1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الیکشن میں ووٹ کاسٹ کرنے سے متعلق آپ کی رائے

'انتخابی سیاست' میں موضوعات آغاز کردہ از عمران اسلم, ‏جنوری 06، 2013۔

  1. ‏جنوری 06، 2013 #1
    عمران اسلم

    عمران اسلم مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    318
    موصول شکریہ جات:
    1,604
    تمغے کے پوائنٹ:
    150

    جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ ہمارے اوپر (پاکستان میں) جو نظام حکومت مسلط ہے اس میں ہر پانچ سال کے بعد اسمبلیاں ختم ہو جاتی ہیں اور الیکشن کے ذریعے نئے اراکین کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ اوریہ انتخاب کثرت رائے کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ موجودہ اسمبلیوں کے پانچ سال پورے ہونے میں تقریباً دو ماہ باقی ہیں۔ اس کے بعد الیکشن کا انعقاد ہو گا۔ یہ تو ظاہر ہی ہے کہ ہمارے ہاں الیکشن لڑنے والے صاحبان کس قماش کے لوگ ہوتے ہیں۔ الیکشن لڑنے والے نمائندوں کو ووٹ کاسٹ کرنے کے حوالے سے صرف یہ بات ملحوظ رکھی جا سکتی ہے کہ ایک نمائندہ شاید دوسرے سے قدرے بہتر ہو۔ یہ تو ناممکنات میں سے ہے کہ وہ ان صفات سے متصف ہو جو صفات اسلام ایک صاحب اقتدار شخص میں دیکھنا چاہتا ہے۔ اور موجودہ جمہوری نظام بھی ایسا ہے کہ جو اس سلسلہ میں اسلام کے عطا کردہ اصولوں سے متصادم ہے۔ اگر ہم ووٹ کاسٹ کرتے ہیں تو ایک غیر اسلامی نظام کا حصہ بنتے ہیں۔ اور اگر ہم ووٹ کاسٹ نہیں کرتے تو نہ چاہتے ہوئے اس شخص کی مدد کر رہے ہوتے ہیں جو اپنے مد مقابل امیدوار کے مقابلے میں زیادہ کرپٹ ہوتا ہے۔ ایسے میں کیا
    اگر آپ کا جواب ہاں میں ہے تو اس کی وجہ؟ اور اگر نہ میں ہے تو بھی اس کی وجہ بتا دیجئے۔
    دقیق علمی ابحاث کے بجائے مختصر سا جواب دینے پر ہی اکتفا کیجئے۔
     
  2. ‏جنوری 07، 2013 #2
    Muhammad Waqas

    Muhammad Waqas مشہور رکن
    جگہ:
    فیصل آباد
    شمولیت:
    ‏مارچ 12، 2011
    پیغامات:
    356
    موصول شکریہ جات:
    1,595
    تمغے کے پوائنٹ:
    139

    میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اس نظام کا حصہ نہیں بننا چاہیے کیونکہ یہاں مقابلہ اچھے اور برے کا نہیں بلکہ زیادہ برے اور کم برے کے درمیان ہے۔
    اور اگر ہم یہ سوچ کر ووٹ کاسٹ کریں کہ کم از کم زیادہ برا شخص تو اقتدار میں نہ آئے تو اس صورت میں کم از کم دو قسم کے غلط کام سرزد ہونے کا اندیشہ ہے:
    ١

    -غیر اسلامی طریقہ انتخاب میں شمولیت۔
    ٢

    -ایک برے(اس صورتحال میں کم برے) شخص کو چننے میں مدد۔
     
  3. ‏جنوری 07، 2013 #3
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    میں سمجھتا ہوں کہ ووٹ کاسٹ کرنا چاہیے
    نہیں کریں گے تو یہ تعاون علی الا ثم ہے ہے آپ کا یہ فرض بنتا ہے کہ پہلے تحقیق کرلیں کس کو سپورٹ کرنا اگر وہ نمائندہ آپ سے صحیح کام کرنے کا وعدہ کر رہا ہے تو آپ بری الذمہ ہوگئے وعدہ خلافی کا خمیازہ اسکو بھرنا ہےووٹر کو نہیں بصورت دیگر اگر غلط آدمی صحیح آدمی کے مقابلہ میں منتخب ہوگیا تو انحراف کرنے والے ووٹر کی گرفت ہوسکتی ہے
    اس بارے میں میرا ایک تفصیلی مضمون بھی ہے مگر وہ مضمون انڈیا کے تناظر میں ہے
     
  4. ‏جنوری 07، 2013 #4
    محمد شاہد

    محمد شاہد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 18، 2011
    پیغامات:
    2,486
    موصول شکریہ جات:
    6,010
    تمغے کے پوائنٹ:
    407

    عمران بھائی اس کے بارے میں تو اہل علم حضرات ہی بہتر بتاسکتے ہیں-
    میں نے زندگی میں کبھی ووٹ نہیں دیا اور نہ ہی دونگا ان شاءاللہ
    میں اس نظام کو غلط سمجھتا ہوں-
     
  5. ‏جنوری 07، 2013 #5
    محمد شاہد

    محمد شاہد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 18، 2011
    پیغامات:
    2,486
    موصول شکریہ جات:
    6,010
    تمغے کے پوائنٹ:
    407


    میں آپ سے متفق ھوں
     
  6. ‏جنوری 07، 2013 #6
    Muhammad Waqas

    Muhammad Waqas مشہور رکن
    جگہ:
    فیصل آباد
    شمولیت:
    ‏مارچ 12، 2011
    پیغامات:
    356
    موصول شکریہ جات:
    1,595
    تمغے کے پوائنٹ:
    139

    جزاک اللہ شاہد بھائی۔
    آپ نے درست کہا کہ بہتر رائے علماء کرام ہی دے سکتے ہیں۔
    خاص طور پر اس حوالہ سے کہ جب دو برائیوں میں سے کسی ایک کو چننا پڑے تو کیا بڑی برائی کے مقابلے میں چھوٹی برائی کو چننا جائز ہے؟
    یا پھر صحیح بخاری کی روایت فاعتزل تلک الفرق کلھا کی رو سے اس پر فتن دور میں ہر قسم کی جماعتوں سے الگ رہا جائے؟
     
  7. ‏جنوری 07، 2013 #7
    باربروسا

    باربروسا مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 15، 2011
    پیغامات:
    311
    موصول شکریہ جات:
    1,016
    تمغے کے پوائنٹ:
    106

    السلام علیکم !

    محترم بھائی اللہ کا شکر ہے کہ اپ اس نظام کی حقیقت کو سمجھتے ہیں ، اوپر بھائیوں نے اپنی اراء بھی پیش فرمائی ہیں.

    اب ذرا ایک قدم پیچھے ہٹ کر ووٹ ڈالنے والی صورت پر بات کر لیتے ہیں کہ اس کی کیا فیزیبیلٹی بنتی ہے .

    صرف اس بات پر غور کر لیں کہ اگر پ ووٹ کو صرف "برے لوگوں کے لیے جگہ خالی نہ کرنے" کے تحت کاسٹ کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو تبدیلی کی کتنے فیصد امید ہے؟؟ ذرا دیکھیں کہ جن جماعتوں نے اس سوچ کی بنا پر شمولیت کی تھی وہ خود غرق دریائے جمہوریت ہونے کو ہیں..... یا نہیں ؟؟
    ان کے منشوروں میں اسلام کتنا پیچھے اور ائین اور جمہوریت و پارلیمنٹ کی بالادستی کتنی آگے آ گئی ہے ؟؟!!
    کیا اس ووٹنگ سے اسلام کی طرف کچھ پیش رفت ہوتی نظر اتی ہے؟؟
    کیا اللہ کی حاکمیت عملا نافز ہونے کا کوئی ایک فیصد چانس بھی دکھتا ہے آپ کو؟؟
    اور اسلام کو ایک طرف کریں تو بھی ... کیا کرپشن ، بیروزگاری، اور ایسے ہی دوسرے مسائل حل ہونے کی امید ہے آُ کو اس الیکشن ہے؟؟

    اور پھر خود الیکشن کتنے صاف شفاف ہوتے ہیں ، جمہوری اصولوں کے مطابق !! یا پہلے سے طے شدہ چالیں اور مہرے بس کٹھ پتلیوں کو نچا کر عوام کو تھورا موج میلا کا موقع فراہم کرنے کے بعد مسند اقتدار پر بالانشین کروا دیے جاتے ہیں .....حمید گل سے جنرل احتشام ضمیر اور امتیاز بلا تک مملکت خداداد میں اصل کھلاری کون ہی اس سیاست کے کھیل کے؟؟

    ایسے میں ووت ڈال کر صرف "کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ انے" کے مصداق نیکی برباد گناہ لازم آنے کا احتمال کہیں زیادہ ہے ....ویسے تو مسلمان کو دین کا حکم آنے کے بعد حکمت عملیاں اور ادھر ادھر کی سوچیں سوچنا ہی نہیں چاہییں ، لیکن پھر بھی دونوں ہی باتوں پر غور فرما لیں .

    والسلام
     
  8. ‏جنوری 07، 2013 #8
    بالاکوٹی

    بالاکوٹی رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 04، 2012
    پیغامات:
    82
    موصول شکریہ جات:
    350
    تمغے کے پوائنٹ:
    36

    میں تو سمجھتا ہوں موجودہ صورت حال میں اگر ووٹ کاسٹ کیا جائے تو یہی دیکھا جا سکتاہے کہ ملک لیے کون بہتر ہو سکتاہے۔
    اللہ اعلم ۔
     
  9. ‏جنوری 07، 2013 #9
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,245
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    ضروری نہیں کہ میری بات سے اتفاق کیا جائے۔۔۔
    ہم جس دور سے گذررہے۔۔۔ وہ واقعی پُرفتن دور ہے۔۔۔ اور جن حالات سے ہمارا ملک گذررہا ہے اس میں اسطرح کی بحث چھیڑینا نہایت ہی سنگین نتائج کی طرف ہمیں لے جائے گا۔۔۔
    اور شاید ہم اب اس کے متحمل نہیں ہیں۔۔۔ کیونکہ اگر ملک بچے کا تو ہی ہم اس قابل ہوپائیں گے کے اسلام کوبچائیں۔۔۔ اچھا دوسری بات اگر ووٹ ڈالنا درست اسلام کے خلاف ہے تو بھائی ایسی لاتعداد معاملات ہمارے ملک میں رائج ہیں جن کو قطعی طور پر اسلام نے منع کیا ہے۔۔۔ ہم ووٹ کے کاسٹ پر بات کررہے ہیں۔۔۔ لیکن بغیر ولی کی شادی جو کورٹ میں ایک دستخط پر ہورہی ہیں اور اور خاندانوں کے شیرازے بکھر رہے ہیں اُس طرف ہماری کوئی توجہ نہیں جارہی۔۔۔ اسلام بس ووٹ کاسٹ کرنے کی حدتک نہیں ہے۔۔۔ سود کو اسلام نے اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کے سے تعبیر کیا ہے۔۔۔ وہاں ہماری زبانیں بند ہیں۔۔۔ بھائی بلوچستان ہاتھوں سے جارہا ہے۔۔۔ چلیں فرض کرلیتے ہیں۔۔۔ کے خلافت ہماری میراث ہے تو پہلے علماء کو تو جمع کریں۔۔۔ عیدکا چندہ سے لیکر مسجدوں میں جمع ہونے والے چندوں تک میں وہ ایک دوسرے سے اختلاف کررہے ہیں۔۔۔ اور ہم سوچ رہے ہیں کے ووٹ دیں یا نہ دیں۔۔۔ دیکھیں ہم یہ ہی سوچتے رہیں گے اور قادیانی اور رافضی بازی مارجائیں گے۔۔۔ اور ایک بار یہ اور مضبوط ہوگئے تو تمام اسلامی تنظموں کو کالعدم قرار دے کر یہ ہماری جڑوں کو کاٹ دیں گےجیسا پچھلے دس سالوں سے ہورہا ہے۔۔۔ اب ہم بات کرتے ہیں طالبان آئزیشن کی تو ایک مثال ہمارے سامنے ہے کے برطانیہ کی ایک صحافی خاتون نے ان کی پناہ سے نکلنے کے بعد اسلام قبول کیا اور آج تک وہ دین کی خدمت کررہی ہیں۔۔۔ لیکن اس کے بعد کیا ہوا؟؟؟۔۔۔ ہم اپنے بچوں کو آج مدرسے بھیجنے سے کتراتے ہیں۔۔۔ وجہ ایک ایسی چھاپ لگادی گئی ہے کہ کہیں وہاں پر اس کا برین واش کرکے اسے کسی خودکش حملے کے لئے استعمال نہ کرلیا جائے۔۔۔ یہ زمینی حقائق ہیں جو غلط بھی ہوسکتے ہیں۔۔۔ اتفاق ضروری نہیں لیکن ایک عام تاثر یہ ہی پروان چڑھ رہا ہے۔۔۔ نظام کو بدلنا ہے تو پہلے علماء کو اپنے اختلافات کو ختم کرنا ہوگا۔۔۔ اور جب تک وہ اختلافات ختم نہیں ہونگے اس وقت تک ہم کبھی بھی ملک میں اسلامی نظام کو نافذ نہیں کرپائیں گے۔۔۔ کچھ دنوں پہلے کراچی کی دیواروں پر یہود آل سعود کے نعرے لکھے گئے ہر مکتبہ فکر نے باقاعدہ ان کے خلاف مہم شروع کی جو یوٹیوب پر موجود ہے۔۔۔ لیکن آج تک کسی نے سود ی نظام کے لئے اپنی کمر کسی؟؟؟۔۔۔۔

    ہماری دین اسلام سے محبت قابل تحسین ہے۔۔۔ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں۔۔۔ میں صرف یہ ہی کہوں گا۔۔۔ ووٹ کوئی ڈالے یا نہ ڈالے۔۔۔ لیکن اچھے لوگ بھلے اُن میں کوئی برائی دکھائی دے جو دوسرے زیادہ بروں سے بہتر ہو ہم کو ان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے۔۔۔ کیونکہ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔۔۔ اور میری دلی خواہش یہ بھی ہے جماعۃ الدعوہ بھی الیکشن میں حصہ لے کیونکہ جس طرح شیعہ دوسری تنظیموں کا پلیٹ فارم استعمال کرکے اقتدار میں آکر اسمبلیوں میں بیٹھ کر فتنے وفساد برپاکرتے ہیں تو ہمارے علماء کو بھی چاہئے کے اس طرح آئیں اور یہ نہ سوچیں کے یہ کافر کا دیا ہوا نظام ہے۔۔۔ کیونکہ کافر نے ہی وہ مشین بھی دی ہے جس سے گیہوں کاشت ہوتا اور وہ بیج جس سے وہ گہوں اگتی ہے۔۔۔ لہذا پاکستان ابھی کسی خانگی خلفشار کا قطعی طور پر متحمل نہیں ہے۔۔۔ آج ملک آپ کی پہچان ہے۔۔۔ یہ زمینی حقیقت ہے۔۔۔ ویزہ نہ ملے تو آپ عمرہ یا حج کو نہیں جاسکتے۔۔۔ حالانکہ صاحب استطاعت ہیں؟؟؟۔۔۔ یہ باتیں سمجھنے کی ہیں۔۔۔

    باقی ہم نہ کسی کو کہہ سکتے ہیں اور نہ سمجھا سکتے ہیں۔۔۔ لیکن آج وقت کی اہم ضرورت اپنی اپنی مسجد کا تحفظ ہے۔۔۔واللہ قومیت کےنام پر روٹیاں چھینی جارہی ہیں۔۔۔ یہ جانتے ہوئے کے واللہ خیرالرزاقین۔۔۔ مسلمان ہی ہیں۔۔۔ یعنی سب چلتا ہے۔۔۔ تو پھر جب سب چلتا ہے تو یہ کیوں نہیں چل سکتا؟؟؟۔۔۔

    والسلام علیکم۔۔۔
     
  10. ‏جنوری 07، 2013 #10
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    بہت خوب حرب بھائی بیشک اسلام سمجھداری سکھاتا ہے بات یہی ہے کہ اگر ہم ووٹ نہیں کریں گے تو اس کا سیدھا سا مظلب ہے جس کی لاٹھی اس کی بھینس جب ملک دوسرے لوگوں کے قبضہ میں پہونچ جائے گا تو اسلام پر عمل کرنا بھی مشکل ہو جائے گا ۔ کسی بات سطحی طور نہیں دیکھنا چا ہئے بلکہ اس کے عالمی سطح پر اور ملکی سطح پر کیا نتائج برآمد ہوں گے ادھر بھی توجہ ہونی چاہئے’’ کبھی سوکھی روٹی بھی کام آجاتی ہے اس کو بیکار نہیں سمجھنا چاہئے اس لیے اپنی اکثریت نہیں کھونی چاہیے
    میں آپ کی بات سے سو فیصد متفق ہوں
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں