• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

یہودیوں کو اسلام اورمسلمانوں سے اتنی دشمنی کیوں ہے؟ اورامت مسلمہ کے نام کچھ ضروری پیغام!

شمولیت
اگست 28، 2019
پیغامات
48
ری ایکشن اسکور
10
پوائنٹ
35
بسم اللہ الرحمن الرحیم



یہودیوں کو اسلام اورمسلمانوں سے اتنی دشمنی کیوں ہے؟

اورامت مسلمہ کے نام کچھ ضروری پیغام!​





ابومعاویہ شارب بن شاکرالسلفی


الحمدللہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی رسولہ الکریم،امابعد:

برادران اسلام!

جیسا کہ آپ سب اس بات سے واقف ہیں کہ پچھلے کچھ دنوں سےاسرائیل یعنی یہود قوم شہرفلسطین کے مسلم آبادی کے اوپربم باری کررہی ہے،اب تک ہزاروں کی تعداد میں فلسطینی مسلمان بالخصوص معصوم بچے شہید ہوچکے ہیں،اورہنوز فلسطین کی پوری مسلم آبادی کو تاخت وتاراج کرنے کی ناپاک کوشش جاری وساری ہے،فلسطینی شہریوں پر ظلم وستم کے ایسے پہاڑ توڑے جارہے ہیں کہ پوری دنیاان کے حالات زارپر رحم وترس کھارہی ہے مگر ایک یہودی وہ قوم ہے جنہیں ذرہ برابر بھی شرم وحیا اورانسانیت کا پاس ولحاظ نہیں اوریہودی قوم کو شرم وحیااورانسانیت کاپاس ولحاظ آئے کہاں سے جب کہ ان کی پوری تاریخ اسی طرح کی گھناؤنی سازش اورطرح طرح کی شرارتوں سے بھری پڑی ہے،یہودیوں کی انہیں خباثتوں اور شرارتوں کو محسوس کرکے ہٹلر نے ان کی نسل کشی کی تھی،ذرا تاریخ کے پنوں کو الٹ کردیکھئے کہ یہ یہودی ہی وہ قوم ہے کہ جب پوری دنیا نے انہیں دھتکاردیااورہرملک نے ان کے لئے اپنے راستے بندکردئے ،یہاں تک کہ ان ہی کے بھائی عیسائیوں نے بھی انہیں اپنے ملک سے شہربدرکردیا اوراپنے ملک کے دروازوں کو ان کے لئے ہمیشہ ہمیش کے لئے بندکردیا تو ان کے حالت زار پر رحم وترس کھا کر اس وقت کے فلسطینی مسلمانوں نے انہیں اپنے یہاں جائے پناہ دی اور پھر جب یہ یہودی قوم اقوام متحدہ کی بدولت سن 1948ء میں وہاں پراپنی ریاست قائم کرنے میں کامیاب ہوگئی تو اب جن مسلمانوں کے آباءواجداد نے انہیں اپنی شرن وپناہ میں رکھا آج انہیں کی اولاد کو فلسطین سے نکلنے پرمجبورکیاجارہاہے،اورانہیں کے اوپر بمباری کرکےان کی نسل کشی کی جارہی ہے،افسوس صدافسوس اس وقت کے مسلم حکمراں اورمسلم قوم وسماج کے افراد یہ عقل کے ناخن لئے ہوتے کہ یہ یہودی قوم ہے اور ان کی پوری تاریخ شرارتوں اورخباثتوں سے بھری پڑی ہےاسی لئے انہیں جائے پناہ نہ دی جائے تو شاید آج فلسطینیوں کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا،قرآن نے بھی ان کی شرارتوں کو اورخباثتوں کو ببانگ دہل اعلان کردیاتھا مگر پھر بھی مسلم قوم رب کے فرمان واعلان پر کان نہ دھری اورانہیں اپنے یہاں جگہ وپناہ دی اورآج نوبت بہ اینجا رسید کہ ان کے جان کے لالے پڑگئے ہیں۔الامان والحفیظ۔

میرے دوستو!

کاش کہ اس وقت کےکچھ ناعاقبت اندیش مسلم رہنماؤں نےیہ سوچاہوتا کہ جس قوم کے بارے میں رب نے یہ اعلان کیا ہوکہ یہودی ایک ایسی قوم ہے جس نے بےشمار نبیوں اوررسولوں کو قتل کیا’’ وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ الْحَقِّ ‘‘ اورنبیوں کو ناحق قتل کرتے تھے۔(البقرۃ:61)کیاوہ قوم مسلمانوں کا قتل عام نہیں کرے گی؟

کاش کہ اس وقت کے کچھ ناعاقبت اندیش مسلم رہنماؤں نےیہ سوچاہوتاکہ جس قوم کے بارے میں قرآن نے یہ اعلان کردیا ہو کہ یہودی تمہارے سب سے بڑے دشمن ہیں، ’’ لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا ‘‘يقيناآپ ایمان والوں کا سب سے زیادہ دشمن یہودیوں اور مشرکوں کو پائیں گے۔(المائدۃ:32)تو ایسی قوم سے دوستیاں نہ کرتےاور شاید آج فلسطینوں کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا تھا۔

کاش کہ اس وقت کےکچھ ناعاقبت اندیش مسلم رہنماؤں نےیہ سوچاہوتاکہ جس قوم نےاللہ کے تمام احسان کوبھلاکراور من وسلوی کو چھوڑکر دال وپیازاورساگ وککڑی پر اترآئی ہو(البقرۃ:61)تو کیاایسی قوم وقت آنے پر مسلمانوں کو مولی اورگاجر کی طرح نہیں کاٹے گی؟

کاش کہ اس وقت کے کچھ ناعاقبت اندیش مسلم رہنماؤں نےیہ سوچاہوتاکہ جس قوم نےاپنے نبی سیدنا موسی علیہ الصلاۃ والسلام کو تکلیف دی ہو۔(الاحزاب:69،بخاری:6100) کیاوہ قوم مسلمانوں کو تکلیف دئے بغیرچھوڑ دے گی؟ہرگز نہیں!فلسطین کی موجودہ حالات اس کا منہ بولتا ثبوت ہے!

کاش کہ اس وقت کےکچھ ناعاقبت اندیش مسلم رہنماؤں نےیہ سوچاہوتاکہ جس قوم نے اپنے نبیوں کو یہ کہتے ہوئےدھوکا دیاکہ ’’ فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ ‘‘(اے موسی )اس لئے تم اورتمہارا پروردگار جاکر دونوں ہی لڑبھڑ لو، ہم یہیں بیٹھے ہوئے ہیں۔(المائدہ:24)وہ مسلم قوم کي پیٹھ میں بھی خنجر پیوست کرسکتی ہےاورآج ایسا ہی فلسطینوں کے ساتھ ہورہا ہےکہ جس قوم نے انہیں آسرادیا آج انہیں کے گھروں کو مسمارکیاجارہاہے۔

کاش کہ اس وقت کے کچھ ناعاقبت اندیش مسلم رہنماؤں نے یہ سوچا ہوتا کہ جس یہودی قوم کو رب العزت نے ان کے نافرمانیوں اورحدسے آگے گذرجانے کی وجہ سےذلیل سے ذلیل ترکرتے ہوئے بندراورسوربنادیاہو(المائدۃ:60) ایسی قوم کو اپنے یہاں عزت دے کربسانا اپنے پاؤں پرکلہاڑی مارناہے۔

کاش کہ اس وقت کے کچھ ناعاقبت اندیش مسلم رہنماؤں نے یہ سوچاہوتاکہ رب العزت نے اپنے کلام پاک میں یہ آگاہ کردیا ہے کہ یہودیوں سے دوستی کی پینگیں نہ لڑاؤ کیونکہ وہ تم سے کبھی بھی خوش نہیں ہوسکتے ہیں’’ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى ‘‘اے ایمان والو!تم یہود ونصاری کو دوست نہ بناؤ۔(المائدۃ:51) کیونکہ وہ تمہارے کبھی بھی خیرخواہ نہیں ہوسکتے،’’ وَلَنْ تَرْضى عَنْكَ الْيَهُودُ وَلا النَّصارى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ ‘‘آپ سے یہودونصاری ہرگز راضی نہیں ہوں گے جب تک کہ آپ ان کے مذہب کے تابع نہ بن جائیں۔(البقرۃ:120)اگر تب یہ فرمان یاد رکھتے تو شاید آج فلسطینیوں کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا تھا۔

کاش کہ اس وقت کے کچھ ناعاقبت اندیش مسلم رہنماؤں نے یہ سوچاہوتا کہ جن کی فطرت وشرست میں فساد مچاناہوں وہ مسلم قوم کو مستقبل میں چین وسکون سے کیسے رہنے دے گی۔(المائدۃ:64)

کاش کہ اس وقت کےکچھ ناعاقبت اندیش مسلم رہنماؤں نے یہ سوچاہوتا کہ یہودی وہ قوم ہے جسے رب العزت نے اپنے وعدے سے مکرنے اوربے وفاقوم قراردیاہو۔(البقرۃ:100)وہ قوم ہمارے ساتھ کیا وفاکرے گی۔

کاش کہ اس وقت کےکچھ نا عاقبت اندیش مسلم رہنماؤں نے یہ سوچاہوتاکہ جس یہودی قوم کو ان کے آقاومحبوبﷺ نے خیبرسے اورپھر خلیفۂ ثانی امیرالمومنین عمربن خطاب نے ملک شام سے ذلیل ورسواکرکے شہربدرکردیاہو ایسی قوم پھردوبارہ تاقیامت مسلم ممالک بھی رہنے وسہنے کا حق نہیں رکھتی ہے۔

کاش کے اس وقت کےکچھ ناعاقبت اندیش مسلم رہنماؤں نے یہ سوچاہوتا کہ جس یہودی قوم کو رب العزت نے ملعون ومغضوب قراردیاہو(الفاتحۃ:7،المائدۃ:78))ایسی قوم کو ارض مقدس میں بسانا جرم عظیم ہے۔

کاش کہ اس وقت کےکچھ ناعاقبت اندیش مسلم رہنماؤں نےیہ سوچاہوتاکہ جس یہودی قوم نے ان کے آقاومحبوب ﷺ کو زہردے کر مارنے کی کوشش کی ہو(مسلم:2190،بخاری:4428)وہ قوم لائق محبت نہیں تو شاید آج فلسطینی بچوں کو اس طرح سے تڑپتے وکراہتے اورسسکتے وبلکتےاورزاروقطار روتےہوئے ہم سب نہ دیکھتے،غالبا انہیں سب غلطیوں کی ترجمانی کرتے ہوئے مظفر رزمی نے کہاتھا کہ:

یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے

لمحوں نے خطاکی تھی صدیوں نے سزاپائی​

الغرض اس وقت کی ایک چھوٹی سی غلطی نےآج فلسطینی مسلمانوں اورننھے منے بچوں کو تڑپنے اوربلکنے پر مجبورکردیاہے ،اسی لئے ہمیشہ یہ بات یادرکھیں کہ جسے رب العزت نے اسلام ومسلمانوں کا دشمن قراردیاہووہ کبھی بھی ہمارے خیرخواہ اوردوست نہیں بن سکتے ہیں بھلا کبھی ایساہوا ہوکہ سانپ نے ڈنک مارناچھوڑدیا ہو،یقینا اس وقت کےکچھ ناعاقبت اندیش مسلم رہنماؤں اور آستین کے سانپ اورمنافقانہ کردار رکھنے والے لوگوں کی وجہ سے ہی یہودیوں کے مکروفریب سے آگاہی ہونے کے باوجود بھی تجاہل عارفانہ سے کام لیا جس کا نتیجہ آج ہم اورفلسطینی مسلمان اپنی آنکھوں سے دیکھ رہیں کہ کس طرح سے اس یہودی قوم نے اپنے محسن کے نسل ہی کو تاخت وتاراج اورانہیں بے گھروبے سروساماں کرکے انہیں خون کے آنسورونے پرمجبورکردیا ہے۔الامان والحفیظ۔

برادران اسلام!

اب آپ یہ سوچ رہیں ہوں گے کہ بالآخریہودیوں کو اسلام اورمسلمانوں سے اتنی نفرت ودشمنی کیوں ہے؟آخر کیاوجہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے اتنے کٹردشمن ہیں؟ تو اس کا جواب بھی سن لیجئےکہ:

(1)یہودی صرف مسلمانوں کی دشمن نہیں ہے بلکہ پوری انسانیت کی دشمن ہے:

اس سلسلے میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ یہودی قوم یہ صرف مسلمانوں کی ہی دشمن نہیں ہے بلکہ پوری انسانیت کی دشمن ہے،ان کی فطرت ہی میں بدعہدی اور قتل وغارت گری کرنااور شروفسادکوپھیلانا ہے،ان کی انہیں شرارتوں اورفتنہ انگیزیوں کی وجہ سے ہی کئی مرتبہ اس قوم کو مقتول ومغلوب اورذلیل ہونا پڑا،تقریبا حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش سے چھ سوسال پہلے بھی بابل شہر کے فرماں روا بُخْتَ نَصَّرْنے بھی ان کی اینٹ سے اینٹ بجادی تھی اور بے شماریہودیوں قتل کیا تھا اور ایک بڑی تعداد کو غلام بھی بنا لیاتھا،اس یہودی قوم کی فطرت خبیثہ ہی کی وجہ سے اللہ نے ایک مرتبہ اس قوم کے اوپر جالوت بادشاہ کو بھی مسلط کردیاتھا جس نے بھی ان کے پر ظلم وستم کے خوب پہاڑ توڑے تھے۔(تفسیراحسن البیان،ص:767)اسی طرح سے دوسری جنگ عظیم کے دوران(1941ء) میں یہودیوں کی انہیں عادت خبیثہ ہی کی وجہ سے ایڈولف ہٹلر نے کم وبیش 60 لاکھ یہودیوں کو قتل کیا جسے آج بھی یہودی قوم ہالو کاسٹ یا پھر مرگ انبوہ کے نام سے یاد کرتی ہے(ویکیپیڈیا)اورپھر ان کی نسل کشی کرتے ہوئے ہٹلر نے ایک تاریخی جملہ بھی کہا تھا کہ میں نے کچھ یہودی لوگوں کو زندہ چھوڑدیا ہے تاکہ بعدمیں یہ دنیا یہ جان سکے کہ میں نے انہیں کیوں قتل کیا تھا اور ان کی نسل کشی کیوں کی تھی!اور تاریخ گواہ ہے کہ کل بھی اورآج بھی پوری دنیا میں یہودیوں کو کبھی بھی نہ تو اچھا سمجھا گیا ہے اور نہ ہی اب اچھا سمجھا جاتا ہےاورایسا کیوں نہ ہوجب کہ رب العزت نے ہی ان کے وپر ذلت ومسکنت کو مسلط کردیا ہے۔

(2)مسلمان محمدﷺ پرایمان رکھتے ہیں جو ان کے خاندان بنی اسرائیل سےنہیں ہے:

یہودی قوم اسلام ومسلمانوں سے اتنی شدید دشمنی اس لئے کرتی ہے کہ یہ مسلم قوم جناب محمدعربیﷺ پر ایمان رکھتی ہے اورمحمدﷺجو کہ ختم المرسلین ہیں یہ بنی اسرائیل خاندان سے نہیں بلکہ بنی اسماعیل خاندان سے ہیں،یہودی قوم شروع سے ہی اس انتظار میں تھی کہ آخری نبی ورسول ان کے خاندان سے ہی آئے گا،اس کے لئے وہ رب سے دعائیں بھی کیاکرتے تھے کہ اے اللہ تو آخری نبی ورسول کو جلدی مبعوث کر اوردیگر کفارومشرکین سے یہ بھی کہاکرتے تھے کہ عنقریب آخری رسول وپیغمبر آنے والاہے،مگر جب آپﷺ آخری نبی ورسول بناکرمبعوث کئے گئے تو اس یہودی قوم نے سب کچھ جانتے بوجھتے اورآپﷺکو پہچاننے کے باوجودبھی آپﷺ کا انکارکردیا اوراس انکار کی اصل وجہ صرف اورصرف یہی تھی کہ یہ نبی ہماری نسل سے کیوں نہیں ہے، اسی بارے میں میں رب العزت نے فرمایا’’ وَلَمَّا جَاءَهُمْ كِتَابٌ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَهُمْ وَكَانُوا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا فَلَمَّا جَاءَهُمْ مَا عَرَفُوا كَفَرُوا بِهِ فَلَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَافِرِينَ ‘‘اوران کے پاس جب اللہ تعالی کی کتاب ان کی کتاب کو سچاکرنے والی آئی،حالانکہ پہلے یہ خود (اس کے ذریعے)کافروں پر فتح چاہتے تھے توباوجود آجانے اورباوجود پہچان لینے کے پھر کفر کرنے لگے،اللہ تعالی کی لعنت ہوکافروں پر۔(البقرۃ:89)

(3) تمام فضیلتیں امت محمدیہ کو عطا کردی گئی ہے:

یہودیوں کی اسلام اورمسلمانوں سے دشمنی کی تیسری سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ آپﷺ کے مبعوث کئے جانے سے پہلے رب العزت نے یہودی قوم کو منصب امامت عطاکی تھی اور انہیں تمام جہانوں پر فضیلتیں عطا کی تھی نیز انہیں ہرطرح کی خیروبھلائی سےبھی نوازا تھامگر جب آپﷺ مبعوث کئے گئے تو رب العزت نے یہودیوں کی شرارتوں اوران کی شرانگیزیوں کی وجہ سے انہیں اس دنیا کی سب سے بدترین اور ذلیل قوم قراردے کر ان کے اوپرذلت ومسکنت کو مسلط کردیا(اٰل عمران:112)اور وہ ساری فضیلتیں ان سے چھین کرامت محمدیہ کو عطا کردی اورامت محمدیہ کو سب سے افضل امت قرار دیتے ہوئے فرمادیا کہ اے امت محمدیہ اب سے ’’ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ ‘‘ تم هي بهترين امت هو۔(اٰل عمران:110)اب مسلمانوں کو رب العزت نے جو ہرطرح کی خیروبھلائی،اپنا کلام اوراپنی ہرطرح کی جو رحمت وعنایات عطا کی ہیں اسی کی وجہ سے یہ مسلمانوں سے بغض وعداوت رکھتے ہیں کیونکہ انہیں یہ ذرہ بھر بھی گوارہ نہیں کہ مسلمانوں کو رب کی طرف سے کسی بھی طرح کی کوئی خیروبھلائی ملے ،اسی بارے میں رب العزت نے فرمایا’’ مَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَلَا الْمُشْرِكِينَ أَنْ يُنَزَّلَ عَلَيْكُمْ مِنْ خَيْرٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَاللَّهُ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ ‘‘نہ تو اہل کتاب کے کافر اورنہ مشرکین چاہتے ہیں کہ تم پر تمہارے رب کی کوئی بھلائی نازل ہو(ان کے اس حسد سے کیا ہوا) اللہ تعالی جسے چاہے اپنی رحمت خصوصیت سے عطا فرمائے،اللہ تعالی بڑے فضل والا ہے۔(البقرۃ:105)

(4) قرآن شریف:

یہودیوں کی اسلام اورمسلمانوں سے دشمنی کی چوتھی سب سے بڑی وجہ یہ قرآن شریف ہے،اور قرآن شریف کی وجہ سے یہودیوں کی اسلام اورمسلمانوں سے دشمنی کی سب سے پہلی وجہ ہے کہ یہودیوں کو اس بات پر بہت ہی زیادہ حسد وجلن ہے کہ قرآن مجید جیسا مقدس اورپاکیزہ رب کاکلام جو تاقیامت ہر طرح کے خردوبرد سے محفوظ ہے انہیں کیوں نہیں عطا کیاگیا،اوردوسری وجہ یہ ہے کہ یہ قرآن شریف ہی پوری کائنات میں واحد ایک ایسی کتاب ہے جس نے یہودیوں کے دسیسہ کاریوں ،فریب ومکاریوں،دھوکا وجعل سازیوں اوران کی فتنہ انگیزیوں ،شرارتوں اور خباثتوں کو واضح طورپر بیان کرکے ساری دنیا کو اس بات کی جانکاری دے دی ہے کہ یہودی جیسی خبیث ورذیل قوم اس کائنات میں کوئی دوسری قوم نہیں ہوسکتی ہے،اب قرآن کے بیان کردہ حقیقتوں کو جھٹلانے کی طاقت وسکت تو ان میں نہیں ہے اسی لئے یہ اسلام ومسلمانوں سے شدید دشمنی رکھتے ہیں اوراسلام ومسلمانوں کووقتا فوقتا نشانہ بناتے ہیں۔

(5) اسلام کے غلبے کا ڈروخوف:

یہودیوں کی اسلام اورمسلمانوں سے دشمنی کی پانچویں سب سے بڑی وجہ ایک یہ بھی ہے کہ انہیں یہ بات اچھی طرح سے معلوم ہے کہ یہ دین اسلام دنیا کا واحدسچا دین ہے اورعنقریب ساری دنیامیں اس مذہب کابول بالا ہوگا،یہی وہ سبب ہے جس کی وجہ سے یہودونصاری وقتافوقتا اسلام ومسلمانوں کو نشانہ بناتے رہتے ہیں،کبھی مسلم ممالک کو آپس میں لڑادیتے ہیں تو کبھی مسلم ممالک کے اوپر کسی نہ کسی بہانے سے حملہ کردیتے ہیں تو کبھی مسلم حکمراں کو جان سے مروادیتے ہیں تو کبھی اسلام کو بدنام کرنے کی ناپاک جسارت کرتے ہیں تو کبھی قرآن کو جلانے کی جرأت وحرکت کرتے ہیں تو کبھی ہمارے آخری نبیﷺ کی شان میں گستاخی کرنے کی جسارت کرتے ہیں،مگر انہیں اس بات کا احساس نہیں ہے کہ اسلام ایک ایسا دین ہے جسے رب العزت ہرحال میں غالب کرکے رہے گا گرچہ یہود ونصاری لاکھ جتن کرلے جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے’’ يُرِيدُونَ لِيُطْفِؤُا نُورَ اللَّهِ بِأَفْواهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكافِرُونَ ، هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ ‘‘ وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور(اسلام)کواپنے منہ سے بجھادیں اوراللہ اپنے نورکو کمال تک پہنچانے والاہے گوکافربرامانیں،وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اورسچادین دے کربھیجا تاکہ اسے اورتمام مذاہب پر غالب کردےاگرچہ مشرکین ناخوش ہوں۔(الصف:8-9)صفی لکھنوی نے کیا ہی خوب ترجمانی کی ہے:

اس دین کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے

اتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دبادیں گے​

(6)ایک نہ ایک دن مسلمانوں کے ہاتھوں کا ان کا قتل عام ہوگا:

یہودیوں کی اسلام اورمسلمانوں سے دشمنی کی چھٹی سب سے بڑی وجہ ایک یہ بھی ہے کہ یہودی قوم اس بات کو اچھی طرح سے جانتی ہے بلکہ انہیں کامل یقین ہے کہ ایک نہ ایک دن انہیں مسلمانوں کے ہاتھوں ان کا قتل عام ہوگا،سیدنا ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا’’ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقَاتِلَ الْمُسْلِمُونَ الْيَهُودَ، فَيَقْتُلُهُمُ الْمُسْلِمُونَ حَتَّى يَخْتَبِئَ الْيَهُودِيُّ مِنْ وَرَاءِ الْحَجَرِ وَالشَّجَرِ ‘‘قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک کہ مسلمان یہودیوں کے خلاف جنگ نہ لڑلیں،مسلمان یہودیوں کو چن چن کر قتل کریں گے اور یہودی درختوں اورپتھروں کے پیچھے چھپ جائیں گے مگر’’ فَيَقُولُ الْحَجَرُ أَوِ الشَّجَرُ ‘‘ وہ پتھر اور درخت یہ آواز لگائے گی کہ ’’ يَا مُسْلِمُ يَا عَبْدَ اللهِ هَذَا يَهُودِيٌّ خَلْفِي، فَتَعَالَ فَاقْتُلْهُ ‘‘اے مسلمان! اے اللہ کے بندے!میرے پیچھے یہ ایک یہودی چھپا ہوا ہے ادھرآؤ اور اس کو قتل کردو،آپﷺ نے فرمایا کہ ہرشجروحجر جس کے پیچھے یہودی چھپے گا وہ پکارپکار کر مسلمانوں کو بلائے گا مگر ’’ إِلَّا الْغَرْقَدَ فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرِ الْيَهُودِ ‘‘سوائے غرقد درخت کے وہ یہ نہیں کہے گا کیونکہ وہ یہود کا درخت ہے۔(مسلم:2922)یہودی قوم اس بات سے کتنی خوفزدہ ہے اورانہیں اس بات کی سچائی پر کتنا کامل یقین ہے اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگاسکتے ہیں کہ یہ درخت غرقد ان کا ایک مقدس درخت ہے اور وہ اس کی خوب آبیاری وشجرکاری بھی کرتے ہیں۔(گوگل پر اس غرقد درخت کی تصویر آپ دیکھ سکتے ہیں)

(7) سلام اور آمین کی وجہ سے:

یہودیوں کی اسلام اورمسلمانوں سے دشمنی کی ساتویں سب سے بڑی وجہ ایک یہ بھی ہے کہ رب العالمین نے ہم مسلمانوں کو دوایسی چیزیں عطا کی ہیں جن پر یہودیوں کو ہم مسلمانوں سے بہت ہی زیادہ حسد ہوتاہے ایک ہے سلام کا تحفہ اور دوسرا دوران نماز آمین کہنا ہے جیسا کہ سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا’’ مَا حَسَدَتْكُمُ الْيَهُودُ عَلَى شَيْءٍ مَا حَسَدَتْكُمْ عَلَى السَّلَامِ وَالتَّأْمِينِ ‘‘ کہ یہودی تم سے کسی چیز پر اتنا حسد نہیں کرتے،جتنا سلام اورآمین پر تم سے حسد کرتے ہیں۔(ابن ماجہ:856وقال الالبانیؒ:اسنادہ صحیح)افسوس صد افسوس جس چیزوں کے عطا کئے جانے پر ہم مسلمانوں سے یہودیوں کو حسدوجلن ہے آج انہیں دوچیزوں کو ہم مسلمانوں نے چھوڑ دیا ہے،مسلمانوں نےاپنے امام کی تقلید کرتے ہوئے امام کے پیچھے اجتماعی طور پر آمین کہنا بھی چھوڑدیا اور اپنے اپنے مسلک کے سوا اوروں کو سلام کرنا بھی چھوڑدیا ہے بلکہ کچھ ناعاقبت اندیشوں نے تویہاں تک فتوی صادرکررکھا ہے کہ اگر تم نے فلاں فلاں مسلک والوں کو سلام کیا تو تمہارا نکاح ہی ٹوٹ جائے گا۔العیاذ باللہ۔

امت مسلمہ کے نام کچھ ضروری پیغام!​

برادران اسلام!!

اب میں آخر میں ان لوگوں سے کچھ باتیں عرض کرناچاہتاہوں جو ایک طرف سوشل میڈیا کے اوپر یہ واہیات اورہفوات بکتے رہتے ہیں کہ فلسطین میں اتنا کچھ ہورہاہے آخر 57 اسلامی ممالک کیاکررہی ہے؟سب کے سب یہودیوں کے غلام اورپٹھوں ہیں اورلوگ بالخصوص سعودی حکومت کو تو کچھ زیادہ ہی نشانہ بناتے ہیں،انہیں کھراکھوٹاسناتے ہیں اور یہ کہتے نہیں تھکتے کہ آخر سعودی حکومت کیاکررہی ہے؟وہ فلسطینی مسلمانوں کی مدد کیوں نہیں کرتی ہے وغیرہ وغیرہ،توایسے ناعاقبت اندیش لوگوں کو میں یہ پیغام دینا چاہتاہوں کہ اس طرح کی باتیں کرکے اورپھیلاکر آپ دشمنان اسلام کے آلۂ کار نہ بنو،وقت وحالات کی نزاکتوں کوسمجھو،یہ دشمنان اسلام تو یہی چاہتے ہیں کہ مسلم ممالک ان کی نصرت وحمایت کرتے ہوئےان کے خلاف میدان جنگ میں کودپڑے تاکہ انہیں پھرمسلم ممالک کی اینٹ سے اینٹ بجانے کا ایک بہانہ اورشوشہ مل جائے کیا آپ دیکھتے نہیں ہیں کہ ہزاروں کی تعداد میں مقتول ہونے والے، روتےوتڑپتے اوربے یارومددگار سسکتے ہوئے فلسطینی مسلمانوں کو میڈیادہشت گرد بتارہی ہے اوراسرائیل کومظلوم قراردے رہی ہے،اسی لئے اے مسلمانوں اس طرح کی باتیں نہ کیاکرواورجس چیز کا تمہیں علم ہی نہیں ہے اس کے بارے میں زبان نہ کھولواور اللہ کا یہ فرمان یاد رکھو!’’وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ‘‘جس بات کی تجھے خبرہی نہ ہو اس کے پیچھے مت پڑ۔(الاسراء:36)اسی طرح سے دوسری طرف سوشل میڈیا پر کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو مسلمانوں میں مایوسی اور قنوطیت کو پھیلاتے ہیں اور یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ہم کیا کرسکتے ہیں؟ہمارے ہاتھ میں کیاہے؟ہم تو مجبور ہیں! وغیرہ وغیرہ،اس طرح کے ہفوات وبکواس کرنے والوں کو سب سے پہلے تو میں یہ کہنا چاہتاہوں کہ یہ لوگ سب سے پہلے اپنے بارے میں سوچیں اور فیصلہ کریں کہ یہ خود کتنے بدبخت لوگ ہیں کہ ان کی زبانوں سے اللہ اوراس کے رسول،اسلام اورمسلمانوں کے دشمن یہود ونصاری ،کفارومشرکین تو محفوظ ہیں مگر ایک مسلمان ان کی زبانوں سے محفوظ نہیں ہے،یہ ایک مرتبہ بھی یہودونصاری اورکفارومشرکین کو برابھلاکہتے نظر نہیں آتے ہیں مگر سعودی حکومت اورمسلم حکمرانوں کو گالیاں دیتے اورکوستے نظر آتے ہیں۔فیاللعجب۔

میرے دوستو! جولوگ سعودی حکومت اورمسلم حکمرانوں پریہودونصاری سے دوستی کاالزام لگاتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ وہ سب تو ان کے پٹھوں ہیں تو میں ان سے یہ کہنا چاہتاہوں کہ ان کے اوپر انگلیاں اٹھانے سے پہلےذرا اپنے گریبان میں تو جھانک لو،یہودونصاری کےنقش قدم کی پیروی تو وہ خود سب سے پہلے کررہاہوتاہےکہ یہودیوں اورعیسائیوں کی طرح اپنے سوا سب کو جہنمی قراردیتاہے،یہودیوں کی طرح صرف اپنے آپ کو عاشق رسول کہتاہے اوردوسروں پرگستاخ رسول کا فتوی لگاتاہے،یہودیوں کی طرح خود بے عمل مسلمان بناپھرتاہے، یہود ونصاری کے ہرچال وڈھال ،عادات واطوار اور رہن وسہن کو اختیار کیا ہوا ہےاوریہودیوں کے ہرعادات خبیثہ کو اپناتے ہوئے خود زندگی گذارتاہے اور دوسروں کو کوستاہے،غالباایسے ہی لوگوں کے بارے میں علامہ اقبالؒ نے کہا تھا کہ:

وضع میں تم ہونصاری توتمدن میں ہنود

یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود

یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو

تم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہو​

میرے اسلامی بھائیو اور بہنو!

جو لوگ مسلمانوں کے درمیان مایوسی اور قنوطیت کو یہ کہہ کرپھیلاتے ہیں کہ ہم یہاں پر رہ کر کیا کرسکتے ہیں؟ ہم تو مجبور ہیں! دعا کرنے سے بھی کچھ نہیں ہوگا! تو میں ایسے لوگوں سے سب سے پہلے یہ کہنا چاہتاہوں کہ حالات کا رونا چھوڑ دو ،زبانی حیلے وبہانے کرنا چھوڑدواور سب سے پہلے خود پکے با عمل مسلمان بن جاؤ،اپنے دین کی طرف پلٹ آؤ اور اپنے دین کے داعی وپیروکار بن جاؤ،نمازوں کی پابندی کرو ،اللہ اور اس کے رسولﷺ کے احکام کو دل وجان سے گلے لگا لواور پھر تب دیکھو کہ رب کی رحمتیں وبرکتیں کس طرح سے ہم پر نچھاور ہوجاتی ہیں کیونکہ رب کی ہرطرح کی رحمتیں اوربرکتیں،شرف وعزت دین کو اپنانےا ور اختیار کرنے سے جڑی ہوئی ہیں نہ کہ زبانی جمع وخرچ سے ،یاد رکھ لو!

قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیں

جذب باہم جو نہیں،محفل انجم بھی نہیں​

میرے دوستو! بہت سارے ہمارے مسلمان بھائی دانستہ یا پھر نادانستہ طور پر ایک اوربات سے مسلمانوں کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں کہ اُدھر مسلمان فلسطین میں مارے جارہے ہیں اور اِدھرہم مسلمان مسجد میں بیٹھے دعائیں کررہے ہیں اور کسی کرشمہ کے منتظر ہیں وغیرہ وغیرہ،آپ یقین مانئے کہ اس طرح کی باتیں جو لوگ کہتے اورلکھتے ہیں ایسے لوگوں نے کبھی ایک مرتبہ بھی ہاتھ اٹھاکر نہ توقنوت نازلہ کا اہتمام کیا ہوگااور نہ ہی وہ خود شریعت پر عمل پیراہوں گے،جولوگ بھی اس طرح کی حوصلہ شکنی باتیں کرتے ہیں ایسے لوگوں کو میں یہ پیغام دینا چاہتاہوں کہ ہم لاچارومجبور،مقہورومظلوم،بے یارومددگار ہی سہی مگر ہم مسلمان ہیں اوراپنے رب سے دعاکرنا کبھی نہ چھوڑیں گے کیونکہ ہمارا ملجا وماوی تو بس وہی ایک ہے اور اسی کی ایک ایسی ذات واحد ہے جو ہرمضطر کی غم والم کودور کرنے کی طاقت رکھتی ہےاورہماری ایسی جگہ سے مددکرسکتی ہے جس کا ہمیں وہم وگمان بھی نہ ہوگا،کیاایسے پوسٹ لکھنے والوں کو قرآن کا یہ پیغام یادنہیں رہتا کہ بھلابتلاؤ ’’ أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ أَإِلَهٌ مَعَ اللَّهِ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ ‘‘ بے کس کی پکار کو جب کہ وہ پکارے،کون قبول کرکے سختی کو دورکردیتاہے؟اورتمہیں زمین کا خلیفہ بناتاہے،کیا اللہ تعالی کے ساتھ اورمعبود ہے؟تم بہت کم نصیحت وعبرت حاصل کرتے ہو۔(النمل:62)جولوگ یہ لکھتے اورکہتے ہیں صرف دعا سے کچھ نہیں ہوگا تو ایسے لوگوں کو میں ایک حدیث سنانا چاہتاہوں کہ یہ کس نے کہا کہ دعا سے کچھ نہیں ہوگا،اے لوگوں سن لو! یہ ہماری دعائیں بھی وہ ہتھیار جس کے ذریعے اللہ امت مسلمہ کی مددکرتاہے جیسا کہ فرمان مصطفیﷺ ہے ’’ إِنَّمَا يَنْصُرُ اللَّهُ هَذِهِ الْأُمَّةَ بِضَعِيفِهَا بِدَعْوَتِهِمْ وَصَلَاتِهِمْ وَإِخْلَاصِهِمْ ‘‘ بے شک اللہ اس امت کی مدد کرتا ہے ان کے کمزورلوگوں وجہ سے،ان کی دعاؤں کی وجہ سے اور ان کی نمازوں کی وجہ سے اور ان کے اخلاص کی وجہ سے۔(نسائی:3178 وقال الألبانیؒ:اسنادہ صحیح)۔۔سبحان اللہ۔۔دیکھا اورسنا آپ نے کہ ہم مسلمانوں کو اللہ کی مددکیسے حاصل ہوسکتی ہے،اسی لئے اگر ہم مسلمان ایک دوسرے کی خیروبھلائی چاہتے ہیں تو ان سب کے حق میں دعاؤں کو کبھی نہ چھوڑیں اور خود نمازوں کی پابندی کریں اور اپنے تمام عملوں میں اخلاص کو پیداکریں۔

برادران اسلام! آپ سب سے میری یہ التماس ہے کہ جب کبھی بھی اس طرح کے حالات پیداہوجائے تو آپ مسلمانوں کی حوصلہ شکنی کرنے کے بجائے انہیں تسلی اوردلاسہ دلائیں اور انہیں صبروسہار رکھنے کی تلقین کریں اور اللہ سے اچھا گمان رکھنے کا حکم دیا کریں اورمنفی باتوں سے پرہیز کیا کریں کیونکہ منفی باتوں کو پھیلانا اور شیئر کرنا جہاں ایک طرف منافقوں کی خصلت وعادت ہے تو وہیں پر دوسری طرف اس طرح کی منفی باتوں سے مسلمان اپنے دین ورب سے بدظن ہوتے ہیں اور کفارومشرکین تو یہی چاہتے ہیں کہ مسلمان اپنے دین سے برگشتہ ہوکر ہمارے دوست وحامی بن جائیں،اسی لئے منفی باتیں کرنے والوں کو چاہئے کہ وہ اپنی زبان پرلگام دیں اور دوسروں کو کوسنے کے بجائے اپنی اصلاح کی فکرکریں اورذرا اپنے اوران کے ایمان کا موازنہ کریں کہ وہاں کے مسلمان بھی کیسے باہمت اورباایمان لوگ ہیں کہ ان کا گھراجڑگیاہے،ان کے آباءواجداد اوراولاد اوررشتے داروں کو موت کے گھاٹ اتاردیاگیا ہےمگر پھر بھی وہ اپنے زبان سے اللہ!اللہ!کی صدا لگارہے ہیں،شاید آپ نے بھی وہ ویڈیوکلپ سب دیکھی ہوگی کہ کس طرح سے ایک معصوم بچہ مصیبت کے اس گھڑی میں بھی اپنی معصوم بہن کو کلمہ پڑھنے کی تلقین کررہاہےتو کوئی مسلمان بچہ یہ کہتے نظرآتاہے کہ ہم مسلمان ہیں اسی لئے ہمارے اوپر اس طرح کی آزمائشیں آئی ہیں تو کوئی اپنے رشتے دار واولاد کی شہادت پر سجدۂ شکر بجالاتے نظرآرہاہے۔سبحان اللہ۔ذراسوچئے کہ سوشل میڈیاپر اول فول بکنے والوں کے پاس اُن کے ایمان کے مقابلے میں ان کا عشرعشیر بھی ایمان ہوگا؟؟؟

میرے دوستو!اب میں آخر میں ایک اورقیمتی پیغام دے کراپنی بات کو ختم کردیتاہوں کہ دیکھا یہ جارہاہے کہ بہت سارے لوگ سوشل میڈیا پر حماس کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ حماس بیت المقدس کی فتح کے لئے جنگ کررہی ہے تو میں ایسے لوگوں کو یہ بتادوں کہ یہ کوئی اسلامی تحریک نہیں ہے اور نہ ہی اس حماس کو مسجد اقصی کی آزادی سے مطلب ہے بلکہ یہ تنظیم دراصل یہودیوں اورروافض یعنی شیعوں کی پیدا کردہ اور پروردہ ایک ایسی تنظیم ہے جس کا سہارالے کر یہ عام مسلمانوں پر حملہ کرتی ہے،اگرآپ کومیری باتوں پر یقین نہ ہو تو ذراتاریخ اٹھاکردیکھئے کہ جب کبھی بھی فلسطین میں کچھ امن یا پھر صلح کی بات چیت کی شروعات ہوتی ہے یہ حماس حرکت میں آجاتی ہے اورمسئلہ وہیں کا وہیں رہ جاتاہے ،ابھی فی الحال ہی میں جوہوا اس پرذرا اپنے دماغ پر زورڈال کر سوچئے کہ پچھلے دنوں میں اس حماس نے یہودیوں کے اوپرحملہ کیا مگر یہودیوں نے ان کے اوپر حملہ کرنے کے بجائے عام فلسطینی مسلمانوں کے اوپر بمباری کئے،اس تنظیم کے بارے میں بس میں دوباتیں بتادینا مناسب سمجھتاہوں تاکہ مسلمان اس تنظیم کی حقیقت اوراصلیت سے واقف ہوجائیں،سب سے پہلی بات تو علامہ البانیؒ کی ہے وہ فرماتے ہیں کہ حماس یہ کوئی اسلامی تحریک نہیں ہے اور دوسری بات شیخ مقبل بن ہادیؒ کی ہے وہ فرماتے ہیں کہ یہ حماس ایک ایسی حزبی تنظیم ہے جواہل توحید کی دشمن ہے اوراسے امربالمعروف اورنہی عن المنکر سے کوئی سروکار نہیں ہے بلکہ یہ لوگ سنت کے دشمن ہیں۔(تفصیل کے لئے دیکھئےکتابچہ حماس کا اصلی چہرہ مترجم دکتور اجمل منظور مدنی حفظہ اللہ)

اب آخر میں اللہ رب العزت سے ہم یہی دعاکررہے ہیں کہ اے رب العزت تو وہاں کے مسلمانوں پر رحم فرما اوراے اللہ تو ہم سب مسلمانوں کے طرف سے یہود ونصاری اور تمام دشمنان اسلام کے لئے کافی ہوجا۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔ اللھم انا نجعلک فی نحورہم ونعوذبک من شرورھم۔آمین یارب العالمین۔

کتبہ

ابومعاویہ شارب بن شاکرالسلفی

 
شمولیت
اگست 09، 2017
پیغامات
6
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
47
محترم اس حقیقت کو اپ نے مدنظرنہیں رکھا۔
غیبی مدد کے منتظروں کے نام:
غیبی مدد نہ اسپین کے وقت آئی, نہ خلافت عثمانیہ کو بچانے کے لئے آئی, نہ اسرائیل کا قیام روکنے کے لئے آئی, نہ بابری مسجد کے وقت آئی, نہ عراق اور شام کے وقت آئی, نہ میانمار کے وقت آئی, نہ گجرات کے وقت آئی، نہ کشمیر کے لئے آئی۔
پھر بھی گھروں اور مسجدوں میں بیٹھ کر غیبی مدد کی صدا ؟؟؟؟؟
غیبی مدد جنگ بدر میں آئی۔ جب 1000 کے مقابلے میں 313 میدانِ جنگ میں اُترے۔
غیبی مدد جنگ خندق میں آئی جب اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پّیٹ پر 2 پتھر باندھے اور خود خندق کھودی اور میدانِ جنگ میں اُترے۔
غیبی مدد افغانستان میں آئی۔ جب بھوکے پیاسے مسلمان بے سرو سامانی کے عالم میں میدانِ جنگ میں اُترے۔
دنیا کا قیمتی لباس پہن کر, مال و زر جمع کر کے, لگژری ایئر کنڈیشنڈ گاڑیوں میں بیٹھ کر, جُھک جُھک کر لوگوں کے ہاتھ چومنے کی خواہش لے کر, لوگوں کی واہ واہ کی ہنکار کی خواہشات لئے مسجدوں کے ممبروں پر بیٹھ کر بددعائیں کر کے غیبی مدد کے منتظر ؟؟؟؟
طاغوت کے نظام پر راضی اور پھر غیبی مدد کے منتظر ؟؟؟؟؟
اللہ کی زمین پر اللہ اور اُس کے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نظام کے نفاذ کی جدوجہد کے بجائے صرف نعت خوانی, محفلِ میلاد یا تسبیح کے دانوں کو دس لاکھ بیس لاکھ گھما کر غیبی مدد کے منتظر ؟؟؟؟؟
آفاقی دین کو چند جزئیاتِ عبادت میں محصور و مقید کر کے غیبی مدد کے منتظر ؟؟؟؟
مسلمانوں کو مجاہد کے بجائے مجاور بنا دینے کے بعد غیبی مدد کے منتظر ؟؟؟؟
جہاد فی سبیل اللہ اور جذبہ شہادت سے دُور رہ کر اور دُور رکھ کر مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و جبر اور مصائب و مشکلات دیکھ کر
اللہ دشمن کو غرق کر دے.
اللہ دشمن کو تباہ و برباد کر دے.
یا اللہ مظلوموں کی مدد فرما.
یا اللہ دشمنوں کو ہدایت عطا فرما دے اور اگر اُن کے نصیب میں ہدایت نہیں تو انہیں غرق کر دے.
جیسی بددعاؤں پر اکتفاء کر کے سکوت اختیار کر لینے اور سکون سے نوالہ حلق سے نیچے اُتار کر پیٹ بھر بھر کر گہری نیند سونے والے غیبی مدد کے منتظر ؟؟؟؟
یعنی سب کچھ اللہ کے ذمہ لگا کر اور خود کنارہ کشی اختیار کر کے غیبی مدد کے منتظر ؟؟؟؟
میدان جہاد میں اُترنے سے ڈرتے اور کتراتے ہوئے آسمانوں سے فرشتوں کے نازل ہو کر مسلمانوں کی غیبی مدد کے منتظر ؟؟؟؟
کیا نعوذباللہ اللہ اور اُس کے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ڈرامہ کرتے ہو ؟؟؟؟
اتنی جرأت تو شیطان میں بھی نہ تھی اور نہ ہے.
سُنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو ہمیں بتاتی ہے کہ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میدانِ جنگ سجایا اور بعد میں اللہ کی غیبی مدد کے لئے دُعا کے لئے ہاتھ بلند فرمائے جبکہ آج کا جہاد صرف بددعا کی دعا ہے اور نہ دُعا سے پہلے اور نہ دعا کے بعد کوئی عملی اقدامات و جدوجہد.
ایسی صورت میں صرف اللہ کی پکڑ اور عذاب ہی آتا ہے نہ کہ کوئی غیبی مدد.
 
شمولیت
اگست 09، 2017
پیغامات
6
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
47
بسم اللہ الرحمن الرحیم



یہودیوں کو اسلام اورمسلمانوں سے اتنی دشمنی کیوں ہے؟

اورامت مسلمہ کے نام کچھ ضروری پیغام!​





ابومعاویہ شارب بن شاکرالسلفی


الحمدللہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی رسولہ الکریم،امابعد:

برادران اسلام!

جیسا کہ آپ سب اس بات سے واقف ہیں کہ پچھلے کچھ دنوں سےاسرائیل یعنی یہود قوم شہرفلسطین کے مسلم آبادی کے اوپربم باری کررہی ہے،اب تک ہزاروں کی تعداد میں فلسطینی مسلمان بالخصوص معصوم بچے شہید ہوچکے ہیں،اورہنوز فلسطین کی پوری مسلم آبادی کو تاخت وتاراج کرنے کی ناپاک کوشش جاری وساری ہے،فلسطینی شہریوں پر ظلم وستم کے ایسے پہاڑ توڑے جارہے ہیں کہ پوری دنیاان کے حالات زارپر رحم وترس کھارہی ہے مگر ایک یہودی وہ قوم ہے جنہیں ذرہ برابر بھی شرم وحیا اورانسانیت کا پاس ولحاظ نہیں اوریہودی قوم کو شرم وحیااورانسانیت کاپاس ولحاظ آئے کہاں سے جب کہ ان کی پوری تاریخ اسی طرح کی گھناؤنی سازش اورطرح طرح کی شرارتوں سے بھری پڑی ہے،یہودیوں کی انہیں خباثتوں اور شرارتوں کو محسوس کرکے ہٹلر نے ان کی نسل کشی کی تھی،ذرا تاریخ کے پنوں کو الٹ کردیکھئے کہ یہ یہودی ہی وہ قوم ہے کہ جب پوری دنیا نے انہیں دھتکاردیااورہرملک نے ان کے لئے اپنے راستے بندکردئے ،یہاں تک کہ ان ہی کے بھائی عیسائیوں نے بھی انہیں اپنے ملک سے شہربدرکردیا اوراپنے ملک کے دروازوں کو ان کے لئے ہمیشہ ہمیش کے لئے بندکردیا تو ان کے حالت زار پر رحم وترس کھا کر اس وقت کے فلسطینی مسلمانوں نے انہیں اپنے یہاں جائے پناہ دی اور پھر جب یہ یہودی قوم اقوام متحدہ کی بدولت سن 1948ء میں وہاں پراپنی ریاست قائم کرنے میں کامیاب ہوگئی تو اب جن مسلمانوں کے آباءواجداد نے انہیں اپنی شرن وپناہ میں رکھا آج انہیں کی اولاد کو فلسطین سے نکلنے پرمجبورکیاجارہاہے،اورانہیں کے اوپر بمباری کرکےان کی نسل کشی کی جارہی ہے،افسوس صدافسوس اس وقت کے مسلم حکمراں اورمسلم قوم وسماج کے افراد یہ عقل کے ناخن لئے ہوتے کہ یہ یہودی قوم ہے اور ان کی پوری تاریخ شرارتوں اورخباثتوں سے بھری پڑی ہےاسی لئے انہیں جائے پناہ نہ دی جائے تو شاید آج فلسطینیوں کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا،قرآن نے بھی ان کی شرارتوں کو اورخباثتوں کو ببانگ دہل اعلان کردیاتھا مگر پھر بھی مسلم قوم رب کے فرمان واعلان پر کان نہ دھری اورانہیں اپنے یہاں جگہ وپناہ دی اورآج نوبت بہ اینجا رسید کہ ان کے جان کے لالے پڑگئے ہیں۔الامان والحفیظ۔

میرے دوستو!

کاش کہ اس وقت کےکچھ ناعاقبت اندیش مسلم رہنماؤں نےیہ سوچاہوتا کہ جس قوم کے بارے میں رب نے یہ اعلان کیا ہوکہ یہودی ایک ایسی قوم ہے جس نے بےشمار نبیوں اوررسولوں کو قتل کیا’’ وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ الْحَقِّ ‘‘ اورنبیوں کو ناحق قتل کرتے تھے۔(البقرۃ:61)کیاوہ قوم مسلمانوں کا قتل عام نہیں کرے گی؟

کاش کہ اس وقت کے کچھ ناعاقبت اندیش مسلم رہنماؤں نےیہ سوچاہوتاکہ جس قوم کے بارے میں قرآن نے یہ اعلان کردیا ہو کہ یہودی تمہارے سب سے بڑے دشمن ہیں، ’’ لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا ‘‘يقيناآپ ایمان والوں کا سب سے زیادہ دشمن یہودیوں اور مشرکوں کو پائیں گے۔(المائدۃ:32)تو ایسی قوم سے دوستیاں نہ کرتےاور شاید آج فلسطینوں کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا تھا۔

کاش کہ اس وقت کےکچھ ناعاقبت اندیش مسلم رہنماؤں نےیہ سوچاہوتاکہ جس قوم نےاللہ کے تمام احسان کوبھلاکراور من وسلوی کو چھوڑکر دال وپیازاورساگ وککڑی پر اترآئی ہو(البقرۃ:61)تو کیاایسی قوم وقت آنے پر مسلمانوں کو مولی اورگاجر کی طرح نہیں کاٹے گی؟

کاش کہ اس وقت کے کچھ ناعاقبت اندیش مسلم رہنماؤں نےیہ سوچاہوتاکہ جس قوم نےاپنے نبی سیدنا موسی علیہ الصلاۃ والسلام کو تکلیف دی ہو۔(الاحزاب:69،بخاری:6100) کیاوہ قوم مسلمانوں کو تکلیف دئے بغیرچھوڑ دے گی؟ہرگز نہیں!فلسطین کی موجودہ حالات اس کا منہ بولتا ثبوت ہے!

کاش کہ اس وقت کےکچھ ناعاقبت اندیش مسلم رہنماؤں نےیہ سوچاہوتاکہ جس قوم نے اپنے نبیوں کو یہ کہتے ہوئےدھوکا دیاکہ ’’ فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ ‘‘(اے موسی )اس لئے تم اورتمہارا پروردگار جاکر دونوں ہی لڑبھڑ لو، ہم یہیں بیٹھے ہوئے ہیں۔(المائدہ:24)وہ مسلم قوم کي پیٹھ میں بھی خنجر پیوست کرسکتی ہےاورآج ایسا ہی فلسطینوں کے ساتھ ہورہا ہےکہ جس قوم نے انہیں آسرادیا آج انہیں کے گھروں کو مسمارکیاجارہاہے۔

کاش کہ اس وقت کے کچھ ناعاقبت اندیش مسلم رہنماؤں نے یہ سوچا ہوتا کہ جس یہودی قوم کو رب العزت نے ان کے نافرمانیوں اورحدسے آگے گذرجانے کی وجہ سےذلیل سے ذلیل ترکرتے ہوئے بندراورسوربنادیاہو(المائدۃ:60) ایسی قوم کو اپنے یہاں عزت دے کربسانا اپنے پاؤں پرکلہاڑی مارناہے۔

کاش کہ اس وقت کے کچھ ناعاقبت اندیش مسلم رہنماؤں نے یہ سوچاہوتاکہ رب العزت نے اپنے کلام پاک میں یہ آگاہ کردیا ہے کہ یہودیوں سے دوستی کی پینگیں نہ لڑاؤ کیونکہ وہ تم سے کبھی بھی خوش نہیں ہوسکتے ہیں’’ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى ‘‘اے ایمان والو!تم یہود ونصاری کو دوست نہ بناؤ۔(المائدۃ:51) کیونکہ وہ تمہارے کبھی بھی خیرخواہ نہیں ہوسکتے،’’ وَلَنْ تَرْضى عَنْكَ الْيَهُودُ وَلا النَّصارى حَتَّى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ ‘‘آپ سے یہودونصاری ہرگز راضی نہیں ہوں گے جب تک کہ آپ ان کے مذہب کے تابع نہ بن جائیں۔(البقرۃ:120)اگر تب یہ فرمان یاد رکھتے تو شاید آج فلسطینیوں کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا تھا۔

کاش کہ اس وقت کے کچھ ناعاقبت اندیش مسلم رہنماؤں نے یہ سوچاہوتا کہ جن کی فطرت وشرست میں فساد مچاناہوں وہ مسلم قوم کو مستقبل میں چین وسکون سے کیسے رہنے دے گی۔(المائدۃ:64)

کاش کہ اس وقت کےکچھ ناعاقبت اندیش مسلم رہنماؤں نے یہ سوچاہوتا کہ یہودی وہ قوم ہے جسے رب العزت نے اپنے وعدے سے مکرنے اوربے وفاقوم قراردیاہو۔(البقرۃ:100)وہ قوم ہمارے ساتھ کیا وفاکرے گی۔

کاش کہ اس وقت کےکچھ نا عاقبت اندیش مسلم رہنماؤں نے یہ سوچاہوتاکہ جس یہودی قوم کو ان کے آقاومحبوبﷺ نے خیبرسے اورپھر خلیفۂ ثانی امیرالمومنین عمربن خطاب نے ملک شام سے ذلیل ورسواکرکے شہربدرکردیاہو ایسی قوم پھردوبارہ تاقیامت مسلم ممالک بھی رہنے وسہنے کا حق نہیں رکھتی ہے۔

کاش کے اس وقت کےکچھ ناعاقبت اندیش مسلم رہنماؤں نے یہ سوچاہوتا کہ جس یہودی قوم کو رب العزت نے ملعون ومغضوب قراردیاہو(الفاتحۃ:7،المائدۃ:78))ایسی قوم کو ارض مقدس میں بسانا جرم عظیم ہے۔

کاش کہ اس وقت کےکچھ ناعاقبت اندیش مسلم رہنماؤں نےیہ سوچاہوتاکہ جس یہودی قوم نے ان کے آقاومحبوب ﷺ کو زہردے کر مارنے کی کوشش کی ہو(مسلم:2190،بخاری:4428)وہ قوم لائق محبت نہیں تو شاید آج فلسطینی بچوں کو اس طرح سے تڑپتے وکراہتے اورسسکتے وبلکتےاورزاروقطار روتےہوئے ہم سب نہ دیکھتے،غالبا انہیں سب غلطیوں کی ترجمانی کرتے ہوئے مظفر رزمی نے کہاتھا کہ:

یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے

لمحوں نے خطاکی تھی صدیوں نے سزاپائی​

الغرض اس وقت کی ایک چھوٹی سی غلطی نےآج فلسطینی مسلمانوں اورننھے منے بچوں کو تڑپنے اوربلکنے پر مجبورکردیاہے ،اسی لئے ہمیشہ یہ بات یادرکھیں کہ جسے رب العزت نے اسلام ومسلمانوں کا دشمن قراردیاہووہ کبھی بھی ہمارے خیرخواہ اوردوست نہیں بن سکتے ہیں بھلا کبھی ایساہوا ہوکہ سانپ نے ڈنک مارناچھوڑدیا ہو،یقینا اس وقت کےکچھ ناعاقبت اندیش مسلم رہنماؤں اور آستین کے سانپ اورمنافقانہ کردار رکھنے والے لوگوں کی وجہ سے ہی یہودیوں کے مکروفریب سے آگاہی ہونے کے باوجود بھی تجاہل عارفانہ سے کام لیا جس کا نتیجہ آج ہم اورفلسطینی مسلمان اپنی آنکھوں سے دیکھ رہیں کہ کس طرح سے اس یہودی قوم نے اپنے محسن کے نسل ہی کو تاخت وتاراج اورانہیں بے گھروبے سروساماں کرکے انہیں خون کے آنسورونے پرمجبورکردیا ہے۔الامان والحفیظ۔

برادران اسلام!

اب آپ یہ سوچ رہیں ہوں گے کہ بالآخریہودیوں کو اسلام اورمسلمانوں سے اتنی نفرت ودشمنی کیوں ہے؟آخر کیاوجہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے اتنے کٹردشمن ہیں؟ تو اس کا جواب بھی سن لیجئےکہ:

(1)یہودی صرف مسلمانوں کی دشمن نہیں ہے بلکہ پوری انسانیت کی دشمن ہے:

اس سلسلے میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ یہودی قوم یہ صرف مسلمانوں کی ہی دشمن نہیں ہے بلکہ پوری انسانیت کی دشمن ہے،ان کی فطرت ہی میں بدعہدی اور قتل وغارت گری کرنااور شروفسادکوپھیلانا ہے،ان کی انہیں شرارتوں اورفتنہ انگیزیوں کی وجہ سے ہی کئی مرتبہ اس قوم کو مقتول ومغلوب اورذلیل ہونا پڑا،تقریبا حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش سے چھ سوسال پہلے بھی بابل شہر کے فرماں روا بُخْتَ نَصَّرْنے بھی ان کی اینٹ سے اینٹ بجادی تھی اور بے شماریہودیوں قتل کیا تھا اور ایک بڑی تعداد کو غلام بھی بنا لیاتھا،اس یہودی قوم کی فطرت خبیثہ ہی کی وجہ سے اللہ نے ایک مرتبہ اس قوم کے اوپر جالوت بادشاہ کو بھی مسلط کردیاتھا جس نے بھی ان کے پر ظلم وستم کے خوب پہاڑ توڑے تھے۔(تفسیراحسن البیان،ص:767)اسی طرح سے دوسری جنگ عظیم کے دوران(1941ء) میں یہودیوں کی انہیں عادت خبیثہ ہی کی وجہ سے ایڈولف ہٹلر نے کم وبیش 60 لاکھ یہودیوں کو قتل کیا جسے آج بھی یہودی قوم ہالو کاسٹ یا پھر مرگ انبوہ کے نام سے یاد کرتی ہے(ویکیپیڈیا)اورپھر ان کی نسل کشی کرتے ہوئے ہٹلر نے ایک تاریخی جملہ بھی کہا تھا کہ میں نے کچھ یہودی لوگوں کو زندہ چھوڑدیا ہے تاکہ بعدمیں یہ دنیا یہ جان سکے کہ میں نے انہیں کیوں قتل کیا تھا اور ان کی نسل کشی کیوں کی تھی!اور تاریخ گواہ ہے کہ کل بھی اورآج بھی پوری دنیا میں یہودیوں کو کبھی بھی نہ تو اچھا سمجھا گیا ہے اور نہ ہی اب اچھا سمجھا جاتا ہےاورایسا کیوں نہ ہوجب کہ رب العزت نے ہی ان کے وپر ذلت ومسکنت کو مسلط کردیا ہے۔

(2)مسلمان محمدﷺ پرایمان رکھتے ہیں جو ان کے خاندان بنی اسرائیل سےنہیں ہے:

یہودی قوم اسلام ومسلمانوں سے اتنی شدید دشمنی اس لئے کرتی ہے کہ یہ مسلم قوم جناب محمدعربیﷺ پر ایمان رکھتی ہے اورمحمدﷺجو کہ ختم المرسلین ہیں یہ بنی اسرائیل خاندان سے نہیں بلکہ بنی اسماعیل خاندان سے ہیں،یہودی قوم شروع سے ہی اس انتظار میں تھی کہ آخری نبی ورسول ان کے خاندان سے ہی آئے گا،اس کے لئے وہ رب سے دعائیں بھی کیاکرتے تھے کہ اے اللہ تو آخری نبی ورسول کو جلدی مبعوث کر اوردیگر کفارومشرکین سے یہ بھی کہاکرتے تھے کہ عنقریب آخری رسول وپیغمبر آنے والاہے،مگر جب آپﷺ آخری نبی ورسول بناکرمبعوث کئے گئے تو اس یہودی قوم نے سب کچھ جانتے بوجھتے اورآپﷺکو پہچاننے کے باوجودبھی آپﷺ کا انکارکردیا اوراس انکار کی اصل وجہ صرف اورصرف یہی تھی کہ یہ نبی ہماری نسل سے کیوں نہیں ہے، اسی بارے میں میں رب العزت نے فرمایا’’ وَلَمَّا جَاءَهُمْ كِتَابٌ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَهُمْ وَكَانُوا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا فَلَمَّا جَاءَهُمْ مَا عَرَفُوا كَفَرُوا بِهِ فَلَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَافِرِينَ ‘‘اوران کے پاس جب اللہ تعالی کی کتاب ان کی کتاب کو سچاکرنے والی آئی،حالانکہ پہلے یہ خود (اس کے ذریعے)کافروں پر فتح چاہتے تھے توباوجود آجانے اورباوجود پہچان لینے کے پھر کفر کرنے لگے،اللہ تعالی کی لعنت ہوکافروں پر۔(البقرۃ:89)

(3) تمام فضیلتیں امت محمدیہ کو عطا کردی گئی ہے:

یہودیوں کی اسلام اورمسلمانوں سے دشمنی کی تیسری سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ آپﷺ کے مبعوث کئے جانے سے پہلے رب العزت نے یہودی قوم کو منصب امامت عطاکی تھی اور انہیں تمام جہانوں پر فضیلتیں عطا کی تھی نیز انہیں ہرطرح کی خیروبھلائی سےبھی نوازا تھامگر جب آپﷺ مبعوث کئے گئے تو رب العزت نے یہودیوں کی شرارتوں اوران کی شرانگیزیوں کی وجہ سے انہیں اس دنیا کی سب سے بدترین اور ذلیل قوم قراردے کر ان کے اوپرذلت ومسکنت کو مسلط کردیا(اٰل عمران:112)اور وہ ساری فضیلتیں ان سے چھین کرامت محمدیہ کو عطا کردی اورامت محمدیہ کو سب سے افضل امت قرار دیتے ہوئے فرمادیا کہ اے امت محمدیہ اب سے ’’ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ ‘‘ تم هي بهترين امت هو۔(اٰل عمران:110)اب مسلمانوں کو رب العزت نے جو ہرطرح کی خیروبھلائی،اپنا کلام اوراپنی ہرطرح کی جو رحمت وعنایات عطا کی ہیں اسی کی وجہ سے یہ مسلمانوں سے بغض وعداوت رکھتے ہیں کیونکہ انہیں یہ ذرہ بھر بھی گوارہ نہیں کہ مسلمانوں کو رب کی طرف سے کسی بھی طرح کی کوئی خیروبھلائی ملے ،اسی بارے میں رب العزت نے فرمایا’’ مَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَلَا الْمُشْرِكِينَ أَنْ يُنَزَّلَ عَلَيْكُمْ مِنْ خَيْرٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَاللَّهُ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ ‘‘نہ تو اہل کتاب کے کافر اورنہ مشرکین چاہتے ہیں کہ تم پر تمہارے رب کی کوئی بھلائی نازل ہو(ان کے اس حسد سے کیا ہوا) اللہ تعالی جسے چاہے اپنی رحمت خصوصیت سے عطا فرمائے،اللہ تعالی بڑے فضل والا ہے۔(البقرۃ:105)

(4) قرآن شریف:

یہودیوں کی اسلام اورمسلمانوں سے دشمنی کی چوتھی سب سے بڑی وجہ یہ قرآن شریف ہے،اور قرآن شریف کی وجہ سے یہودیوں کی اسلام اورمسلمانوں سے دشمنی کی سب سے پہلی وجہ ہے کہ یہودیوں کو اس بات پر بہت ہی زیادہ حسد وجلن ہے کہ قرآن مجید جیسا مقدس اورپاکیزہ رب کاکلام جو تاقیامت ہر طرح کے خردوبرد سے محفوظ ہے انہیں کیوں نہیں عطا کیاگیا،اوردوسری وجہ یہ ہے کہ یہ قرآن شریف ہی پوری کائنات میں واحد ایک ایسی کتاب ہے جس نے یہودیوں کے دسیسہ کاریوں ،فریب ومکاریوں،دھوکا وجعل سازیوں اوران کی فتنہ انگیزیوں ،شرارتوں اور خباثتوں کو واضح طورپر بیان کرکے ساری دنیا کو اس بات کی جانکاری دے دی ہے کہ یہودی جیسی خبیث ورذیل قوم اس کائنات میں کوئی دوسری قوم نہیں ہوسکتی ہے،اب قرآن کے بیان کردہ حقیقتوں کو جھٹلانے کی طاقت وسکت تو ان میں نہیں ہے اسی لئے یہ اسلام ومسلمانوں سے شدید دشمنی رکھتے ہیں اوراسلام ومسلمانوں کووقتا فوقتا نشانہ بناتے ہیں۔

(5) اسلام کے غلبے کا ڈروخوف:

یہودیوں کی اسلام اورمسلمانوں سے دشمنی کی پانچویں سب سے بڑی وجہ ایک یہ بھی ہے کہ انہیں یہ بات اچھی طرح سے معلوم ہے کہ یہ دین اسلام دنیا کا واحدسچا دین ہے اورعنقریب ساری دنیامیں اس مذہب کابول بالا ہوگا،یہی وہ سبب ہے جس کی وجہ سے یہودونصاری وقتافوقتا اسلام ومسلمانوں کو نشانہ بناتے رہتے ہیں،کبھی مسلم ممالک کو آپس میں لڑادیتے ہیں تو کبھی مسلم ممالک کے اوپر کسی نہ کسی بہانے سے حملہ کردیتے ہیں تو کبھی مسلم حکمراں کو جان سے مروادیتے ہیں تو کبھی اسلام کو بدنام کرنے کی ناپاک جسارت کرتے ہیں تو کبھی قرآن کو جلانے کی جرأت وحرکت کرتے ہیں تو کبھی ہمارے آخری نبیﷺ کی شان میں گستاخی کرنے کی جسارت کرتے ہیں،مگر انہیں اس بات کا احساس نہیں ہے کہ اسلام ایک ایسا دین ہے جسے رب العزت ہرحال میں غالب کرکے رہے گا گرچہ یہود ونصاری لاکھ جتن کرلے جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے’’ يُرِيدُونَ لِيُطْفِؤُا نُورَ اللَّهِ بِأَفْواهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكافِرُونَ ، هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ ‘‘ وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور(اسلام)کواپنے منہ سے بجھادیں اوراللہ اپنے نورکو کمال تک پہنچانے والاہے گوکافربرامانیں،وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اورسچادین دے کربھیجا تاکہ اسے اورتمام مذاہب پر غالب کردےاگرچہ مشرکین ناخوش ہوں۔(الصف:8-9)صفی لکھنوی نے کیا ہی خوب ترجمانی کی ہے:

اس دین کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے

اتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دبادیں گے​

(6)ایک نہ ایک دن مسلمانوں کے ہاتھوں کا ان کا قتل عام ہوگا:

یہودیوں کی اسلام اورمسلمانوں سے دشمنی کی چھٹی سب سے بڑی وجہ ایک یہ بھی ہے کہ یہودی قوم اس بات کو اچھی طرح سے جانتی ہے بلکہ انہیں کامل یقین ہے کہ ایک نہ ایک دن انہیں مسلمانوں کے ہاتھوں ان کا قتل عام ہوگا،سیدنا ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا’’ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقَاتِلَ الْمُسْلِمُونَ الْيَهُودَ، فَيَقْتُلُهُمُ الْمُسْلِمُونَ حَتَّى يَخْتَبِئَ الْيَهُودِيُّ مِنْ وَرَاءِ الْحَجَرِ وَالشَّجَرِ ‘‘قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک کہ مسلمان یہودیوں کے خلاف جنگ نہ لڑلیں،مسلمان یہودیوں کو چن چن کر قتل کریں گے اور یہودی درختوں اورپتھروں کے پیچھے چھپ جائیں گے مگر’’ فَيَقُولُ الْحَجَرُ أَوِ الشَّجَرُ ‘‘ وہ پتھر اور درخت یہ آواز لگائے گی کہ ’’ يَا مُسْلِمُ يَا عَبْدَ اللهِ هَذَا يَهُودِيٌّ خَلْفِي، فَتَعَالَ فَاقْتُلْهُ ‘‘اے مسلمان! اے اللہ کے بندے!میرے پیچھے یہ ایک یہودی چھپا ہوا ہے ادھرآؤ اور اس کو قتل کردو،آپﷺ نے فرمایا کہ ہرشجروحجر جس کے پیچھے یہودی چھپے گا وہ پکارپکار کر مسلمانوں کو بلائے گا مگر ’’ إِلَّا الْغَرْقَدَ فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرِ الْيَهُودِ ‘‘سوائے غرقد درخت کے وہ یہ نہیں کہے گا کیونکہ وہ یہود کا درخت ہے۔(مسلم:2922)یہودی قوم اس بات سے کتنی خوفزدہ ہے اورانہیں اس بات کی سچائی پر کتنا کامل یقین ہے اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگاسکتے ہیں کہ یہ درخت غرقد ان کا ایک مقدس درخت ہے اور وہ اس کی خوب آبیاری وشجرکاری بھی کرتے ہیں۔(گوگل پر اس غرقد درخت کی تصویر آپ دیکھ سکتے ہیں)

(7) سلام اور آمین کی وجہ سے:

یہودیوں کی اسلام اورمسلمانوں سے دشمنی کی ساتویں سب سے بڑی وجہ ایک یہ بھی ہے کہ رب العالمین نے ہم مسلمانوں کو دوایسی چیزیں عطا کی ہیں جن پر یہودیوں کو ہم مسلمانوں سے بہت ہی زیادہ حسد ہوتاہے ایک ہے سلام کا تحفہ اور دوسرا دوران نماز آمین کہنا ہے جیسا کہ سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا’’ مَا حَسَدَتْكُمُ الْيَهُودُ عَلَى شَيْءٍ مَا حَسَدَتْكُمْ عَلَى السَّلَامِ وَالتَّأْمِينِ ‘‘ کہ یہودی تم سے کسی چیز پر اتنا حسد نہیں کرتے،جتنا سلام اورآمین پر تم سے حسد کرتے ہیں۔(ابن ماجہ:856وقال الالبانیؒ:اسنادہ صحیح)افسوس صد افسوس جس چیزوں کے عطا کئے جانے پر ہم مسلمانوں سے یہودیوں کو حسدوجلن ہے آج انہیں دوچیزوں کو ہم مسلمانوں نے چھوڑ دیا ہے،مسلمانوں نےاپنے امام کی تقلید کرتے ہوئے امام کے پیچھے اجتماعی طور پر آمین کہنا بھی چھوڑدیا اور اپنے اپنے مسلک کے سوا اوروں کو سلام کرنا بھی چھوڑدیا ہے بلکہ کچھ ناعاقبت اندیشوں نے تویہاں تک فتوی صادرکررکھا ہے کہ اگر تم نے فلاں فلاں مسلک والوں کو سلام کیا تو تمہارا نکاح ہی ٹوٹ جائے گا۔العیاذ باللہ۔

امت مسلمہ کے نام کچھ ضروری پیغام!​

برادران اسلام!!

اب میں آخر میں ان لوگوں سے کچھ باتیں عرض کرناچاہتاہوں جو ایک طرف سوشل میڈیا کے اوپر یہ واہیات اورہفوات بکتے رہتے ہیں کہ فلسطین میں اتنا کچھ ہورہاہے آخر 57 اسلامی ممالک کیاکررہی ہے؟سب کے سب یہودیوں کے غلام اورپٹھوں ہیں اورلوگ بالخصوص سعودی حکومت کو تو کچھ زیادہ ہی نشانہ بناتے ہیں،انہیں کھراکھوٹاسناتے ہیں اور یہ کہتے نہیں تھکتے کہ آخر سعودی حکومت کیاکررہی ہے؟وہ فلسطینی مسلمانوں کی مدد کیوں نہیں کرتی ہے وغیرہ وغیرہ،توایسے ناعاقبت اندیش لوگوں کو میں یہ پیغام دینا چاہتاہوں کہ اس طرح کی باتیں کرکے اورپھیلاکر آپ دشمنان اسلام کے آلۂ کار نہ بنو،وقت وحالات کی نزاکتوں کوسمجھو،یہ دشمنان اسلام تو یہی چاہتے ہیں کہ مسلم ممالک ان کی نصرت وحمایت کرتے ہوئےان کے خلاف میدان جنگ میں کودپڑے تاکہ انہیں پھرمسلم ممالک کی اینٹ سے اینٹ بجانے کا ایک بہانہ اورشوشہ مل جائے کیا آپ دیکھتے نہیں ہیں کہ ہزاروں کی تعداد میں مقتول ہونے والے، روتےوتڑپتے اوربے یارومددگار سسکتے ہوئے فلسطینی مسلمانوں کو میڈیادہشت گرد بتارہی ہے اوراسرائیل کومظلوم قراردے رہی ہے،اسی لئے اے مسلمانوں اس طرح کی باتیں نہ کیاکرواورجس چیز کا تمہیں علم ہی نہیں ہے اس کے بارے میں زبان نہ کھولواور اللہ کا یہ فرمان یاد رکھو!’’وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ‘‘جس بات کی تجھے خبرہی نہ ہو اس کے پیچھے مت پڑ۔(الاسراء:36)اسی طرح سے دوسری طرف سوشل میڈیا پر کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو مسلمانوں میں مایوسی اور قنوطیت کو پھیلاتے ہیں اور یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ہم کیا کرسکتے ہیں؟ہمارے ہاتھ میں کیاہے؟ہم تو مجبور ہیں! وغیرہ وغیرہ،اس طرح کے ہفوات وبکواس کرنے والوں کو سب سے پہلے تو میں یہ کہنا چاہتاہوں کہ یہ لوگ سب سے پہلے اپنے بارے میں سوچیں اور فیصلہ کریں کہ یہ خود کتنے بدبخت لوگ ہیں کہ ان کی زبانوں سے اللہ اوراس کے رسول،اسلام اورمسلمانوں کے دشمن یہود ونصاری ،کفارومشرکین تو محفوظ ہیں مگر ایک مسلمان ان کی زبانوں سے محفوظ نہیں ہے،یہ ایک مرتبہ بھی یہودونصاری اورکفارومشرکین کو برابھلاکہتے نظر نہیں آتے ہیں مگر سعودی حکومت اورمسلم حکمرانوں کو گالیاں دیتے اورکوستے نظر آتے ہیں۔فیاللعجب۔

میرے دوستو! جولوگ سعودی حکومت اورمسلم حکمرانوں پریہودونصاری سے دوستی کاالزام لگاتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ وہ سب تو ان کے پٹھوں ہیں تو میں ان سے یہ کہنا چاہتاہوں کہ ان کے اوپر انگلیاں اٹھانے سے پہلےذرا اپنے گریبان میں تو جھانک لو،یہودونصاری کےنقش قدم کی پیروی تو وہ خود سب سے پہلے کررہاہوتاہےکہ یہودیوں اورعیسائیوں کی طرح اپنے سوا سب کو جہنمی قراردیتاہے،یہودیوں کی طرح صرف اپنے آپ کو عاشق رسول کہتاہے اوردوسروں پرگستاخ رسول کا فتوی لگاتاہے،یہودیوں کی طرح خود بے عمل مسلمان بناپھرتاہے، یہود ونصاری کے ہرچال وڈھال ،عادات واطوار اور رہن وسہن کو اختیار کیا ہوا ہےاوریہودیوں کے ہرعادات خبیثہ کو اپناتے ہوئے خود زندگی گذارتاہے اور دوسروں کو کوستاہے،غالباایسے ہی لوگوں کے بارے میں علامہ اقبالؒ نے کہا تھا کہ:

وضع میں تم ہونصاری توتمدن میں ہنود

یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود

یوں تو سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو

تم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہو​

میرے اسلامی بھائیو اور بہنو!

جو لوگ مسلمانوں کے درمیان مایوسی اور قنوطیت کو یہ کہہ کرپھیلاتے ہیں کہ ہم یہاں پر رہ کر کیا کرسکتے ہیں؟ ہم تو مجبور ہیں! دعا کرنے سے بھی کچھ نہیں ہوگا! تو میں ایسے لوگوں سے سب سے پہلے یہ کہنا چاہتاہوں کہ حالات کا رونا چھوڑ دو ،زبانی حیلے وبہانے کرنا چھوڑدواور سب سے پہلے خود پکے با عمل مسلمان بن جاؤ،اپنے دین کی طرف پلٹ آؤ اور اپنے دین کے داعی وپیروکار بن جاؤ،نمازوں کی پابندی کرو ،اللہ اور اس کے رسولﷺ کے احکام کو دل وجان سے گلے لگا لواور پھر تب دیکھو کہ رب کی رحمتیں وبرکتیں کس طرح سے ہم پر نچھاور ہوجاتی ہیں کیونکہ رب کی ہرطرح کی رحمتیں اوربرکتیں،شرف وعزت دین کو اپنانےا ور اختیار کرنے سے جڑی ہوئی ہیں نہ کہ زبانی جمع وخرچ سے ،یاد رکھ لو!

قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیں

جذب باہم جو نہیں،محفل انجم بھی نہیں​

میرے دوستو! بہت سارے ہمارے مسلمان بھائی دانستہ یا پھر نادانستہ طور پر ایک اوربات سے مسلمانوں کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں کہ اُدھر مسلمان فلسطین میں مارے جارہے ہیں اور اِدھرہم مسلمان مسجد میں بیٹھے دعائیں کررہے ہیں اور کسی کرشمہ کے منتظر ہیں وغیرہ وغیرہ،آپ یقین مانئے کہ اس طرح کی باتیں جو لوگ کہتے اورلکھتے ہیں ایسے لوگوں نے کبھی ایک مرتبہ بھی ہاتھ اٹھاکر نہ توقنوت نازلہ کا اہتمام کیا ہوگااور نہ ہی وہ خود شریعت پر عمل پیراہوں گے،جولوگ بھی اس طرح کی حوصلہ شکنی باتیں کرتے ہیں ایسے لوگوں کو میں یہ پیغام دینا چاہتاہوں کہ ہم لاچارومجبور،مقہورومظلوم،بے یارومددگار ہی سہی مگر ہم مسلمان ہیں اوراپنے رب سے دعاکرنا کبھی نہ چھوڑیں گے کیونکہ ہمارا ملجا وماوی تو بس وہی ایک ہے اور اسی کی ایک ایسی ذات واحد ہے جو ہرمضطر کی غم والم کودور کرنے کی طاقت رکھتی ہےاورہماری ایسی جگہ سے مددکرسکتی ہے جس کا ہمیں وہم وگمان بھی نہ ہوگا،کیاایسے پوسٹ لکھنے والوں کو قرآن کا یہ پیغام یادنہیں رہتا کہ بھلابتلاؤ ’’ أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ أَإِلَهٌ مَعَ اللَّهِ قَلِيلًا مَا تَذَكَّرُونَ ‘‘ بے کس کی پکار کو جب کہ وہ پکارے،کون قبول کرکے سختی کو دورکردیتاہے؟اورتمہیں زمین کا خلیفہ بناتاہے،کیا اللہ تعالی کے ساتھ اورمعبود ہے؟تم بہت کم نصیحت وعبرت حاصل کرتے ہو۔(النمل:62)جولوگ یہ لکھتے اورکہتے ہیں صرف دعا سے کچھ نہیں ہوگا تو ایسے لوگوں کو میں ایک حدیث سنانا چاہتاہوں کہ یہ کس نے کہا کہ دعا سے کچھ نہیں ہوگا،اے لوگوں سن لو! یہ ہماری دعائیں بھی وہ ہتھیار جس کے ذریعے اللہ امت مسلمہ کی مددکرتاہے جیسا کہ فرمان مصطفیﷺ ہے ’’ إِنَّمَا يَنْصُرُ اللَّهُ هَذِهِ الْأُمَّةَ بِضَعِيفِهَا بِدَعْوَتِهِمْ وَصَلَاتِهِمْ وَإِخْلَاصِهِمْ ‘‘ بے شک اللہ اس امت کی مدد کرتا ہے ان کے کمزورلوگوں وجہ سے،ان کی دعاؤں کی وجہ سے اور ان کی نمازوں کی وجہ سے اور ان کے اخلاص کی وجہ سے۔(نسائی:3178 وقال الألبانیؒ:اسنادہ صحیح)۔۔سبحان اللہ۔۔دیکھا اورسنا آپ نے کہ ہم مسلمانوں کو اللہ کی مددکیسے حاصل ہوسکتی ہے،اسی لئے اگر ہم مسلمان ایک دوسرے کی خیروبھلائی چاہتے ہیں تو ان سب کے حق میں دعاؤں کو کبھی نہ چھوڑیں اور خود نمازوں کی پابندی کریں اور اپنے تمام عملوں میں اخلاص کو پیداکریں۔

برادران اسلام! آپ سب سے میری یہ التماس ہے کہ جب کبھی بھی اس طرح کے حالات پیداہوجائے تو آپ مسلمانوں کی حوصلہ شکنی کرنے کے بجائے انہیں تسلی اوردلاسہ دلائیں اور انہیں صبروسہار رکھنے کی تلقین کریں اور اللہ سے اچھا گمان رکھنے کا حکم دیا کریں اورمنفی باتوں سے پرہیز کیا کریں کیونکہ منفی باتوں کو پھیلانا اور شیئر کرنا جہاں ایک طرف منافقوں کی خصلت وعادت ہے تو وہیں پر دوسری طرف اس طرح کی منفی باتوں سے مسلمان اپنے دین ورب سے بدظن ہوتے ہیں اور کفارومشرکین تو یہی چاہتے ہیں کہ مسلمان اپنے دین سے برگشتہ ہوکر ہمارے دوست وحامی بن جائیں،اسی لئے منفی باتیں کرنے والوں کو چاہئے کہ وہ اپنی زبان پرلگام دیں اور دوسروں کو کوسنے کے بجائے اپنی اصلاح کی فکرکریں اورذرا اپنے اوران کے ایمان کا موازنہ کریں کہ وہاں کے مسلمان بھی کیسے باہمت اورباایمان لوگ ہیں کہ ان کا گھراجڑگیاہے،ان کے آباءواجداد اوراولاد اوررشتے داروں کو موت کے گھاٹ اتاردیاگیا ہےمگر پھر بھی وہ اپنے زبان سے اللہ!اللہ!کی صدا لگارہے ہیں،شاید آپ نے بھی وہ ویڈیوکلپ سب دیکھی ہوگی کہ کس طرح سے ایک معصوم بچہ مصیبت کے اس گھڑی میں بھی اپنی معصوم بہن کو کلمہ پڑھنے کی تلقین کررہاہےتو کوئی مسلمان بچہ یہ کہتے نظرآتاہے کہ ہم مسلمان ہیں اسی لئے ہمارے اوپر اس طرح کی آزمائشیں آئی ہیں تو کوئی اپنے رشتے دار واولاد کی شہادت پر سجدۂ شکر بجالاتے نظرآرہاہے۔سبحان اللہ۔ذراسوچئے کہ سوشل میڈیاپر اول فول بکنے والوں کے پاس اُن کے ایمان کے مقابلے میں ان کا عشرعشیر بھی ایمان ہوگا؟؟؟

میرے دوستو!اب میں آخر میں ایک اورقیمتی پیغام دے کراپنی بات کو ختم کردیتاہوں کہ دیکھا یہ جارہاہے کہ بہت سارے لوگ سوشل میڈیا پر حماس کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ حماس بیت المقدس کی فتح کے لئے جنگ کررہی ہے تو میں ایسے لوگوں کو یہ بتادوں کہ یہ کوئی اسلامی تحریک نہیں ہے اور نہ ہی اس حماس کو مسجد اقصی کی آزادی سے مطلب ہے بلکہ یہ تنظیم دراصل یہودیوں اورروافض یعنی شیعوں کی پیدا کردہ اور پروردہ ایک ایسی تنظیم ہے جس کا سہارالے کر یہ عام مسلمانوں پر حملہ کرتی ہے،اگرآپ کومیری باتوں پر یقین نہ ہو تو ذراتاریخ اٹھاکردیکھئے کہ جب کبھی بھی فلسطین میں کچھ امن یا پھر صلح کی بات چیت کی شروعات ہوتی ہے یہ حماس حرکت میں آجاتی ہے اورمسئلہ وہیں کا وہیں رہ جاتاہے ،ابھی فی الحال ہی میں جوہوا اس پرذرا اپنے دماغ پر زورڈال کر سوچئے کہ پچھلے دنوں میں اس حماس نے یہودیوں کے اوپرحملہ کیا مگر یہودیوں نے ان کے اوپر حملہ کرنے کے بجائے عام فلسطینی مسلمانوں کے اوپر بمباری کئے،اس تنظیم کے بارے میں بس میں دوباتیں بتادینا مناسب سمجھتاہوں تاکہ مسلمان اس تنظیم کی حقیقت اوراصلیت سے واقف ہوجائیں،سب سے پہلی بات تو علامہ البانیؒ کی ہے وہ فرماتے ہیں کہ حماس یہ کوئی اسلامی تحریک نہیں ہے اور دوسری بات شیخ مقبل بن ہادیؒ کی ہے وہ فرماتے ہیں کہ یہ حماس ایک ایسی حزبی تنظیم ہے جواہل توحید کی دشمن ہے اوراسے امربالمعروف اورنہی عن المنکر سے کوئی سروکار نہیں ہے بلکہ یہ لوگ سنت کے دشمن ہیں۔(تفصیل کے لئے دیکھئےکتابچہ حماس کا اصلی چہرہ مترجم دکتور اجمل منظور مدنی حفظہ اللہ)

اب آخر میں اللہ رب العزت سے ہم یہی دعاکررہے ہیں کہ اے رب العزت تو وہاں کے مسلمانوں پر رحم فرما اوراے اللہ تو ہم سب مسلمانوں کے طرف سے یہود ونصاری اور تمام دشمنان اسلام کے لئے کافی ہوجا۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔ اللھم انا نجعلک فی نحورہم ونعوذبک من شرورھم۔آمین یارب العالمین۔

کتبہ

ابومعاویہ شارب بن شاکرالسلفی

غزہ میں جو کچھ ہوچکا اس کے بعد بھی کوئی مسلمان عالمی برادری، اقوام متحدہ، عرب لیگ یا OIC کی بات کرے گا؟
All reactions:
4242
 

saghir

رکن
شمولیت
مارچ 13، 2011
پیغامات
35
ری ایکشن اسکور
136
پوائنٹ
58
بیت المقدس ایک مسجد نہیں، بلکہ اسلامی تشخص کا نمائندہ! مکہ اور مدینہ کے بعد، اس سے مسلمانوں کا ایمانی رشتہ ہے۔ یہ پچاس یا ساٹھ لاکھ فلسطینیوں کی امانت نہیں ہے بلکہ دنیا میں بسنے والے دو ارب سے زائد مسلمانوں کی امانت ہے۔ اس کی حفاظت ہمارا اسلامی فریضہ ہے۔ لہذا اس نظریاتی اور عقیدے کے تعلق اور رشتے کی بنیاد پر فلسطین کے معاملے میں مسلمانوں کی ذمہ داری دن بدن بڑھتی اور وسیع تر ہوتی جا رہی ہے۔ مسجد اقصی صرف گنبد و مینار پر مبنی ایک مسجد نہیں، بلکہ وہ اسلام اور مسلمانوں کا ایک نشان ہے ۔
نبی کریم ﷺ کے فرامین کی روشنی میں بیت المقدس سرزمین محشر ہے، قربِ قیامت ایمان والوں کی آخری پناہ گاہ ہوگی، بیت المقدس ہی وہ مقام ہوگا جہاں طائفہ منصورہ کا قیام ہوگا ، یہیں سے صور پھونکا جائے گا ، لوگ اس علاقے کی طرف ہجرت کریں گے ۔ حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول اسی علاقہ میں ہوگا، دجال بھی اسی علاقہ میں قتل ہوگا ، ایک وقت آئے گا جب شام کی یہ سرزمین خلافت اسلامیہ کا مرکز ہوگی ، یہاں دین اسلام نافذ ہوگا ، عدل و انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں گے ،اسی طرح قرب قیامت مسلمان یہودیوں پر غلبہ حاصل کریں گے ۔
 
Top