1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امسال میرا اقامہ(رہائشی کارڈ) کیسے ری نیول ہوا؟

'تذکار ایام' میں موضوعات آغاز کردہ از مقبول احمد سلفی, ‏اگست 12، 2017۔

  1. ‏اگست 12، 2017 #1
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,236
    موصول شکریہ جات:
    352
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    امسال میرا اقامہ(رہائشی کارڈ) کیسے ری نیول ہوا؟
    تحریر: مقبول احمد سلفی

    کوشش سے کوئی کام مشکل نہیں ہے ،یہ سبھی جانتےہیں مگر آج مجھے اس بات کا بیحد شدت سے احساس ہوا کہ ہمت و حوصلہ اور جہد پیہم سے کوئی کام مشکل نہیں ہے ۔ اس احسا س کے پیچھے سعودی عرب کا رہائشی کارڈ تجدید کرنے کا ایک جاں گسل تجربہ ہے ۔
    سعودی میں دعوہ سنٹر کے پاس حکومت کی طرف سے مکتب تعاونی برائے دعوت وارشادکی منظوری ملنے کے بعد رجسٹریشن کارڈ ملتا ہے، اس کی مدت چار سال ہوتی ہے ۔ چار سال پہ سنٹر کی نئی باڈی تنظیم دے کرپھر اس رجسٹریشن کی تجدید کرنی پڑتی ہے ۔ اگر وقت پر تجدید نہ ہو تو وزارۃ العمل (Ministry of Labour)سے خدمات بند کردی جاتی ہیں ۔ کچھ ایسا ہی ہوا میرے سنٹر کے ساتھ۔رجسٹریشن کی چارسالہ مدت ختم ہوجانے سے وزارۃالعمل کی خدمات بند ہوگئیں، ایسے عالم میں قانون یہی ہے کہ جب تک رجسٹریشن کی تجدید نہیں ہوگی اس وقت خدمات معطل ہونگی اورعامل ومؤظف کے تجدید اقامہ کا مرحلہ وزارۃ العمل سے ہی شروع ہوتا ہے ۔ سنٹر کی نئی باڈی تشکیل دے کر تجدید کاری کے لئے چھ مہینے پہلے سے کاروائی چل رہی ہے مگر اب تک مکمل نہیں ہوئی۔
    بہرکیف! ہر قسم کے لوگوں سے پوچھ تاچھ کی یہاں تک کہ دعوۃ سنٹر والوں کے اہم ذمہ داروں سے دریافت کی تو یہی معلوم ہوا کہ سنٹر کی تاریخ التسجيل ختم ہونے پر اقامہ تجدید نہیں ہوگا۔ اس چکر میں میرا اقامہ اکسپائر کرگیا۔ عرب میں رہنے والے جانتے ہیں کہ یہاں اکسپائر اقامہ لیکر باہر نکلنا کتنا دشوار ہے اور اس کا کیا نقصان ہے؟ رجسٹریشن کا کام کب تایہ تکمیل کوپہنچے اس کا بھی اندازہ نہیں ہو پارہاتھاکہ اچانک دل میں خیال آیا کہ اقامہ تجدید کے لئے کوشش کی جائے ممکن ہے کہ اللہ تعالی کہیں سے کوئی سبیل پیدا فرمادے۔وزارۃ العمل کےعلاقائی دفتر طائف سے مراجعہ کیا اور اس کے سامنے اقامہ اکسپائر ہونے اور داعی کے لئے دعوت کی راہ میں مشکل پیدا ہونے ذکر میرے سنٹر کے ایک نہایت ہی مخلص ذمہ دارناصر الضویحی نے کیا تو مکتب العمل کا مدیر سوچنے پر مجبور ہوگیا۔ آخر کار اس نے کہا کہ طائف بھر میں دعوتی سنٹرز کی نگرانی کرنے والے ادارے (مرکزالدعوۃ والارشاد طائف) کی طرف سے خط لیکر آئیں جس میں مذکور ہو کہ رجسٹریشن کی کاروائی چل رہی ہے ۔ حالانکہ دعوتی نگراں ادارہ ایسا خط لکھ کر دینے کا مجاز نہیں تھا مگر اوپر سے واسطوں کے ذریعہ بات کرکے بڑی مشکل سے یہ خط تیار کروایا گیا۔ اب پھر یہ مشکل پیش آئی کہ یہ خط ہاتھ میں نہیں دے سکتے لازما ڈاک سے بھیجنا پڑے گا لیکن الحمد للہ ہاتھ میں خط لینے میں بھی کامیاب ہوگئے اوربتاریخ 8/اگست 2017 بروز منگل ظہر کے فورا بعد مکتب العمل پہنچ گئے ۔ مرکزالدعوۃ کا خطاب دیا اور مکتب العمل کے مدیرنے بڑی مشکل سے چار دنوں کے لیے خدمات جاری کردی۔ اللہ کی طرف سے کامیابی کا راستہ کھلا اور اقامہ تجدید کے لئے ڈھارس بندھ گئی۔
    اب اس کے بعد یہاں میرے پاس اقامہ کی تجدید کے لئے ایک لمبا سا پراسیس تھا جس کو مکمل لکھنے کے لئے کافی وقت چاہئے ۔ مختصرا ًعرض ہے کہ جب بدھ سے لیکر ہفتہ تک کے لئے چار دن کی مہلت ملی تو مہلت کے پہلے دن سب سے پہلے تامینات اجتماعیہ کا پیسہ بھرا جو سال بھر سے جمع نہیں ہواتھا، پھر برنامج مقیم دیکھا تو پتہ چلا اس کی بھی خدمات بند ہیں۔فیس جمع کرکے اسے بھی چالو کیا۔ ورازۃ العمل کی ویب سائٹ کھولا تو وہاں ایک نئی مشکل پیش آئی کہ سعودی ڈاک(Saudi Post) کا عنوان ظاہر نہ ہونے کے سبب وزارۃ العمل کا کام رکاہواہے، سعودی پوسٹ آفس سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ ایک سال کا پیسہ جمع کرنا پڑے گا اوراس نے ایک بل دیا ۔ اس بل کا پیسہ جمع کرنے کی بہت کوشش کی مگر کسی اے ٹی ایم سے قبول نہیں کر رہا تھا۔ اسی اثنا اہل و عیال کا میڈیکل انشورنس کروالیا، ابھی مشکل ڈاک فیس جمع کرنے کی تھی۔ مہلت کے چار دن میں سے دو دن مکمل نکل گئے مگر پیسہ جمع نہ ہو سکا تو پھر مایوسی پیدا ہو گئی حتی کہ بنک والوں سے بھی پیسہ جمع نہیں ہوا۔ یہ پیسہ سعودی پوسٹ آفس میں کیش جمع نہیں کرسکتے ہیں لازما بنک کے ذریعہ ہی جمع کرنا تھا۔
    آج جمعہ کا اور مہلت کے حساب سے تیسرا دن ہے، معمول کے مطابق کچھ پہلے ہی خطبہ کی تیاری کرکے گھر سے نکل پڑا، دل میں خیال آیا، ایک مرتبہ اے ٹی ایم سے پیسہ جمع کرکے دیکھتے ہیں۔ الحمدللہ یوم جمعہ کی برکت سے ایک بار میں ہی پیسہ جمع ہوگیا ۔ ایک بار پھر امید جاگ گئی مگر ابھی بھی بہت سارے مراحل تھے اور مہلت کے صرف دو دن باقی تھے۔ جمعہ کے بعد فورا وزارۃ العمل کی ویب سائٹ کھولی ، بفضل اللہ مکتب العمل کی فیس ظاہر ہوگئی۔ بنک سے یہ فیس جمع کردیا پھر اقامہ تجدید کرنے کی فیس بھی صراف سے جمع کردی ۔ اللہ کا کرم برنامج مقیم اوپن کرتے ہیں جہاں سے آخری مرحلہ اقامہ کی تجدید ہوتی ہے تو وہاں طبی انشورنس بھی ظاہر ہوگیا تھا جبکہ انشورنس والے نے اتوار یا سوموار کا نام کہا تھا۔ اب مقیم کے ذریعہ تجدید کی کاروائی کرنے لگے مگر یہاں رکاوٹ نظر آئی تو کسی سے پتہ لگایا تو معلوم ہوا کہ فیملی ٹیکس بھی جمع کرنا پڑے گا ۔ جیسے تیسے فیملی ٹیکس بھی بھر دیا، یہ سب کام جمعہ کے دن ہو رہا ہے۔ اب مقیم اوپن کرتے ہیں تو تاہنوز وہی پریشانی ۔ خیال آیا کہیں ایسا تو نہیں کہ ایک بچے کا پاسپورٹ اکسپائر کرگیا ہے اسی وجہ سے دقت ہو۔ اس کی تحقیق کے لیے مقیم کے کسٹمر سروس سے رابطہ کیا تو وہاں سے پتہ چلا کہ مقیم چلانے کے لئے اشتراک کی فیس تو آپ نے جمع کردی ہے مگر فعالیت کے لئے کم از کم 2500پوائنٹ چاہئے جو اسی ویب سائٹ سے خریدا جاتا ہے ۔ پوائنٹ خریدنے کی اپیل کی تو نمبر کے ساتھ ایک سلیپ نکلا۔ اس نمبر پہ 500 ریال جمع کرکے 2500 پوائنٹ مل جائیں گے ۔ پیسہ جمع کرنے کی پھر وہی مشکل درپیش، جمع نہیں ہو رہا ہے۔ مغرب بعد سے کئی دوستوں کے بنک کارڈ سے مسلسل کوشش کی مگر ایک بجے تک کسی بنک اے ٹی ایم سے پیسہ جمع نہیں ہوا۔ پھر کچھ مایوسی ہوئی مگر ابھی ہمت بندھ سی گئی تھی۔ آخر کار ایک برماوی کو فون کیا وہ رات سوا ایک بجے کے قریب میرے پاس آیا، انہوں نے بنک الاھلی کے نٹ بنکنگ سے پیسہ جمع کرنے کی کوشش کی اور ایک بار میں ہی کامیابی مل گئی۔ فورا ًمقیم کے ذریعہ دوبارہ تجدید اقامہ کی کاروائی شروع کی ، کچھ پریشانی ابھی بھی باقی تھی مگر کسٹمر سروس سے مسلسل رابطہ کرکے رات ڈھائی بجے اقامہ تجدید کرلیا۔ یہ مہلت کا تیسرا دن تھا ۔
    آج مجھے اس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ آدمی کسی کام کو انجام دینا چاہئے تو شوق اور جہد پیہم سے مشکل سے مشکل کام انجام دے سکتا ہے ۔ اسی سبب اقامہ کی تجدید کا یہ واقعہ تحریر کیا ساتھ ہی ان بھائیوں کو جو سعودی عرب میں نہیں رہتے ہیں انہیں یہاں کی مشکلات کی ایک جھلک دکھانےکی خواہش ہوئی۔

     
    • معلوماتی معلوماتی x 3
    • پسند پسند x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  2. ‏اگست 13، 2017 #2
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    سعودی عرب میں جو بھی لوگ امیگریشن کہ مسائل سے دوچار ہیں اللہ سبحان تعالی سب کی مدد فرمائے آمین!

    والسلام
     
    • پسند پسند x 2
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  3. ‏اگست 13، 2017 #3
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,756
    موصول شکریہ جات:
    8,332
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    واقعتا کافی مشکلات ہیں ، شیخ مقبول سلفی صاحب نے جو کچھ لکھا ، یہ ان مشکلات کا نصف بھی نہیں ، جو ایک مزدور کو پیش آتی ہیں ۔
    اللہ تعالی سب کے لیے آسانی فرمائے ۔
     
  4. ‏اگست 13، 2017 #4
    محمد المالكي

    محمد المالكي رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 01، 2017
    پیغامات:
    401
    موصول شکریہ جات:
    153
    تمغے کے پوائنٹ:
    47

    حضرت آپ نے صحيح point out کیا.
     
  5. ‏اگست 13، 2017 #5
    محمد المالكي

    محمد المالكي رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 01، 2017
    پیغامات:
    401
    موصول شکریہ جات:
    153
    تمغے کے پوائنٹ:
    47

    امين ثم امين
     
  6. ‏اگست 13، 2017 #6
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,236
    موصول شکریہ جات:
    352
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    برجستہ ایک شعر بن کر زیر قلم آرہا ہے۔

    کانٹوں بھرے جنگل میں قدم رکھنا ہے۔
    لوگ آسان سمجھتے ہیں سعودی ہونا۔
     
  7. ‏اگست 13، 2017 #7
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,236
    موصول شکریہ جات:
    352
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    آمین
     
  8. ‏اگست 13، 2017 #8
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,236
    موصول شکریہ جات:
    352
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    آمین
     
  9. ‏اگست 14، 2017 #9
    محمد المالكي

    محمد المالكي رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 01، 2017
    پیغامات:
    401
    موصول شکریہ جات:
    153
    تمغے کے پوائنٹ:
    47

    واہ مولانا آپ نے محفل لوٹ لی!
    ابتسامہ..
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  10. ‏اگست 14، 2017 #10
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,756
    موصول شکریہ جات:
    8,332
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    میرے کئی ایک کام رہ رہے تھے ، کافی دنوں سے جوازات جانا چاہ رہا تھا ، آج ہمت کرکے چلا ہی گیا ، موڈ کے بادشاہ لوگ ہیں ، یہاں اداروں کے ملازمین ۔
    میں نے پاسپورٹ کی معلومات اپڈیٹ ( تحدیث معلومات ) کروانی تھیں ، ٹوکن لیا ، دیکھا ، وہاں کئی لوگ انتظار میں بیٹھے ہیں ، باہر آیا ، اس کام کے لیے ایک فارم ہوتا ہے ، احتیاطا سوچا فل کرلیتا ہوں ، تاکہ عین وقت پر پریشانی نہ ہو ، دس ریال خرچ کیے ، فارم لے لیا ، ابھی میں وہیں تھا ، کہ ایک فارم فل کروانے آیا ، یہ انہیں میں سے تھے ، جو مجھ سے پہلے لائن میں تھے ، میں نے سوچا ، اچھا ہی ہوا ، میں پہلے ہی آگیا ہوں ـ
    اب میری باری آئی ، میں نے اس کو فارم پکڑانا چاہا ، ملازم نے اس طرف دیکھنا گوارہ ہی نہیں کیا ، پرانا نیا پاسپورٹ لے کر ایک منٹ میں اپڈیٹ کرکے ، مجھے پکڑا دیے ۔ امید یہی تھی اگر میں خود اس کے سامنے فارم نہ کرتا ، اس نے پوچھنا تھا ؟ فارم کدھر ہے ؟ ’ نہیں ہے ‘ کی صورت میں مجھے بھی دوبارہ باہر جانا پڑتا ۔
    ایک اور کام کے لیے دوسری کھڑکی میں گیا ، ٹوکن دکھایا ، اس نے کہا ، فیس جمع کروادی ( مطلب جو ابھی نئی لاگو ہوئی ہیں ) میں نے کہا ، جامعہ کا طالب علم ہوں (یعنی ان میں سے جن پر یہ ٹیکس وغیرہ لاگو نہیں ہوا ) جناب کے ہاتھ بہانہ آگیا ، جاؤ ، جامعہ جاؤ ، اپنے مندوب کو لے کر آؤ ۔ میں نے دوبارہ کہا : میرے پاس مکمل کاغذات موجود ہیں ، ٹوکن لے کر آیا ہوں ، بچے کا کفیل بھی میں ہوں ، کہتا : نہیں ، آپ کے جامعہ کا نمائندہ آج مجھ سے نو اقامے بنوا چکا ہے ، میں یہ نہیں کرسکتا کہ نمائندوں کے کام بھی کروں ، اور پھر طالبعلموں کے انفرادی کام بھی کروں ـ :)
    خاموشی سے آگیا ، حالانکہ اس نے کون سا اوور ٹائم میں کام کرنا تھا ۔
    اقامے میں نام غلط لکھا ہوا ہے ، پچھلے سال دو تین دفعہ گیا ، صحیح نہیں کیا ، جامعہ سے رابطہ کیا ، وہ کہیں جوازات جاؤ ، ان کی غلطی ہے ، جوازات جاؤں ، وہ کہیں ، جامعہ جاؤ ، کفیل کو لے کر آؤ ۔
    خیر اس وقت جو ضرورت تھی ، پوری ہوگئی ، ابھی پھر بعض طالبعلموں نے کہا کہ چلے جائیں ، اب چھٹیوں میں رش ذرا کم ہے ، کام کردیتے ہیں ، آج چلا گیا ، انہوں نے کہا پرسوں آئیں ۔ اب پرسوں دیکھیں کیا ہوتا ہے ۔
    حکومت کی طرف سے بالخصوص ہمارے لیے سہولیات بھی الحمد للہ ٹھیک ٹھاک ہیں ، لیکن اگر کسی دفتر میں آنا جانا پڑ جائے ، تو وہاں سستی ، تکبر و نخوت کے ماروں کو سہنا بھی بہت مشکل ہوجاتا ہے ۔ اچھے لوگ بھی ہیں ، لیکن بہت کم ۔ اللہ ہمارے حال پر رحم فرمائے ۔
    میں تو جب بھی کبھی ذلیل و خوار ہو کر آؤں ، مزید اس بات پر پریشان ہوجاتا ہوں کہ ہم تو پھر طالبعلم ہیں ، ایک عام مزدور کن حالات سے گزرتا ہوگا ۔
     
    • معلوماتی معلوماتی x 2
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں