميں سے كسى كے پاس اوڑھنى نہ ہو تو (وه كيا كرے) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اس كى بہن اپنى اوڑھنى دے دے۔‘‘
اس لیے انسان کو چاہیے کو وہ ہر صورت نماز عید کےلیے حاضر ہو، لیکن اگر بیماری یا کسی معقول عذر کی بنا پر وہ باجماعت عید کی نماز نہیں پڑھ سکا، تو اسے چاہیے کہ گھر میں ہی اس كی قضائی دے۔ اس کا طریقہ معروف عید نماز والا ہی ہو گا، کہ دو رکعت ادا کرے گا ، پہلی رکعت میں سات اور دوسری رکعت میں پانچ اضافی تکبیرات کہے گا۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((إذا أُقيمَتِ الصَّلاةُ فلا تأتوها تَسعَوْنَ، وأتُوها تَمشُونَ وعليكم السَّكينةُ، فما أدركتُم فصَلُّوا، وما فاتكم فأتِمُّوا)). (سنن أبي داود، الصلاة: 572، سنن ابن ماجه، المساجد والجماعات: 775) (صحيح).
’’جب نماز کی اقامت کہہ دی جائے تو بھاگتے ہوئے نماز میں شامل ہونے کی کوشش نہ کرو، بلکہ وقار اور سكون سے آؤ، جو (نماز) تمہيں مل جائے اسے ادا كرو، اور جو رہ جائے اس كى قضائی دے دو‘‘۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالےسے بیان کیا ہے کہ انہوں نے اپنے غلام ابن ابی عتبہ کو حکم دیا، اپنے اہل و عیال کو بھی جمع کیا، پھر سب کو ویسے ہی نماز عید پڑھائی جیسےامام لوگوں کو نماز عید پڑھاتا ہے، اور تکبیرات بھی کہیں۔ ( صحيح البخاري: بَابٌ: إِذَا فَاتَهُ العِيدُ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، وَكَذَلِكَ النِّسَاءُ، وَمَنْ كَانَ فِي البُيُوتِ وَالقُرَى (2/23)، تغليق التعليق: 2/386).
والله أعلم بالصواب.