1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اہل سنت والجماعت کا تجزیہ سن ۴۰۰ صدی ہجری سے ۱۲۵۰ صدی ہجری تک

'اہل سنت والجماعت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد یعقوب, ‏اپریل 22، 2013۔

  1. ‏اپریل 29، 2013 #21
    محمد یعقوب

    محمد یعقوب رکن
    جگہ:
    مدینہ منورہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 06، 2013
    پیغامات:
    138
    موصول شکریہ جات:
    346
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    آپ اپنی تحریر کے آئینہ میں​

    معذرت كے ساتھ میں نے اس تحریر کا بہت مطالعہ کیا مگر یہ حقیقت مجھ پر کھل کر واضح ہوگئی کہ یہ آپکی تحریر نہیں (ابتسامۃ)
    بہر حال جسکی بھی تحریر ہو اسکو میں آئینہ دکھانا چاہ رہا ہوں اگر اجازت ہو

    بھائی صاحب تو پھر آپ نے اہلحدیث کا فرقہ بناکر کونسا اچھا کام کرلیا ڈیڑھ سو سالوں میں متحدہ ہندوستان کے اندر حنفیوں پر کفر کے جتنے فتوے لگے وہ کام شافعیہ اور حنفیہ ہزار سال میں بھی نہ کرسکے

    بھائی جان فروع پر تو تقلید ہضم نہیں ہورہی اگر عقائد میں بھی تقلید کرلیتے تو پھر پتہ نہیں کیا حال ہوجاتا (ابتسامہ)

    بھائی ہم تو حق کہتے رہینگے ہماری اندر دوغلی پالیسی نہیں کہ اپنے لوگ غلطی کریں تو چھوڑدو اور دوسرے غلطی کریں تو نصیحت یاد آجائے باقی جس نے کفر کا فتوی دیا انہیں سے پوچھ لیں۔
     
  2. ‏اپریل 29، 2013 #22
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    السلام علیکم
    موجودہ دور میں یہ اہل حدیث اور پھر ان کی ذیلی جماعت ’’غرباء اہل حدیث ‘‘دونوں کے نظریات جد اگانہ ہیں کیا کوئی اس پر کچھ روشنی ڈال سکتے ہیں
     
  3. ‏اپریل 29، 2013 #23
    کیلانی

    کیلانی مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 24، 2013
    پیغامات:
    347
    موصول شکریہ جات:
    1,101
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    برادرم یعقوب صاحب گوناگو ں مصروفیات کی بناپرآپ کوجوابات ارسال کرنےمیں تاخیرہوئی اس کی معذرت کرتاہوں۔میں نےآپ کی عبارت کو بغورپڑھا ہے اس پہ کئی پہلووں کے اعتبار سے بات کرنے کی ضرورت ہے۔تاہم سردست دوحیثیتوں سےبات کروں گا۔آپ نے فرمایاکہ
    اس باب میں میرےخیال میں زیادہ علمی رائے یہ ہےکہ فقہ کےحوالے سے امت کےاندربنیادی طور پردوطرح کے مکاتب فکرہیں۔ایک اہل حدیث اور دوسرااہل الرئےباقی رہے شافعی ،حنفی وغیرہ تووہ ایک ذیلی تقسیم ہےان میں سے جس کا منہج استدلال،طریق اجتہاد اور طرزفکر ان بنیادی دو طرزہائے فکر سے ملتاہو اسے اسی نام کےساتھ منسوب کردیاجاتاہے۔مثلا احناف کا طریقہءغوروفکر اہل الرئے کا سا ہے تو انہیں اہل الرئے کہہ دیاجاتاہےاور شوافع کا اہل حدیث سے ملتاہےانہیں اسی نام کےساتھ منسوب کردیاجاتاہے۔پتانہیں کیوں شبہ ہوتاہےکہ آپ اس سے آگاہ ہیں اور دانستااحتراز کررہےہیں اگرایسے نہیں تو آپ کی اس عبارت کاکیامقصدہے؟
    تاہم پھر بھی ہم اپنی مذکورہ رائےکیلے ایک دو اقتباس پراکتفاکرتاہوں۔
    ائمہ ءمجتہدین کی دوقسمیں ہیں۔اصحاب الحدیث اوراصحاب الرئے۔اصحاب الحدیث کامسکن حجاز ہے۔امام مالک اور ان کےتلامذہ ، امام شافعی اور ان کے شاگرد ،سفیان ثوری اور ان کے رفقا،امام احمد کےساتھی اور امام دؤد ظاہری کےخدام ۔انہیں اہل حدیث اس لئے کہاجاتاہےکہ ان کی توجہ حدیث اوراخبار کی طرف ہے اوراحکام کی بنیاد نصوص پررکھتےہیں جبتک حدیث موجود ہو وہ قیاس جلی اور خفی کی پرواہ نہیں کرتے۔
    (تحریک آزادئ فکراور شاہ ولی اللہ کی تجدیدی مساعی ،مولانا اسماعیل سلفی بحوالہ ص45،ج2،کتاب الفصل لابن حزم )
    اہل عراق کو اصحاب الرئے کہاجاتاہے ۔یہ امام ابوحنیفہ ،اور ان کے تلامذہ ہیں ۔انہی میں امام محمد،امام ابویوسف قاضی زفرحسن بن زیاد،ابن سماعہ قاضی عافیہ ابومطیع بلخی اور بشر مریسی وغیرہ شمار ہوتےہیں۔انہیں اصحاب الرئے اس لئے کہاجاتاہے کہ ان کی زیادہ تر توجہ قیاس اور معانی کےاستنباط کی طرف ہےاو راحکام کی بناان قیاس پر رکھتے ہیں اور بسا اوقات قیاس جلی کے سامنے خبر واحد کی بھی پرواہ نہیں کرتے۔
    (ایضابحوالہ شہرستانی ص42،ج2)
    فقہ کی دوقسمیں ہوگئیں ۔فقہ اہل الرئےجن کامرکز عراق ہے اور فقہ اہل حدیث جن کا مرکز حجاز ہے اہل عراق میں حدیث کا چرچا کم تھا اوروہ قیاس میں ماہر تھے ان کے امام حضرت امام ابوحنیفہ ہیں۔
    (ایضابحوالہ مقدمہ ابن خلدون ص289)
    ویسے تویہاں پرہی آپ کےسوالات کا جواب مل جاتاہےلیکن تشفی کی خاطر مزید وضاحت کردیتےہیں۔
    مولانا اسماعیل سلفی نے تحریک آزائ فکر میں تحقیق وتفحص کے بعد ان مجتہدین کےنام لکھے ہیں جو خود مجتہد تھے اورکسی مسلک کےبھی پیروکارنہیں تھے۔ہم چند ایک کاذکرکرتے ہیں۔حافظ محمدبن علی ساحلی (441ھ)امام حمیدی(488ھ)محمدبن طاہر مقدسی(507ھ)امام عبدری(544ھ)ابوزرعہ بن محمد(566ھ) حافظ ابن الردمیہ(637ھ)شیخ السلام ابن تیمہ (728ھ)الحافظ مجددالدین فیرزآبادی صاحب قاموس (817ھ)محمد یوسف ابوحیان اندلسی(745ھ) شیخ شہاب الدین (951ھ)سیدیحی بن حسین (1080ھ)صالح بن محمد حمیری مقبل(1108)عبدالقادربن علی البدری(1160ھ)سید محمدبن اسماعیل امیر یمانی (1182ھ)
    آپ نے امام ابن تیمیہ کو بحثیت مجموع حنبلی قرار دیاہے۔حالنکہ وہ صرف ایک نسبت کی حد تک حنبلی تھے وگرنہ اصل میں تو وہ مجتہد مطلق تھے۔امام ابن تیمیہ کابیسیوں مسائل میں حنابلہ سے احتلاف ہے۔اور ویسے بھی حنبلی طریق اجتہاد تو اہل الحدیث کا سا طریق اجتہاد ہےجناب۔اس کےبعد ان شاءاللہ ہم اہل حدیث اور اہل الرئے کے طرزفکر پربات کرنےکی کوشش کریں گے۔
     
  4. ‏اپریل 30، 2013 #24
    محمد یعقوب

    محمد یعقوب رکن
    جگہ:
    مدینہ منورہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 06، 2013
    پیغامات:
    138
    موصول شکریہ جات:
    346
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    پہلی بات تو یہ ہیکہ اہل حدیث اور اہل رائے کا وجود صرف قرون ثلاثۃ اولی میں تھا بعد میں یہ چار مذاہب کے اندر منقسم ہوگئے میری بحث اس سے نہیں کہ وہ تھے یا نہ تھے لیکن اہل حدیث اور اہل رائے کسی منہج کا نام نہیں تھا۔ لہذا ہر محدث جسکو جو حدیث پہونچتی تھی اس پر عمل کرلیتا تھا انکا مرتبہ کوئی اصول فقہ واستنباط بنام اصول فقہ واستنباط اہل الحدیث نہ تھا۔
    لہذا محدثین کے اندر جتنے فقہاء پیدا ہوئے وہ کسی نہ کسی اصول کے تابع رہ کر مجتہد کے مناصب تک پہونچے اور اس زمانے میں مجتہدین بکثرت موجود تھے۔
    مجتہد کی تعریف کے اندر ایک شرط یہ بھی ہیکہ اسکے اپنے وضع کردہ ایسے اصول ہوں جنکو علماء کے اندر پذیرائی حاصل ہو۔ میں نے پذیرائی کی شرط کا اضافہ اس لئے کیا کہ اگر کوئی شخص ایسے اصول وضع کرے جسے علماء رد کردیں تو وہ شخص مجتہد تو کیا مقلد کہلانے کا بھی اہل نہیں۔
    بہرکیف آپ نے اتنے سارے صفحے صرف ان بحثوں پر سیاہ کردئے جسکا میں نے تذکرہ بطور تاریخ کے کردیا تھا۔ اور اہل حدیث اور اہل رائے کی تعریف بھی بیان کرنا مقصود بحث نہ تھا مگر چونکہ اہل الرائے کی تعریف میں آنجناب نے ایک ایسا اضافہ فرمادیا ہے جو حقیقت سے مختلف ہے اس لئے تھوڑی آپکی گرفت کررہا ہوں آپ نے فرمایا ہے
    کسی کتاب کے اندر یہ بات لکھی ہوئی ہو تو وہ حقیقت نہیں بن جاتی امام ابو حنیفہؒ کو آپ نے اہل الرائے میں شمار کیا اور یقینا وہ اہل الرائے تھے مگر اس تعریف میں آپ خطا کھاگئے’ آپ نے اگر موضوع پور پڑھا ہوگا تو یہ بات میں نے پوری وضاحت کے ساتھ لکھ دی ہیکہ امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک حدیث ضعیف بھی قیاس سے برتر ہے اور یہ حنفیہ کا مسلمہ اصول ہے۔ اگر آپکو شک ہو میں حنفیہ کے اصول سے ثابت کردونگا۔
    پھر یہ بات کہنا کہ خبر واحد کو رد کردیتے ہیں بالکل غلط ہے۔ ہاں اگر کسی دوسرے اصول کی بنیاد پر خبر واحد کو چھوڑا جائے جیساکہ اگر دلائل قرآن سےاسکا تعارض معلوم ہورہا ہو تو یہ الگ بحث ہے جو علماء کے نزدیک مسلمہ اصول کے موافق ہے۔ اگر اس مسئلہ میں مزید وضاحت چاہتے ہوں تو الگ تھریڈ کھول لیتے ہیں۔

    میں آپکی بات سمجھنے سے قاصر ہوں!!!
    یہاں پر آپ نے جتنے نام ذکر فرمائے وہ مختلف فیہ ہیں کیونکہ حنابلہ متفق ہیں کہ شیخ الاسلام ابن تیمیۃؒ حنابلہ کے امام تھے۔ اور پھر اگر بالفرض آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وہ بھی اہلحدیث تھے تو انہوں نے اپنی حنبلی کہلوانا کیوں پسند کیا؟ صرف نسبت کی بنیاد پر؟ حالانکہ انکا علم اتنا تھا کہ وہ خود پہچان بن سکتے تھے علم کی!!
    بالاخر وہ کیا وجوہات تھیں جو انکو پانچواں مذہب بنانے سے مانع رہیں؟ اور اس میں کیا راز تھا کہ انکے علاوہ بہت سے علماء اپنے ائمہ سے اختلاف رکھنے کے باوجود انہیں کیطرف انتساب کرتے رہے!! مگر جب اہلحدیث نے اختلاف کیا تو انہیں اپنی الگ پہچان بنانی پڑی؟!
    ان سب کا جواب میں شروع میں دے چکا ہوں کہ مجتہد بننے کی ایک شرط یہ بھی ہیکہ اسکے ایسے اصول ہوں جو خود اس نے وضع کئے ہوں یا ائمہ سابقین کے طرز استدلال سے استنباط کئے ہوں اور علماء کے درمیان اسے پذیرائی مل جائے۔ لہذا جب شیخ الاسلامؒ کے اپنے وضع کردہ اصول نہ تھے تو انہوں نے امام احمد کی پیروی کرتے ہوئے انکے اصول کو اختیار کرلیا۔ اور بایں معنی حنبلی کہلائے۔ رہا اختلاف کا مسئلہ تو انکا حنابلہ سے اکثر اختلاف ان مسائل میں تھا جن میں امام احمد کے دو قول تھے اکثر حنابلہ کے نزدیک جو قول مرجوح تھا اسے شیخ الاسلامؒ نے راجح قرار دیا اور یہ مقلد کا حق ہے وہ مذہب کے اندر ترجیح اقوال کرسکتا ہے۔
    اسکے علاوہ بھی انکے اقوال ہیں مگر اسکی بھی یہی صورتحال ہیکہ کبھی امام شافعیؒ کے مذہب کو کبھی امام مالکؒ کے مذہب اور کبھی کبھار امام ابو حنیفہؒ کے مسلک کو راجح قرار دیا سو یہ شان مجتہد نہیں۔ مقلد کے کئی مراتب ہیں بلکہ بعض علماء کو مجتہد فی المذہب بھی قرار دیا گیا ہے۔
    مذاہب اربعہ سے نکل کر انکی تحقیق بہت کم ہے سو وہ مجتہد کیسے رہے؟!
    باقی جتنے علماء کا تذکرہ آپ نے فرمایا وہ تقریبا گمنام ہیں۔ انکے بارے بہتر یہی کہ تحقیق کرلیجئے تو اکثر علماء کا طرز طریقہ ایسا ہی رہیگا جیساکہ شیخ الاسلام حنبلیؒ کا تھا۔

    بھائی صاف صاف کہدو کہ حنفیت چھوڑ کر حنبلیت اختیار کرلی ہے ہم بھی برا نہیں منائینگے (ابتسامۃ)

    شوق ہے کرلیں ہمارا موضوع بحث نہیں۔
    والسلام
    اگر کسی کو لکھنا ہے کیلانی صاحب کیطرح محنت کرکے لکھے تاکہ پڑھنے میں تھوڑا لطف بھی آئے۔
     
  5. ‏اپریل 30، 2013 #25
    کیلانی

    کیلانی مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 24، 2013
    پیغامات:
    347
    موصول شکریہ جات:
    1,101
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    برادرم آپ کی عبارت کے درج ذیل حصے علمی پیچیدگی اور ابہام کی طرف اشارہ کررہےہیں۔اپنی بحث کو مزیدآگےچلانے کی بجائےیہی بہترمحسوس ہواکہ بس ان کی نشاندہی کردوں۔میں حتی الوسع کوشش کرتارہتاہوں کہ علمی سنجیدگی اوروقارکادامن ہاتھ سے نہ چھوٹنےپائے۔آپ نےفرمایاکہ:
    یہ درست ہےکہ امام شافعی سے پہلے اصول فقہ کی تدوین بقاعدہ طور پرنہیں ہوئی تھی۔لیکن ان اصولوں کا استعمال توحضور ﷺ نےبھی کیاہے۔احادیث سے اس کی بہت زیادہ مثالیں ملتی ہیں۔اسی طرح صحابہ اورمحدثین نےبھی ان اصولوں کو بکثرت استعمال کیا۔ اصول فقہ کی کتابوں میں اس کی کئی ایک مثالیں مل جاتی ہیں۔جیسے جمع القرآن وغیرہ
    میرخیال ہے اس باب میں علمی رائے یہ ہےکہ اصل مناہج ہےہی یہ دوہیں باقی سب تو اس کےذیلی مناہج ہیں ۔کؤئی فقیہ ان میں سے کسی ایک طریقے کےمطابق سوچتاہے اسے اسی کی طرف منسوب کردیاجاتاہے۔
    یہ ایک ڈھکوسلےکےسوا کچھ نہیں۔مجتہد ،مجتہد ہی ہوتاہےچاہےاس کےاصولوں کو پذیرائی ملے یانہ ملے کیاآج ہم یہ کہہ سکتےہیں کہ سفیان ثوری اور وزاعی وغیرہ مجتہد نہیں تھے۔حقیقت ،حقیقت ہوتی ہےبھائی۔
    صحیح بخاری کی اعرابی والی روایت جس میں اسےآپ ﷺنےباربارنمازلوٹانےکافرمایااس سے ثابت ہوتاہےکہ رکوع اورسجدے میں طمانیت ضروری ہےجبکہ احناف ایک قاعدےکی بناپرکہتےہیں یہ ضروری نہیں۔اورحدیث کےبارےمیں کہتےہیں کہ یہ خبر واحد ہےلہذا اس سے قرآن پر اضافہ نہیں ہوسکتا۔
    یہ مسلمہ اصول نہیں ہے۔اتنی غیرذمہ داری سےعلماکی نمائیندگی نہیں کرنی چاہیے۔
    اس کےعلاوہ بھی آپ کی عبارت میں کئی ایک الجھاؤ ہیں لیکن اسی پراکتفاکرتاہوں۔میری مذکورہ باتوں میں سے کوئی بھی بےبنیاد نہیں آپ یقین جانیےسنجیدگی اورتفصیل کےساتھ بات کو آگےچلاناچاہتاتھالیکن آپ کی مبلغ علمی اورانداز گفتگوکےسامنےخود کو بےبس پارہاہوں
     
  6. ‏اپریل 30، 2013 #26
    شاہد نذیر

    شاہد نذیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2011
    پیغامات:
    1,940
    موصول شکریہ جات:
    6,202
    تمغے کے پوائنٹ:
    412

    ہٹ دھرمی سے ہمیں سخت نفرت ہے، ہماری بات کے خلاف دلائل آجانے کے بعد اپنی بات سے رجوع کرلینا ہی ہمارا اصول ہے۔ آپ نے ایک دعویٰ کیا اور اس پر کوئی دلیل ذکر نہیں کی پھر جب ہم نے آپکی توجہ دلانے کی خاطر آپکے دعویٰ پر اعتراضات کئے اور اسے نصوص سے غلط ثابت کیا تو آپ کوئی بھی معقول جواب دینے میں ناکام رہے لیکن ناکامی کا اعتراف کرنے کے بجائے اپنے بلا دلیل موقف پر اڑے رہنا آپکی ہٹ دھرمی نہیں تو کیا ہے؟

    ہم نے بہت سیدھے سادھے انداز سے اپنی معروضات پیش کی ہیں اور وہ بھی موضوع کے عین مطابق پھر آپ کس بنیاد پر اسے بات گھمانا قرار دے رہے ہیں؟ بات گھمانے کا اعتراض اس وقت درست ہوتا جب ہم نے موضوع سے غیر متعلق بات پیش کی ہوتی جب کہ ایسا کچھ نہیں۔ ذرا آپ اپنے مضمون پر نظر ثانی کر کے دیکھ لیں کہ اس کا اصل موضوع کیا ہے اور ہمارا اعتراض کیا ہے؟ اصل موضوع سے فرار ہوکر آپ ہی بات گھمانے کی ناکام کوشش فرما رہے ہیں۔

    شاید آپ نے ہماری تحریر بغور نہیں پڑھی میں نے واضح لفظوں میں لکھا تھا:
    یہ دعویٰ بھی مقلدین کا ہے کہ صحابہ اور تابعین تقلید مطلق کرتے تھے اس کے برعکس تقلید جیسی گندی اور ناپاک چیز کا صحابہ کی طرف انتساب ہی اہل حدیث کے نزدیک ان مقدس ہستیوں کی سخت توہین و گستاخی ہے۔ اسی لئے تقلید کی ہر قسم کی لعنت سے اہل حدیث خود بھی بچتے ہیں اور دوسرے مسلمانوں کو بھی تقلید کی نحوست سے آگاہ کرتے رہتے ہیں۔

    ہم نے پہلے بھی عرض کی تھی کہ کسی کا حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی ہونا کچھ اور ہے اور کسی کا مقلد ہونا کچھ اور لہٰذا حنفی شافعی وغیرہ پکارے جانے والا ہر شخص ہمیشہ مقلد نہیں ہوتا۔اس لئے اگر تو یہ سارے حضرات جن کا آپ نے تذکرہ کیا ہے ائمہ اربعہ میں سے کسی ایک امام کے مقلد تھے تو کسی حد تک بات صحیح ہے لیکن اگر وہ صرف نام کے حنفی شافعی تھے اور ابوحنیفہ یا امام شافعی کے مقلد نہیں تھے تو آپکا اجماع باطل ہوگیا۔ آپ کے پیش کئے گئے ان دو ناموں کی حقیقت ملاحظہ ہو:

    امام ابو یوسف الحنفی ۱۸۲ ہجری
    امام محمد بن الحسن الشیبانی الحنفی ۱۸۹ ہجری

    مذکورہ بالا دونوں حضرات حنفی المذہب مشہور ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی ائمہ اربعہ میں سے کسی کا مقلد نہیں تھا۔ شاہ ولی اللہ حنفی لکھتے ہیں: اس طرح امام ابویوسف اور امام محمد کے مذاہب بھی امام ابوحنیفہ کے مذاہب کے ساتھ مل گئے اور ان سب کو ایک ہی مذہب شمار کر لیا گیا۔ حالانکہ یہ دونوں حضرات بجائے خود مجتہد مطلق ہیں اور امام ابوحنیفہ سے ان کے اختلافات کی فہرست کافی طویل ہے، نہ صرف فروع میں بلکہ اصول میں بھی۔(اختلافی مسائل میں اعتدال کی راہ، صفحہ ٤٤)

    یہ بات پہلے بھی آپکے گوش گزار کی تھی کہ اجماع کی بنیادی شرط کسی ایک زمانے میں تمام مسلمانوں کا کسی ایک مسئلہ پر اتفاق ہے۔ ہاں البتہ اگر کوئی شخص گمراہ ہے تو اس کا اختلاف اجماع پر اثر انداز نہیں ہوتا۔ پس حنفی مذہب کے دو بڑے اور انتہائی معتبر علماء کے عمل سے ثابت ہوا کہ ائمہ اربعہ کی تقلید شخصی پر اجماع نہیں تھا۔ اور ٤٠٠ ہجری کے بعد تمام مسلمانوں کا ائمہ اربعہ کی تقلید پر اجماع یار لوگوں کا گھڑا ہوا افسانہ ہے۔ لیکن اگر حنفی حضرات بشمول محمد یعقوب کے امام ابویوسف اور امام محمد کو گمراہ اور بے دین سمجھتے ہیں یا انہیں مسلمان ہی نہیں سمجھتے تو پھر ان ائمہ کا اختلاف تقلید شخصی کے اجماع پر اثر انداز نہیں ہوگا۔ پھر کیا خیال ہے؟ کیا حنفی اپنے ان دو علماء کو بے دین، گمراہ اور کافر قرار دینے کے لئے تیار ہیں؟؟؟ اگر نہیں تو پھر تقلید شخصی پر اجماع کے جھوٹے دعویٰ سے تو نام نہاد حنفیوں کو دستبردار ہوجانا چاہیے۔ آخر دوغلی پالیسی کوئی اچھی چیز تو نہیں؟

    ہم یہ نہیں کہنا چاہتے کہ امت کا اجماع گمراہی پر تھا کیونکہ اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ امت کو گمراہی پر جمع نہیں کرے گا۔ ہم تو یہ کہنا چاہتے ہیں بلکہ اس بات کو ناقابل تردید دلائل سے ثابت بھی کیا ہے کہ تقلید شخصی پر کبھی بھی امت کا اجماع نہیں ہوا۔

    الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے
    بزرگان دین سے متعلق سچ کو واضح کرنا انہیں برا بھلا کہنا نہیں ہے۔ لیکن آپ ضرور بزرگان دین سے ایک شرمناگ جھوٹ منسوب کرکے انہیں برا بھلا کہنے کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

    جسے آپ اللہ کا دین کہہ رہے ہیں یہ حنفی فقہاء کا گھڑا ہوا بے وقوفانہ اور انتہائی مضحکہ خیز مذہب ہے جسے وہی شخص اختیار کرتا ہے جس سے عقل و شعور چھین لیا گیا ہو۔ آپ کے نزدیک اس بے کار سی دلیل کو ہم نے آپ کے انتہائی معتبر ائمہ سے ثابت کیا ہے اگر امام ابویوسف اور امام محمد کا عقیدہ و عمل ہی آپکے نزدیک بے کار دلیل ہے تو ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔ چاہے آپ اسے دلیل تسلیم کریں یا نہ کریں لیکن امام ابویوسف اور امام محمد نے ابوحنیفہ کی تقلید نہ کرکے آپ کے خود ساختہ اجماع کا ستیاناس ضرور کر دیا ہے۔

    الحمدللہ! اہل حدیث کا وجود جب سے ہے جب سے اسلام ہے اور تاقیامت رہے گا۔اب اگر خودساختہ اماموں کی اندھی تقلید سے لوگوں کی بینائی چلی جانی کے وجہ سے وہ حق دیکھنے اور سننے سے محروم ہیں تو اس میں ہمارا کیا قصور؟

    حنفی علماء نے اہل حدیث کو اہل سنت والجماعت میں شامل کیا ہے اور جب سے حنفیوں کا وجود ہے کم از کم جب سے حنفی علماء اہل حدیث کا وجود بھی مانتے ہیں۔ اب آپ کہنے کو تو عالم ہیں لیکن آپکی جہالت کا عالم یہ ہے کہ آپکو اجماع اور جمہور کا فرق ہی معلوم نہیں۔ کسی مسئلہ پر اجماع اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتا جب تک تمام اہل سنت اس پر اتفاق نہ کر لیں اور اہل سنت اہل حدیث کا تقلید پر اختلاف کسی بھی قسم کی تقلید پر اجماع کے قیام میں مانع ہے۔ اگر کسی مسئلہ میں اختلاف ہو اور جمہور ایک طرف ہوں اور دوسرے لوگ دوسری طرف ہوں تو اسے اجماع نہیں کہتے بلکہ کہتے ہیں کہ یہ مسئلہ جمہور کی وجہ سے راجح ہے۔
     
  7. ‏مئی 01، 2013 #27
    محمد یعقوب

    محمد یعقوب رکن
    جگہ:
    مدینہ منورہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 06، 2013
    پیغامات:
    138
    موصول شکریہ جات:
    346
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    اصول فقہ کو کسی ایک کتاب میں جمع کرنا کوئی اور چیز ہے اور مسلمہ اصول جو سینہ در سینہ چلتا آرہا ہے وہ کوئی اور چیز ہے۔
    چلیں اسکو چھوڑیں آپ ایک عقلمند آدمی لگتے ہیں اس لئے حقیقت پسندی سے جواب عنایت فرمائیے گا
    ۱= فقہاء ومحدثین میں کیا فرق ہے؟
    ۲= صرف فقیہ کون ہوتا ہے؟
    ۳ؒ = صرف محدث کون ہوتا ہے؟
    ۴= اور الفقیہ المحدث یا المحدث الفقیہ کا لقب کون پاتا ہے؟
    یہ سب باتیں بھی ہمارے موضوع سے باہر ہیں مگر آپ ایک بات سمجھنے سے قاصر ہیں اسلئے میں یہ سوال داغ رہا ہوں باقی آپ خود سمجھ جائینگے۔

    پہلے آپ پہلی بات کا جواب دیدیں مطابقت خود ہی ہوجائیگی اور آپکو مکاتب فکر اور منہج کے درمیان فرق سمجھ میں آجائیگا اگر پھر بھی منہج کو نہ سمجھ سکیں تو لفظ منہج کی اصطلاحی تعریف فرمادیں تب بھی مسئلہ حل ہوجائیگا

    واہ بھائی وہ پھر تو ہر شخص ہم چنیں ڈنگر نیست کا مصداق ہوگا ظاہر ہے جب اسکے اصول رد ہوجائیں تو غلط ہوئے پھر وہ مجتہد اصطلاحی نہ رہا ۔ باقی رہا مسئلہ مجتہد لغوی کا تو وہ بہر حال مجتہد لغوی تو ہے۔
    مثال دینے میں آپ غلطی کرگئے کیونکہ پذیرائی ملنے اور مذاہب متروک ہونے میں فرق ہے ظاہر ہے امام اوزاعی اور امام ثوریؒ کے اصول کو انکے زمانے میں پذیرائی ملی اور لوگوں نے اسے قبول کیا ہاں البتہ انہیں ایسے شاگرد نہ ملے جو انکے مذہب کو پھیلاسکتے تو یہ دوسری بات ہے۔

    میں نے آپ سے کہا تھا کہ قرآن اور خبر واحد میں جب تعارض معلوم ہوتو حنفیہ مفہوم قرآن کو راجح قرار دیتے ہیں اور یہ اسی کی مثال خود آپ نے دیدی۔
    میں آپ سے یہ پوچھ سکتا ہوں کہ خبر واحد کیا چیز ہوتی ہے؟ خبر واحد باجماع امت حجت ہے اگر باسناد صحیح ثابت ہو’ مگر یہ اس وقت ہے جب کوئی قرآنی مفہوم یا حدیث مشہور یا متواتر کا مفہوم اس سے متعارض نہ ہو۔ چنانچہ اگر دونوں کے درمیان تعارض ہوجائے تو حنفیہ کا اصول یہ ہیکہ مفہوم قرآنی یا مفہوم حدیث مشہور یا متواتر کو ترجیح ہوگی۔
    یہ ایک مسلمہ اصول ہے علماء نے اس اصول کو قبول کیا ہے۔
    ذرا خبر واحد کی تعریف فرمانا پسند فرمائینگے؟ تعارض کے وقت مفہوم قرآن کو راجح کیوں کیا جاتا ہے؟ یا مفہوم حدیث متواتر یا مشہور کو راجح کیوں قرار دیا جاتا ہے
    اگر آپ خود خبر واحد کی تعریف فرمادیں تو اسکا جواب آپکو خود ہی مل جائیگا۔

    نہیں صاحب آپ نے غلط سمجھا اور میں نے وضاحت کردی ہے
    سرکار آپ بولئے ہم نے کوئی روک نہیں لگائی مگر جواب ندراد کی صورت میں بہانے نہیں چلیں گے۔
     
  8. ‏مئی 01، 2013 #28
    محمد یعقوب

    محمد یعقوب رکن
    جگہ:
    مدینہ منورہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 06، 2013
    پیغامات:
    138
    موصول شکریہ جات:
    346
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    چلیں الجھاؤ والی باتیں چھوڑدیں ہم پرانے موضوع کی طرف لوٹ جاتے ہیں
    آپ سنجیدگی سے دعوی پڑھ لیں پھر شرائط کے مطابق جواب دیدیں۔

    دعوی یہ ہے​

    سن چار سو صدی ہجری سے سن بارہ سو پچاس صدی ہجری تک اہل سنت والجماعت صرف مذاہب اربعہ کے اندر منحصر تھے اور انکا اس بات پر اجماع تھا

    بات غلط ثابت کرنے کے لئے چند شرائط ہیں
    نمبر ایک ۴۰۰ صدی ہجری ۱۲۵۰ ہجری تک وفات شدہ عالم کی کتاب سے ثابت کریں کہ اس زمانہ میں ائمہ اربعہ کے ہم پلہ کوئی عالم پیدا ہوا
    نمبر دو اس زمانے کے علماء کی کتاب سے ثابت کریں کہ کوئی اہلسنت والجماعت عالم ان چار مذاہب کو چھوڑ کر کوئی پانچواں مذہب اختیار کرچکا تھا۔
    نمبر تین کسی عالم کا اپنے مذہب سے خروج ثابت کریں (اختلاف نہیں)
    نمبر چار اگر کوئی شاذ ونادر آپ ثبوت پیش کریں تو یہ بھی ثابت کریں کہ علماء کا اس نئے مذہب کے ساتھ کیا رویہ تھا اور وہ نیا مذہب صاحب مذہب کے ساتھ دفن تو نہیں ہوگیا۔
    ان نقاط پر بحث کرلیں باقی باتیں ابھی چھوڑدیں میں بھی بدمزگی پیدا کرنا نہیں چاہتا

    آپ نے جو مولانا اسماعیل سلفیؒ کا حوالہ پیش کیا تھا وہ متاخر عالم ہیں اور میں نے شرط پیش کردی ہے لہذا آپکی بات شرائط پر پوری نہیں اترتی
    یا یہ اقرار کرلیں کہ اس زمانے میں کسی عالم نے پانجواں مذہب نہ اختیار کیا نہ ایجاد کیا۔
    یہ مختصر سا موضوع ہے اور صرف اس پر میں بحث کرنا چاہتا ہوں۔
     
  9. ‏مئی 01، 2013 #29
    شاہد نذیر

    شاہد نذیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2011
    پیغامات:
    1,940
    موصول شکریہ جات:
    6,202
    تمغے کے پوائنٹ:
    412

    آپ نے تو بغیر بنیاد کے ہوائی محل کھڑا کرلیا۔ آپ بے شک اپنے دعویٰ کے جواب کے لئے شرائط عائد کریں لیکن پہلے اپنے دعویٰ کو ثابت تو کردیں۔ ہم نے جو آپ کے خود ساختہ اجماع کے دعویٰ کی قلعی کھولی ہے اگر آپ کے پاس اسکا جواب نہیں تو کم از کم 400 ہجری کے بعد ہر صدی کے چار مختلف مکاتب فکر علماء یعنی مالکی، شافعی، حنبلی اور حنفی علماء کا قول نقل کریں جس میں ان علما نے واضح اعتراف کیا ہو کہ 400 ہجری کے بعد ائمہ اربعہ کی تقلید شخصی پر اجماع ہوچکا ہے۔

    باتیں تو آپ جتنی چاہے بنالو اور مسلسل بنا ہی رہے ہو لیکن جب تک اپنے دعویٰ پر ٹھوس ثبوت پیش نہیں کروگے تو ایسے بے وزن دعووں کو ہم اپنی پیر کی ٹھوکروں میں رکھتے ہیں۔
     
  10. ‏مئی 01، 2013 #30
    ابو مالک

    ابو مالک رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 05، 2012
    پیغامات:
    115
    موصول شکریہ جات:
    453
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    یعقوب صاحب ایک گھسی پٹی بات کو نئے انداز سے کرنا چاہ رہے ہیں کہ تقلید شخصی پر 400 میں اجماع ہو گیا تھا جو 1250 تک موجود رہا۔

    گویا یعقوب صاحب کو خود تسلیم ہے کہ 400 سے پہلے یہ اجماع نہیں تھا۔ یعنی اس سے پہلے علماء تقلید کے قائل نہیں تھے، ائمہ اربعہ بھی تقلید نہیں کرتے تھے۔ اب یہ بات یعقوب صاحب ہی بتا سکتے ہیں کہ 400 سے پہلے کے ہزاروں علماء بشمول ائمہ اربعہ کے موقف کے خلاف اجماع ہو سکتا ہے؟؟؟

    مثال کے طور پر بالفرض آج سن 1434ھ میں مختلف فیہ رفع الیدین کرنے پر اجماع ہوجاتا ہے۔ کیا یعقوب صاحب کے نزدیک یہ اجماع صحیح ہوگا؟؟؟ حالانکہ اب تک کتنے علماء (امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ ودیگر) اس کے مخالف رہے ہیں۔

    محترم یعقوب صاحب! صرف ایک بات کہنے سے یا فرض کرنے سے اجماع نہیں ہوجاتا بلکہ اسے ثابت کرنا پڑتا ہے، اسی لئے علماء نے دعوائے اجماع کیلئے کڑی شرائط عائد کی ہیں، بعض علماء نے تو لکھا ہے کہ دعویٰ کرنے والے کیلئے ضروری ہے کہ وہ اس مسئلے میں ہر ہر جید عالم کا قول بالنص پیش کرے تو یہ اجماع متصور ہوگا۔

    لوگ اس اصطلاح کا بہت غلط استعمال کرتے ہیں۔ بعض لوگ کثرتِ رائے کو بھی مطلب برآوری کیلئے اجماع کہہ دیتے ہیں۔ اجماع کے اسی غلط استعمال کی بناء کئی علماء (مثلاً امام شافعی اور احمد بن حنبل رحمہما اللہ وغیرہ) نے ہر بات میں دعوائے اجماع کی شدید مذمت کی ہے۔

    امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک تو اجماع صرف ظہر کی چار رکعات یا تحریم خمر جیسی بدیہیات پر ہی ہو سکتا ہے۔

    امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا مشہور قول ہے: من ادعى الإجماع فهو كاذب کہ اجماع کا دعویٰ کرنے والا جھوٹا ہوتا ہے۔ امام ابن القیم رحمہ اللہ اس کی توجیہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
    وليس مراده – أي: الإمام أحمد – بهذا استبعاد وجود الإجماع، ولكن أحمد وأئمة الحديث بُلُوا بمن كان يرد عليهم السنة الصحيحة بإجماع الناس على خلافها، فبين الشافعي وأحمد أن هذه الدعوى كذب، وأنه لا يجوز رد السنن بمثلها". "مختصر الصواعق" (506)
    کہ اس سے امام احمد وشافعی کا مقصود اجماع کے وجود کا نا ممکن ہونا نہیں بلکہ ہوا یہ کہ جب مخالفین نے صریح نصوص کے خلاف اجماع کے دعوے کئے تو ان ائمہ (شافعی واحمد) نے واضح کیا کہ یہ دعوے جھوٹے ہیں اور نصوص صحیحہ کو ان جیسے باطل دعووں سے ردّ نہیں کیا جا سکتا۔

    یعقوب صاحب کے پاس تقلید کے ثبوت کوئی نص تو ہے نہیں جو وہ پیش کرتے بلکہ کتاب وسنت تو تقلید کی شدید مخالفت کرتے ہیں تو انہوں نے بھی اسی طرح اجماع کا دعویٰ فرما دیا۔ ہم ان سے گزارش کرتے ہیں کہ اجماع تو ظاہر ہے کسی زمانے میں ہوا ہوگا، آپ چلیں سارے جید علماء کی بجائے اُس زمانے کے کم از کم دس بیس علماء کا ہی قول بالنّص نقل فرما دیں۔

    اصل مسئلہ یہ ہے کہ یعقوب صاحب کے اسلاف نے تقلید کی جو تعریف کی ہے، نہ یعقوب صاحب کو وہ تعریف منظور ہے نہ آج ان کے کئی ساتھیوں کو۔ جب تقلید کی تعریف پر ہی اجماع نہیں ہے تو اس پر کیسے اجماع ہوگا کہ 400 کے بعد تقلید پر اجماع ہوگیا تھا؟؟

    میرا یعقوب صاحب سے سوال ہے کہ کیا ان کے نزدیک
    سن 400 ہجری کے بعد 1250 تک کوئی ایک عالم ایسا نہیں جس نے دلائل کی بناء پر امام کے قول کی مخالفت کی ہو؟؟؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں