• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَلْيَعْبُدُوا رَ‌بَّ هَـٰذَا الْبَيْتِ ﴿٣﴾
پس انہیں چاہیے کہ اسی گھر کے رب کی عبادت کرتے رہیں۔

الَّذِي أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍ وَآمَنَهُم مِّنْ خَوْفٍ ﴿٤﴾
جس نے انہیں بھوک میں کھانا دیا (١) اور ڈر (اور خوف) میں امن و امان دیا. (٢)
٤۔١ مذکورہ تجارت اور سفر کے ذریعے سے۔
٤۔٢ عرب میں قتل و غارت گری عام تھی لیکن قریش مکہ کو حرم مکہ کی وجہ سے جو احترام حاصل تھا، اس کی وجہ سے وہ خوف و خطرے سے محفوظ تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة الماعون

(سورہ ماعون مکی ہے اور اس میں سات آیتیں ہیں۔ اس سورت کو سورۃ الدین سورۃ ارأیت اور سورۃ الیتیم بھی کہتے ہیں (فتح القدیر))

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

أَرَ‌أَيْتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالدِّينِ ﴿١﴾
کیا تو نے (اسے بھی) دیکھا جو (روز) جزا کو جھٹلاتا ہے؟ (١)
١۔١ رسول اللہ ﷺ کو خطاب ہے اور استفہام سے مقصد اظہار تعجب ہے۔ رویت معرفت کے مفہوم میں ہے اور دین سے مراد آخرت کا حساب اور جزا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ کلام میں حذف ہے۔ اصل عبارت ہے "کیا تو نے اس شخص کو پہچانا جو روز جزا کو جھٹلاتا ہے؟ آیا وہ اپنی اس بات میں صحیح ہے یا غلط؟"
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَذَٰلِكَ الَّذِي يَدُعُّ الْيَتِيمَ ﴿٢﴾
یہی وہ ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے۔ (١)
۲۔۱ اس لیے کہ ایک تو بخیل ہے۔ دوسرا، قیامت کا منکر ہے، بھلا ایسا شخص یتیم کے ساتھ کیوں کر حسن سلوک کر سکتا ہے؟ یتیم کے ساتھ تو وہی شخص اچھا برتاؤ کرے گا جس کے دل میں مال کے بجائے انسانی قدروں اور اخلاقی ضابطوں کی اہمیت و محبت ہو گی۔ دوسرے اسے اس امر کا یقین ہو کہ اس کے بدلے میں مجھے قیامت والے دن اچھی جزا ملے گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ الْمِسْكِينِ ﴿٣﴾
اور مسکین کو کھلانے کے لہے ترغیب نہیں دیتا۔ (١)
٣۔١ یہ کام بھی وہی کرے گا جس میں مذکورہ خوبیاں ہوں گی ورنہ یہ یتیم کی طرح مسکین کو بھی دھکا ہی دے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ ﴿٤﴾
ان نمازیوں کے لیے افسوس (اور ویل نامی جہنم کی جگہ) ہے۔

الَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ ﴿٥﴾
جو اپنی نماز سے غافل ہیں۔ (١)
٥۔١ اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو نماز یا تو پڑھتے ہی نہیں۔ یا پہلے پڑھتے رہے ہیں، پھر سست ہو گئے یا نماز کو اس کے اپنے مسنون وقت میں نہیں پڑھتے، جب جی چاہتا ہے پڑھ لیتے ہیں یا تاخیر سے پڑھنے کو معمول بنا لیتے ہیں یا خشوع خضوع کے ساتھ نہیں پڑھتے۔ یہ سارے ہی مفہوم اس میں آجاتے ہیں، اس لیے نماز کی مذکورہ ساری ہی کوتاہیوں سے بچنا چاہئے۔ یہاں اس مقام پر ذکر کرنے سے یہ بھی واضح ہے کہ نماز میں ان کی کوتاہیوں کے مرتکب وہی لوگ ہوتے ہیں جو آخرت کی جزا اور حساب کتاب پر یقین نہیں رکھتے۔ اسی لیے منافقین کی ایک صفت یہ بھی بیان کی گئی ہے۔ ﴿وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلاةِ قَامُوا كُسَالَى يُرَاءُونَ النَّاسَ وَلا يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلا قَلِيلا﴾ (النساء: ۱۴۲)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
الَّذِينَ هُمْ يُرَ‌اءُونَ ﴿٦﴾
جو ریاکاری کرتے ہیں۔ (١)
٦۔۱ یعنی ایسے لوگوں کو شیوہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے ساتھ ہوئے تو نماز پڑھ لی، بصورت دیگر نماز پڑھنے کی ضرورت ہی نہیں سمجھتے، یعنی صرف نمود و نمائش اور ریاکاری کے لیے نماز پڑھتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ ﴿٧﴾
اور برتنے کی چیز روکتے ہیں۔ (١)
٧۔١ مَعْنٌ: شَيْءٌ قَلِيلٌ کہتے ہیں۔ بعض اس سے مراد زکوٰۃ لیتے ہیں، کیوں کہ وہ بھی اصل مال کے مقابلے میں بالکل تھوڑی سی ہی ہوتی ہے، (ڈھائی فی صد) اور بعض اس سے گھروں میں برتنے والی چیزیں مراد لیتے ہیں جو پڑوسی ایک دوسرے سےعاریتاً مانگ لیتے ہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ گھریلو استعمال کی چیزیں عاریتاً دے دینا اور اس میں کبیدگی محسوس نہ کرنا اچھی صفت ہے اور اس کے برعکس بخل اور کنجوسی برتنا، یہ منکرین قیامت ہی کا شیوہ ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة الکوثر

(سورہ کوثر مکی ہے اور اس میں تین آیتیں ہیں۔ اس کا دوسرا نام سورۃ النحر بھی ہے۔)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ‌ ﴿١﴾
یقیناً ہم نے تجھے (حوض) کوثر (اور بہت کچھ) دیا ہے۔ (١)
١۔١ كَوْثَرٌ، کثرت سے ہے۔ اس کے معتدد معنی بیان کیے گئے ہیں۔ ابن کثیر نے "خیر کثیر" کے مفہوم کو ترجیح دی ہے کیوں کہ اس میں ایسا عموم ہے کہ جس میں دوسرے معنی بھی آجاتے ہیں۔ مثلاً صحیح احادیث میں بتلایا گیا ہے کہ اس سے ایک نہر مراد ہے جو جنت میں آپ ﷺ کو عطا کی جائے گی۔ اسی طرح بعض احادیث میں اس کا مصداق حوض بتلایا گیا ہے، جس سے اہل ایمان جنت میں جانے سے قبل نبی ﷺ کے دست مبارک سے پانی پئیں گے۔ اس حوض میں پھر پانی اسی جنت والی نہر سے آرہا ہو گا۔ اسی طرح دنیا کی فتوحات اور آپ ﷺ کا رفع و دوام ذکر اور آخرت کا اجر و ثواب، سب ہی چیزیں "خیر کثیر" میں آجاتی ہیں۔ (ابن کثیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَصَلِّ لِرَ‌بِّكَ وَانْحَرْ‌ ﴿٢﴾
پس تو اپنے رب کے لیے نماز پڑھ اور قربانی کر۔ (١)
۲۔۱ یعنی نماز بھی صرف ایک اللہ کے لیے اور قربانی بھی صرف ایک اللہ کے نام پر۔ مشرکین کی طرح ان میں دوسروں کو شریک نہ کر۔ نَحْرٌ کے اصل معنی ہیں اونٹ کے حلقوم میں نیزہ یا چھری مار کر اسے ذبح کرنا۔ دوسرے جانوروں کو زمین پر لٹا کر ان کے گلوں پر چھری پھیری جاتی ہے اسے ذبح کرنا کہتے ہیں۔ لیکن یہاں نحر سے مراد مطلق قربانی ہے، علاوہ ازیں اس میں بطور صدقہ و خیرات جانور قربان کرنا۔ حج کے موقعے پر منیٰ میں اور عیدالاضحیٰ کے موقعے پر قربانی کرنا، سب شامل ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ‌ ﴿٣﴾
یقیناً تیرا دشمن ہی لا وارث اور بے نام و نشان ہے۔ (١)
٣۔١ أَبْتَرُ ایسے شخص کو کہتے ہیں جو مقطوع النسل یا مقطوع الذکر ہو، یعنی اس کی ذات پر اس کی نسل کا خاتمہ ہو جائے یا کوئی اس کا نام لیوا نہ رہے۔ جب نبی ﷺ کی اولاد نرینہ زندہ نہ رہی تو بعض کفار نے نبی ﷺ کو ابتر کہا، جس پر اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو تسلی دی کہ ابتر تو نہیں، تیرے دشمن ہی ہوں گے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی نسل کو باقی رکھا گو اس کا سلسلہ لڑکی کی طرف سے ہی ہے۔ اسی طرح آپ ﷺ کی امت بھی آپ ﷺ کی اوالاد معنوی ہی ہے، جس کی کثرت پر آپ ﷺ قیامت والے دن فخر کریں گے، علاوہ ازیں آپ ﷺ کا ذکر پوری دنیا میں نہایت عزت و احترام سے کیا جاتا ہے، جبکہ آپ ﷺ سے بغض و عناد رکھنے والے صرف صفحات تاریخ پر ہی موجود رہ گئے ہیں لیکن کسی دل میں ان کا احترام نہیں اور کسی زبان پر ان کا ذکر خیرنہیں۔
 
Top