1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اسلام میں حدیث کی اہمیت و حیثیت :

'حدیث وعلومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏دسمبر 02، 2013۔

  1. ‏دسمبر 02، 2013 #11
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنت کی حفاظت کے سلسلے میں کیا اقدام کئے؟

    یقینا پیچھے آنے والوں سے مراد آنے والی نسلیں بھی ہیں۔

    یہ پیشین گوئی حرف بحرف پوری ہوئی محدثین نے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کی بیان کردہ احادیث کو بالکل محفوظ کر لیا۔
     
  2. ‏دسمبر 02، 2013 #12
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    کیا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث کی کتابت بھی کروائی؟

    رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر احادیث لکھوائیں چند حوالے ملاحظہ فرمائیں :

     
  3. ‏دسمبر 02، 2013 #13
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی احادیث لکھیں ؟

    جی ہاں خود رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو احادیث لکھوائیں آپ نے عبداﷲ بن عمررضی اللہ عنہما سے فرمایا :

    سیدناعبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہ کی یہ کتاب ان کی اولاد میں منتقل ہوتی رہی اوران کے پڑپوتے عمرو بن شعیب رحمۃ اﷲ علیہ سے محدثین رحمۃ اﷲ علیہم نے اخذ کرکے ہمیشہ کے لئے محفوظ کر لیا ایسے واقعات صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم سے مروی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ احادیث کو لکھا کرتے تھے ۔

     
  4. ‏دسمبر 02، 2013 #14
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    کیا 250 سال تک احادیث تحریر میں نہیں آئیں؟

    یہ صرف منکرینِ حدیث کا پروپیگنڈہ ہے خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم اوردیگرصحابہ رضی اللہ عنہم نے احادیث کی حفاظت کا خاص اہتمام کیا پھر تابعین رحمہم اللہ کے دور میں کئی کتب لکھی گئیں موطا امام مالک اب بھی موجود ہے جو صرف 100سال بعد لکھی گئی ان کی عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہ کی روایت میں صرف امام نافع راوی ہیں، انس رضی اﷲ عنہ کی روایت میں امام زہری راوی ہیں، غرض موطا میں سینکڑوں سندیں ایسی ہیں جن میں صحابہ اور امام مالک کے درمیان ایک یا دو راوی ہیں اور وہ زبردست امام تھے۔ امام بخاری سے پہلے کی کتب صحیفہ ہمام ،صحیفہ صادقہ، مسند احمد، مسند حمیدی، موطا مالک مصنف ابن ابی شیبہ، مصنف عبدالرزاق ، موطا محمد ،مسند شافعی آج بھی موجود ہیں دیگر ائمہ نے بھی درس و تدریس کا ایسا اہتمام کیا ہوا تھا کہ کوئی کذاب حدیث گھڑ کر احادیث صحیحہ میں شامل نہ کر سکا۔

    (1) جس نے احادیث گھڑ کر صحیح احادیث میں شامل کرنے کی کوشش کی اسکی کوشش کامیاب نہ ہوسکی وہ جھوٹی روایت پکڑی گئی ۔

    اگر احادیث کی اتنی حفاظت ہوئی ہے تو پھرامام بخاری نے چھ لاکھ احادیث میں سے صرف 7275 احادیث کا انتخاب کیوں کیااور باقی کو رد کیوں کردیا ؟؟؟

    پہلے تو چھ لاکھ احادیث کی حیثیت سمجھئے محدثین کی اصطلاح میں ہر سند کو حدیث کہاجاتاہے مثلاً رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بات فرمائی جو پانچ صحابہ کرام رضی اﷲ عنہ نے سنی ہر صحابی نے اپنے 5,5 شاگردوں کو وہ بات سنائی اس طرح تابعین تک اسکی 25 اسناد بن گئیں اب اگر تابعی راوی اپنے 10,10 شاگردوں کو روایت بیان کرے تو اس طرح اس حدیث کی 250 اسناد بن گئیں محدثین کی اصطلاح میں یہ 250 احادیث کہلاتی ہیں اس لئے امام بخاری فرماتے ہیں۔

    مجھے ایک لاکھ صحیح احادیث یاد ہیں (مقدمہ ابن صلاح) اس کا مطلب ہے ایک لاکھ صحیح اسناد یاد ہیں ان ایک لاکھ میں سے 7275 اسناد صحیح بخاری میں درج کرلیں۔

    اور یہ بھی درست ہے کہ بعض راویوں نے دینِ اسلام میں گمراہ کن عقائد داخل کرنے کے لئے حدیث کا سہارا لیا اسی لئے ضعیف اور من گھڑت روایات کی کثرت ہے مگر محدثین نے ایسے اصول مقرر کئے کہ کوئی من گھڑت روایت حدیث کادرجہ نہ پاسکی ۔ امام بخاری رحمۃ اﷲعلیہ اور امام مسلم رحمۃ اﷲعلیہ نے اپنے پاس موجود احادیث میں سے صرف احادیثِ صحیحہ جمع کرکے دین پر چلنے والوں کے لئے مزید آسانی کر دی ۔

    اکثر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا صحیح بخاری قرآن حکیم کی طرح لاریب کتاب ہے؟

    صحیح بخاری کو کتبِ احادیث میں وہ مقام حاصل ہے جو کسی اور کتاب کو نہیں ہے اور امتِ مسلمہ بشمول جمیع مسالک کے اس بات پر متفق ہے کہ اللہ کی کتاب قرآن مجید کے بعد سب سے صحیح ترین کتاب صحیح بخاری ہے ، جس میں موجود تمام روایات صحیح و مقبول ہیں ۔ اور یہ اچھی طرح ازبر کرلینا چاہئے کہ یقیناً صحیح بخاری اور دیگر کتبِ احادیث میں موجود احادیثِ صحیحہ کا وہ حصہ جو شرعی احکام پر مشتمل ہے ''مُنزَّل منَ اﷲِ'' ہے جس پر قرونِ اولی کے مسلمان جمع ہوئے اور جسے امت سے تلقی بالقبول حاصل ہے مگرصحیح بخاری میں امام بخاری رحمہ اللہ نے ابواب قائم کئے ہیں اور ابواب میں مختلف ائمہ کہ اقوال بھی درج کئے پھر اسناد درج کیں جو منزل من اﷲ نہیں ۔ صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کے اقوال اور واقعات بھی کتبِ احادیث میں موجود ہیں جو منزل من اﷲ نہیں ۔ اور جہاں تک احادیثِ رسول اللہ ﷺ کا تعلق ہے تو وہ منزل من اﷲ ہیں اُن پر ایمان واجب ہےاور اُن کا انکاروحی کا انکار ہےاور وحی کا انکار کفر ہے۔
     
  5. ‏دسمبر 02، 2013 #15
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    خلاصہ کلام !!!

    ثابت شدہ صحیح احادیث ِ رسول ﷺ قرآن مجید کی تشریح و وضاحت کرتی ہیں اور اتنی ہی اہمیت رکھتی ہیں جتنا کہ قرآن مجیداور اتنی ہی ضروری ہیں کہ اس کے بغیر قرآن حکیم کو سمجھا ہی نہیں جاسکتا جو لوگ اس وحی کا انکار کرتے ہیں وہ دراصل قرآن حکیم کا انکار کرتے ہیں اور اُن کا حدیث ِ رسولﷺکی حجیت یا دین ہونے سے یا قابلِ اتباع و عمل ہونے سے انکار کرنے کا مقصد ِ حقیقی محض قرآن مجید کی اپنی من مانی اور گمراہ کن تفسیر کرناہے، کیونکہ اُنکے باطل مقاصد کی تکمیل میں صرف ایک ہی چیز رکاوٹ ہے اور وہ حدیثِ رسولﷺہے ، یہ حدیث ِ رسولﷺہی ہے جو اللہ تعالیٰ کے حقیقی مطلوب و مقصود کو متعین کرتی ہے،یعنی اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں سے مطالبہ جو قرآن مجید کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے ، اس کی حقیقی وضاحت ، تبیین و تشریح اللہ تعالیٰ کے عین مقصود کے مطابق محمد رّسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر کون کرسکتا ہے کہ جنﷺ کی زبانِ مبارک سے نکلی ہوئی بات کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں وحی سے تعبیر فرمایا ہےاور جن کی اطاعت کو عین اپنی اطاعت قرار دیا۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں بھی قرآن مجید میں اجمال موجود ہے تو اُس کی وضاحت و تشریح اور جہاں کہیں اطلاق و عموم ہے تو اُ س کی تقیید و تخصیص اور جہاں کہیں کسی حکم سے کچھ مثتثنیٰ رکھنا ہو ،اور جہاں کہیں کوئی اضافی حکم دینا چاہا اور جہاں کسی حکم کو منسوخ فرمانا چاہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علیٰ ھٰذا القیاس، تو اللہ تعالیٰ نے کبھی قرآن حکیم ہی میں فرمادیا اور کبھی اپنے حبیب جناب محمّدﷺکے ذریعہ فرمادیا ۔اب یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہے کہ اُس نے قرآن مجید ہی کو کافی قرار نہیں دیا بلکہ قرآن کریم کے ساتھ ساتھ پیغمبر کو مبعوث فرمایا اور اُس پیغمبر پر بھی قرآن کے علاوہ وحی کا نزول فرمایا اور اُس کی حدیث و سنت کو ہمارے لئے قرآن ہی کی طرح واجبِ ایمان و اتباع قرار دیا۔

    خلاصہ کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ہر رسول مبعوث ہی اس لئے فرمایا ہے کہ اُس کی ہر معاملہ میں ،ہر وقت ،ہر بات کی بلا چوں چراں اطاعت کی جائے ۔
    جیساکہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
    اور رسولِ اکرمﷺ کے بارے میں خاص طور سے فرمایا:
    اور یہ حکم فقط اُن کے لئے نہیں تھا جن میں رسولِ اکرم ﷺ مبعوث کئے گئے تھے یعنی فقط عرب یا صحابہ کے لئے نہیں تھا بلکہ آپ ﷺ کے اقوال و افعال و اعمال ، آپﷺ کی سیرت و کردار قیامت تک کے لئے اور ہر اُس شخص کے لئے ہے جو ایمان کا دعویدار اور اللہ سے ملاقات کا خواہشمند اور آخرت پر یقن رکھتا ہے ، جیساکہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
    الغرض آپ مکمل قرآن حکیم پڑھ لیجئے ،جہاں جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی اطاعت و اتباع کا ذکر فرمایا ہے وہاں اس سے متصل ہی رسولِ اکرم جناب محمّد ﷺکی اطاعت و اتباع کا ذکر فرمایا ہےجس سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ رسولِ اکرمﷺکی حدیث حجت و دلیل ہی نہیں بلکہ عین دین و شریعت ہے جس کے بغیر اسلام و ایمان کا کوئی معنی نہیں اور جس کے بغیر اسلام و ایمان کی کوئی حیثیت نہیں۔ اﷲ تعالیٰ ہمیں دینِ اسلام قرآن و حدیث کی صحیح سمجھ عطا فرمائے اور شرک و بدعت اور باطل افکار و نظریات سے بچنے کی توفیق بخشے۔ آمین ۔

    وآخرُ دعوانا ان الحمدُ للہ ربّ العالمین
     
  6. ‏جنوری 18، 2014 #16
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

  7. ‏جنوری 19، 2014 #17
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا
     
  8. ‏جنوری 28، 2015 #18
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    @T.K.H

    بھائی آپ اس پوسٹ کو بھی ضرور پڑھیں
     
  9. ‏اگست 19، 2015 #19
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    552480_384703184930381_1751176393_n.jpg
     
  10. ‏اگست 20، 2015 #20
    جوش

    جوش مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 17، 2014
    پیغامات:
    621
    موصول شکریہ جات:
    307
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    حدیث کا مفہوم اور اسکی حجیت کو ثابت کرنے کیلئے ایک نئی کتاب آئی ہے جسکا نام ۔ حدیث کا شرعی مقام۔ ہے یہ ایسی کتاب ہے کہ اس جیسی نہ اردو میں کوئی دوسری کتاب ہے نہ عربی میں ۔اس میں حدیث وسنت کا صحیح مفہوم ،حدیث فہمی کاصحیح طریقہ،جاوید غامدی،مولانا مودودی،امین اصلاحی،اور دوسرے منکرین حدیث کے شبہات کا رد،حدیث اور فقہاء،حدیث اور متکلمین،حدیث اور صوفیاءجیسے اہم اور نادرموضوعات اس کتاب کا حصہ ہیں یہ کتاب اس لائق ہے کہ اسے ہر صاحب علم اپنے مطالعہ میں رکھے یہ کتاب لاہور میں دستیاب ہے اسکے مولف ھندستان کے مشہور عالم دین ڈاکٹر سید سعید احسن عابدی ہیں جو عرصہ دراز سے جدہ ریڈیو سے منسلک ہیں ۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں