1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تعارف قرآن کریم

'قرآن وعلومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏جولائی 04، 2014۔

  1. ‏جولائی 04، 2014 #1
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,770
    موصول شکریہ جات:
    6,562
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    تعارف قرآن کریم

    قرآن مجید کا تعارف اللہ تعالی نے بھی کرایا اور رسول اکرمﷺنے بھی۔ نیزسلف نے بھی اصطلاحی تعریف پیش کی۔

    اللہ تعالی کے نزدیک:
    سورۃ الشعراء میں قرآن کریم کا تفصیلی تعارف ہے کہ یہ کس کی طرف سے ہے؟ کس کے ذریعے آیا ہے؟ کس پر نازل ہوا ہے ؟ مقصد نزول کیا ہے؟ عربی میں کیوں نازل ہوا؟
    { وَإِنَّهُ لَتَنزِيلُ رَ‌بِّ الْعَالَمِينَ ﴿١٩٢﴾ نَزَلَ بِهِ الرُّ‌وحُ الْأَمِينُ ﴿١٩٣﴾ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِ‌ينَ ﴿١٩٤﴾ بِلِسَانٍ عَرَ‌بِيٍّ مُّبِينٍ ﴿١٩٥﴾ وَإِنَّهُ لَفِي زُبُرِ‌ الْأَوَّلِينَ ﴿١٩٦﴾}( الشعراء:۱۹۲۔۱۹۶) ۔
    بلاشبہ یہ قرآن مجید رب العالمین کا نازل کردہ ہے جسے روح الامین لے کر نازل ہوئے، آپ ﷺ کے قلب اطہر پرانہوں نے نازل کیا تاکہ آپ ﷺ متنبہ کرنے والے ہوں۔صاف عربی زبان میں ہے۔ اور بلاشبہ( اس کا ذکر) پچھلی کتب میں بھی ہے۔

    سورہ القمر میں اسے آسان کتاب فرمایا:
    { وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ } (القمر: ۱۷)
    بلاشبہ ہم نے قرآن کریم کو آسان بنادیا ہے تو کیا کوئی ہے جو اس سے نصیحت حاصل کرنے والا ہو؟

    رسول اکرم ﷺکے نزدیک:
    امام ترمذی رحمہ اللہ نے اپنی سنن کے باب فضائل القرآن (۲۹۰۶) میں درج ذیل حدیث بیان کی ہے جس میں آپ ﷺ نے قرآن کا تعارف پیش کیا ہے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

    خبردار رہنا! عنقریب فتنے اٹھیں گے۔ میں نے عرض کی یا رسول اللہ! ان سے بچا کیسے جاسکتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کی کتاب سے۔ جس میں تم سے پہلے جو کچھ ہوا اس کی خبریں ہیں اور جو بعد میں ہوگا اس کی بھی اطلاعات ہیں، جو تمہارے مابین اختلاف ہوگا اس کا فیصلہ بھی ہے۔یہ فیصل کتاب ہے مذاق وٹھٹھہ نہیں ہے۔ جو مغرور اسے چھوڑے گا اللہ تعالی اسے توڑ کر رکھ دے گا۔ جس نے اس کے علاوہ کہیں اور سے راہنمائی لی اسے اللہ بھٹکا دے گا۔یہ قرآن اللہ کی بڑی مضبوط رسی ہے اور بڑا حکیمانہ ذکر ہے۔ یہی صراط مستقیم ہے۔ یہی قرآن ہے جس سے خواہشات کبھی نہیں بہکتیں نہ ہی زبانیں لڑکھڑاتی ہیں ، علماء اس سے کبھی سیراب نہیں ہوتے اور نہ ہی یہ بار ہا پڑھنے سے پرانا لگتا ہے۔اس کے عجائب نہ ختم ہونے والے ہیں۔ یہ وہی قرآن ہے جسے سن کرجن نہ رک سکے اور پکار اٹھے: بلاشبہ ہم نے بڑا عجیب قرآن سنا ہے جو راستی کی طرف راہنمائی کرتا ہے ہم اس پر ایمان لائے( سورہ الجن) جس نے اس قرآن کے مطابق بات کہی اس نے سچ کہا اور جس نے اس کے کہے پر عمل کیا اس نے اجر پایا اور جس نے اس کے مطابق فیصلہ دیا اس نے انصاف کیا اور جس نے اس کی طرف بلایا اسے صراط مستقیم کی راہ دکھا دی گئی۔(عن علی بن ابی طالب)
     
  2. ‏جولائی 04، 2014 #2
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,770
    موصول شکریہ جات:
    6,562
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    علماء سلف کے نزدیک:
    بہت سے اصولی علماء اور فقہاء کرام کی رائے یہ ہے کہ قرآن مجید کی تعریف کرنا ممکن ہی نہیں اس لئے کہ اس طرح بہت سی قرآنی خصوصیات کو ہم محدود کردیں گے۔یہ رائے شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ اور ان کے شاگرد رشید امام ابنؒ قیم کی بھی ہے۔ دیگر علماء نے قرآن مجید کی ایک جامع تعریف یہ ہے:
    ہُوَ کَلَامُ اللہِ تَعَالی، غَیْرُ مَخْلُوقٍ ، خَالٍ عَنِ الْحَشْوِ، وَمَعْنِیٌّ بِہٖ ظَاہِرُہ، الْمُعْجِزُ، الْمُنَزَّلُ عَلَی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍﷺ، بِوَاسِطَۃِ جِبْرِیْلَ، بِلِسَانٍِ عَرَبِیٍّ مُبِیْنٍ، الْمَکْتُوْبُ فِیْ اْلمَصَاحِفِ، الْمُتَعَبَّدُ بِتِلَاوَتِہٖ، وَ الْمَنْقُوْلُ إِلَیْنَا نَقْلاً مُتَوَاتِرًا بِلَا شُبْہَۃٍ۔
    اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ غیر مخلوق ہے۔لاحاصل گفتگو سے خالی ہے۔ اس کے ظاہری الفاظ اپنا معنی رکھتے ہیں، عاجز کر دینے والا کلام ہے۔ نبی اکرم ﷺ پر جبریل کے ذریعے نازل ہوا، واضح عربی زبان میں ہے۔ جو صحیفوں میں لکھا ہوا ہے۔ جس کی تلاوت کو عبادت جانا گیا ہے۔ اور جسے تواتر کے ساتھ نقل کیا گیا ہے۔
     
  3. ‏جولائی 04، 2014 #3
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,770
    موصول شکریہ جات:
    6,562
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    قرآن کریم کی خصوصیات:
    مندرجہ بالا تعریف میں قرآن مجید اور اس کی خصوصیات کا اجمالی (summery) تذکرہ آگیا ہے۔ جن کی تفصیل حسب ذیل ہے:
    کلام اللہ:
    قرآن میں صرف اللہ تعالی کا کلام ہے۔ کسی انسان، جن یافرشتے کا کلام اس میں شامل نہیں۔ اسے اللہ تعالی نے خود ہی کلام اللہ یا آیات اللہ فرمایا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    {۔۔ حَتّٰی یَسْمَعَ کَلَامَ اللّٰہِ} (التوبۃ:۶)
    ....تاکہ وہ کلام اللہ کو سن لے۔
    {۔۔۔یَتْلُوْنَ آیَاتِ اللّٰہِ}( آل عمران: ۱۱۳)
    وہ اللہ کی آیات کی تلاوت کرتے ہیں۔

    غیر مخلوق:
    قرآن اللہ تعالی کا کلام ہے اور کلام کرنا اللہ تعالی کی صفت ہے اس لئے یہ بھی اللہ تعالی کی ذات کی طرح غیر مخلوق ہے۔گوہم اس صفت کی حقیقت نہیں جانتے اور نہ ہی اسے مخلوق کی طرح سمجھتے ہیں۔ بس اتنا جانتے ہیں کہ {لیس کمثلہ شئ}۔ اس جیسا کوئی ہے ہی نہیں۔ دو فرقے اس بارے میں گمراہ ہوگئے۔ ایک قدریہ معتزلہ ہے جو اللہ تعالی کی صفات کے ظاہری معنی کو چھوڑ کر تاویلیں کرتا ہے۔ تاویل سے صفات کی تخفیف وانکار لازم آتا ہے جو انتہائی کفر ہے۔ دوسرا فرقہ مشبہہ مجسمہ ہے وہ اس صفت کو مخلوق کے مشابہ بتاتا ہے یہ بھی پہلے سے کم گمراہ نہیں۔ مناسب یہی ہے کہ جو اللہ تعالی کی صفات قرآن کریم اور حدیث رسول میں آئی ہیں ان کے لفظی معنی معلوم ہونے کے بعد پھر کیفیت کی کھدیڑ نہ کی جائے۔جب اصل حقیقت کا علم نہیں تو اسے مخلوق کے مشابہ قرار دینا کون سی دانش مندی ہے۔یہ ازلی صفات کا اقرار ہے اور تاویل کا انکار۔
     
  4. ‏جولائی 04، 2014 #4
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,770
    موصول شکریہ جات:
    6,562
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    زائد از ضرورت :
    یعنی قرآن مجید کا کوئی لفظ زائد نہیں بلکہ اس کے فوائد ہیں۔ یہ مختصر، جامع، تعمیری، اور واقعیت پسندی کے ساتھ اپنے معانی و اہداف کو بیان کرتے ہیں ۔ مثلاً طہ، ألم ، عسق وغیرہ۔ انہیں ہم زائد نہیں کہتے مگر اس کے فوائدعرب بہتر جانتے ہیں کیونکہ ان کے خطباء کے ہاں ان کی زبردست اہمیت ہے۔ ان کی مراد اللہ تعالی ہی بہترجانتے ہیں۔امام حسن بصری رحمہ اللہ کے حلقہ میں کچھ لوگ کہا کرتے کہ یہ الفاظ زائد اور بے فائدہ ہیں۔جس پر انہوں نے فرمایا:
    خُذُوْا ہٰؤُلَائِ، وَجَنِّبُوْہُم فِیْ حَشَا الْحَلْقَۃِ۔
    انہیں پکڑو اور انہیں ہمارے حلقے سے الگ کرکے اس کے حاشئے میں بٹھادو۔ اس لئے انہیں حشویہ کہا گیا۔

    ظاہری معنی ہی مراد ہوگا:
    اس کے باطنی معنی لینے کی کوئی دلیل ہے اور نہ ہی ہم اس کے مکلف ہیں۔ایسے دعوے دراصل قرآن کریم کو اپنے من پسند عقائد ونظریات میں ڈھالنے کی دعوت ہے۔مگر جو معنی ومفہوم اللہ تعالی نے اپنے رسول کو بتائے، صحابہ کرام نے جن پر عمل کیا انہیں قابل اعتناء نہ سمجھا جائے یہ کون سی قرآن دانی ہے؟۔

    باطنیہ کہا کرتے:
    قرآن کے الفاظ کا ظاہری مفہوم مراد نہیں لیا جاسکتا اور اس کے باطن کا مفہوم ہر کوئی نہیں جانتا۔اسے صرف ہمارے باطنی ائمہ ہی جانتے ہیں۔ باطنی معنی میں اشاری معنی بھی آجاتا ہے ۔ مثلاً کوئی یہ کہے کہ اس لفظ کے معنی ومفہوم کا مجھے اشارہ ہوا ہے۔ یہ اشارے اگر اللہ کے رسول کے کہے یا مراد کے مطابق ہوں تو درست ورنہ یہ شیطانی اشارے بھی ہو سکتے ہیں۔یہ دونوں انداز فکر رسول اللہ ﷺ سے اور امت کے اجماع سے جان چھڑانے اور اپنی الگ شریعت سازی کے مترادف ہیں۔
     
  5. ‏جولائی 04، 2014 #5
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,770
    موصول شکریہ جات:
    6,562
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    عاجز کردینے والا :
    المُعْجِز کا مطلب ہے عاجز کر دینے والا۔ قرآن مجید نے ثابت کر دیا کہ عرب فصحاء ہی نہیں بلکہ دنیا کے سارے انسان اس جیسی کتاب پیش کرنے سے عاجز و قاصر ہیں۔ اس میں غیب کی خبریں اور امم سابقہ کے حالات ہیں۔ زمان ومکان کی مناسبت سے معاشی اور معاشرتی ضرورت کو دیکھ کر اس میں محکم قانون سازی کی گئی ہے۔ عقل انسانی دنگ اور بے بس ہے کہ اس جیسی کوئی چیز مقابلہ کے طور پرلاسکے۔ خود قرآن نے بنی نوع انسان کو متعدد بار یہ چیلنج دیا کہ وہ اس جیسی کوئی چیز لے آئیں۔ باوجود اس بات کے کہ یہ چیلنج ہمتوں کو ابھارنے والا اور مقابلہ کے لیے آمادہ کرنے والا تھا۔ محرک بھی موجود تھا مگر پھر بھی وہ اس کے مقابلہ سے عاجز رہے۔مثلا ارشاد باری تعالی ہے:
    { قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰٓی اَنْ یَّاْتُوْا بِمِثْلِ ہٰذَا الْقُرْاٰنِ لاَ یَاْتُوْنَ بِمِثْلِہٖ وَلَوْ کَانَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ ظَہِیْرًا} (الإسراء : ۸۸)
    کہہ دیجئے کہ اگر انسان اور جن سب جمع ہو کر اس قرآن کی مانند ایک کتاب لانا چاہیں تو نہ لا سکیں گے۔خواہ وہ سب ایک دوسرے کے مددگار ہی کیوں نہ ہوں۔

    اسی چیلنج کو ایک اور جگہ ذرا کمی کرکے ان الفاظ میں دہرایا گیا:
    {اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰہٗط قُلْ فاْْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِہٖ مُفْتَرَیٰتٍ وَّادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ}
    کیا یہ کہتے ہیں کہ اسے رسول نے گھڑا ہے۔ کہہ دیجئے کہ اس جیسی دس گھڑی ہوئی سورتیں لے آؤ اور اللہ کے سوا جس کو بلانا چاہوبلا لو اگر تم سچے ہو۔

    جب اس سے بھی عاجز رہے تو ایک آدھ چھوٹی سورت کا کہہ دیا۔
    وَإِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُم مِّن دُونِ اللَّـهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ
    اگر اس چیز کے بارے میں تمہیں کوئی شک ہو جو ہم نے اپنے بندے پر نازل کی ہے تو اس جیسی ایک سورت ہی بنا لاؤ اللہ کے سوا اپنے تمام مددگا بلا لو اگر تم سچے ہو۔

    اس چیلنج کا اولین مقصد یہی تھا کہ نبی اُمی جناب محمد بن عبد اللہ ﷺ کی رسالت ونبوت ثابت کی جاسکے۔ رسول اکرم ﷺ کا اُمی ہونا آپ ﷺ کے حق میں معجزہ ہے مگر امت کا اُمی ہونا امت کے حق میں معجزہ نہیں۔ قرآن مجید کو نازل ہوئے آج پندرہ سو سال گزرگئے ہیں یہ بھی اس کا معجزہ ہے جس نے افراد امت کا تعلق نہ صرف اللہ سے جوڑا بلکہ آپ ﷺ کی سیرت طیبہ سے بھی منسلک کردیا۔اس کے علاوہ بے شمار پہلو ایسے ہیں جو معجزہیں جن کا ذکر ہم آگے کریں گے۔
     
  6. ‏جولائی 04، 2014 #6
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,770
    موصول شکریہ جات:
    6,562
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    نازل کیا گیا :
    المُنَزَّلُ کا مطلب ہے بتدریج نازل کردہ۔یعنی صرف وہ کلام ، قرآن یا کلام اللہ ہے جو آپﷺپر بذریعہ وحی اترا۔ صحف ابراہیم وموسی، تورات، زبور ، انجیل وغیرہ کلام الٰہی ہونے کے باوجود قرآن میں شامل نہیں کیونکہ وہ دوسرے انبیاء پر نازل ہوئیں۔ مُنَزَّل کہنے سے یہ نکات بھی معلوم ہوئے کہ غیر اللہ یعنی کسی انسان، نبی، فرشتہ کا کلام اس میں شامل نہیں۔ خواہ وہ حدیث قدسی ہی کیوں نہ ہو۔ نیز قرآن مجید عربی میں ہے اورلفظ و معنی دونوں کا نام ہے ۔ اس بناء پر احادیث قرآن میں شامل نہیں کیونکہ ان کے الفاظ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں اگرچہ ان کے مضامین و مطالب اللہ تعالیٰ کی طرف سے بذریعہ وحیِ خفی آپﷺ پر نازل ہوئے ہیں۔ اسی طرح تفسیرقرآن بھی اس میں داخل نہیں خواہ وہ عربی میں ہی کیوں نہ ہو۔ ایسے ہی عربی سے دوسری زبانوں میں قرآن مجید کا ترجمہ بھی قرآن نہیں اور نہ یہ ترجمہ قرآن میں شامل ہے۔

    بذریعہ جبرائیل:
    قرآن مجید، سیدنا جبرئیل علیہ السلام کے واسطے سے آپ ﷺ کے قلب اطہر پر نازل ہواہے کیونکہ وہی حفظ ویادداشت کا مرکز ہے۔ قرآن مجید میں ہے:
    {وَاِنَّہٗ لَتَنْزِیْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ¢ نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِیْن¢ عَلٰی قَلْبِکَ لِتَکُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ¢ بِلِسَانٍ عَرَبِیٍّ مُّبِیْنٍ ¢ }(الشعراء : ۱۹۲۔ ۱۹۵)
    اور بلا شبہ یہ قرآن رب العالمین کی طرف سے نازل کردہ ہے جسے روح الامین لے کر اترے ہیں اسے آپﷺ کے قلب اطہر پر اتارا ہے تاکہ آپ انذار کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔ صاف ، واضح عربی زبان میں ہے ۔
     
  7. ‏جولائی 04، 2014 #7
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,770
    موصول شکریہ جات:
    6,562
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    اس طرح قرآن کی عظمت، ملائکہ اور اہل ایمان دونوں پر واضح کردی گئی اور آپ ﷺ کو بھی یقین ہوگیا کہ یہ شیطانی کلام نہیں بلکہ جبریل امین ہی اسے میرے پاس لائے ہیں جو فرشتوں کے مطاع ہیں۔ باقی قائمۃ الکروبین، اہل المراتب والتمکین جیسے فرشتے یا نون فرشتہ اور قلم فرشتہ سب اختراعات ہیں جو عوام کو قرآنی عقیدہ سے ہٹانے والی باتیں ہیں۔

    لسان عربی :
    ابن فارس نے لکھا ہے:{ خلق الإنسان علمہ البیان} اللہ تعالی نے بیان کو دیگر مخلوقات مثلاً: شمس وقمر، نجوم وشجر کے ذکر سے قبل بیان کی۔جس کاسکھا دینا بہت بڑی عنایت ربانی ہے دوسرے اس سے محروم ہیں۔پھر یہ بیان عربی زبان میں ہے کیونکہ دیگر زبانوں میں یہ وسعت نہیں اسی بناء پر عربی زبان کا انتخاب اللہ تعالی نے فرمایا۔باقی وحی کا کسی زبان میں اترنا بڑا مسئلہ نہیں ۔اگروحی عبرانی یا سریانی زبان میں اترسکتی ہے تو خالص عربی میں کیوں نہیں؟ لسان عربی سے مراد یہ نہیں کہ قرآن مجید سابقہ الہامی کتب کے مثل ایک کتاب ہے بلکہ بنیادی طور پر دوسری کتب کے مقابلے میں قرآن مجید کو اپنا منفرد مقام حاصل ہے۔

    کتابی شکل:
    المکتوب کا مطلب ہے لکھا ہوا ۔اور المصاحف جمع ہے مصحف کی، یعنی یہ لوح محفوظ میں لکھا ہواہے نیز آیات کے نزول کے بعد آپ ﷺ بھی اسے لکھوالیتے۔مگرکتابت سے پہلے بھی یہ قرآن، قرآن کہلاتا تھا ۔ معلوم ہوا کہ قرآن محض زبانی الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ کتابی شکل میں بھی ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    {وَالطُّوْرِ¢ وَکِتَابِ مَسْطُوْرِ¢ فِي رَقِّ مَّنْشُوْرِ¢}
    قسم ہے طور کی ، اور لکھی ہوئی کتاب کی، پھیلے ہوئے صفحات میں۔

    اس کی قراء ت عبادت ہے :
    یعنی اس کتاب کی تلاوت کو عبادت کا درجہ حاصل ہے تاکہ مومن رب کی قربت حاصل کرے۔ اسے اقامت صلوٰۃ اور انفاق فی سبیل اللہ کے ساتھ رکھا گیا ہے اور اس پر نہ ضائع ہونے والی تجارت کی بشارت دی گئی ہے۔
    {إِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ کِتَابَ اللّٰہِ وَأَ قَامُوْا الصَّلَاۃَ وَأَٔنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنَاہُمْ سِرًّا وَعَلَانِیَۃً یَّرْجُوْنَ تِجَارَۃً لَنْ تَبُوْرَ} (فاطر :۲۹)
    بے شک وہ لوگ جو اللہ کی کتاب پڑھتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور ہم نے انہیں رزق دیا اس میں سے پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتے ہیں وہ ایسی تجارت کی امید رکھتے ہیں جو ہرگز ضائع نہیں ہوگی۔

    آپ ﷺ نے تلاوت قرآن پر ثواب کی بشارت یوں ارشاد فرمائی:
    جو شخص قرآن مجید کے ایک حرف کی تلاوت کرے گا۔ اسے دس نیکیوں کا ثواب ملے گا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے۔ بلکہ الف ایک حرف ہے لام ایک حرف ہے۔ اور میم ایک حرف ہے۔
     
  8. ‏جولائی 04، 2014 #8
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,770
    موصول شکریہ جات:
    6,562
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    غیرمنقطع متواتر روایت :
    اس سے مراد یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ سے صحابہ کرام نے قرآن مجید لیا پھر ان سے لے کر آج تک قرآن مجید ایک سے دوسری نسل میں منتقل ہوتا آیا ہے اور کسی بھی مرحلے میں یہ سلسلہ منقطع نہیں ہوا۔جس کی ایک متواترسند یہ ہے: رسول اللہ ﷺ سے سیدتنا ام سلمہؓ نے ان سے حسن بصری نے، ان سے یحیی بن یعمر نے اور ان سے ابو عمر بن العلاء البصری نے اور پھر ان کے بے شمار شاگردوں نے حاصل کیا۔ سچ تو یہ ہے کہ جس کا محافظ اللہ تعالی ہو، جس کی سند متصل ہو ، جسے صرف مطہرون ہی چھوتے ہوں اور جسے حفظ کیا جاتا ہو۔ جو بغیر نقاط اور اعراب کے تھا اور جس کی تلاوت میں یا فہم میں بکثرت غلطیاں ہوسکتی تھیں ۔ اس میں آسانی کے لئے نقاط اور اعراب ڈالے گئے ہوں اور جو ابھی تک بے شمارمحاسن لے کر نشر ہوتا ہے۔ایسی خوبیاں آخر کون سی کتاب میں ملیں گی؟ اس عنوان سے ایک اور نکتہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید کی وہ قراء تیں جو تواتر سے ہٹ کے ہیں وہ بھی معتبر نہیں ۔ کیونکہ انہیں تواتر کی حیثیت حاصل نہیں۔
     
  9. ‏جولائی 04، 2014 #9
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,770
    موصول شکریہ جات:
    6,562
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    قرآن مجید کے چند مشہور نام:
    قرآن مجید کے متعدد نام ہیں جو اس کے مقام وشرف اور فضیلت کی گواہی دیتے ہیں۔ناموں کی یہ کثرت باہم اشتراک بھی رکھتی ہے اور امتیاز بھی۔امتیاز اس معنی میں کہ ہر نام مختصر ہے اور دوسرے مختصر نام کے مقابلے میں مخصوص معنی رکھتا ہے جو اپنے تمام مطالب اور غرض و غایت کی طرف اشارہ کردیتے ہیں جو عنوان بن جاتے ہیں۔مثلاً: قرآن کریم کا ایک نام ہُدًی ہے یعنی یہ کتاب ہدایت ہے اور ایک نام ذِکْر ہے یعنی اس میں نصیحت ہے۔ نصیحت ہوگی تو ہدایت نصیب ہوگی۔ یہ اشتراک بھی ہے اور امتیاز بھی۔مثلاً امام ابنؒ تیمیہ فرماتے ہیں:

    السَّیْف، الصَّارِم اور المُہَنَّد تلوار کو کہتے ہیں جو مشترک ہیں مگر اپنے مخصوص معنی کی وجہ سے ہر لفظ دوسرے سے جدا اور ممتاز بھی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالی کے نام ، رسول اللہ ﷺ کے نام اور کتاب اللہ کے نام بھی مشترک اور ممتاز ہیں۔(مجموع الفتاوی ۲۰؍۴۹۴)

    لوگوں کی عادت ہے کہ وہ جس چیز کو محبوب رکھتے ہیں اس کا ایک نام رکھنے کی بجائے پیار ومحبت سے اسے سینکڑوں ناموں سے پکارتے اور بیسیوں بار دہراتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ جس قوم کو جس چیز کی زیادہ ضرورت ہو اس کے لیے اس کے پاس بکثرت الفاظ ہوتے ہیں وہ اس کا بار بار نام لیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس کثرت و تکرار سے قرآن کے نام لیے ہیں وہ اس کی محبت اور ہماری ضرورت کو ظاہر کرتے ہیں۔ان ناموں کو قرآن مجید کے ساتھ کیا مناسبت ہے۔ اس کا بیان کرنابھی ضروری ہے۔ صرف معنی پر نظر ڈال کرہر شخص فیصلہ کرسکتا ہے کہ ان میں کا ہر نام قرآن مجید کی اعلی صفات، اس کے محاسن ،اس کی غرض وغایت کی طرف اشارہ کررہا ہے۔( ماخوذ از بصائر ذوی التمییز ۱؍۸۸، مقالات سلیمان جلد سوم)
     
  10. ‏جولائی 04، 2014 #10
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,770
    موصول شکریہ جات:
    6,562
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,157

    یہ وصفی نام قرآن مجید کی عظمت، برکت، تاثیر اور جامعیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ علماء نے ان ناموں پر کتب لکھی ہیں۔ علامہ ابوالمعالی جو شَیذَلہ کے نام سے بھی معروف تھے ان کی رائے کے مطابق قرآن کے پچپن (۵۵) نام ایسے ہیں جو خود اس کی آیات کریمہ میں موجود ہیں۔ (البرہان از زرکشی ۱؍۲۷۳) ان ناموں میں چندمخصوص نام ایسے ہیں جو قرآن مجید کے سوا کسی اور کے لئے مستعمل نہیں ہوتے ۔ یہ نام فرقان، مصحف ، الکتاب اور قرآن ہیں۔الکتاب اور فرقان، قرآن کے مشہور نام ہیں۔ ان سے زیادہ مصحف اور ان دونوں سے مشہورتر قرآن ہے۔

    القرآن:
    عربی زبان کے امام جاحظ کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کانام "قرآن" رکھا ہے یہ ایسا نرالا اور بے مثال نام ہے جسے عربوں نے کبھی اپنے کلام کے مجموعوں کو یہ نام دیا اور نہ ہی کبھی دنیا میں کسی کتاب کا یہ نام رکھا گیا۔قرآن میں ارشاد ہے :
    {شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِي اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْآنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنَاتٍ مِّنَ الْہُدٰی وَالْفُرْقَانِ}
    رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا۔ یہ لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور جس میں ہدایت کی روشن نشانیاں اور فرقان موجود ہے۔

    قرآن کا نام اللہ تعالیٰ نے ہی موسوم کیا ہے۔نیزاول روز سے یہ سپرد تحریر ہوا اور نماز کے علاوہ محافل ومجالس میں بھی پڑھا اور تلاوت کیا جانے لگا۔صرف لیبیا میں اس کے حفاظ کی تعداد اتنی ہے جو شاید یورپ میں تورات یا انجیل پڑھنے والوں کی نہ ہو۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں