1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اہل سنت والجماعت کا تجزیہ سن ۴۰۰ صدی ہجری سے ۱۲۵۰ صدی ہجری تک

'اہل سنت والجماعت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد یعقوب, ‏اپریل 22، 2013۔

  1. ‏اپریل 22، 2013 #1
    محمد یعقوب

    محمد یعقوب رکن
    جگہ:
    مدینہ منورہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 06، 2013
    پیغامات:
    138
    موصول شکریہ جات:
    346
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین وعلی آلہ وصحبہ اجمعین اما بعد

    اس فورم پر بہت سارے ساتھیوں نے اپنی اپنی رائے کا اظہار کیا اور ہر کوئی حق تک پہونچنے کی لگن میں رہا مگر شاید ریسرچ اور مواد کی کمی کی بنیاد پر راستہ بھٹکتا رہا آج انشاء اللہ میں ایک ایسے موضوع کے ساتھ حاضر ہورہا ہوں جو آپ سبکو ان شاء اللہ بہت پسند آئیگا۔

    قصہ مختصر یوں کہ اسلامی نظریہ دو چیزوں سے ملکر مکمل ہوتا ہے۔ ایک تو عقیدہ جسکی بنیاد پر آخرت کی نجات کا دارومدار ہے اور دوسرا فقہ جسکی بنیاد پر انسان اپنے اعمال کو اپنے رب کی مرضی کے مطابق ڈھال کر اخروی درجات کی بلندی حاصل کرتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں عقیدہ کا تعلق دل سے ہے اور فقہ کا تعلق انسانی اعضاء وجوارح سے۔
    اسی لئے عقدی اختلاف کی صورت میں ضلالت وہدایت جبکہ فقہی کی اختلاف کی صورت میں خطا وصواب کا اطلاق ہوتا ہے۔
    اس مختصر سے مقدمہ کے بعد میں یہ بات کرنے کی کوشش کرونگا کہ امت اسلامیہ کے اندر جہاں فقہی اختلاف کا ظہور ہوا اسی طرح عقدی اختلاف کا ظہور بھی ہوا
    چنانچہ عقدی اختلاف کی صورت میں دو جماعتیں سامنے آئیں (۱) اہل سنت والجماعت (۲) اوراہل بدعت۔
    جبکہ فقہی اختلاف کی صورت میں کئی مناہج کا ظہور ہوا جیسے (۱) فتاوی ابن عباس (۲) فتاوی ابن مسعود (۳) فتاوی عمر ابن الخطاب (۴) فتاوی علی ابن ابی طالب
    اسکے بعد قرن ثانی میں چند مزید مناہج ظہور پذیر ہوئے جیسے مثلا (۱) فقہ حنفی (۲) فقہ ثوری (۳) فقہ جعفری (۴) فقہ مالکی (۵) فقہ اباضی (۶) فقہ شافعی (۷) فقہ اوزاعی
    اسکے بعد قرن ثالث میں چند مزید مناہج کا اضافہ ہوا جبکہ چند مناہج کا زوال بھی سامنے آیا چنانچہ جن مناہج کا اضافہ ہوا ان میں مثلا (۱) فقہ حنبلی (۲) فقہ ظاہری جبکہ جو مناہج ختم ہوگئے انکی مثال جیسے (۱) فقہ ثوری (۲) فقہ اوزاعی
    چنانچہ قرن رابع کے شروع ہوتی ہی اہل سنت والجماعت کے صرف چار مناہج بچ گئے جبکہ باقی مناہج مثلا (۱) فقہ ظاہری (۲) فقہ ثوری (۳) اور فقہ اوزاعی تقریبا ناپید ہوتے چلے گئے اور انکے ماننے والوں کا وجود اگلی صدی میں تقریبا ختم ہوگیا اسطرح اہل سنت والجماعت کے تمام علماء ان چاروں مناہج میں سے کسی ایک منہج کی پیروی کرنے لگے۔ اسی لئے پانچویں صدی ہجری کے بعد سے تیرہویں صدی کے وسط تک تمام علماء اسلام کے ساتھ ان چار مناہج میں سے کسی ایک منہج کا لاحقہ لگنا ضروری تصور کیا جانے لگا۔
    یہاں پر ہر منصف شخص مجھ سے ایک سوال پوچھے گا وہ یہ کہ آپ فقہ اہل الحدیث اور فقہ اہل الرائے کو بالکل ہڑپ ہی کرگئے۔
    تو اسکا جواب یہ ہیکہ میں مناہج کی بات کررہا ہوں اور منہج ان اصولوں کی بنیاد کا نام ہے جن پر چلتے ہوئے کوئی بھی عالم قرآن وحدیث سے استنباط کرتا ہے۔ اور فقہ اہل الحدیث کسی منہج کا نام نہیں اسی لئے انکی کوئی اصول فقہ اب تک سامنے نہیں آئی۔ اسی طرح فقہ اہل الرائے بھی کسی منہج کا نام نہیں اور اس کی بھی کوئی اصول فقہ سامنے نہیں آئی۔
    بہر کیف یہاں تک اگر کسی کو مجھ سے اختلاف ہو تو ہو میرا اصل مقصد اب شروع ہورہا ہے اور میں آپ حضرات سے گزارش کرتا ہوں کہ باقی باتیں چھوڑکر اگلی باتوں کا حقیقت پسندی سے جواب دیں۔
    بات یہ ہورہی تھی کہ سن ۴۰۰ صدی ہجری صدی کے بعد سے سن ۱۲۵۰ صدی ہجری تک دنیا کا ہر عالم (اہل سنت والجماعت) ان چار مناہج میں سے کسی ایک منہج کی پیروی کرنے لگا اس زمانہ میں نہ کوئی اثری ہمیں ملتا ہے نہ سلفی نہ غیر مقلد نہ مدخلی نہ تیمی نہ البانوی نہ غرباء اہلحدیث حتی کہ اہل حدیث جنکا وجود چوتھی صدی کے آخر تک تھا’ انکا وجود بھی ختم ہوگیا اس زمانہ ہمیں صرف حنفی شافعی مالکی اور حنبلی عالم ہی ملتا ہے۔
    (۱) بات میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ سن ۱۲۵۰ ہجری یعنی تقریبا ۸۵۰ سال کے بعد دوبارہ اہل حدیث حضرات کو کس نے زندہ کیا؟
    (۲) تمام علماء اہل وسنت والجماعت نے فقہی مناہج کے مابین ان چار مناہج کو اختیار کرنا لازمی کیوں سمجھا؟
    (۳) کیا اس اتفاق کو اجماع امت شمار کرنا درست نہیں؟
    (۴) اور کیا اجماع امت کا توڑنا آپکے نزدیک درست ہے یا نہیں؟
    میری بات کی دلیل کیلئے ملاحظہ فرمائیں (۱) طبقات الشافعیۃ الکبری للسبکی (۱) طبقات الشافعیۃ لابن قاضی شہبۃ (۳) الجواہر المضیۃ فی طبقات الحنفیۃ (۴) الطبقات السنیۃ فی تراجم الحنفیۃ (۵) ذیل طبقات الحنابلۃ لابن رجب (۶) طبقات الحنابلۃ لابن ابی یعلی (۷) طبقات الشافعیین لابن کثیر (۸) طبقات الفقہاء لابن الشیرازی (۹) طبقات الفقہاء الشافعیۃ لابن الصلاح
    بطور مثال یہ چند کتابیں آپکے سامنے حاضر خدمت ہے ورنہ اس موضوع پر بلکہ مطلق طبقات پر لکھی گئی ہر کتاب اس بات پر دال ہیکہ تمام علماء امت کا اس بات پر اتفاق ہوچکا تھا کہ ان چار مناہج سے نکلنا گمراہی اور راہ راست سے بھٹک جانا ہے۔

    یہ میرا ایک سوال ہے جو ہر صاحب تحقیق اور انصاف پسند شخص کیلئے جہاں لمحہ فکریہ ہے وہیں ہر باحث کیلئے راہ ہدایت بھی ہے ان شاء اللہ

    اگر میری بات غلط ہے تو اس غلطی کا ثبوت دینے کیلئے چند شرائط ہیں جسکا لحاظ کرنا بہت ضروری ہے۔
    (۱) سن ۴۰۰ صدی ہجری کے بعد سے ۱۲۵۰ صدی ہجری تک کسی اہل سنت والجماعت عالم کے بارے میں ثبوت دیں کہ وہ مناہج اربعہ سے ہٹ کر کوئی نیا منہج اختیار کرچکا تھا (یاد رہے کہ ہر مناہج کے اندر رہتے علماء نے جزوی اختلاف تو کیا ہے مثال کے طور پر شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے حنبلی رہتے ہوئے کچھ اختلاف کیا ہے اسی طرح ابن ابی العز الحنفی اور ابن الہمام الحنفی بھی حنفیت کے اندر رہتے ہوئے کچھ اختلاف کیا ہے مگر کوئی ایسا شخص نہیں ملتا جو اپنے آپکو اہل حدیث یا کسی اور لقب سے یاد کرتا ہو) اور اگر شاذ ونادر کوئی ایسا شخص مل بھی جائے تو الشاذ کالمعدوم کے درجہ میں ہوگا۔
    (۲) اس بات کا رد کرنے کیلئے جو بھی ثبوت پیش کیا جائے وہ ان علماء کی کتاب سے پیش کیا جائے جو سن ۴۰۰ صدی ہجری کے بعد سے ۱۲۵۰ ہجری تک انتقال کرگئے اس کے بعد کے علماء ابھی زیر بحث نہیں۔
    اگر کوئی منصف تحقیق کرنے کے بعد مجھ سے یہ پوچھے گا کہ پھر اس جماعت کا وجود کیوں اور کس لئے آیا تو اسکا مفصل جواب بعد میں دیا جائیگا۔
    شکریہ
     
  2. ‏اپریل 22، 2013 #2
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    محترم یعقوب صاحب آپ اس بات پر میرے ساتھ اتفاق ہی کریں گے کہ اصل فقہ فقہ قرآن وحدیث ہی ہے۔۔اس کے بعد صاحب اہل علم میں سے کوئی آپ کی پوسٹ پر لکھنا چاہے گا تو لکھ لے گا۔ میرے سادہ سے دو سوال

    1۔ کیا فقہ اہل الحدیث چاروں فقہ سے الگ کوئی فقہ ہے؟ اگر الگ فقہ ہے تو آپ اس کی طرف نشاندہی کرتے ہوئے ساتھ یہ بھی بتائیں کہ سن ۴۰۰ صدی ہجری سے پہلے کونسی فقہ تھی ؟ جس کے اختیار کرنے کو لازم قرار دیا جاتا تھا ؟
    2۔ چاروں فقہیں فقہ اہل الحدیث ہی میں مدغم تو نہیں؟۔کہیں ایسا تو نہیں کہ فقہ اہل الحدیث تمام فقہوں کا نچوڑ ہو۔ کیونکہ جب ہم فقہ اہل الحدیث پر نظر دوڑاتے ہیں تو ان کے مسائل کسی نہ کسی فقہ کے ساتھ مل جاتے ہیں۔۔اور جہاں پر کسی طرح کا اختلاف ہوتا ہے تو وہ بھی مضبوط دلائل کے ساتھ۔۔اس پر بھی روشنی ڈالنے کی کوشش کریں کہ آخر ان کے مسائل چاروں فقہوں میں سے کسی ایک فقہ کے ساتھ کیوں ملتے دکھائی دیتے ہیں۔۔


    جزاک اللہ خیرا
     
  3. ‏اپریل 22، 2013 #3
    شاہد نذیر

    شاہد نذیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2011
    پیغامات:
    1,940
    موصول شکریہ جات:
    6,202
    تمغے کے پوائنٹ:
    412

    محترم آپ کا سارا زور اس پر ہے کہ ٤٠٠ ہجری کے بعد اہل حدیث منہج کا کوئی وجود نہیں تھا اور نہ ہی کوئی اسکو ماننے والا تھا بلکہ تمام کے تمام لوگ مذاہب اربعہ کے ماننے والے تھے اسکے علاوہ آپ نے اہل حدیث کو ایک منہج ماننے سے بھی انکار کیا ہے۔ اس پر خود سے کوئی تبصرہ کرنے کے بجائے ہم آپ ہی کے اکابر کی تحریر بطور ثبوت اور حجت پیش کررہے ہیں جس نے آپکے مضمون کی بنیادوں کو ہی منہدم کردیا ہے۔ دیکھئے: مولانا مفتی رشید احمد صاحب دیوبندی فرماتے ہیں: تقریباً دوسری تیسری صدی ہجری میں اہل حق میں فروعی اورجزوی مسائل کے حل میں اختلاف انظار کے پیش نظر پانچ مکاتب فکر قائم ہوگئے۔یعنی مذاہب اربعہ اور اہل حدیث۔اس زمانے سے لے کر آج تک انہی پانچ طریقوں میں حق کو منحصر سمجھا جاتا رہا۔(احسن الفتاویٰ، جلد 1، صفحہ 316، مودودی اور تخریب اسلام، صفحہ 20)

    کہیے اب کیا فرماتے ہیں؟
     
  4. ‏اپریل 23، 2013 #4
    محمد یعقوب

    محمد یعقوب رکن
    جگہ:
    مدینہ منورہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 06، 2013
    پیغامات:
    138
    موصول شکریہ جات:
    346
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    قصہ مختصر یوں کہ دونوں ساتھیوں نے موضوع سے ہٹ کر بات کرنے کی کوشش کی ہے اور میں نے پہلے ہی اپنی شرط واضح کردی ہیکہ سن ۴۰۰ صدی ہجری سے لیکر ۱۲۵۰ صدی ہجری کے درمیان کے علماء اور انکی تصانیف سے دلائل پیش کئے جائیں سو وہ ابتک کوئی نہیں کرسکا۔
    چنانچہ میں اپنا سوال دوبارہ دہرارہا ہوں کہ ساڑھے آٹھ سو سال کے عرصہ میں تمام علماء اہل سنت والجماعت نے مذاہب اربعہ پر کیوں اکتفاء کیا؟؟
    کیا اسے اجماع امت کہنا درست نہیں؟؟
    کیا آپکے نزدیک اجماعت امت کی مخالفت جائز ہے؟؟
    اگر اس صدی میں مذاہب اربعہ کے علاوہ کوئی دوسرا وجود بھی تھا تو انکا وجود کہاں؟؟ اور کس جگہ؟؟ انکی تعداد؟؟ اور کیا جمہور کی مخالفت کی وجہ انکا اعتبار کرنا درست ہے؟؟
    امید ہے کہ حق متلاشی حضرات حقیقت پسندی سے ان سوالوں کا حقیقی جواب تلاش کرینگے۔
     
  5. ‏اپریل 23، 2013 #5
    طارق راحیل

    طارق راحیل مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جولائی 01، 2011
    پیغامات:
    390
    موصول شکریہ جات:
    692
    تمغے کے پوائنٹ:
    125

    Thanks...............جزاک اللہ خیر
     
  6. ‏اپریل 26، 2013 #6
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین وعلی آلہ وصحبہ اجمعین اما بعد
    رائے کا اظہار کس بات پر کیا؟؟؟۔۔۔
    آپ کی اس پوری محنت کا رد ملاحظہ کیجئے۔۔۔
    آج اس دور میں اگر ان دو وجوہات کو بنیاد بنا کر ہم یہ دعوٰی کرسکتے ہیں۔۔۔ جو آپ نے پیش کی ہیں۔۔۔
    کہ ہم راستہ تلاش کرنے کی بجائے بھٹکتے رہے تو پچھلوں کو ریسرچ اور مواد کے لئے کیا کچھ نہیں کرنا پڑا ہوگا۔۔۔ بڑا اہم سوال ہے۔۔۔
    یعنی ٤٠٠ سے پہلے ریسرچ اور مواد تھا جو کہ ١٢٥٠ تک رہا اور اُس کے بعد ناپید ہوگیا۔۔۔
    لیکن سوال یہ ہے کہ ٤٠٠ سے پہلے کے لوگوں کو ریسرچ اور مواد کی ضرورت کیوں نہیں پڑی؟؟؟۔۔۔
    یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ بند تالے کی وہ کنجی جو ٤٠٠ سے پہلے والوں کے پاس تھی۔۔۔
    وہ ١٢٥٠ کے بعد والوں کے ہاتھ آگئی ہو۔۔۔
    کے ٤٠٠ سے پہلے والوں کا طریقہ ہی صحیح تھا جس دور میں بقول آپ کے اہلحدیث موجود تھے۔۔۔


    کیا کہتے ہیں؟؟؟۔۔۔ اس بارے میں۔۔۔۔
     
  7. ‏اپریل 26، 2013 #7
    محمد یعقوب

    محمد یعقوب رکن
    جگہ:
    مدینہ منورہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 06، 2013
    پیغامات:
    138
    موصول شکریہ جات:
    346
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    واہ بھائی واہ جان چھڑانے کا اچھا ذریعہ چلیں ہم اسے آپکی ہار تسلیم کرلیتے ہیں (ابتسامۃ)
     
  8. ‏اپریل 26، 2013 #8
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    امام شافعی ٢٠٤ھ
    امام احمد ٢٤١ھ
    امام بخاری ٢٥٦ھ
    امام جوزجانی ٢٥٩ھ
    امام ابو داؤد ٢٧٥ھ
    امام ترمذی ٢٧٩ھ
    امام دارقطنی ٣٨٥ھ
    امام حاکم ٤٠٥ھ
    امام بہیقی ٤٥٨
    امام ابن عساکر ٥٧١ھ
    علامہ حازمی ٥٨٤ھ
    عبدالقادری ہادی ٦١٢ھ
    حافظ ابن الصلاح ٦٤٢ھ
    امام منذری ٦٥٦ھ
    امام نووی ٦٧٢ھ
    حافظ ابن دقیق العید ٧٠٢ھ
    شیخ الاسلام ابن تیمیہ ٧٢٨ھ
    ابن سید الناس ٧٣٤ھ
    امام ابن عبدالہادی ٧٤٤ھ
    حافظ ذھبی ٧٤٨ھ
    امام ابن القیم ٧٥١ھ
    علامہ تقی الدین سبکی ٧٥٢
    حافظ علائی ٧٦١ھ
    علامہ زیلعی ٧٦٢ھ
    حافظ ابن کثیر ٧٧٤ھ
    علامہ زرکشی ٧٩٤ھ
    حافظ ابن رجب ٧٩٥ھ
    علامہ ابن الملق ٨٠٤ھ
    حافظ عراقی ٨٠٦ھ
    علامہ ابن الوزیر الیمنی ٨٤٠ھ
    علامہ ابن الترکمانی ٨٤٥ھ
    حافظ ابن حجر ٨٨٥ھ
    علامہ بقاعی ٨٨٥ھ
    حافظ سخاوی ٩٠٢ھ
    حافظ سیوطی ٩١١ھ
    حافظ زکریا انصاری ٩٢٥ھ
    علامہ عبدالرؤف مناوی ١٠٣١ھ
    علامہ زرقانی ١٠٩٩ھ
    علامہ حسین مغربی ١١١٩ھ
    امیر صنعانی ١١٨٢ھ
    قاضی شوکانی ١٢٥٥ھ

    یہ جو لسٹ پیش کی ہے اس بارے میں آپ کی رائے جاننا چاہتا ہوں۔۔۔
     
  9. ‏اپریل 26، 2013 #9
    محمد یعقوب

    محمد یعقوب رکن
    جگہ:
    مدینہ منورہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 06، 2013
    پیغامات:
    138
    موصول شکریہ جات:
    346
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    امام بیہقی ؒ سے لیکر جتنے بھی علماء کا تذکرہ آپ نے فرمایا وہ یاتو شافعی تھے یا حنفی یا مالکی یا حنبلی’ سوائے امیر صنعانیؒ اور قاضی شوکانیؒ جوکہ پہلے زیدی فقہ سے تعلق رکھتے تھے اور بعد میں انہوں نے وہ فقہ چھوڑ دی۔
    تفصیل کیلئے ملاحظہ فرمائئے (۱) طبقات الشافعیۃ الکبری للسبکی (۱) طبقات الشافعیۃ لابن قاضی شہبۃ (۳) الجواہر المضیۃ فی طبقات الحنفیۃ (۴) الطبقات السنیۃ فی تراجم الحنفیۃ (۵) ذیل طبقات الحنابلۃ لابن رجب (۶) طبقات الحنابلۃ لابن ابی یعلی (۷) طبقات الشافعیین لابن کثیر (۸) طبقات الفقہاء لابن الشیرازی (۹) طبقات الفقہاء الشافعیۃ لابن الصلاح
     
  10. ‏اپریل 26، 2013 #10
    حرب بن شداد

    حرب بن شداد سینئر رکن
    جگہ:
    اُم القرٰی
    شمولیت:
    ‏مئی 13، 2012
    پیغامات:
    2,149
    موصول شکریہ جات:
    6,249
    تمغے کے پوائنٹ:
    437

    تسلسل!۔۔۔
    اب آپ اپنے جس عقیدے کی طرف ہماری توجہ مبزول کروانا چاہ رہے ہیں کچھ اس طرح سے "ان چار مناہج میں سے کسی ایک منہج کی پیروی کرنے گا" تو یہاں پر ایک سوال ہے؟؟؟۔۔۔ جس کو پوچھنے کی اجازت چاہوں گا۔۔۔
    کہ یہاں پر جو نقطہ قابل غور ہے وہ یہ کہ جب ابدی قانون زندگی کا مجموعہ امام ابوحنیفہؒ اور اُن کے تلامذہ نے مرتب کیا تو پھر اُسی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے امام شافعؒی، امام مالکؒ اور امام احمد بن حنبلؒ امام لیثؒ اور امام اورزیؒ کو کیا ضرورت پیش آگئی۔۔۔ یہ ہی سوال آپ کی خواہش پر رد کے جواب میں واضح دلیل ہے۔۔۔ اس طرح! بقول علامہ شامیؒ!۔ کہ احناف نے ١٧ مسائل میں امام ابوحنیفہؒ اور صاحبین ؒکے اقوال کو چھوڑ کر امام زفر ؒکے قول پر فتوٰی نہیں دیا (شامی جلد ١ صفحہ ٧١)۔۔۔
    کیا کہنا چاہیں گے؟؟؟۔۔۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں