1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

'تفسیر قرآن' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏جنوری 07، 2014۔

  1. ‏مارچ 20، 2014 #4661
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ﴿٣﴾
    نہ اس سے کوئی پیدا ہوا اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا (١)
    ۳۔۱یعنی نہ کوئی چیز اس سے نکلی ہے نہ وہ کسی چیز سے نکلا ہے۔
     
  2. ‏مارچ 20، 2014 #4662
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ ﴿٤﴾
    اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے۔ (١)
    ٤۔۱اس کی ذات میں اس کی صفات میں اور نہ اس کے افعال میں۔(لیس کمثلہ شئی) حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے"انسان مجھے گالی دیتا ہے یعنی میرے لیے اولاد ثابت کرتا ہے، حالانکہ میں ایک ہوں بےنیاز ہوں، میں نے کسی کو جنا ہے نہ کسی سے پیدا ہوا ہوں اور نہ کوئی میرا ہمسر ہے (صحیح بخاری) اس سورت میں ان کا بھی رد ہو گیا جو متعدد خداؤں کے قائل ہیں اور جو اللہ کے لیے اولاد ثابت کرتے ہیں اور جو اس کو دوسروں کا شریک گردانتے ہیں اور ان کا بھی جو سرے سے وجود باری تعالٰی ہی کے قائل نہیں۔
     
  3. ‏مارچ 20، 2014 #4663
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    سورة الفلق

    (سورة الفلق ۔ سورہ نمبر ۱۱۳ ۔ تعداد آیات ٥)​
    بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
    شروع کرتا ہوں میں اللہ تعالٰی کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
    * اس کے سورۃ الناس ہے، ان دونوں کی مشترکہ فضیلت متعدد احاچیث میں بیان کی گئی ہے۔ مثلا ایک حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"آج کی رات مجھ پر کچھ ایسی آیات نازل ہوئی ہیں جن کی مثل میں نے کبھی نہیں دیکھی"یہ فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دونوں سورتیں پڑھیں (صحیح مسلم) ابو حابس جہنی رضی اللہ عنہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا"اے ابو حابس! کیا میں تمہیں سب سے بہترین تعویذ نہ بتاؤں جس کے ذریعے سے پناہ طلب کرنے والے پناہ مانگتے ہیں انہیں نے عرض کیا، ہاں ضرور بتلایئے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں سورتوں کا ذکر کر کے فرمایا یہ دونوں معوذتان ہیں"(صحیح النسائی) نبی صلی اللہ علیہ وسلم انسانوں اور جنوں کی نظر سے پناہ مانگا کرتے تھے، جب یہ دونوں سورتیں نازل لوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پڑھنے کو معمول بنا لیا اور باقی دوسری چیزیں چھوڑ دیں (صحیح الترمذی) حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تکلیف ہوتی تو معوذتین (قل اعوذ برب الفلق ) اور (قل اعوذ برب الناس) پڑھ کر اپنے جسم پر پھونک لیتے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکلیف زیادہ ہوگئی تو میں یہ سورتیں پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کو برکت کی امید سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر پھیرتی (بخاری) جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا تو جبرائیل علیہ السلام یہی دو سورتیں لے کر حاضر ہوئے اور فرمایا کہ ایک یہودی نے آپ صلی اللہ علی وسلم پر جادو کیا ہے، اور یہ جادو فلاں کنویں میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ کو بھیج کر اسے منگوایا، (یہ ایک کنگھی کے دندانوں اور بالوں کے ساتھ ایک دانتوں کے اندر گیا گرہیں پڑی ہوئی تھیں اور موم کا ایک پتلا تھا جس میں سوئیاں چبھوئی ہوئی تھیں) جبرائیل علیہ السلام کے حکم مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں سورتوں میں سے ایک ایک آٰیت پڑھتے جاتے اور گرہ کھلتی جاتی اور سوئی نکلتی جاتی خاتمے تک پہنچتے پہنچتے ساری گرہیں بھی کھل گئیں اور سوئیاں بھی نکل گئیں آپ صل اللہ علی وسلم اس طرح صحیح ہوگئے جیسے کوئی شخص جکڑ بندی سے آزاد ہو جائے (صحیح ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول بھی تھا کہ رات کو سوتے وقت سورہ اخلاص اور معوذتین پڑھ کر اپنی ہتھیلیوں پر پھونکتے اور پھر انہیں پورے جسم پر ملتے، پہلے سر،چہرے اور جسم کے اگلے حصے پر ہاتھ پھیرتے، اس کے بعد جہاں تک آپ صلی اللہ علیہ ولسم کے ہاتھ پہنچتے تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کرتے۔(صحیح بخاری)
    قُلْ أَعُوذُ بِرَ‌بِّ الْفَلَقِ ﴿١﴾
    آپ کہہ دیجئے! کہ میں صبح کے رب کی پناہ میں آتا ہوں (١)
    ١۔١ فلَق کے معنی صبح کے ہیں۔ صبح کی تخصیص اس لئے کی کہ جس طرح اللہ تعالٰی رات کا اندھیرا ختم کر کے دن کی روشنی لا سکتا ہے، وہ اللہ اسی طرح خوف اور دہشت کو دور کر کے پناہ مانگنے والے کو امن بھی دے سکتا ہے۔ یا انسان جس طرح رات کو اس بات کا منتظر ہوتا ہے کہ صبح روشنی ہو جائے گی، اسی طرح خوف زدہ آدمی پناہ کے ذریعے سے صبح کامیابی کے طلوع کا امیدوار ہوتا ہے۔ (فتح القدیر)
     
  4. ‏مارچ 20، 2014 #4664
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    مِن شَرِّ‌ مَا خَلَقَ ﴿٢﴾
    ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے۔ (١)
    ۲۔۱یہ عام ہے اس میں شیطان اور اس کی ذریت، جہنم اور ہر اس چیز سے پناہ ہے جس سے انسان کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
     
  5. ‏مارچ 20، 2014 #4665
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    وَمِن شَرِّ‌ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ ﴿٣﴾
    اور اندھیری رات کی تاریکی کے شر سے جب اس کا اندھیرا پھیل جائے۔
    ۳۔۱رات کے اندھیرے میں خطرناک درندے اپنی کچھاروں سے اور موذی جانور اپنے بلوں سے اور اسی طرح جرائم پیشہ افراد اپنے مذموم ارادوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے نکلتے ہیں ان الفاظ کے ذریعے سے ان تمام سے پناہ طلب کی گئی۔ غاسق، رات وقت داخل ہو جائے،چھا جائے۔
     
  6. ‏مارچ 20، 2014 #4666
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    وَمِن شَرِّ‌ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ ﴿٤﴾
    اور گرہ (لگا کر ان) میں پھونکنے والیوں کے شر سے (بھی) (١)
    ٤۔١نفاثات، مونث کا صیغہ ہے، جو النفوس (موصوف محذوف ) کی صفت ہے من شر النفوس النفاثات یعنی گرہوں میں پھونکنے والے نفسوں کی برائی سے پناہ اس سے مراد جادو کا کالا عمل کرنے والے مرد اور عورت دونوں ہیں یعنی اس میں جادوگروں کی شرارت سے پناہ مانگی گئی ہے، جادوگر پڑھ پڑھ کر پھونک مارتے اور گرہ لگاتے جاتے ہیں۔ عام طور پر جس پر جادو کرنا ہوتا ہے اس کے بال یا کوئی چیز حاصل کر کے اس پر یہ عمل کیا جاتا ہے۔
     
  7. ‏مارچ 20، 2014 #4667
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    وَمِن شَرِّ‌ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ ﴿٥﴾
    اور حسد کرنے والے کی برائی سے بھی جب وہ حسد کرے۔ (١)
    ۵۔۱حسد یہ ہے کہ حاسد، محسود سے زوال کی نعمت کی آرزو کرتا ہے چنانچہ اس سے بھی پناہ طلب کی گئی ہے کیونکہ حسد بھی ایک نہایت بری اخلاقی بیماری ہے جو نیکیوں کو کھا جاتی ہے۔
     
  8. ‏مارچ 20، 2014 #4668
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    سورة الناس

    (سورة الناس ۔ سورہ نمبر ۱۱٤ ۔ تعداد آیات ٦)​
    بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
    شروع کرتا ہوں میں اللہ تعالٰی کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
    *اس کی فضیلت گزشتہ سورت کے ساتھ بیان ہو چکی ہے۔ ایک اور حدیث جس میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں بچھو ڈس گیا۔ نماز سے فراغت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی اور نمک منگوا کر اس کے اوپر ملا اور ساتھ ساتھ (قل یٰٓایھا الکفرون قل ھو اللہ احد اور قل اعوذ برب الناس) پڑھتے رہے
    قُلْ أَعُوذُ بِرَ‌بِّ النَّاسِ ﴿١﴾
    آپ کہہ دیجئے! کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ میں آتا ہوں۔
    رب (پروردگار) کا مطلب ہے جو ابتدا سے ہی جب کہ انسان ابھی ماں کے پیٹ میں ہی ہوتا ہے اس کی تدبیرو اصلاح کرتا ہے، حتٰی کہ وہ بالغ عاقل ہو جاتا ہے پھر وہ یہ تدبیر چند مخصوص افراد کے لیے نہیں، بلکہ تمام انسانوں کے لیے کرتا ہے اور تمام انسانوں کے لیے ہی نہیں، بلکہ اپنی تمام مخلوقات کے لیے کرتا ہے ، یہاں صرف انسانوں کا ذکر انسان کے اس شرف افضل کے اظہار کے لیے ہے جو تمام مخلوقات پر اس کو حاصل ہے۔
     
  9. ‏مارچ 20، 2014 #4669
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    مَلِكِ النَّاسِ ﴿٢﴾
    لوگوں کے مالک کی (١)
    ٢۔١ جو ذات، تمام انسانوں کی پرورش اور نگہداشت کرنے والی ہے، وہی اس لائق ہے کہ کائنات کی حکمرانی اور بادشاہی بھی اسی کے پاس ہو۔
     
  10. ‏مارچ 20، 2014 #4670
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    إِلَـٰهِ النَّاسِ ﴿٣﴾
    لوگوں کے معبود کی (پناہ میں) (١)۔
    ٣۔١ اور جو تمام کائنات کا پروردگار ہو، پوری کائنات پر اسی کی بادشاہی ہو، وہی ذات اس بات کی مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور وہی تمام لوگوں کا معبود ہو۔ چنانچہ میں اسی عظیم و برتر ہستی کی پناہ حاصل کرتا ہوں۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں